عقل اور قسمت کا کھیل – دلچسپ اردو کہانی
یہ اردو کہانی عقل اور قسمت کے پیچیدہ کھیل کو بیان کرتی ہے۔ جانیں کہ کیسے ایک نیک دل بادشاہ اپنی سمجھداری اور قسمت کے کھیل سے اپنی رعایا اور ملک کے لیے بہترین فیصلے کرتا ہے۔
قدیم زمانے میں کسی ریاست پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ بادشاہ ایک اچھا اور نیک دل انسان تھا، لیکن زیادہ سمجھدار نہیں تھا۔ اسی لیے وہ ہمیشہ ہوشیار اور عقل مند لوگوں کی تلاش میں رہتا تھا تاکہ اس کی رعایا بہتر ہو اور ملک ترقی کرے اور دشمنوں کو اپنے تابع کر سکے۔ بادشاہ کو اپنی موجودہ رعایا سے کوئی خاص فائدہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ وہ لوگ صرف مشورے دیتے تھے اور اس کے بدلے تنخواہیں لیتے تھے۔ مگر ان کے مشوروں میں وہ اثر نہیں ہوتا جو بادشاہ چاہتا تھا۔ یہ سوچ اکثر اسے بے چین رکھتی تھی۔ ایک دن بادشاہ نے اسی الجھن سے نجات پانے کے لیے اپنے درباریوں سے کہا...
جنگل کی سیر پر نکلے تھے۔ شاید قدرت ہی اسے کسی حل تک لے جائے۔ بادشاہ جب جنگل پہنچے اور خوب شکار و تفریح کے بعد لوٹنے لگے تو راستے میں ان کی نظر ایک عجیب منظر پر پڑی۔ ایک شخص ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھا تھا اور خود سے باتیں کر رہا تھا، جو دور سے پاگل اور عجیب سا لگ رہا تھا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ رک گئے۔ ان کے دل میں خیال آیا کہ یا تو یہ شخص پاگل ہے یا پھر غیر معمولی عقل کا مالک ہے جو اپنی ہی دنیا میں کھویا ہوا ہے۔ تجسس کے مارے بادشاہ اپنے درباریوں کے ساتھ اس شخص کے قریب پہنچے اور اس سے...
بات چیت شروع کر دی۔ وہ بندہ بظاہر تھوڑا سا پاگل لگ رہا تھا۔ لیکن اس کی باتوں میں ایک عجیب کشش تھی۔ بادشاہ نے نرمی سے پوچھا، اے نوجوان، کیا تم پاگل ہو جو خود سے باتیں کر رہے ہو؟ یہ پاگل بادشاہ کی پوری سلطنت بچائے گا؟ کسی کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا۔ لہٰذا پاگل بندے نے مسکرا کر جواب دیا، پاگل تم ہو اور تمہارا سارا ریا ضہ۔ میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ اس جنگل کو کاٹ کر یہاں شاندار محل تعمیر کیے جائیں۔ اور ان محلوں کا بادشاہ میں خود بنوں۔ اس کی بات میں عجیب اعتماد اور بے باکی تھی۔
یہ بات کسی عام دیوانے کے بس کی بات نہیں لگتی تھی۔ بادشاہ اور درباری اس کے جواب پر حیران رہ گئے کیونکہ ایسے جملے یا تو کسی پاگل کے ہوتے ہیں یا پھر کسی ایسے شخص کے جو دِلیر اور غیر معمولی ذہانت کا مالک ہو۔ بادشاہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ پھر درباریوں سے اس شخص کے بارے میں مشورہ کیا تو ان کے اندر چھپے ہوئے لالچ نے فوراً سر اٹھا لیا۔ وہ چپکے چپکے آپس میں باتیں کرنے لگے۔ کسی کے دل میں یہ فکر تھی کہ اگر یہ شخص بادشاہ کا مشیر خاص بن گیا تو ہم اس کے تابع ہو جائیں گے اور ہماری اہمیت بھی کم ہو جائے گی۔
آہستہ سے ایک درباری نے کہا، "یہ خطرہ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہم سب پر قابو پا جائے۔" دوسرے نے فوراً کہا، "نہیں، یہ تو آدھے سے زیادہ پاگل ہے۔ عقل مندی کی تو اس سے بالکل امید نہیں رکھنی چاہیے۔ لہٰذا بادشاہ کو کہنا چاہیے کہ اسے اپنے ساتھ لے جائے۔" درباریوں کا ماننا تھا کہ یہ شخص ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آخر کار درباریوں نے بادشاہ کو یہ مشورہ دیا کہ اسے محل لے جایا جائے۔ اگر بہادر نکلا تو کام آئے گا، اور اگر واقعی پاگل ہوا تو بعد میں چھوڑ دیں گے۔ بادشاہ نے درباریوں کی رائے پر عمل کیا۔
