بعل دیوتا اور اسلام میں بعل کی حقیقت
اسلام میں بعل دیوتا کا تذکرہ اور اس کے بارے میں حقائق۔ جانیں کہ بعل کون تھا، اس کی مذہبی اہمیت کیا تھی، اور اسلام میں اسے کس نظر سے دیکھا گیا۔
اس زمین پر جتنی بھی پرانی انسانی تاریخ ہے، شاید شیطان بھی اسی وقت سے موجود ہے۔ اس زمین پر اچھائی اور برائی بڑی مقدار میں موجود ہے، اور اگر خدا چاہے تو وہ ایک کلک کے ذریعے اسے ختم کر سکتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ خدا ان برائیوں کو مٹانا نہیں چاہتا، بلکہ اس نے یہ ذمہ داری اور اختیار ہم انسانوں کو دے دیا ہے۔ خوف، حقیقت، برائی اور نیکی کے درمیان۔
انتخابات ہی انسانوں کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہے، ورنہ ہمارا حساب کتاب ہونا چاہیے۔ ان برائیوں اور شرمناک باتوں میں شیطان کی عبادت کی حقیقت ہے جو شاید آج بھی موجود ہے۔ ایک ایسی کویت جسے زمانے بھر میں قدم قدم پر پوجا جاتا رہا ہے۔ انہیں شیطانی کوانٹم میں ایک نام بلزبوب یا بال کا دیا گیا ہے۔ بال درحقیقت اب رانی زبان کا لفظ ہے، جس کے مین آکاش سردار اور ملک کے ہیں۔ زمانے کے قدم میں سیمی یعنی سامی اپوام اس لفظ کو الٰہ یا خدا کے مین میں استعمال کیا کرتی تھی، اور انہوں نے ایک خاص دیوتا کو بال کا نام دیا تھا۔ تعریف کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بابل سے لے کر...
مشرہ تک پورے مچھلی کے علاقے میں بال کی پوجا ہوتی تھی، خوشبو دیتی تھی اور شاید بال تاریخ میں پوجے جانے والا سب سے بڑا اور مشہور دیکھا گیا تھا۔ اس بال دیوتا کا سب سے بڑا مندر شام کے شہر اگادیت میں تھا، جو 2000 سال پرانا بلماسی میں ایشوریا حکومت کا حصہ تھا۔ جب 19ویں صدی میں اگادیت کے علاقوں میں ماہِ اثر نے کھدائی کا کام شروع کیا تو انہیں وہاں زیرِ زمین ایک عظیم شان کا محل اور کھنڈر ملا، جس میں کئی کتابیں، تختیاں اور تقریباً 100 کمرے موجود تھے۔ اس محل میں پانی کا انتظام، غسل خانہ اور سونے کے سادھو سماج موجود تھے۔ انہیں عمارت میں بال دیوتا کے نام سے جانا جاتا تھا۔
ایک بڑا مندر تھا جس کے اندرونی کمرے میں بچے کبوتر رکھے گئے تھے۔ اس مندر میں رکھی تختیوں پر بال دیوتا کی تاریخ اور طاقت کے بارے میں معلومات لکھی ہوئی تھیں جن کے مطابق بال طوفان کا دیوتا ہے جو زمین کا سردار ہے۔ بال نہایت طاقتور اور مغرور دیوتا ہے جو دوسرے دیوتاؤں اور انسانوں پر حکومت کرتا ہے۔
تختیوں پر لکھے منتر اور گیت نانی لوگ نئے سال یا فصل کی کٹائی جیسے مذہبی تہواروں میں پڑھا کرتے تھے۔ بال کی پوجا کرنے والوں کا عقیدہ تھا کہ بال کی حکومت ہی انسانی تہذیب کے لیے ضروری ہے اور یہی۔
