رمضان کے مہینے میں غریب بچیوں کی افطاری | دل کو چھو لینے والی اسلامی کہانی

رمضان المبارک میں غریب بچیوں کی افطاری کی خوبصورت اور سبق آموز اسلامی کہانی۔ ایک ایسی سچی اور دل کو چھو لینے والی داستان جو انسانیت، ہمدردی اور نیکی کا پیغام دیتی ہے۔

رمضان کے مہینے میں غریب بچیوں کی افطاری | دل کو چھو لینے والی اسلامی کہانی
رمضان کے مہینے میں غریب بچیوں کی افطاری | دل کو چھو لینے والی اسلامی کہانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم سر، آزمایش ایک طرف اور اپنی اولاد کی خواہش پوری کرنے کا دکھ ایک طرف ہوتا ہے۔ روزے کی حالت میں شدید دھوپ اور گرمی میں سارا دن میں اینٹیں لگاتا رہا۔ جب شام ہوئی تو ٹھیکیدار نے صفر صفر دے کر مجھے چھٹی دے دی۔ میں کبھی ان چار سو روپوں کو دیکھتا، کبھی سامنے ریڑھیوں پر لگے مختلف پھلوں کو، جنہیں خریدنے کی اجازت میری جیب نے آج تک مجھے نہیں دی تھی۔ میں خاموشی سے آگے بڑھ گیا کیونکہ مجھے آٹا خریدنا تھا۔ جیسے تیسے کر کے ان پیسوں سے ایک تھیلا آٹا خریدا اور گھر کی طرف چل دیا۔ مغرب کی اذان شروع ہو چکی تھی۔

جب میں نے پہلا قدم گھر میں رکھا، میری تینوں بیٹیاں اور بیوی زمین پر بیٹھی میرے انتظار میں تھیں۔ چٹائی پر سادہ پانی اور ایک خشک روٹی پڑی تھی۔ یہ دیکھ کر میرا دل بھر آیا اور آنسو نکل آئے۔ افطار کا وقت ہوا تو ہم سب نے سادہ پانی کے ساتھ کل کی بچی ہوئی روٹی کھا کر خدا کا شکر ادا کیا۔ دن بہ دن بڑھتی مہنگائی میں میرے جیسے کئی خاندانوں کی یہی حالت ہو چکی تھی۔ سارا دن محنت کرنے کے بعد ہمارے سامنے سرخ رنگ کے چند نوٹ پھینکے جاتے۔ ٹھیکیدار چند نوٹ دے کر بھی احسان کر رہا ہوتا ہے۔ کئی دن ایسے ہی گزر گئے، جیسے تیسے۔

خشک روٹی کھا کر گزارا کرنے لگے لیکن آہستہ آہستہ ہماری حالت اور بھی خراب ہوتی جا رہی تھی۔ میری بیوی اب اکثر مجھ سے لڑنے لگی تھی، اُس کا کہنا تھا کہ اب مجھے بھوک اور غربت برداشت نہیں ہوتی، اگر تم زیادہ کمائی نہیں کر سکتے تو مجھے اجازت دو میں بھی اپنے لیے نوکری ڈھونڈ کر کام کر لوں۔ کم از کم ہماری بچیوں کو دو وقت کا اچھا کھانا تو مل جائے۔ مگر میری غیرت یہ برداشت نہیں کرتی تھی کہ میں اپنی بیوی اور بچوں سے کوئی کام کرواوں۔ آج بھٹے پر کام اچھا نہیں چلا تھا تو ٹھیکیدار نے دیہاڑی بھی نہیں دی تھی، میں نے اُس سے بہت من مانگ کی۔