شروع میں بسم اللہ کہا اور تھوڑا زور لگا کر اس آدمی کو اپنے ساتھ چلنے پر راضی کر لیا۔ مگر راستے میں اچانک اس نے گھوڑے کا رخ بدل دیا اور بھاگنے کی کوشش کی۔ بادشاہ اور اس کے درباری فوراً اس کے پیچھے پڑ گئے۔ زور لگاتے ہوئے وہ اسے دوبارہ قابو میں لے آئے اور اسی راستے سے محل کی طرف روانہ ہو گئے۔ جیسے ہی وہ محل پہنچے، حیرت کی بات یہ تھی کہ وہاں لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔ سب خوشی کے نعروں سے گونج رہے تھے اور بادشاہ کو مبارکباد دے رہے تھے۔ بادشاہ اور اس کے درباری یہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور پوچھنے لگے، یہ کس بات کی مبارکباد ہے؟
کیا؟ لوگوں نے بتایا بادشاہ سلامت۔ جس راستے سے آپ شیر کے لیے گئے تھے، وہاں دشمن کی بھاری فوج چھپ کر بیٹھی تھی، زبردست ہتھیاروں کے ساتھ۔ ہمیں تو یقین ہی ہوگیا تھا کہ آپ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ یہ سن کر سب کی آنکھوں میں حیرت، شکر اور فکر کا ملا جلا جذبہ نظر آیا۔ لوگوں نے پھر خوشی سے کہا، بادشاہ سلامت، آپ تو بہت ہوشیار نکلے، آپ نے راستہ بدل دیا۔ بادشاہ نے خاموشی سے اس پاگل شخص کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا کہ یہ شخص واقعی معمولی نہیں، کچھ خاص ہے۔ پھر اس نے درباریوں کی طرف متوجہ ہو کر حکم دیا، جلدی کرو اس شخص کے لیے ایک...
بہترین کرسی تیار کرو۔ آج سے یہ میرے ساتھ رہے گی۔ درباری جو پہلے ہی دل میں ڈرے ہوئے تھے، فوراً بولے، بادشاہ سلامت، یہ بندہ تو پاگل ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کو نقصان پہنچا دے۔ آپ کے ساتھ تو ہمارے جیسے عقل مند لوگوں کا ہونا چاہیے۔ مگر بادشاہ نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا، نہیں، یہ بندہ تم سب سے زیادہ ذہین ہے۔ چپ چاپ رہ کر ہمیں خطرناک دشمن سے بچایا۔ یہی زیادہ ذہین لوگوں کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو تم میں سے کسی کو بھی خبر نہ ہوتی کہ راستے میں دشمن گھات لگا کر بیٹھا ہے۔ ہماری سلامتی۔
یہی ہوشیاری کی بدولت ہے۔ یہ سن کر پاگل مسکرایا اور فخر سے بادشاہ کے پہلو میں رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ مگر اس لمحے سے محل میں ایک نیا تنازعہ جنم لینے لگا۔ درباری جو صدیوں سے نسل در نسل ان کرسیوں پر بیٹھتے آئے تھے، کسی طرح یہ برداشت نہ کر سکے کہ ایک اجنبی اور وہ بھی پاگل کہلانے والا ان کے برابر بیٹھ جائے۔ وہ دل ہی دل میں جلنے لگے اور اُس شخص کے خلاف سازشوں کا جال بُنانے لگے۔ لیکن جسے اللہ تعالیٰ عزت عطا کرے، اسے دنیا کی کوئی طاقت گرا نہیں سکتی۔ عزت اور ذلت کا اختیار صرف اسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
یہ کہانی سن کر آپ کا اللہ کی قدرت پر یقین اور بھی مضبوط ہو جائے گا۔ اللہ بادشاہ کو گرا کر فقیر بنا سکتا ہے اور پاگل کو بادشاہ بنا سکتا ہے۔ اور جب وہ کسی کو بلند کرنا چاہے تو دنیا کی ساری سازشیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ درباریوں کی سازشیں، ان کی حسد اور مخالفت اس پاگل کو کیسے عزت دے سکتی ہیں؟ آئیے جانتے ہیں۔ ایک دن صبح جب محل میں دربار سج رہا تھا، رعایا کے چند افراد آگے بڑھے اور اس شخص کے پاس پہنچے جسے سب پاگل کہتے تھے۔ ادب سے بولے بھائی صاحب آپ سلامت رہیں۔ ہم آپ سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتے ہیں۔ رعایا نے بات کرتے ہوئے...