فصلوں اور مویشیوں کی حفاظت کر سکتا ہے [موسیقی] ایک شخص سچے خدا اور نبیوں سے نفرت کرنے لگتا ہے اور بال کی حالت کے نتیجے میں جنگ، فساد اور شہر پرستی پھیل جاتی ہے، اس لیے ظلم پسندی ایک شیطانی اور جھوٹی مذہب ہے۔ شدت پسندوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بال ایک بچھڑے کے ساتھ مباشرت کرتا ہے اور اس کام کے لیے وہ ایک بیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اور یہی وجہ تھی کہ بال کے پجاری بھی جینا جیسے عمل کو گناہ نہیں سمجھتے تھے اور بدکاری کو ایک مذہبی رسم کے طور پر ادا کرتے تھے۔ اگر عہدنامہ کلیم کی بات کریں تو اس کے مطابق بال کوئی افسانہ بھی نہیں تھا۔
بلکہ بال نامی مخلوق واقعی میں وجود رکھتا تھا۔ بال جہنم کے شیطانوں میں سے ایک تھا جو لالچ اور جانکاری کے گناہوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کے پاس شیطانوں کی ایک فوج ہے جو اس کے مددگار ہیں اور اس کے حکم پر کام کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ لوسیفر یعنی ابلیس جب خدا کا مقبول ترین بندہ تھا تو اسے وقت کے ساتھ لوسیفر کی جگہ لینے کی خواہش تھی۔ جب لوسیفر نے خدا سے بغاوت کی اور اسے زمین پر پھینک دیا گیا تو اور بھی کئی جنّ اور شیطانوں نے ابلیس کا ساتھ دیا جن میں بال بھی شامل تھا۔ لہٰذا بال لوسیفر کا ساتھی بن گیا اور اس نے اس کی مدد کی تاکہ آدم کی اولاد...
جو لوگوں کو بہکائے اور انہیں سچے خدا کی عبادت سے دور کرے، لوسیفر کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے بال نے قومینم کو گمراہ کیا تھا اور اس کے بعد اس نے سنی کی قوم کو اپنی پوجا میں لگا دیا۔ سمٹک کہانیوں کے مطابق بال نے سب سے پہلے خود کو ایک بیل کے طور پر پیش کیا تھا جس کے پتوں کو نین کے ہر مندر میں رکھا جاتا تھا۔ بعد کے زمانے میں بال مختلف عجیب و غریب مخلوق کی شکل میں ظاہر ہوتا رہا، جن میں ایک بکرہ تھا جس کی بڑی دھوم تھی، ساتھ ہی مکھی، بلی اور دوسرے عجیب و غریب انسان نما جانور شامل ہیں۔
عالمی سات پر بال دیوتا کو صورت تب ملی جب ابراہیم مذاہب میں بال کی پوجا شروع ہو گئی اور یہودیوں نے بال کو اپنا خدا بنا لیا۔ اصل میں جب حضرت موسیٰ علی السلام کی رہنمائی میں بنی اسرائیل مصر سے نکل کر فلسطین میں آ بسے تو وقت کے ساتھ بنی اسرائیل مشرکوں کے ساتھ شادی اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے لگے، جن کی پوجا بنی۔ اسرائیل نے یہ پوجا اس وقت شروع کی جب موسیٰ علی السلام کسی سینے پر گئے تھے اور حضرت موسیٰ کی غیر حاضری میں انہوں نے کہنا شروع کیا کہ بال ہی وہ دیوتا ہے جس نے ہمیں فرعون سے نجات دی اور وہی ہمیں...
