حضرت موسیٰؑ اور رزق کے راز | ایمان افروز اسلامی واقعہ اردو میں

حضرت موسیٰؑ اور رزق کے راز پر مبنی ایمان افروز اسلامی واقعہ اردو میں پڑھیں۔ اس خوبصورت کہانی میں رزق، صبر اور اللہ پر بھروسے کا اہم سبق موجود ہے جو ہر مسلمان کی زندگی بدل سکتا ہے۔

حضرت موسیٰؑ اور رزق کے راز | ایمان افروز اسلامی واقعہ اردو میں
حضرت موسیٰؑ اور رزق کے راز | ایمان افروز اسلامی واقعہ اردو میں

ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:

اے اللہ! تو کن لوگوں کو امیر بناتا ہے؟

اللہ تعالیٰ کا جواب سن کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ناظرین! آج کی اس تحریر میں ہم آپ کو اللہ کے جلیل القدر نبی، کلیمُ اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں۔ ہم آپ کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک ایسا واقعہ پیش کریں گے جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کچھ حیران کن سوالات کیے، اور جب وہ سوالات بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوئے تو ان کے جوابات ایسے ملے کہ سننے والا حیران رہ گیا۔ یہ واقعہ سن کر نہ صرف آپ کا ایمان تازہ ہوگا بلکہ آپ کے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے انبیاء میں سے تھے جنہیں اللہ سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل تھا، اسی لیے آپ کو کلیمُ اللہ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنی اسرائیل کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ وہ کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے تھے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کچھ لوگ آپ کے مخالف بھی تھے اور بہت سے ایسے بھی تھے جو آپ پر ایمان رکھتے تھے اور ایک اللہ پر یقین رکھتے تھے۔ جب لوگ جان لیتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے جا رہے ہیں تو وہ اپنے سوالات اور درخواستیں آپ کی خدمت میں پیش کرتے اور کہتے کہ ہماری عرض بھی اللہ تعالیٰ تک پہنچا دیجیے۔

ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں ایک خاص کیفیت لیے کوہِ طور کی طرف روانہ ہوئے۔ آسمان خاموش تھا، پہاڑ ساکن تھے، مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں اپنے رب سے ملاقات کی تڑپ موجزن تھی۔ جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو ایک عظیم نور کی تجلی ظاہر ہوئی جس سے پورا ماحول لرز اٹھا۔ اسی نور میں سے اللہ تعالیٰ کی آواز آئی:

اے موسیٰ! میں نے تجھے اپنی رسالت کے لیے منتخب کیا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام ادب سے سر جھکائے کھڑے تھے اور عرض کیا:

اے میرے رب! تو نے مجھے بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں، میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اے موسیٰ! جب بندہ یہ جان لے کہ شکر ادا کرنا بھی میری عطا ہے تو وہ میرا کامل شکر گزار بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:

جو میرا شکر ادا کرتا ہے، میں اس کی نعمتیں بڑھا دیتا ہوں، اور جو ناشکری کرتا ہے، اس کی نعمتیں کم ہو جاتی ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:

اے رب! نعمتوں کو گننا ممکن نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

نعمتوں کو گننا شکر نہیں، نعمتوں کو پہچاننا شکر ہے۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو ان کے چہرے پر ایسا نور تھا کہ لوگ نظریں نہ اٹھا سکتے تھے۔ آپ نے فرمایا:

شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے اور ناشکری نعمتوں کو جلا دیتی ہے۔

ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور جا رہے تھے کہ ایک مالدار شخص نے عرض کیا:

اے اللہ کے نبی! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے، آپ اللہ سے دعا کریں کہ میرا مال کچھ کم ہو جائے۔

پھر ایک غریب شخص آیا اور عرض کیا:

اے اللہ کے نبی! اللہ سے دعا کریں کہ مجھے بھی کچھ مال عطا ہو جائے۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اے موسیٰ! جو شخص مالدار ہے وہ میرا شکر گزار ہے، میں اس کی نعمتیں کیسے کم کر دوں؟ اور جو غریب ہے وہ شکر نہیں کرتا، اگر وہ شکر کرے تو میں اس کی نعمتیں بڑھا دوں۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ پیغام لوگوں تک پہنچایا تو مالدار شخص نے کہا:

میں کبھی شکر کرنا نہیں چھوڑوں گا۔

اور غریب شخص نے کہا:

جب تک دولت نہیں ملتی میں شکر نہیں کروں گا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

جو شکر کرتا ہے، اس کی نعمتیں کبھی کم نہیں ہوتیں، اور جو شکر نہیں کرتا، وہ نعمتوں سے محروم رہتا ہے۔

ناظرین! اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شکر گزار بندے کو عزت، رزق اور سکون عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جو نعمتیں ہمارے پاس ہیں ان کی قدر کریں، نہ کہ ان چیزوں پر غم کریں جو ہمارے پاس نہیں۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچا شکر گزار بنائے، عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ آمین۔۔