مگر وہ مانا نہیں، میری آنکھوں میں آنسو آ چکے تھے۔ جب میں بے بسی کی انتہا پر پہنچا تو رونے لگا۔ کتنی دیر میں وہاں بیٹھا رہ کر اپنا منہ چھپائے رویا۔ میری جیب میں تو ایک آنا بھی نہیں تھا۔ میں کس منہ سے خالی ہاتھ اپنے گھر جاتا؟ آج میں اپنے گھر والوں کے لیے آفت کا سامان کہاں سے لاتا جو صرف ایک خشک روٹی پر گزارا کرتے تھے۔ پتہ نہیں لوگ کیسے بچتے ہیں، کھانے کو باسی سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔ ہمارے گھر تو کبھی ایک نوالہ بھی بچتا نہیں تھا۔ اُس وقت میرا دل ٹوٹنے لگتا تھا جب میری بچی دستر خوان پر گرے ہوئے روٹی کے جلے ہوئے ٹکڑے چن چن کر کھاتی تھی۔

منہ میں ڈالتی ہوئی کہتی امی یہ کڑوے ہیں تو کیا ہوا، لیکن مجھے یہ بہت مزے دار لگتے ہیں۔ شاید اصل وجہ یہ تھی کہ اس کی بھوک مٹانے کے لیے ایک روٹی کافی نہیں تھی۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ میں اور میری بیوی نے بس آدھی آدھی روٹی ہی کھائی تاکہ بچیوں کا پیٹ بھر سکے۔ لیکن کم وقت میں پیٹ کی آگ کو ایندھن چاہیے ہوتا ہے، اگر نہ ملے تو نیند بھی ٹھیک سے نہیں آتی۔ میں نے بھی تعلیم کے نام پر اپنی بیٹیوں کو بس کلام پاک ہی سکھایا تھا، وہ بھی اس لیے کہ مسجد میں نادرا کی تعلیم مفت تھی۔ گورنمنٹ اسکول کی پڑھائی تو مفت تھی، مگر دور بہت تھا آنے جانے کا۔

یہ خرچہ میرے بس کی بات نہیں تھی، غربت ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ میں نے کچھ دوستوں سے قرض لینے کی کوشش کی، مگر سب نے یہی کہا کہ پہلے پچھلا قرض واپس کرو، منور میاں، تبھی اگلا حساب دیں گے تمہیں۔ میں دھیمی دھیمی قدموں سے گھر کی طرف چل دیا۔ قدم ساتھ دینے سے انکار تھے، مگر میں ہمت کرکے گھر میں داخل ہوا۔ آج میرا بھی اداس چہرہ اور خالی ہاتھ دیکھ کر بیوی پھر سے بہت غصے میں آ گئی۔ وہ بڑے غصے سے میرے پاس آئی اور مجھے گالیاں دینے لگی، "آج بھی خالی ہاتھ آئے ہو؟ اگر بچے پال نہیں سکتے تو پیدا ہی نہ کرتے! ان لڑکیوں کو آج پھر۔۔۔"

بس سادہ پانی سے ہی افطاری کرنی پڑے گی، میں کہہ رہی ہوں منور، اگر تم نے یہی سب کچھ جاری رکھا تو ایک دن میں زہر لے کر خود بھی کھا لوں گی اور اپنی بیٹیوں کو بھی کھلا دوں گی۔ پھر بیٹھے رہنا اپنی دو پیسے کی نوکری لے کر۔ بیوی کی بات سن کر میری روح لرز گئی۔ میں کمزور مرد بالکل بھی نہیں تھا، مگر میں چٹان کی مانند رہ رہ کر تھک بھی چکا تھا۔ بیوی کی بات سن کر میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور میں چہرے پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا۔ مجھے روتا دیکھ کر بیوی چپ ہو گئی، مگر میری بیٹیاں تو جیسے ہی اپنے باپ کو روتا دیکھا، تڑپ اٹھیں۔ وہ میرے پاس...

دوڑی آئي اور مجھے چپ کرانے لگی، کوئی میرے ہاتھ چوما کر روتی ہوئی تسلی دے رہی تھی تو کوئی میرا بازو پکڑ کر کہہ رہی تھی کہ کوئی بات نہیں ابا، ہمیں آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے، آپ ہمارے لیے دنیا کے سب سے اچھے باپ ہیں۔ بڑی بیٹی نے میرے ساتھ لگ کر کہا، چھوٹی بیٹی اُس وقت بس سات سال کی تھی، کہنے لگی ابا، مجھے تو آج بھوک ہی نہیں لگ رہی، میں بس پانی پی لوں گی، آپ مت روئیے۔ خشک ہونٹوں پر اُس نے زبان پھیر کر تر کیا تھا، میرا دل مہی بے آب کی طرح تڑپ کر رہ گیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ بھوکی ہیں، اُن کے الفاظ میرے دل کو تڑپا گئے تھے۔ افسوس کے۔