فرانسیوں کی طرح امیر بنا دے گا اور حکومت کی وجہ سے موسیٰ علی السلام کے واپس آنے پر اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ ان بالوں کے پجاری کی سزا قتل ہے کیونکہ انہوں نے خود انکار کیا ہے۔ جی، خداوند نے انہیں مشکل وقت میں نجات دی تھی۔ بائبل کے مطابق موسیٰ علی السلام کے خلیفہ حضرت یوشع بھی نون کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کو ابلیس نے گمراہ کر دیا اور وہ بالوں اور اسطرات کی عبادت کرنے لگے اور خود کو بھول گئے۔ علماء اور قاضیوں نے انہیں بہت سمجھایا اور شریعتِ موسیٰ پر لوٹ آنے کی نصیحت کی، لیکن وہ اس راہ پر قائم رہے۔
بنی اسرائیل نے اپنی بستیوں میں بال کے مندر بنوائے اور ان مندروں میں کھلے عام رسم و رواج ادا کیے جاتے تھے۔ ان مندروں میں جانوروں کی قربانیاں بھی دی جاتی تھیں اور نذرانے چڑھائے جاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ بال دیوتا بچوں اور عورتوں کی قربانی مانگتا تھا، اس لیے بال کے پجاری انسانوں کو اس کے سامنے قربان کرتے تھے۔ حالت ایسی تھی کہ بچوں کے پیدا ہونے سے پہلے ہی عورتوں کے پیٹ کو کچھ کر کے ماں کے پیٹ سے بچوں کو نکال لیا جاتا اور انہیں بال کے سامنے قربان کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ اپنے اولاد...
اسمائیل کو اللہ کی راہ میں قربان کریں اور ابراہیم علیہ السلام حضرت اسمائیل کو قربان کرنے لگے تو اللہ نے حضرت اسمائیل کی جگہ دم بھیجا اور حضرت اسمائیل کو بخش دیا کیونکہ خود خداوند وقت یہ بتا رہے تھے کہ انہیں انسانوں کی قربانی نہیں چاہیے، انسانوں کا خون بہائے بغیر بھی اللہ انسانوں کو اعلیٰ درجے پر فیض دے سکتا ہے یعنی سچا خدا زندگی بچاتا ہے اور بال جیسے بال لوگوں کی زندگی لیتا ہے۔ بنی اسرائیل میں بال کی پوجا بادشاہ کرتے تھے اور اس نے بادشاہ اکّی آپ کو بھی شریعت سے ہٹ کر بال کی پوجا میں...
یہودی علماء اور سچے خدا کو ماننے والے لوگ اب بھی موجود تھے، لیکن ان کی تعداد بہت کم ہو گئی تھی۔ اس لیے اللہ نے ان کی ہدایت کے لیے حضرت الیاس علیہ السلام کو بھیجا۔ حضرت الیاس نے سچے خدا کی عبادت کی دعوت دی اور یہ ثابت کیا کہ موسیٰ کا خدا ہی اصل خدا ہے۔ حضرت الیاس نے ان مشرکوں کا مقابلہ کیا جو بت پرست تھے۔ بت پرستوں نے جانور کو قربان کیا اور حضرت الیاس نے بھی قربانی پیش کی۔ بت پرست آسمان سے جانور اتارنے کے لیے دعا کرتے رہے، لیکن آسمان سے کچھ نہیں آیا، جبکہ حضرت الیاس علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی...
