باپ کی دعا اور بد دعا – سبق آموز اردو کہانی
یہ سبق آموز اردو کہانی ایک باپ کی دعا اور بد دعا کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔ جانیں کہ کس طرح والد کی دعائیں بچوں کی زندگی بدل سکتی ہیں اور اخلاقی سبق سکھاتی ہیں۔
بغداد شہر سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جہاں ایک بوڑھا آدمی اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہا تھا۔ وہ خاموش اور تھکا ہوا لیکن دانا انسان تھا۔ اس کے پانچ بیٹے تھے جن میں سب سے بڑا یوسف تھا جو ایک زمیندار تھا۔ یوسف سارا دن کھیتوں میں محنت کرتا، زمین کی سنبھال کرتا اور فصلوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ لیکن والد کی خدمت کرتے کرتے کبھی کبھار وہ تھک جاتا اور دل ہی دل میں سوچتا کہ یہ ذمہ داری کب ختم ہوگی۔ شام کو جب یوسف کام سے تھکا ہوا لوٹتا تو اس کا بوڑھا والد خاموشی سے بیٹے کے قدموں کی آہٹ محسوس کرتا تھا۔ حکیم کے دل میں بیٹے کے لیے...
اس سے بے پناہ محبت تھی لیکن وہ کچھ کہے بغیر بس اپنی نظریں نیچی کر لیتا تھا۔ کچھ دنوں بعد حکیم نے اپنے بیٹے یوسف کے رویے میں تبدیلی محسوس کی۔ وہ جانتا تھا کہ یوسف اپنی پڑھائی اور ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور شاید اسے یہ احساس ہونے لگا ہے کہ بوڑھا باپ اب اس کے لیے ایک بوجھ بن چکا ہے۔ یوسف کا سخت رویہ اس کے والد کو پریشان کرنے لگا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات سکون سے گزارنا چاہتا تھا، لیکن یوسف کی بے رخی نے اسے غمگین کر دیا۔ کچھ دنوں بعد حکیم نے یوسف کو قریب بلایا اور کہا، "بیٹا، مجھے معلوم ہے کہ تم پر بوجھ بڑھ رہا ہے..."
فکر مت کرو میں زیادہ دن تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا، دو تین دن بعد میں دوسرے بیٹے کے پاس چلا جاؤں گا۔ تم اپنے کام اور زندگی پر دھیان دو، میرے لیے پریشان مت ہونا۔ یوسف یہ سن کر کچھ دیر خاموش رہا، دل میں ندا مت کی ہلکی سی لہر اٹھی مگر اس کے لبوں پر کوئی سخت یا روکنے والے الفاظ نہ آئے۔ کچھ دن گزارنے کے بعد بوڑھا حکیم یوسف کے گھر سے نکل کر دوسرے بیٹے فاروق کے پاس چلا گیا جو ایک کامیاب تھا اور مال و دولت کی کمی نہ تھی۔ بڑا باپ فاروق کے گھر رہنے لگا، لیکن فاروق کا رویہ بھی قابل افسوس تھا۔ فاروق کے لیے کاروبار کی مصروفیت زیادہ اہم تھی۔
جبکہ اس کی بیوی سسر کو ہمیشہ نظر انداز کرتی اور ان سے بات کرنے کی زحمت بھی نہ اٹھاتی، حکیم دن بھر خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھا رہتا، دل میں اپنے بیٹوں کی بدلتی ہوئی محبت کا غم لیے، مگر اپنی تکلیف کبھی زبان پر نہ لاتا۔ بوڑھا حکیم غموں کے ساتھ وقت گزار رہا تھا۔ ایک دن فاروق اپنی بیوی کی باتوں میں آ کر والد سے بولا، "بابا، آپ کو میرے ساتھ کاروبار میں مدد کرنی چاہیے تاکہ آپ کی موجودگی کا مجھے بھی کچھ فائدہ ہو۔" یہ سن کر بوڑھا حکیم خاموش رہا۔ اس کی جھکی ہوئی کمر، کمزور ہاتھ اور تھکا ہوا جسم اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ اب...