جب پڑوس سے پکڑے اور دوسری اشیاء کی خوشبو آتی، تو میری بچیاں دیوار کے کنارے سے پڑوس میں جھانکنے لگتی تھیں۔ بڑی ترس بھری نظروں سے بھرے دستر خوان کو دیکھتی تھیں۔ آج تو ویسے بھی ہفتے میں پانی کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس لیے پانی پیتے ہی وہ کنارے سے جھانکنے لگیں۔ چھوٹی بیٹی نے درمیانی بیٹی سے کہا، "دیکھو، آپی، آدھے پکڑے جمیلہ خالا نے کچرے کے ڈبے میں ڈال دیے ہیں۔ اور کب وہ کچرے کا ڈبہ دروازے سے باہر پھینکے گی؟ چلو، آپی، وہیں سے اٹھا کر کھا لیتے ہیں، قسم سے مجھے بہت بھوک لگی ہے۔" بیٹی کی بات نے پھر مجھے آنسو بہانے پر مجبور کر دیا۔ اب تو یہ حالت آ گئی تھی کہ...

میری بچیاں کچرے میں سے چن چن کر اپنا پیٹ بھرتی ہیں، پتہ نہیں پڑوسی کیسے سو جاتے ہیں جب ان کا پڑوسی بھوکا سوتا ہے۔ جانے کی بجائے وہ اپنے اس پڑوسی کو کیوں یاد نہیں کرتے جو خشک روٹی کے ٹکڑے پانی میں ڈبو کر کھانے پر مجبور ہے، یعنی بھوکا ہے۔ میں گھر سے باہر نکلا، سامنے ہی بس اڈہ تھا۔ میں نے آنے جانے والی سواریوں سے التجا کی کہ وہ میرا سامان اٹھوا دیں، مجھے پیسوں کی سخت ضرورت تھی۔ چند ایک نے مجھ پر ترس کھایا۔ دو تین گھنٹوں میں میں نے کچھ پیسے کما لیے۔ میں نے جلدی سے آٹا...

لیا اور گھر میں داخل ہو گیا، بیوی کے ہاتھ میں آٹا تھما دیا۔ وہ اداس نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی اور فوراً آٹا گوندھنے لگی۔ بچوں نے روٹی کھائی تو میرے دل کو سکون ملا۔ رات کو جب میں اپنے بستر پر لیٹا، بار بار بیوی کے وہی الفاظ میرے ذہن میں گھوم رہے تھے۔ میری بیوی جذباتی تھی، غصہ بھی بہت تیز تھا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ واقعی کوئی ایسا قدم اٹھا لے۔ میری پوری دنیا تو میری بیوی اور بچے ہی تھے، یہ سوچ کر مجھے بےچینی ہونے لگی۔ اگلے دن میں نے دوگنی محنت شروع کر دی۔ میں اپنی مزدوری کے علاوہ بھی بٹھّے پر کام کرنے لگا تاکہ زیادہ سے زیادہ پیسے کما سکوں۔

میری صحت دن بہ دن خراب ہو رہی تھی مگر مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اُس دن ٹھیکیدار نے مجھے مزدوری دی اور میں کھانے کا کچھ سامان لے کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔ میں خوش تھا کہ آج میری بیٹیاں باسی یا کسی اور کا پھینکا ہوا کھانا نہیں کھائیں گی۔ جب میں گھر پہنچا تو معمول سے ہٹ کر سب کے چہروں پر خوشی نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے مسکرا کر میرا استقبال کیا تھا۔ افطار کا وقت ہو چکا تھا۔ دستر خوان کی طرف میری نظر پڑی تو دیکھ کر میری آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ دستر خوان پر طرح طرح کے کھانے رکھے ہوئے تھے اور میری بیوی اور بیٹیاں بڑی ہی...