دعا کی تو آسمان سے آج کی ایک لہر نازل ہوئی اور قربانی کے گوشت کو جلا دیا، جس سے بنی اسرائیل کے عقلمند لوگ سمجھ گئے کہ ایلیاس علیٰ سلام کا رب ہی سچا معبود ہے اور وہ اسے حقِ معبود پر انعام کے طور پر لے آئے۔ لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ بنی اسرائیل دوبارہ شک میں مبتلا ہو گئے اور آپ کے بعد بغاوت کی حالت دوبارہ شروع ہو گئی جو حضرت داؤد اور سلیمان علیھما السلام کے دور حکومت تک جاری رہی۔ حضرت سلیمان نے اپنی حکومت میں بت پرستی کو ختم کیا اور بنی اسرائیل کی اصلاح کی، لیکن حضرت سلیمان کے وفات کے بعد اسرائیلی ریاست میں دوبارہ بغاوت پھوٹ پڑی۔
بنی اسرائیل کے بار بار شک میں مبتلا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ بنی اسرائیل پر خدا کا کرم نہ ہوگا اور انہیں غلام بنا لیا جائے گا۔ اسی لیے وقت نے ایک سچائی ثابت کی اور بنی اسرائیل سزا کے طور پر سینکڑوں سال تک بابل میں غلام رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بعل پرستی ایک شیطانی مذہب میں بدل گئی۔ سولہویں صدی میں بھی شیطان کی عبادت کے حوالے سے بے شمار انوکھے قصے لکھے گئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یورپ میں سیٹیز، سناٹا اور انقلاب کی ہوا چل رہی تھی، تب بھی بعل پرستی جاری تھی۔
یہ گھناؤنا رواج تھا جو زمانے بھر چلا آیا۔ لوگ کہتے تھے کہ چرچ سے نکلنے والے پادری شیطان کے پیروکار ہوتے ہیں۔ سولہویں صدی کے دوران بے شمار پادری، کارڈینل اور پوپ کو موت کی سزا دی گئی کیونکہ ان پر الزام تھا کہ وہ مسیح کو چھوڑ کر جادو ٹونا کرتے ہیں، بچوں کو اغوا کر کے جادوئی رسومات کرتے ہیں تاکہ شیطان کو خوش کر سکیں۔ ایک وقت تھا جب بہت سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور چرچ نے انہیں موت کی سزا دی۔ ایک انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق۔۔۔
ہندوستان میں بھی ہر سال 40,000 سے زیادہ بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔ اکثر بچوں کو دیوتاؤں کے سامنے قربان کیا جاتا ہے کیونکہ بچوں کی پوجا صرف یورپ میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان اور مشرقی ممالک میں بھی کی جاتی رہی ہے، جو آج بھی جاری ہے۔ بچوں کے دیوتا کی پوجاریوں نے بعد میں ایلومینیٹی اور فری میسن جیسے شیطانی تنظیموں کو جنم دیا، جن کا مقصد بڑے بڑے سنسی خیز افراد اور مشہور شخصیات کو بچوں کی قربانیوں میں شامل کرنا اور دنیا میں شیطان کی حکومت قائم کرنا تھا۔ اسی تنظیم میں آج ہالی وڈ اور فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے ستارے شامل ہیں جو بچوں کو...
اپنی روح بیچ کر شہرت کماتے اور لوگوں کو شیطان کے قریب لے جاتے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں جب انسانیت مارچ تک جا پہنچی ہے، بال اور اس کے پیروں کے باوجود بھی پوری طرح سر گھما نظر آتے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اور برانڈز اس بلدیوتا کی شکل کو استعمال کر رہے ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز کی اوپننگ سیرمنی میں ایک آرٹیفیشل بل دکھایا گیا۔ اس پروگرام میں عورتیں اسے بیل کے سامنے ہاتھ میں مصالحے لے کر کھڑی دکھائی گئیں۔ بلدیوتا کی تاریخ کو جاننے والا ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ بال ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں کہ یہ پوجاری کی نقل ہے بلکہ یہ رسم بالکل اس روایت اور تاریخ کو دہرا رہا ہے جسے آج دنیا کے سامنے کھل کر پیش کیا جا رہا ہے۔ فساد کے اس دور میں شیطان اور بال کی ملی جلی سازش کو سیاست، سوشل میڈیا اور یہاں تک کہ تعلیم میں بھی صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ آج اس فسادی صورتحال کو خوبصورت بنا کر ہماری زندگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، لیکن اس شیطانی ہجوم کا حصہ بننے والوں کو دنیا میں صرف چند دنوں کی کامیابی ملے گی جبکہ آخرت میں ان کا انجام بہت سخت ہوگا۔ اسلام ہی وہ واحد راستہ ہے جو شیطان کے مقابلے میں ہے۔
mnweb