عوج بن عناق: دنیا کا سب سے لمبا انسان یا ایک تاریخی روایت؟ حیران کن حقائق
عوج بن عناق کا نام اسلامی روایات میں ایک نہایت قدآور اور طاقتور شخصیت کے طور پر ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں موجود تھا۔ اس مضمون میں ہم عوج بن عناق کی حقیقت، تاریخی حوالہ جات اور مستند اسلامی آراء کا جائزہ پیش کریں گے۔
قرآن پاک میں اوز بن انک کا ذکر کیوں موجود نہیں؟ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ اوز کا تعلق قوم عاد سے تھا، ایسی قوم جو اپنی صفا کی اور برابری کی وجہ سے مشہور تھی۔
وہ قوم گزر چکی ہے، باقی قوموں پر ایک یہ بھی برتری حاصل تھی کہ ان کے قد اس وقت کے لوگوں میں سب سے زیادہ تھے اور چہرے سے وہ شدت ٹپکتی تھی۔ مفسر لکھتے ہیں کہ قوم امالیکہ کا ایک مرد دوسری قوموں کے 100 مردوں کے برابر ہوتا تھا۔ قومِ مالکا نے ایسی دہشت پھیلا رکھی تھی کہ جب بھی وہ کسی سلطنت پر حملہ کرتے تو مخالف فوراً ہتھیار ڈال دیتے۔ اوج بن انک بھی اسی قوم کے سرداروں میں سے تھا جسے دنیا کا سب سے لمبا آدمی مانا جاتا تھا۔ وہ شخص اپنی جسمانی قد قامت اور طاقت میں پوری زمین میں منفرد تھا۔ مشہور ہے کہ یہ...
آدمی اتنا لمبا اور دیو قامت تھا کہ اگر وہ سمندر میں چلتا تو ڈوب نہیں سکتا تھا، اونچے اونچے درخت اور پہاڑ اس کے سامنے چھوٹے لگتے تھے۔ اس کی لمبائی اور قد اتنی زیادہ تھی کہ دوسرے لوگ اسے کیڑے مکوڑے جیسا سمجھتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت آدم کے سرکش بیٹے قابیل کی نسل سے انک نامی نوجوان کی بیوی شمیرن سے پال جنوں کے خدا پال سے محبت ہو گئی، جس کی وجہ سے ایک عجیب و غریب اولاد پیدا ہوئی جس کا نام اوج رکھا گیا۔ اس بچے کا قد بہت جلد بڑھ گیا جس کی وجہ سے کوئی لڑکی اس سے شادی کو تیار نہیں تھی۔ اسی وجہ سے یہ...
جانسی درندہ بھی بن گیا اوج بن انک بچپن سے ہی اپنے ہم عمر بچوں سے زیادہ لمبا قد اور مضبوط لگتا تھا اور جب وہ بڑا ہوا تو اس کی لمبائی غیر معمولی بڑھتی گئی۔ روایات کے مطابق اس کا قد 80 ہاتھ تھا۔ عام خیال یہی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں اوج بن انک موجود تھا۔ جب حضرت نوح علیہ السلام عظیم طوفان سے قبل کشتی تیار کر رہے تھے تو آپ کو کشتی بنانے کے لیے ناگوا کی لکڑی کی ضرورت پڑی، مگر اس لکڑی کو اکٹھا کرنا ناممکن تھا، لہٰذا اوج نے آپ کی مدد کی۔
اور وہ لکڑیاں شام کے وقت جمع کر کے لے آیا، لہٰذا اللہ نے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اسے غرق ہونے سے نجات دی۔ حالانکہ وہ حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لایا تھا۔ ایک روایت ایسی بھی ملتی ہے جو انسانی عقل سے بالکل قابل فہم نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ اوج بن انک اتنے لمبے قد کا تھا کہ وہ سمندر سے مچھلی پکڑ کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا، جس سے سورج کی گرمی سے وہ پک جاتی اور وہ اسے کھاتا تھا۔ اس موضوع پر امام سوتی نے "ال اوج فی خبر اوج" کے نام سے ایک رسالہ لکھا ہے جس میں انہوں نے اوج بن انک کی شخصیت کے بارے میں بہت کچھ تحریر فرمایا ہے۔
روايت کے مطابق، غیر معمولی قدامت کے ساتھ اوج بن انک نے لمبی عمر بھی پائی تھی، اس کی عمر ٣٠٠٠ سے ٦٠٠ سال کے درمیان تھی۔ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور تک زندہ رہا۔ پھر حضرت موسیٰ نے اس سرکش شخص کو قتل کر دیا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی تو اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلسطین پر حملہ کریں کیونکہ فلسطین کی سرزمین بنی اسرائیل کے لیے مقدر کی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو ساتھ لیا اور فلسطین پر چڑھائی کے لیے نکل پڑے۔
وقت فلسطین میں قوم عمل آباد تھی جس کا سردار اوج بن انک تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قبیلے کے 12 سردار چنے اور قوم عمل کا علاقے بھیجا۔ جب وہ 12 سردار شام پہنچے تو اس وقت وہاں کا حکمران اوج بن انک تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قوم عمل ایک طاقتور قوم تھی۔ جب یہ 12 سردار فلسطین کے قریب پہنچے تو قوم عمل کے ایک بندے نے انہیں پکڑ لیا، اپنی گٹھڑی میں بندھا دیا اور اپنے سردار اوج بن انک کے سامنے لے آیا۔ پھر گٹھڑی کھول کر کہا کہ میں نے ان لوگوں کو جاسوسی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب وہ سردار اوج سے ملے تو...
