سحری کی اذان کے دوران کھانا کھانے کے احکام اور اسلامی رہنمائی
سحری کی اذان کے دوران کھانا کھانے کے بارے میں اسلام میں کیا حکم ہے؟ اس مضمون میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں سحری کے وقت کھانے اور کھانے سے رکنے کے صحیح اصول اور روحانی فوائد بیان کریں گے۔
اب مسئلہ یہ آیا کہ جو سہری ہے وہ بھی بڑا مشکل تھا، ہمارے اوپر فضل فرمایا گیا اور پچھلی امتوں کو سہری کی اجازت نہیں تھی۔ بہت مشکل روزہ تھا، یہود و نصارا سو گئے اور روزہ شروع ہو گیا۔ جو کھانا پینا ہے، سونے سے پہلے کھا لو، جسے نیند آ جائے بس اگلا روزہ شروع ہو گیا، اب کچھ کھا نہیں سکتے۔ یہ سہری وغیرہ کچھ نہیں تھی، آٹھ پہرہ ہی سمجھ لو، آٹھ پہرہ سے کچھ آسانی بھی تھی، سوتے ہوئے بھی کھا سکتے تھے۔ ایک صحابی رسول ﷺ جو تھے، وہ بھی اسی طرح تھے، بیچارہ سارا دن کام کرتا تھا، تھکا ہوا تھا۔ شام کو اس نے روزہ جیسے کھولا اور گھر والوں سے پوچھا کوئی کھانے کو ہے؟ انہوں نے کہا۔
کچھ کوشش کرتے ہیں اس دوران اور وہ سو گیا۔ اسے نیند آ گئی۔ جب انہوں نے کھانے کو کہا تو اس نے کہا نہیں، میں تو سو چکا ہوں۔ میں نہیں کھا سکتا۔ اگلا روزہ بھی شروع ہو گیا اور اگلے دن پھر بے ہوش ہو کر خوشی سے گر پڑا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا اور کہا کہ تم یہ کام چھوڑ دو، تمہارا ہمارا روزہ اتنا ہی دکھاؤ، پیو جب فجر ہو جائے، یعنی جب صبح کی سفیدی نکل آئے، اندھیرے سے کالے رات میں سفید لائن نکل آئے، مشرق کی طرف سفیدی ہو، وہی فجر کا وقت ہوتا ہے۔ تب تم روزہ رکھنا شروع کرو۔ رات تمہیں چھٹی ہے۔ یہ وہ صحابی ہیں، پس اللہ تعالیٰ…
انہوں نے فرمایا کہ بے ہوش ہونا تھا اور اللہ نے آسانی کر دی، مگر ہمارے یہاں جو لوگ احادیث کے ماہر نہیں ہیں، انہوں نے بھی اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے ایک حدیث پاک کو غلط سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ نہ کھانے کی کوئی پابندی سمجھی اور نہ ہی وقت پر جاگتے ہیں۔ جب اذان شروع ہو جائے گی تو اصل وقت پر ہی پینا شروع کرو گے۔ کہا گیا کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے ہاتھ میں کھانا یا برتن ہو تو آرام سے کھا لو، بے شک اذان نے روزہ کو تباہ نہیں کیا۔ روزہ شام کو سورج غروب ہونے سے ایک سیکنڈ پہلے بھی کھا لو، تو بھی روزہ برقرار رہتا ہے، بس یوں ہی روزہ چلتا ہے۔
