زندگی، موت اور ایمان کی آزمائش
زندگی، موت اور ایمان کی آزمائش ایک گہری اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی تحریر ہے جو انسان کے سب سے نازک لمحات، آزمائشوں اور رب پر یقین کی طاقت کو بیان کرتی ہے۔ یہ صفحہ دل کو چھو لینے والے احساسات، سوالات اور امید کی روشنی پر مبنی ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
روایت میں آتا ہے کہ جب ایک مردے کو آواز دی گئی تو قبر سے ایک حبشی غلام نکل آیا، جس کے ناک کے نتھنوں، آنکھوں اور جسم کے دوسرے سوراخوں سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس نے کلمہ پڑھ لیا:
لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ
یہ منظر دیکھ کر ایک شخص (اسرائیلی) نے عرض کیا:
“یا رسول اللہ! مجھ سے بڑی غلطی ہو گئی ہے، میری بیوی کا معاملہ کچھ اور ہی ہے۔”
یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حکم فرمایا کہ وہ غلام اپنی قبر میں واپس چلا جائے۔ وہ فوراً زمین پر گر پڑا اور مٹی میں چھپ گیا۔
اللہ کے حکم سے اس شخص کی بیوی زندہ ہو کر باہر آ گئی۔ اسے دیکھ کر وہ شخص اپنی بیوی کو ساتھ لے کر واپس ہونے لگا، مگر وہ تھکا ہوا تھا، اس لیے نیند غالب آ گئی۔ اس نے بیوی سے کہا:
“میں تمہاری قبر پر جا چکا ہوں، اس لیے کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں۔”
وہ آرام کرنے لگا۔ اسی دوران وہ عورت محبت کے جذبے میں ایک شہزادے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ جب شہزادے کی نظر اس پر پڑی تو وہ اس کی طرف مائل ہو گیا اور عورت کی خواہش پر اسے اپنے گھوڑے پر بٹھا کر لے گیا۔
جب وہ شخص اپنی بیوی کو نہ پا سکا تو بہت پریشان ہوا۔ نشانیوں کے سہارے چلتے ہوئے آخرکار اس نے اپنی بیوی کو تلاش کر لیا، جو شہزادے کے پاس پہنچ چکی تھی۔ اس نے شہزادے سے کہا:
“یہ میری بیوی ہے، آپ اسے چھوڑ دیجیے۔”
ابھی شہزادہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ عورت بول اٹھی:
“یہ میرا شوہر نہیں، میں تو شہزادے کی لونڈی ہوں۔”
یہ سن کر شہزادہ بولا:
“کیا تم مجھ سے میری لونڈی لینا چاہتے ہو؟”
اس شخص نے کہا:
“خدا کی قسم! یہ میری بیوی ہے، جسے میرے سردار حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مرنے کے بعد میرے لیے زندہ کیا تھا۔”
اسی دوران اتفاق سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے۔ انہیں دیکھ کر اس شخص نے عرض کیا:
“کیا یہ وہی میری بیوی نہیں جسے آپ نے میرے لیے زندہ کیا تھا؟”
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
“ہاں، یہ وہی ہے۔”
یہ سن کر عورت بولی:
“یہ شخص جھوٹ بولتا ہے، میں تو شہزادے کی لونڈی ہوں۔”
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
“اللہ کے حکم سے تجھے زندہ کیا گیا تھا۔”
عورت نے کہا:
“میں وہ نہیں ہوں۔”
یہ کہتے ہی وہ عورت دوبارہ مر کر زمین پر گر پڑی۔
اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:
“جو شخص ایسے انسان کو دیکھنا چاہے جو کافر مرا، پھر زندہ ہوا اور ایمان لے آیا، وہ اس حبشی غلام کو دیکھ لے۔
اور جو شخص ایسے انسان کو دیکھنا چاہے جو مومن مرا، پھر زندہ ہوا اور کفر کی حالت میں لوٹ گیا، وہ اس عورت کو دیکھ لے۔”
یہ واقعہ دیکھ کر اس شخص نے قسم کھائی کہ اب وہ کبھی نکاح نہیں کرے گا۔ وہ عبادت کے لیے جنگل کی طرف نکل گیا اور وہیں عبادت میں مشغول رہتے ہوئے اس کی وفات ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔
mnweb