ارے بھائی صاحب، آپ کو ہمارے بادشاہ کے اصولوں اور درباری آداب کا کچھ پتہ ہی نہیں۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ آپ کسی غلط فہمی میں کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس کی وجہ سے آپ کو سزا بھگتنی پڑے۔ پاگل نے حیرت سے کہا، کیا مطلب؟ مجھے سزا ملے گی؟ میں نے تو کبھی کہا ہی نہیں تھا کہ مجھے یہاں محل لایا جائے۔ یہ کیا مصیبت ہے؟ مجھے واپس لے چلو۔ یہ بات سنتے ہی رعایا کے چہرے پر ہلکی سی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں لگا کہ ان کی چال کامیاب ہو رہی ہے۔ لیکن بادشاہ کے خوف سے اسے ڈرا کر محل سے نکال نہیں سکتا، بلکہ نرمی سے اپنی...
بات منوانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا بھائی صاحب آپ کو اندازہ نہیں کہ اگر آپ ہماری بات مان لیں تو آپ کو کیا کچھ مل سکتا ہے۔ پاگل جو سزا کے لفظ سے ہی ڈر گیا تھا، فوراً گھبرا کر بولا ٹھیک ہے، بتاؤ کیا کرنا ہے؟ موقع دیکھ کر ایک مشیر جو خود بادشاہ کا قریبی مشیر خاص تھا اور جس کی کرسی اب اس پاگل کے قبضے میں تھی، آگے بڑھا اور معقولی سے بولا ہمارے دربار کی روایت ہے کہ دربار کا آغاز تبھی ہوتا ہے جب کوئی شخص بادشاہ کو تھپڑ مارے یا کوئی ایسا عمل کرے جس سے دربار جاگ جائے۔ پاگل جو عقل سے بالکل محروم تھا، فوراً...
کہا ارے یہ تو کوئی بڑی بات نہیں، میں تو بادشاہ کو لات بھی مار سکتا ہوں۔ رعایا نے اس کی حماقت پر ہنس کر اسے داد دی اور خوشی سے مزید اکسایا۔ جب بادشاہ تخت پر بیٹھے تو تم جا کر اس کی گردن پر زور دار تھپڑ مارنا۔ پھر دیکھنا بادشاہ اتنا خوش ہوگا کہ تمہیں بہت ساری انعامات سے نوازے گا۔ پاگل نے بھول کر بات مان لی۔ جب اگلے دن دربار لگا اور بادشاہ تخت پر جلوہ گر ہوا تو پاگل بہت سادگی سے آگے بڑھا اور ایک زور دار تھپڑ بادشاہ کی گردن پر مار دیا۔ اس زور سے بادشاہ کا تاج دور جا...
گر گیا۔ لیکن جیسے ہی تاج زمین سے ٹکرایا، اس کے نیچے سے ایک خطرناک بچھو نکل آیا۔ بادشاہ فوراً چونک کر کھڑا ہو گیا اور اسے سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اگر وہ تاج سر پر رکھ لیتا تو بچھو اسے کاٹ لیتا۔ شکرگزاری سے بھرے دل کے ساتھ بادشاہ نے پاگل کو سینے سے لگا لیا۔ بادشاہ نے پاگل کو سینے سے لگاتے ہوئے خوشی سے کہا، "میرے عزیزو، یہ صرف ایک شخص ہے جو مجھ سے سچی محبت کرتا ہے۔ اگر یہ مجھے تھپڑ نہ مارا ہوتا تو آج شاید میرا آخری دن ہوتا۔" بادشاہ کے حکم پر پاگل کے لیے ایک شاندار دعوت کا انتظام کیا گیا اور ساتھ ہی اسے ایک خوبصورت...