پیارے فجر کا وقت ہو گیا، سفید دھاری ظاہر ہو گئی۔ تم روزے کے وقت جو کچھ کھاتے ہو، یہ غلط فہمی یہاں سے آئی ہے۔ بڑے تیکھے، ناراض، گمراہ، فریبی، گمراہ۔ کوئی نہیں، شاہ لیلا رحمت فرماتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی اذان سنے اور اس کے ہاتھ میں برتن ہو، تو اسے ہاتھ میں رکھنا چاہیے جب تک کہ اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔ پھر کیا ہوا؟ اس کے ساتھ ایک ٹکڑا تھا جو پیچھے رہ گیا اور تباہی ہو گئی۔ اذانیں رسول کریم علیہ السلام کے زمانے میں دو ہوتی تھیں۔ ایک اشارہ آتا تھا کہ وقت ہونے والا ہے، ابھی نہیں ہوا تھا۔ پہلے یہ حضرت بلال کرتے تھے۔
اس کو رجیعلا تلا کہتے تھے۔ اور لوگوں نے اس آواز کو حضورﷺ نے کہا پہچان لو۔ بلال جب اذان دیتا ہے تو اس وقت کھانا نہیں چھوڑنا۔ وہ بس یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ وقت ہونے والا ہے۔ کھا لو جب ابن مکتوم نابینا صحابی کہے، تب وہ کہتا ہے کہ اب وقت ہو گیا ہے، تب بعد میں کھانا بند کرو۔ انہوں نے اس اذان کو بلال والی اذان کہا اور روزہ شروع ہو چکا، اور کھانا پینا بند کر دیا۔ جو آواز آتی ہے وہی بلال کی آواز ہوتی ہے جو رات کو اذان دیتا ہے۔ اس سے پہلے کی آوازوں پر لوگ اب انحصار نہیں کرتے، جو کرنا ہے کر لو، ختم ہونے والا وقت ہے۔
ابنِ امہ مکتو کھول کے بات آتی تھی، ابن مکتو والا تب نہیں ہوتا تھا۔ حدیث مختصر حدیث بلال اور یہ اس حدیث کا آدھا حصہ تھا۔ پوری یہ تھی کہ بلال جو رات کو اذان دیتا تھا، اس وقت کھاتے پیتے رہو۔ اتنا ہی فرق تھا کہ حدیث پاک کا مطلب ہوتا تھا نیچے آنا، دوسرا اوپر چڑھانا۔ پانچ دس منٹ کا فرق تھا۔ اس سے لوگوں کو بھی پتہ چل جاتا تھا۔ آپ نے نہیں کہا کہ بلال کی آواز پیدا ہو، بس اطلاع دیتا کہ وقت ہوا، ابنِ امہ متم کی جو بات تھی اس پر رک جاؤ۔ اس حدیث پاک کو مولانا مولوی صاحب نے بھی استعمال کیا کہ ٹھیک ہے، کھاتے پیتے رہو، کوئی بات نہیں۔
غلطی اس میں ہے کہ مفتی احمد سَرِی صاحب نے کہا یار، اتنا علم ہونے کے باوجود مولوی نے یہ گڑبڑ کیوں کی؟ کیوں لوگوں کے روزے خراب کیے؟ جب صحیح وقت ہو گیا، جو تمہیں پتہ بھی نہ تھا، کوئی اذان یا ٹائم ٹیبل بتاتا کہ اتنے وقت پر روزہ شروع ہو گیا، تم نے ایک قطرہ بھی لیا تو تمہارا روزہ خراب ہے۔ بالکل تم اپنی مرضی کر رہے ہو، یہ روزہ روزہ کوئی نہیں۔ جس وقت وقت صحیح ہو گیا، اب کچھ نہیں کھا سکتے، جیسے مغرب سے پہلے نہیں کھا سکتے۔ تو ایک بات اور یاد رکھنا، کوئی نہ کھاتا پیتا رہا تو چلو اذان ہو گئی، کھانا جھوٹ ہے بات اذان۔
جو وقت اب ہمارا صحیح ہوتا ہے وہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کا وقت ہوتا ہے جو تقریباً دس منٹ ہوتی تھی، آپ نے کہا تھا کہ اس پر روکنا نہیں چاہیے۔ رات کا وقت ہوتا ہے، اذان اس وقت دی جاتی ہے جب رات ختم ہو چکی ہو اور فجر کا وقت شروع ہو چکا ہو۔ اس وقت آپ کچھ بھی کھا پینا نہیں چاہتے۔
mnweb