وہ خوش دکھائی دے رہی تھی، سموسے، چنے چاٹ، اور روح افزا کا شربت دے کر میں نے حیرت سے پوچھا، "اتنا زیادہ اور اچانک یہ کھانا آخر کہاں سے آیا ہے؟" میری بات کا جواب دیتے ہوئے میری بیوی نے کہا، "ایک اللہ والا آیا تھا جو ہمیں یہ کھانا دے کر گیا ہے۔" میں بھی اطمینان سے مسکرایا کہ شاید کسی نیک بندے نے افطاری کرائی ہوگی اور کھانے کا سامان ہم جیسے مستحق تک پہنچایا ہوگا۔ چلو اللہ نے میری سن لی، بلاشبہ وہ اپنے بندوں کا حق ادا کرتا ہے۔ آج میں نے چار سو کی بجائے آٹھ سو کمائے تھے، سارے پیسے بیوی کے ہاتھ میں دے دیے اور کہا، "کچھ سنبھال کے رکھ لینا اس بار۔"

عید پر بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدے۔ میری بیوی بھی خوشی سے پیسے دوپٹے کے پلو سے باندھ لیے تھے۔ آج میرے بچوں نے خوب گھوم پھر کے مزہ کیا۔ میں نے بھی خدا کا شکر ادا کیا اور ہم سب نے گھوم پھر کے کھانا کھایا۔ رات کو میں نے بیوی سے کہا کہ اب پریشان مت ہو، میں نے ڈبل محنت شروع کر دی ہے، اب اسے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن نہ جانے کیوں وہ بار بار کسی خیال کے زیرِ اثر مسکرا رہی تھی۔ میں نے وجہ پوچھی تو لگ رہا تھا جیسے وہ میری بات سن ہی نہیں رہی، کہیں اور ہی خیالات میں کھوئی ہوئی تھی۔

میں نے کہا آج تم اتنی خوش کیوں ہو؟ وہ بولی، آج بڑے عرصے کے بعد میری بچیوں نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا ہے، کیا میں خوش بھی نہ ہوں؟ میں غور سے اسے دیکھنے لگا اور سوچنے لگا کہ اللہ نے اولاد کیا چیز بنائی ہے۔ بچہ دنیا میں آتے ہی ماں باپ کی سوچ اور جذبات کو بدل دیتا ہے۔ جب بچوں کے پیٹ بھر جائیں تو ماں باپ کو بڑی سکون کی نیند آتی ہے، اور اگر ایک بھی بچہ بھوکے پیٹ سو جائے تو ماں باپ کو ایک پل بھی چین نہیں آتا۔ بہرحال میں دن بھر سے تھکا ہوا تھا اس لیے جلدی سو گیا۔ اب تو یہ روز کا معمول بن چکا تھا۔

جب بھی میں گھر آتا تو دسترخوان کھانے سے سجا ہوتا اور میری بیوی اور بچے بڑے مزے سے باتیں کر رہے ہوتے تھے۔ میں پوچھتا کہ یہ سب کہاں سے آیا ہے تو بیوی کہتی کہ کوئی اللہ کا بندہ دے گیا ہے، پتا نہیں کیوں۔ اب مجھے بیوی کا یہ جواب یقین نہیں آ رہا تھا۔ میری بیوی بھی کافی خوش رہنے لگی تھی، اب وہ نہ مجھ سے لڑتی تھی اور نہ ہی ہر بات پر طنز کرتی تھی۔ میری بڑی بیٹی، جس کی عمر بمشکل 14 سال تھی، اس کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی تھی۔ وہ دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی اور چپ سی رہنے لگی تھی۔ میں جب بھی بیوی سے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا...