وہ کسی بھی محنت کے قابل نہیں رہا لیکن اس نے اپنے بیٹے کی بات کا برا نہیں مانا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فاروق اسے صرف ذمہ داری کے پیمانے سے دیکھ رہا ہے، محبت کے نہیں۔ ساری رات بوڑھے باپ کی کانسی اور درد بھری فریاد سے تنگ آ کر فاروق کی بیوی نے کہا، "یہ بوڑھا انسان ہمیں مزید پریشان کر رہا ہے، ان کے اور بھی بچے ہیں، وہاں جا کر زندگی گزار سکتا ہے۔" فاروق بھی ایک کم ظرف آدمی تھا، اس نے اپنے بوڑھے باپ سے کہا، "بابا اگر آپ تنگ ہوں تو کوئی بات نہیں، چاہیں تو دوسرے بیٹے کے پاس چلے جائیں، وہاں آپ سکون سے رہیں گے۔"
علاج کے لیے میں پیسے بھی دے دوں گا، فکر نہ کرو۔ ان الفاظ نے حکیم کی عزت نفس پر ایک اور زخم لگا دیا۔ فاروق نے محبت اور توجہ کی بجائے صرف ایک مناسب حل کی بات کی، جیسے بوڑھے والد کی موجودگی کا کوئی احساس ہی نہ تھا، بس ایک ذمہ داری کا بوجھ تھا جو اٹھانا پڑا۔ بوڑھا حکیم فاروق کے پاس سے نکل کر تیسرے نمبر پر بیٹھے عثمان کے پاس چلا گیا۔ عثمان ایک محنتی کسان تھا اور اپنی زمینوں پر کام کرتا تھا۔ اس نے اپنے والد کا احترام کیا، لیکن اس کے پاس بھی زیادہ وقت نہیں تھا۔ وہ دن بھر کھیتوں میں مصروف رہتا اور شام کو گھر آ کر بیوی بچوں کے ساتھ ہوتا تھا۔
والد کی بیماری اور دل کی گہری اداسی پر اس کا کبھی دھیان نہیں گیا، عثمان جب صبح کام پر جاتا تو اس کی بیوی ہمیشہ اپنے بچوں کو سسر کے پاس بٹھا کر ان سے کھیلنے کو کہتی۔ بڑا حکیم جو بیماریوں اور کمزوری سے کانپ رہا تھا، یہ منظر دیکھ کر دل میں شدید غم بیٹھ جاتا۔ عثمان کے گھر میں والد کی حالت مزید خراب ہوتی گئی اور آخرکار وہ وہاں سے بھی چلا گیا۔ اس بار اس نے چوتھے بیٹے احمد کے یہاں جانے کا فیصلہ کیا۔ احمد جو کہ ایک دھوکہ باز اور لالچی انسان تھا، اپنے والد کو استقبال کرنے کے لیے بہت خوش تھا۔
خوشی صرف لالچ کی وجہ سے تھی، محبت کی نہیں۔ احمد نے اپنے والد کی عزت کی اور کہا بابا آپ کو یہاں رہنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ وقت کے ساتھ احمد کو پتہ چلا کہ بوڑھے والد کے پاس کوئی مال و دولت نہیں ہے، تو اس نے بھی والد کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔ احمد کی بیوی نے اپنے سسر کو بوجھ سمجھ کر اس کی کوئی خدمت نہیں کی، بلکہ الٹا تکلیف دی۔ وہ ہمیشہ شکایت کرتی رہتی اور بوڑھے کو اپنے کاموں میں رکاوٹ سمجھتی تھی۔ لیکن بیوی کا کیا قصور تھا جب کہ ان کے بیٹے خود ہی تھک چکے تھے۔ احمد بھی اپنے کاروبار میں اتنا مصروف تھا۔
ہوا یوں کہ اس نے اپنے والد کی حالت پر کوئی دھیان نہیں دیا، اس دوران بوڑھے کی صحت اور جسمانی حالت تیزی سے خراب ہونے لگی۔ آخرکار ایک دن احمد نے بھی جواب دے دیا اور کہا، "بابا آپ یہاں نہیں رہ سکتے، میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ آپ کا ہر وقت خیال رکھ سکوں، آپ کو کہیں اور جانا ہوگا۔" ان بےدرد الفاظ پر بڑے حکیم نے دل برداشتہ ہو کر اپنے آخری بیٹے عبداللہ کے یہاں جانے کا فیصلہ کیا۔ عبداللہ حکیم کا سب سے چھوٹا اور کم عمر بیٹا تھا، جو ایک غریب اور محنتی شخص تھا، جو دھیڑی لگاکر جو پیسے کماتا تھا، انہی پیسوں سے وہ اپنے باپ کے...