محل بھی اشارے میں دے دیا گیا۔ رعایا جو پہلے ہی اس سے حسد میں مبتلا تھے اب اور بھی پریشان ہو گئے۔ ان کے دلوں میں خوف بیٹھ گیا کہ اگر یوں ہی سلسلہ چلتا رہا تو یہ پاگل ان سب کی کرسیوں کا وارث بن جائے گا۔ چنانچہ وہ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ یار یہ بندہ تو بہت تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ کچھ کرنا پڑے گا۔ ورنہ ہماری سب عزتیں اور رتبے ختم ہو جائیں گے۔ دوسری طرف وہ آدھا پاگل دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔ یہ رعایا تو واقعی بڑے سچے اور ہم درد لوگ ہیں۔ دیکھو کتنا زبردست مشورہ دیا تھا۔ خوشی خوشی اس نے دل میں فیصلہ کر لیا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اب سے جو بھی یہ لوگ کہیں گے، میں وہی مانوں گا۔ اگلے دن ریاہ دوبارہ مشورہ کر کے اُس پاگل کے محل پہنچے۔ وہ سب اندر سے شدید گرمی میں تھے، مگر ظاہر پر مسکراہٹ سجائے بیٹھے تھے۔ ایک مشیر نے نرمی سے بات شروع کی۔ بھائی صاحب، کل کی ترکیب کیسی لگی؟ اگر آپ نے تھپڑ نہ مارا ہوتا تو بادشاہ آپ پر شک کرتا اور شاید آپ کو سزا بھی مل جاتی۔ پاگل جو اب اطمینان سے محل میں رہ رہا تھا، مسکرا کر بولا، ہاں بالکل، آپ لوگ بہت اچھے ہو۔ آپ کی ترکیب نے میری قسمت بدل دی۔ ریاہ نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور اگلا جال بچھایا۔ لیکن یہ بات سچ ہے کہ جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے۔
جتنا چاہو تمہارے خلاف کوئی سازش کرے، لیکن اگر تم سچے ہو اور اللہ تمہارے ساتھ ہے تو کوئی تمہیں کچھ بھی خراب نہیں کر سکتا۔ ریایا نے پاگل سے مخاطب ہو کے کہا، "اب ایک اور بات سنو۔ صبح جب دربار لگے اور بادشاہ کرسی پر بیٹھ جائے، تو تم فوراً اس کی کرسی پیچھے سے کھینچ لینا۔ دیکھنا تمہیں آدھی بادشاہت ملے گی۔ یہ کام آسان نہیں ہے، لیکن تم بہادر ہو، کر لوگے۔" پاگل نے جلدی سے کہا، "ایک کیا؟ میں تو دو کرسی بھی کھینچ سکتا ہوں۔" ریایا نے ہنس کے اسے شاباش دی اور رخصت ہو گئے، اور صبح دربار میں وہی ہوا جو انہوں نے پاگل کو کرنے کو کہا تھا۔ جیسے ہی...