کہتی تو وہ مجھے ٹال دیتی، کہتی تم فکر مت کرو، خود ہی ٹھیک ہو جائے گی۔ مجھے پہلے حیرت کا جھٹکا لگا تھا یہ سن کر کہ میری بیوی تو بچوں کی بہت پرواہ کیا کرتی تھی، لیکن اب مجھے بیوی کا یہ رویہ کچھ بدلا بدلا سا لگنے لگا تھا۔ رات کو وہ نہ جانے کیا سوچ سوچ کر مسکرا رہی ہوتی، جب میں وجہ پوچھتا تو وہ چوک جاتی، جیسے میری بات سن ہی نہیں رہی ہو، کسی اور کے خیالوں میں کھوئی ہوئی ہو۔ پھر مجھ سے پوچھنے لگتی کہ تم کیوں ابھی تک جاگ رہے ہو، سو جا۔ ایک بار میں صبح مزدوری کرنے کے لیے جانے لگا تو وہ مجھ سے کہنے لگی، منور آج...

رشن کی فکر مت کرو، نہ ہی آٹا لانا، پہلے ہی آٹے کے ڈھیر جمع ہو چکے ہیں۔ روزانہ اللہ کا بندہ ہمیں سامان دے جاتا ہے۔ مجھے اب یہ باتیں کافی پریشان کرنے لگیں تھیں کہ آخر وہ کون سا اللہ والا تھا جو روزانہ اتنا کھانا ہمارے گھر دے کر چلا جاتا تھا؟ اور میری بیٹی کو ایسی کیا بیماری ہوئی تھی کہ میری بیوی اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے بھی کتراتی تھی؟ ایک دن میں کام سے جلدی گھر واپس آ گیا اور کپڑے نکالنے کے لیے الماری کھولی، مگر یہ دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوئی کہ اس الماری میں میری بیوی اور بیٹی کے چند ایسے کپڑے تھے...

وہ بھی پڑے تھے جنہیں دیکھ کر میرا دماغ گھوم گیا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ جو بات مجھ پر عائد ہو رہی تھی وہ میری غربت پر گہرا زخم تھی۔ مجھے الماری کھولتے دیکھ کر بیوی فوراً میرے پاس آئی اور الماری بند کر دی، پھر غصے سے بولی، "اگر تمہیں کچھ چاہیے تھا تو مجھے بتاتے، خود سے الماری کھولنے کی کیا ضرورت تھی؟" بیوی کا رنگ اڑ چکا تھا جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔ جانا دستر خوان پر رنگ برنگ کے کھانے، اور پھر میری بڑی بیٹی کی خراب ہوتی طبیعت نے مجھے پہلے ہی کئی سوالات میں مبتلا کر رکھا تھا، اور اب الماری میں وہ کپڑے دیکھ کر مجھے...

شک ہو رہا تھا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ورنہ میری بیوی کا رنگ کیوں اڑتا۔ میرے ذہن میں کئی سوالات اٹھ رہے تھے۔ میں شکی مزاج آدمی بالکل نہیں تھا مگر اچانک ہونے والی اس تبدیلی نے مجھے شک کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری بیوی نے الماری لاک کر دی تھی۔ مجھے کام سے دیر ہو رہی تھی، میں نے سوچا رات کو اس سے پوچھوں گا۔ دن بھر کے کام کے دوران بھی میں بیوی کے بارے میں ہی سوچتا رہا۔ جیسے جیسے خیالات میرے ذہن سے گزر رہے تھے، میری بےچینی اور بے قراری بھی بڑھنے لگی تھی۔ آج رات تو کھانے میں میری بیوی نے مرغی کا سالن بنایا تھا۔ آج۔

مجھے بھی شدید بھوک کے باوجود ٹھیک طرح سے کھانا نہیں ملا، سہری بھی سالن ہونے کے باوجود خشک روٹی کھا کر کرنی پڑی کیونکہ مجھے اتنی بھوک نہیں تھی۔ دو دن ایسے ہی گزر چکے تھے۔ ایک دن جب میں گھر پہنچا تو دوبارہ دستر خوان پر کھانے لگے تھے۔ میں غصے سے بیوی سے پوچھا کہ آخر وہ کون سا اللہ والا ہے جو پوری دنیا چھوڑ کر صرف ہم پر مہربان ہے؟ میری بیوی نے میری بات سنی تو اس کے ساتھ ساتھ بڑی بیٹی کے چہرے پر بھی کئی رنگ آئے۔ بڑی بیٹی نے پھر بولی، "ابا وہ اللہ والا بہت نیک شخص ہے، اس نے منّت مانی تھی۔"