دوا خریدتا اور گھر کا خرچ چلانے کی کوشش کرتا۔ اس کی بیوی بھی بہت ایماندار تھی، اپنے سسر کا دل سے خیال رکھتی تھی۔ وہ ان کی بیماری اور بڑھاپے کو سمجھتی تھی اور ہمیشہ ماں باپ کی طرح ان کی خدمت میں لگی رہتی تھی۔ بوڑھے حکیم نے جب عبداللہ اور اس کی بیوی کی محبت اور احترام دیکھا تو دل ہی دل میں خوش ہوا اور بہت دعائیں دینے لگا۔ وقت گزرتا گیا اور حکیم اپنے چھوٹے بیٹے کے گھر خوشی خوشی زندگی گزارنے لگا۔ اس کی زندگی میں سکون اور محبت واپس آ گئی اور وہ اس بات پر شکر گزار تھا کہ آخرکار اسے وہ عزت ملی۔
جس کا وہ ہمیشہ سے حق دار تھا، بلکھیر یا شروع ہو گئے اور وہ شدید بیمار پڑ گیا۔ عبداللہ اپنے باپ کی حالت دیکھ کر بہت غمگین ہوتا اور اکثر رو پڑتا کیونکہ وہ اپنے والد کو بوجھ نہیں بلکہ سچے دل سے باپ کے مرتبے سے دیکھتا تھا۔ اس کے دل میں والد کی عزت اور محبت کا سمندر تھا اور وہ ہر ممکن کوشش کرتا کہ اپنے والد کی خدمت میں کوئی کمی نہ رہے۔ عبداللہ کے آنسو اور اس کی فکر والد کی زندگی کے آخری دنوں میں اس کے لیے ایک تسلی اور سکون کا باعث بنے۔ حکیم نے عبداللہ کی محبت دیکھ کر اسے اپنے قریب بلایا اور باریک آواز میں کہا۔
میں نے کہا بیٹا، میرے آخری دن قریب ہیں، میری سانسیں اب گننے کی رہ گئی ہیں، لیکن اللہ ہمیشہ تمہیں خوش اور آباد رکھے، جس طرح تم نے میری خدمت کی اور میرا دل جیتا۔ عبداللہ نے غمگین لہجے میں جواب دیا، بابا، اللہ نہ کرے کہ آپ ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں، آپ کے بغیر ہم کیسے جی سکیں گے؟ حکیم نے مسکراتے ہوئے کہا، بیٹا، یہ تو حق کا راستہ ہے، ہر چیز فنا ہونی ہے، مجھے بھی اپنے خالق حقیقی کے پاس جانا ہوگا۔ عبداللہ نے غمگین لہجے میں کہا، بابا، کیا آپ مجھ سے خوش ہیں؟ میں وہ خدمت نہیں کر سکا جس کا آپ حق دار تھے، میری بیوی بھی کم عقل ہے لیکن...
اگر تمہارے دل میں کوئی شکایت یا گلہ ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنا غم ہلکا کرو۔ حکیم نے گہری سانس لی اور عبدالله سے کہا بیٹا، ایک آخری بات ہے جو میں تم سے کہنا چاہتا ہوں اور یہ ایک بڑی امانت ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں تم پانچوں بیٹوں کا امتحان لیا، لیکن اس آزمائش میں صرف تم کامیاب ہوئے۔ بیٹا، میرے مرنے کے بعد تم بغداد کی پھولا گلی میں جابر نام کے ایک بوڑھے شخص کے پاس جاؤ، اسے میرا نام لے کر کہنا کہ حکیم وفات پا چکا ہے اور وہ امانت جو میں نے اس کے پاس رکھی تھی، وہ تمہیں دے دے۔ حکیم نے عبدالله کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
کہا جو امانت دی وہ تمہارے لیے ہے، اسے اپنی بیوی بچوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا۔ یہ میرا تمہارے لیے آخری تحفہ ہوگا اور یاد رکھنا باقی بھائیوں کو کچھ بھی نہ دینا۔ اور بلا آخر حکیم اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ حکیم کی وفات کا غم عبداللہ کے دل پر بجلی بن کر گرا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں اور دل میں ایک بےپناہ خالی پن تھا۔ اس کی بیوی بھی شدید غم سے رو رہی تھی کیونکہ اس نے حکیم کی خدمت دل سے کی تھی اور ان کا احترام کیا تھا۔ عبداللہ نے خود پر قابو پاتے ہوئے اپنے بھائیوں کو خبر دی اور انہیں...
