بولنے والا سونے کا بت

یہ کہانی سرزمین مکہ کے مشہور کافر ولید اور اس کے سونے کے بت کے بارے میں ہے، جو اچانک بولنے لگا اور ولید کو اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ کی حقیقت سے آگاہ کیا۔ یہ قصہ عبرت آموز اور حیرت انگیز ہے، جو قاری کو ایمان، سبق اور تجسس کا حسین امتزاج فراہم کرتا ہے۔

بولنے والا سونے کا بت
بولنے والا سونے کا بت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سرزمین مکہ کا ایک مشہور ولید نامی کافر تھا جو نبیِ رحمت سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا دشمن تھا۔ وہ رسول اللہ کو تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ ولید ایک امیر تاجر تھا، اس نے اپنے گھر میں ایک بڑا سونا کا بت بنایا ہوا تھا جس کی وہ دل و جان سے عبادت کرتا تھا۔ ایک دن وہ بت کی پوجا میں مصروف تھا کہ اچانک وہ سونا کا بت باتیں کرنے لگا جس کی وہ عبادت کر رہا تھا۔ اس بت نے ولید سے کہا، "اے میرے ماننے والے، جو مجھ پر یقین کرتے ہو، سن لو محمد اللہ کے رسول ہیں۔"

رسول اللہ کا دین سچا نہیں ہے، محمد پر کبھی ایمان مت لانا، محمد کو رسول ماننا کبھی قبول نہ کرنا۔ جب ولید نے اپنے بت کو بولتے دیکھا تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے اپنے آس پاس کے کافروں کو جمع کیا اور کہا، "دیکھو میرا خدا بات کر رہا ہے۔" جب سب جمع ہو گئے تو وہ لوگ ولید کے بت کے پاس گئے اور انہوں نے بھی بت کے منہ سے وہی الفاظ سنے جو ولید نے سنے تھے۔ اگلے دن پورے علاقے میں یہ بات عام ہو گئی، سب لوگ آتے اور اس بت کے منہ سے یہ بے معنی باتیں سن کر چلے جاتے۔ ایک دن انہوں نے رسول اکرم کو بھی دعوت دی کہ۔۔۔

اے محمد، آؤ اور دیکھو ہمارا خدا یعنی یہ بت سچا ہے جو یہ دعویٰ کر رہا ہے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بھی بلایا۔ جب رسول اللہ ﷺ اس بت کے پاس تشریف لائے اور جب حضور اکرم کو دعوت دی گئی، تو ولید نے زور سے کہا اور سارا مکہ والوں کو ایک میدان میں جمع کیا تاکہ آج بت کے منہ سے یہ الفاظ سب سنیں۔ اور پھر محمد ﷺ پر ایمان لانے والے دوبارہ ہمارے خداوں کی عبادت کرنے لگیں۔ لوگ میدان میں کھڑے ولید کے بت کے منہ سے مشرک الفاظ سننے کے لیے۔

بےتاب کھڑے تھے، جب مجسمے نے رسول اللہﷺ کو دیکھا تو اُس نے نبی مکرمﷺ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "اے لوگو! یہ حضرت محمدﷺ ہیں، یہ اللہ کے آخری نبی ہیں، ان کا دین سچا دین ہے اور قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے۔ میری ان باتوں سے کبھی انکار مت کرنا۔ اگر تم ان باتوں سے انکار کرو گے تو اللہ نے تمہارے لیے جہنم میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور اگر تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہونا چاہتے ہو تو نبی مکرمﷺ کے دین پر ایمان لے آؤ۔ خدا اور اس کے نبی کو راضی کر لوگے تو تم دنیا اور آخرت میں کامیاب ٹھہرو گے۔"

کافروں، بتوں پر یقین رکھنے والو! تمہارے سارے بت تمہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ اگر تم نے انہی بتوں کی عبادت کی تو تم سب کافر مزید گمراہ ہوتے جاؤ گے اور مرنے کے بعد تمہاری جگہ جہنم کی سخت آگ ہوگی۔ جب ولید نے اپنے بت کے منہ سے یہ الفاظ سنے تو شرمندگی کے مارے اس نے سر جھکا لیا۔ ولید کو اپنے بت پر اتنا غصہ آیا کہ وہ غصے میں آ کر بت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ حضور اکرم ﷺ یہاں سے واپس جا رہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ کی نظر ایک گھوڑے سوار پر پڑی جو بڑی تیزی سے ہاتھ میں خون سے تر تلوار لیے تھا۔ نبی اکرم ﷺ۔۔۔

وہ راہ میں آ رہا تھا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو اس نے آپ کو سلام کیا، رسول اللہ ﷺ نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ اُس شخص نے جواب دیا، اے محمد! میں مسلمان ہوں، میں تم پر یقین رکھتا ہوں اور مجھے محیّن البولاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میں جبل طور پر رہائش پذیر ہوں۔ میں کسی کام کے لیے دوسرے علاقے گیا ہوا تھا۔ آج کافی دنوں بعد گھر واپس آیا تو دیکھا کہ میرے گھر والے بہت اداس بیٹھے ہوئے ہیں اور رو رہے ہیں۔ میں نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ایک شیطان ولید کافر ہے۔

وہ شیطان جو رسول اللہ کے بارے میں بےوقوفانہ باتیں کر رہا تھا، آج پھر اس بت میں حاضر ہونے آیا ہے جو رسول اللہ کے بارے میں غلط الفاظ بولنے والا ہے، توبہ توبہ۔ جب میں نے گھر والوں سے یہ الفاظ سنے تو برداشت نہ ہوا، میں نے اس شیطان کو راستے میں ہی روک کر قتل کر دیا اور خود اس بت میں داخل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے نبی ہونے کی گواہی دی۔ جو کچھ بھی اس نے کہا، وہ سب کچھ میں نے کہا ہے۔ مسلمان، جب یہ باتیں سنیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بہت...

خوش ہوئے اور اس جن کے لیے اللہ سے معافی کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

عوج بن عناق: دنیا کا سب سے لمبا انسان یا ایک تاریخی روایت؟ حیران کن حقائق

زنا کی ابتدا کیسے ہوئی دنیا کا پہلا زنا اور عبرت آموز سبق