کہ اگر وہ پورا ہو گیا تو ایک غریب خاندان کو پورا رمضان افطاری کرائے گا، بس اسی لیے روزانہ یہ ہفتہ کا سامان وہ مجھے بھیج دیتے ہیں۔ کسی بھی طرح بیوی کی بات پر یقین نہیں آیا تھا مجھے۔ میں نے انہیں سختی سے منع کیا کہ آئندہ سے مجھے گھر میں باہر کا لایا ہوا کھانا مت دینا، تم لوگ وہی کھاؤ جو میں کماتا ہوں۔ میری بات سن کر میری بیوی فوراً غصے میں آ گئی اور مجھے سمجھانے لگی۔ آج پھر اسی دھمکی دی کہ وہ خود بھی زہر کھا لے گی اور بچیوں کو بھی زہر دے دے گی، کیونکہ اب میں اس پر شک کرنے لگا ہوں۔

کوئی ہماری مدد تو کر ہی رہا ہے، لیکن میں شکر ادا کرنے کی بجائے شک کر رہا ہوں۔ مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے، وہ کون سا شخص تھا جو منّت کے پیسے صرف ہمیں ہی دے رہا تھا، اور وہ بھی اتنے کہ میری بیوی اتنا کچھ بنا لیتی تھی۔ کہیں میری بیوی مجھ سے کچھ چھپا تو نہیں رہی تھی؟ میں یہی سوچتا رہا، مگر اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ میری چارپائی کے تکیے میں کچھ اُبھا ہوا ہے۔ میں نے ہلکا سا ہاتھ پھیر کر اُس جگہ کو محسوس کیا اور تکیے کے گِلّاف میں ہاتھ ڈال دیا۔ میرے ہاتھ سے کوئی چیز ٹکرائی، جب نکال کر سامنے دیکھا تو۔۔۔

تو میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی کیونکہ وہ تو ہزاروں کے کئی نوٹ تھے۔ میں ان پیسوں کو دیکھنے لگا، آج تک اتنے پیسے ایک ساتھ نہ دیکھے تھے اور نہ کما کر گھر لائے تھے۔ آخر یہ پیسے کہاں اور کس نے چھپا کر رکھے تھے؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا، آخر ایسا کیا ہو رہا تھا؟ کس کی بدولت انہیں اتنے پیسے دیے گئے تھے؟ اگر میں اپنی بیوی سے پوچھتا تو وہ یقیناً مجھے نہ بتاتی، اس لیے میں نے ٹھان لیا کہ اب خاموشی سے ان کی ہر حرکت نوٹ کر کے معاملے کی تہ تک پہنچوں گا۔ اگلے دن میں جلدی گھر لوٹا، مگر گھر کے دروازے کو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ وہاں تو تالہ لگا تھا۔

آخرکار اُس وقت میری بیوی بچے سمیت کہاں جا سکتی تھی؟ میں سوچ میں پڑ گیا اور دروازے سے کچھ دور گلی کے کونے پر کھڑا ہو گیا۔ میرے دل کی حالت ایسی تھی کہ بےچینی سے بالکل ساکت ہو چکا تھا۔ کافی دیر وہیں کھڑا رہا اور سوچتا رہا کہ وہ کہاں جا سکتی ہے۔ میرا تو اس پر کوئی حق نہیں تھا، پھر وہ کہاں گئی تھی؟ میرے دل میں طرح طرح کے شبہات اٹھنے لگے تھے۔ میں بہت دیر وہاں کھڑا رہا۔ وہاں میرا ایک جاننے والا مل گیا جس نے مجھے اپنے ساتھ پان کی دکان پر لے گیا۔ وہ مجھ سے گھر کے حالات کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اب میرے حالات چھپے چھپائے تو نہیں تھے۔

میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے آپ کچھ بہتر ہیں، پھر اس نے مجھے ایسی بات بتائی کہ میرے ہوش اڑ گئے۔ میں اس کی شکل دیکھتا ہی رہ گیا، پھر مسکرانے لگا اور کہنے لگا، "خوبصورت بیوی اور خوبصورت جوان بیٹی کے گھر اگر یوں ہی لوگوں کی عنایتیں ہونے لگیں تو سمجھ جاؤ منور میاں کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔" نہ جانے کیوں، میری گردن اور نظریں یوں جھک گئیں جیسے میری بیوی اور بیٹی کا جوان اور خوبصورت ہونا میرے لیے کوئی گندی گالی بن گئی ہو۔ آج تک میری بیوی بغیر کسی خاص ضرورت کے گیٹ کے پاس کھڑی نہیں ہوئی تھی اور...