اس کی قامت اور جسمانی ساخت دیکھ کر وہ بہت حیران رہ گئے، پھر انہوں نے اسے اللہ کا پیغام سنایا اور بتایا کہ ہم جلد ہی اس ملک کو فتح کرنے آرہے ہیں اور اللہ کا وعدہ ہے کہ فتح ہماری ہی ہوگی۔ اوج بن انک حیران رہ گیا اور سب کو ایک ہاتھ سے پکڑ لیا، چاہا کہ انہیں ماردے لیکن جب اس نے ان سرداروں کے چہروں پر خوف دیکھا تو انہیں حقیر سمجھ کر چھوڑ دیا اور اپنے ملک کا ایک میوہ جو ایک آدمی کے لیے کافی تھا انہیں دیا اور کہا کہ اپنی قوم کو جا کر دکھاؤ اور بتاؤ کہ ہمارے یہاں کے میوے بھی اتنے بڑے ہوتے ہیں۔ جب وہ سردار...
جب وہ اپنے اپنے قبیلے میں واپس آئے تو اللہ تعالیٰ نے اس واقعے کو یوں بیان فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا، "اے بنی اسرائیل! مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کی ہے اور پیٹھ نہ دکھاؤ ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔" تو بنی اسرائیل کے لوگ بولے، "اے موسیٰ! تم اور تمہارا رب لڑو، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ وہاں ایک طاقتور قوم آباد ہے جو اعمال میں کمال رکھتی ہے، جس کا مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ ہمیں وہاں صرف ایک صورت میں جانا ہے۔"
یہ ماننا پڑے گا کہ وہ شاید خود اپنے وطن کو چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو بہت سمجھا رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فتح ہمارے نصیب میں لکھی ہے، لیکن قوم نے بات نہیں مانی اور انکار ہی کرتے رہے کہ ہم فرعون سے جنگ نہیں کریں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سرکش کی سزا کے طور پر بنی اسرائیل کو صحراۓ تیہہ میں قید کر دیا اور یہ لوگ چالیس سال تک اسی چھوٹے سے علاقے میں صحرا میں بھٹکتے رہے۔ وہ پورا دن پیدل چلتے لیکن وہ میدان ختم ہی نہیں ہوتا تھا اور وہ اسی میں گم ہو گئے۔ جب قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی...
नाफरमानी की تو حضرت موسیٰ خود اوز بن انک کو ختم کرنے نکلے۔ اوز بن انک نے انہیں دیکھ کر کہا، "تم ہی ہو جس نے فرعون کو پانی میں ڈوبایا ہے، لیکن پانی میری کمر سے اوپر نہیں آ سکتا۔" یہ کہہ کر اس نے حضرت موسیٰ پر حملہ کیا، لیکن آپ محفوظ رہے اور جواب میں اس کے ٹخنوں پر اپنا مبارک ہاتھ مارا۔ اس کی طاقت کا کوئی مقابلہ نہ کر سکا اور وہ زمین پر گر پڑا۔ کہتے ہیں کہ چالیس سال تک اوز کی لاش وہیں پڑی سڑتی رہی۔ پھر اس کی ریڑھ کی ہڈی کو دریا میں ڈال کر کئی سال تک پل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا۔
آئیے اب بات کرتے ہیں...
کہتے ہیں کہ اس کردار کی حقیقت کیا ہے؟ اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے کہ اوز بن انک کافر تھا اور والد طوفان نوح میں تھا اور نوح علیہ السلام کے ساتھ اس کی کشتی میں نہیں بیٹھا تھا، تاہم پانی اس کے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچا تھا۔ یہ محض بےمعنی اور بالکل جھوٹے بیانات ہیں کہ قرآن پاک کے خلاف ہے۔ قرآن مجید میں حضرت نوح کی یہ دعا مذکور ہے کہ زمین پر ایک بھی کافر نہ بچے۔ یہ دعا قبول ہوئی اور یہی ہوا۔ قرآن پاک فرماتا ہے کہ ہم نے نوح کو اور ان کی کشتی والوں کو نجات دی، پھر باقی سب کافروں کو غرق کر دیا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسرائیلی روایات...
اوج کو انسانوں میں سب سے لمبا انسان سمجھا جاتا ہے، حالانکہ حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ساٹھ ہاتھ لمبا پیدا کیا تھا، اور اس کے بعد سے مخلوق کے قد کم ہوتے چلے گئے۔ علامہ ابن کثیر، علامہ ستی، علامہ ابن جریر طبری اور کثیر محققین و مفسرین نے لکھا ہے کہ اوج بن انک اسرائیلی روایات کا ایک فرضی کردار ہے۔
mnweb