جنازے میں شرکت کی دعوت دی گئی، سب بھائی جو کبھی اپنے والد کو بوجھ سمجھتے تھے، اب جنازے میں شریک ہو گئے۔ عبداللہ جو ہمیشہ ایمانداری اور محبت کی مثال رہا، نے بھائیوں سے کہا: "بابا جان نے مجھے ایک امانت سونپی تھی، مجھے یقین ہے کہ وہ کوئی قیمتی خزانہ ہوگا، لیکن اس میں سب بھائیوں کا حق ہے۔ حالانکہ بابا نے اسے صرف میرے لیے وصیت کیا تھا۔" بھائی جو دل میں کہیں نہ کہیں لالچ رکھتے تھے فوراً بولے، "عبداللہ جاؤ اور امانت لے آؤ، پھر اسے ہم پانچوں بھائیوں میں تقسیم کر دینا تاکہ سب کو برابر حصہ ملے۔" عبداللہ نے بالکل ویسا ہی کیا جیسا اس نے کہا تھا۔
بغداد جا کر امانت لے آیا، جب اس نے صندوق کھولا تو وہ حیران رہ گیا۔ صندوق میں بغداد کے مشہور بازار کی کئی قیمتی دکانوں کے کاغذات، جواہرات جو اس کی ماں کے تھے، اور بہت سی اشرفیاں موجود تھیں۔ عبداللہ نے اپنی دیانت داری کا ثبوت دیتے ہوئے سب بھائیوں کو ان کا حق دیا اور خود اپنے حصے پر قناعت کی۔ زندگی ایک بار پھر باپ کے سائے کے بغیر چلنے لگی، لیکن وقت نے جلد ہی اپنی حقیقت دکھا دی۔ چند ماہ بعد بڑے بھائیوں میں سے ایک اپنے کاروبار میں بری طرح پھنس گیا، غیر ذمہ داری اور غلط فیصلوں کی وجہ سے وہ قرض میں ڈوبتا چلا گیا۔
حالات اتنے خراب ہو گئے کہ اسے اپنا گھر تک بیچنا پڑا۔ دوسرا بھائی جو کبھی عیش و آرام کی زندگی گزارنے کا عادی تھا، ایک دن چوری کے جرم میں پکڑا گیا۔ قاضی نے اسے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا اور اس کی ساری عزت ختم ہو گئی۔ باقی بھائی بھی اگر سونا چھوتا تو وہ بھی مٹی بن جاتا۔ یہ سب ناکامیوں کا جواب تھا باپ کی بددعا کا۔ دوسری طرف عبداللہ نے اپنی محنت سے بغداد میں کاروبار شروع کیا۔ وہ کوفہ سے عمدہ کپڑا خرید کر بغداد کے بازار میں بیچتا اور وقت کے ساتھ اچھا خاصا منافع کمانے لگا۔ اس کی ایمانداری، باپ کی دعا اور مستقل مزاجی تھی۔
محنت نے اسے ترقی کی راہ پر ڈال دیا یہاں تک کہ وہ اپنے باقی بھائیوں کی فروخت کردہ دکانیں خریدنے لگا اور آہستہ آہستہ پورے بازار کا واحد مالک بن گیا۔ جو بھائی کبھی خود کو دولتمند سمجھتے تھے، اب وقت کے مارے ہوئے عبد اللہ کے در پر سوال کرنے آ گئے۔ عبد اللہ، جو ایک رحم دل اور محبت کرنے والا انسان تھا، ان کی مدد کرتا اور انہیں خالی ہاتھ واپس نہیں جانے دیتا تھا۔ اس کا یہ رویہ اس کے والد کی سکھائی ہوئی اخلاقیات کا عکس تھا۔ پھر وہ دن آیا جب عبد اللہ نے بغداد کے ترقی یافتہ علاقے میں ایک بڑا گھر خریدا اور اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ...
وہ خوشگوار زندگی گزارنے لگا، زندگی کے اُس موڑ پر بھی اپنے والد کی دعاؤں اور تعلیمات نے مجھے بغداد کا امیر بنا دیا، لیکن آپ کی سایہ کی محرومی نے مجھے غمگین کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ دوستوں، اس کہانی سے ہمیں تین قیمتی سبق ملتے ہیں: نمبر ایک، والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں تاکہ وہ بعد میں نہ صرف ان کا سہارا بنیں بلکہ زندگی کی مشکلات کا مقابلہ حکمت اور صبر سے کر سکیں۔ نمبر دو، بیٹے کے طور پر والدین کو کبھی بوجھ نہ سمجھیں کیونکہ وقت کا پہیہ...
گردش کرتا ہے اور کل آپ خود اسی مقام پر ہو سکتے ہیں جہاں والدین آپ سے محبت اور توجہ کی امید رکھتے تھے۔ نمبر تین، والدین کے ساتھ محبت، عزت اور اچھا رویہ اختیار کرنا نہ صرف آپ کے مستقبل کو روشن کرتا ہے بلکہ آخرت میں بھی بے شمار انعامات کا باعث بنتا ہے۔ والد چاہے جیسے بھی ہوں، ان کی خدمت بیٹے کا فرض ہے کیونکہ ان کی دعائیں ہی آپ کی زندگی کی سب سے بڑی دولت ہیں۔ مجھے امید ہے کہ آپ نے اس کہانی سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔
msweb