میں اس کے حسن کے قصیدے ایک غیر مرد کے منہ سے سن رہا تھا۔ میرے جیسے شخص کے لیے یہ میری غیرت پر زوردار ذلت کا تھپڑ تھا۔ میں جن قدموں سے گھر پہنچا تھا، وہ صرف میں ہی جانتا تھا۔ اس بار گھر کے دروازے پر تالا نہیں تھا، وہ کھلا ہوا تھا، اور میں گھر کے اندر داخل ہوا۔ میری بیٹیاں اور بیوی تھکی ہاری صحن کی چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ صحن میں ایک نیلے رنگ کا بڑا ڈھکا ہوا ڈبہ رکھا ہوا تھا جس میں کھانے پینے کا سامان تھا۔ مجھے وقت سے پہلے گھر پر دیکھ کر میری بیوی کا رنگ اُڑ گیا اور میں ساکت ہو گیا۔ میرے ساتھ میری بیوی اور بیٹیاں جھوٹ بول رہی تھیں، اللہ کے بندے۔

مجھے مفت میں گھر پر راشن پہنچایا جاتا تھا۔ میرا دل بہت ٹوٹا ہوا تھا، ان کے لیے میں دن رات محنت کر رہا تھا اور یہ نہیں معلوم کہ وہ میری پیٹھ پیچھے کیا کر رہی تھی۔ میں اپنے آنسو گلے میں روکنے لگا۔ میری بیوی اٹھ کر میرے پاس آئی، وہ میری حالت سمجھ گئی۔ اس نے پوچھا کہ میں اتنی جلدی گھر کیوں آیا ہوں۔ میں اسے کافی دیر سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آ رہی ہو۔ اس سوال پر وہ بہت پریشان ہو گئی اور بولی، "کیا آپ پہلے بھی گھر آ چکے تھے؟" میری بچیوں کے چہرے بھی رنگے ہوئے تھے۔ جس نظر سے میں نے اسے دیکھا تھا وہ...

ڈر بہت زیادہ ہو گیا تھا، میں غریب ضرور تھا لیکن انسان تھا۔ میں نے اپنی بیوی کو پیٹ بھر روٹی کھلانے میں کبھی کمی نہیں کی، شاید اپنے حالات کی وجہ سے تھوڑی سی کمی ہو گئی ہو، لیکن کبھی بھی غصے میں نہیں آیا تھا۔ ہاتھ اٹھانا تو بہت دور کی بات ہے۔ پہلی بار میری آواز اس پر تیز ہوئی تھی۔ میری بچیاں چارپائی پر ڈری ہوئی بیٹھی تھیں۔ وہ بولی کہ مجھے کسی پڑوسن نے بتایا تھا کہ کہیں ration تقسیم ہو رہا ہے، اس لیے میں وہاں چلی گئی تھی۔ میں نے اس کے کپڑوں پر نظر ڈالی، پھر بچیوں کی طرف اشارہ کیا۔ اس حالت میں میری بات سن کر وہ سر جھکائے رونے لگی اور میرے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی۔

کہنے لگی مجھے معاف کر دو منور میاں میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا، میں نے پہلی بار اس کا ہاتھ بہت زور سے پیچھے کھینچا تھا۔ وہ پرانے اور پھٹے کپڑوں میں ملبوس تھی، میری بچیاں بھی ایسے ہی حالت میں تھیں، بال بھی بکھرے ہوئے تھے۔ چند دن پہلے ہی میں نے ویسے ہی کپڑے بیوی کی الماری میں دیکھے تھے۔ میرے کام پر جانے کے بعد وہ خود بھی پھٹے پرانے کپڑے پہنتی اور بچیوں کو بھی وہی کپڑے پہنا دیتی، پھر کالے چادر اوڑھ کر سڑکوں پر بھیس مانگنے چلی جاتی تھی۔ لوگ اس کی غربت پر شاید توجہ نہیں دیتے تھے مگر اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر اسے پیسے دے جاتے۔ میری بڑی...