بادشاہ تخت پر بیٹھنے لگا، پاگل نے موقع دیکھ کر کرسی پیچھے کھینچ لی۔ مگر بادشاہ نے خود پر قابو رکھتے ہوئے گرتے ہوئے سنبھل کر کھڑا ہو گیا۔ جب وہ پیچھے مڑا تو حیران رہ گیا کہ کرسی کا ایک پاؤں اندر سے پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا۔ بادشاہ نے فوراً پاگل کی طرف دیکھا، اسے گلے لگایا اور بلند آواز میں سب کے سامنے کہا، "دیکھو یہ شخص کتنا ہوشیار اور وفادار ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو میں کرسی سمیت زمین پر گر کر زخمی ہو جاتا۔" پھر اسے تمغا امتیاز دیا اور اپنی فوج کا جرنیل منتخب کر لیا، اور دربار میں ایک بار پھر اس کی بہادری کی تعریف کی گئی۔
دی گئی۔ یہ دیکھ کر رعایا حیران رہ گئی۔ وہی جو ہر بار اسے گرانے آتا تھا، اسی کی عزت میں اضافہ ہوتا رہا۔ اب وہ تنگ آ کر ایک دوسرے سے کہنے لگے یار یہ کیا مصیبت ہے، ہم تو چاہتے ہیں کہ اسے سزا ملے، بادشاہ ناراض ہو اور وہ پھانسی چڑھے، مگر یہ ہر بار بازی مار جاتا ہے۔ اب معاملہ ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر مشیروں نے ایک گہرا منصوبہ بنایا۔ ایسا منصوبہ جو پوری سلطنت کو ہلا کر رکھ سکتا تھا۔ سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ پڑوسی بادشاہ سے خفیہ رابطہ کریں گے۔ اسے جنگ پر اکسائیں گے اور وعدہ کریں گے کہ ہم تم پر حملہ کریں گے۔ لیکن بادشاہ کو...
یقین دلایا گیا کہ رعایا سب آپ کے ساتھ ہیں۔ سب ہم سنبھال لیں گے۔ بس آپ نے صرف ہمارے جرنل کو مارنا ہے۔ باقی سب کچھ ہم پر چھوڑ دو۔ رعایا نے یہ سازشی خط بھیجا اور دوسری بادشاہت کی جانچ پڑتال کے بعد وہ راضی ہو گیا۔ اب بس ایک بات رہ گئی تھی کہ اپنے بادشاہ کو جنگ کے لیے تیار کرنا۔ چنانچہ رعایا نے اپنے چند آدمیوں کو زخمی کر لیا اور بادشاہ کے سامنے آ کر کہنے لگا، بادشاہ سلامت ہم کب تک صبر کریں؟ اگر کل آپ کو کچھ ہو گیا تو پوری سلطنت روئے گی۔ دشمن حملہ آور ہو رہا ہے۔ ہمیں ابھی فیصلہ کرنا ہوگا۔ مختصر یہ کہ بادشاہ نے جنگ کا ڈھول بجا دیا اور اپنی فوج کو رعایا کے ساتھ بھیج دیا۔
جنگ کے لیے روانہ کر دیے گئے۔ اب لشکر کا سپاہ سالار پاگل ہے۔ لیکن سب مل کر بھی پاگل کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ صرف پشتون پیچھے ہنس رہے تھے۔ جب وہ دشمن ملک کی سرحد پر پہنچے تو وہاں کی فوج پوری تیاری کے ساتھ موجود تھی۔ دونوں طرف کی افواج جب جنگل میں داخل ہوئیں تو پاگل نے حکم دیا سب رک جاؤ۔ سب سے پہلے میں بادشاہ سے خود لڑوں گا کیونکہ وہ کمانڈر تھا۔ پوری فوج رک گئی۔ پاگل نے زور سے آواز دی، "اے بادشاہ باہر آ۔" دشمن بادشاہ آیا اور دونوں جنگل کے بیچوں بیچ آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اچانک ایک خونخوار شیر جھاڑیوں سے نکل آیا۔
وہ باہر نکلا اور دشمن بادشاہ پر حملہ کر دیا۔ پاگل جو اصل میں صرف تلوار چلانا چاہتا تھا۔ دل میں کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ فوراً آگے بڑھا اور شیر سے لڑنے لگا۔ سخت جنگ کے بعد اس نے شیر کو مار گرایا اور بادشاہ کو زخمی حالت میں اٹھا کر لے آیا۔ دشمن بادشاہ خون میں لت پت تھا لیکن زندہ بچ گیا۔ اپنی فوج کو دیکھ کر اس بادشاہ نے کہا، نہیں لڑائی نہیں ہوگی۔ میں اس کمانڈر کو معاف کرتا ہوں۔ اس نے میری جان بچائی ہے۔ یہ انتہائی بہادر اور ہوشیار شخص ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے۔ ہاں جو رعایا اس کے ساتھ آئے تھے انہیں گرفتار کر کے قید کیا جائے۔
میں ڈال دو۔ یہ سن کر پاگل نے فوراً تلوار نکالی اور گرج کر بولا، خبردار اگر کسی ایک مشیر کو ہاتھ لگایا تو۔ بادشاہ نے اس کی وفاداری دیکھ کر دل ہی دل میں کہا، کیا کمال کا بندہ ہے۔ دشمنوں کو بچاتا ہے اور خود کو بھول جاتا ہے۔ اب پاگل کی چرچا پوری ریاست میں ہونے لگی۔ اس کی بہادری اور سچائی نے سب کے دل جیت لیے۔ یہاں تک کہ بادشاہ نے اسے اپنی بیٹی کے نکاح میں دے دیا۔ رعایا جو پہلے ہی اندر سے جل رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر تو خاموش رہے لیکن ہر قدم پر ذلت کا بدلہ ان کا مقصد بن گیا۔ اب تو دونوں ریاستیں...