بیٹی بھی بہت حسین تھی، اس لیے منجلی اسے پیسے دیتے ہوئے بہت زور دیتا تھا، جس کی وجہ سے وہ ذہنی اذیت کا شکار ہونے لگی تھی۔ میری بیٹیاں اور میری بیوی میرے پیروں میں گر کر رونے لگیں اور معافی مانگنے لگیں۔ میری بیوی نے کہا، "میں نے تم سے بہت بار کہا ہے کہ ہمیں کسی کے گھر نوکری کرنے دو، لیکن تم نہیں مانے۔" مجھے پڑوس کی ایک عورت نے بتایا تھا کہ اس کی بھابھی بچوں کو پرانے کپڑے پہنا کر بھیگ مانگنے جاتی ہے، اس کے پاس اب بہت سارے پیسے ہوتے ہیں اور بچے بھی پیٹ بھر کے کھاتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ تم پورا دن اینٹیں اٹھاتے ہو اور رات کو...

گھر واپس آتے ہو تو ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے ہیں، لیکن ہاتھ میں صرف ایک آٹے کا تھیلا ہوتا ہے جو دو وقت کی بھوک بھی نہیں مٹا پاتا۔ تمہیں تمہاری محنت کی وہ اجرت نہیں ملتی جس کے تم حق دار ہو۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ ان لوگوں سے اپنا حق لے لوں جن کے گھر تمہاری اٹھائی ہوئی اینٹوں سے بنتے ہیں۔ میں نے کیا غلط کیا ہے منور؟ میرے بچے بھوک سے رو رہے تھے تو میرا دل خون کے آنسو روتا تھا۔ میں نے کہا آج پہلی بار کسی غیر مرد نے تمہاری تعریف کی ہے۔ تم میری واحد آس تھے، میرا قیمتی خزانہ۔ میں خالی پیٹ اسی لیے سوتا تھا کہ...

میری بیوی کی خوبصورتی صرف میرے لیے ہے، میں نے اپنی محنت دوگنی کر دی تھی۔ پھر تم نے کیوں بازاروں میں جا کر خود کو بیکار کر دیا؟ تمہیں کیا لگتا ہے کہ لوگوں نے تمہاری غربت دیکھ کر تمہیں پیسے دیے ہیں؟ نہیں۔ پھر میں نے اس کے پھٹے بازو سے جھلکتی اس کی گوری رنگت کی طرف اشارہ کیا کہ یہ سب دیکھ کر دیے ہیں۔ میری باتوں پر وہ نظریں چُرانے لگی تھی۔ میرے آنسو بہ رہے تھے۔ میں نے بڑی بیٹی کی طرف دیکھا پھر بیوی سے کہنے لگا، جانتی ہو میری بیٹی کس تکلیف سے گزرتی ہے؟ وہ ان جملوں کو برداشت نہیں کر پا رہی جو اسے...

چند سکے ملنے کی بدولت سننے کو ملا کہ میں اتنا غریب پہلے نہیں تھا جتنا تم نے مجھے آج کر دیا ہے۔ یہ کہتے ہوئے میں رونے لگا۔ وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور بولی، مجھے معاف کر دو، میں آج کے بعد تم سے کوئی شکایت نہیں کروں گی۔ لیکن میں سوچ رہا تھا کہ اس معاملے میں قصوروار کون ہے؟ میں، میری بیوی یا ہمارے حکمران جو عوام پر مہنگائی کے اس ظالم بوجھ کو ڈال رہے ہیں؟ گھر کی عزت بازاروں میں مانگنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ آپ بھی مجھے بتائیں کہ قصوروار کون ہے؟ ناظرینِ مجید، ایسے سبق آموز کہانیاں اور واقعات سننے کے لیے ہماری...