ایک بننے لگے۔ دونوں کی دشمنی دوستی میں بدل گئی۔ لیکن رِیایا نے ایک اور نیا جال بنانے کا فیصلہ کیا۔ ایک دوسرے سے کہنے لگے اگر اس پاگل کو ہم نے نہ روکا تو کل ہم سب اس کے غلام بن جائیں گے۔ اسے ختم کرنا ضروری ہے۔ سب نے ایک زبان ہو کر ہاں کر دی۔ لیکن ان میں ایک بوڑھا مشیر بھی تھا۔ تجربہ کار اور دل کا نرم، اس نے بڑی کمال کی بات کہی۔ وہ اٹھا اور نہایت سنجیدگی سے بولا۔ دوستو، میری بات غور سے سنو۔ دنیا میں ہر شخص کو اللہ نے ایک خاص مقام، حیثیت اور صفت دی ہے۔ اور یاد رکھو جسے اللہ عزت دیتا ہے، دنیا کی...
کوئی طاقت اس کی عزت چھین نہیں سکتی۔ اگر تم نے اسے مار بھی دیا تو یاد رکھو اس کی عزت اور بھی بڑھ جائے گی۔ اور اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ اس کے مرنے سے تمہیں تمہاری کھوئی ہوئی کرسی واپس مل جائے گی تو تم دھوکے میں ہو۔ ایک دن سچ سامنے آ جائے گا اور تم سب اپنے انجام کو پہنچو گے۔ لہٰذا اللہ کی رضا پر رضا مند ہو جاؤ۔ یہی ہمارے لیے بہتری ہے۔ اس نے سانس لیا اور پھر نرمی سے کہا، تم سب صرف ایک بات سمجھ لو۔ وہ بظاہر پاگل ہے، لیکن اللہ نے اسے ایک نایاب صفت دی ہے۔ قسمت اگر پوری ریاست بھی اس کے خلاف ہو جائے تو وہ۔۔۔
اکیلا ہی جیت جائے گا۔ لہٰذا اس سے الجھنے کی بجائے خود حقیقت کو اپناؤ۔ سارے رعایا نے اپنی حسد ترک کر دی اور کچھ وقت بعد پاگل وفات پا گیا اور رعایا پھر سے اپنے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ تو دوستو یہ کہانی بظاہر ایک مزاحیہ کہانی لگتی ہے لیکن اس میں ایک حقیقی سچائی چھپی ہے جسے ہمیں ماننا ہوگا، اور وہ ہے حقیقت۔ قسمت اور اللہ کا کرم۔ ہمیں بھی کبھی کسی سے حسد نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر کوئی کسی عہدے یا مرتبے پر فائز ہے اور کامیاب ہوا ہے تو وہ ان کی محنت کا صلہ ہو سکتا ہے، ان کی اچھی قسمت ہو سکتی ہے یا۔
اس میں ایسی خوبیاں ہو سکتی ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے عزت دی ہے۔ کوشش کرو وہ خوبیاں اپناؤ، محنت کرو۔ سچائی اختیار کرو۔ شاید تمہیں بھی وہی عزت ملے۔ لیکن حسد مت کرو۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ منافق لوگ اور حسد کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ ہمیشہ میدان سچے لوگوں کا ہی ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ تم نے اس کہانی سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ ہمارے چینل پر بہترین اور سبق آموز کہانیاں موجود ہیں۔
mnweb