حضرت الیاسؑ کو زندہ آسمان پر کیوں اٹھایا گیا؟ حیران کن حقائق اور روحانی راز

حضرت الیاسؑ کو زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا واقعہ اسلامی روایات میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں حضرت الیاسؑ کی زندگی، ان کی قوم کی نافرمانی، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے اس عظیم معجزے کی مکمل تفصیل بیان کریں گے۔

حضرت الیاسؑ کو زندہ آسمان پر کیوں اٹھایا گیا؟ حیران کن حقائق اور روحانی راز
حضرت الیاسؑ کو زندہ آسمان پر کیوں اٹھایا گیا؟ حیران کن حقائق اور روحانی راز

 تقریباً 900 سال قبل مسیح، بنی اسرائیل کی سلطنت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک حصہ یہودیوں کا مقدس علاقہ تھا جسے دارالحکومت بنایا گیا، اور دوسرے حصے کو اسرائیل کہا گیا جس کا دارالحکومت سامراء تھا، جو آج کل نابل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسرائیل کے حکمران کا نام اخئی تھا۔ بنی اسرائیل صرف ایک خدا پر ایمان رکھتے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے۔ بادشاہ اخئی بھی بہت نیک دل انسان تھا۔ اس زمانے میں فیصل کی بہت شہرت تھی اور دنیا بھر کے شہزادے اور بادشاہ اس سے شادی کرنا چاہتے تھے۔

فیشیال کے شمال میں ایک خوبصورت شہر تھا۔ اسرائیل کا بادشاہ آخیا بی فیشیال سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ ایزابل نے شرط رکھی کہ اگر وہ آخیا کی دلہن بنے گی تو محل کے پاس اس کے لیے ایک بہت بڑا بت خانہ بنایا جائے گا۔ اسی وجہ سے یہاں سے بنی اسرائیلی پرستی دوبارہ شروع ہوگئی۔ شادی کے بعد شہزادی ایزابل نے اپنے ملک کے مشہور بت "بعل" کو اپنے محل کے قریب نصب کروا دیا اور ساتھ ہی ایک بڑی قربان گاہ بھی بنوائی۔ روایت میں آتا ہے کہ یہ وہی مشہور بت تھا جسے شام اور یمن کے لوگ سینکڑوں سالوں سے پوجتے آرہے تھے۔

اسے ایک دیوتا سمجھا جاتا تھا جو خالص سونے سے بنا تھا، اور اس بت کی لمبائی دو گز تھی اور اس کے چار چہرے تھے، ہر چہرے پر ہیروں جواہرات سے سجا ہوا ایک تاج تھا۔ ملکہ ایزابیل نے اس کی دیکھ بھال کے لیے مندر میں 400 لوگ لگا دیے تھے۔ ملکہ ایزابیل نے اپنے ملک سے 200 جھوٹے نبی بھی بلائے، جنہوں نے اسرائیل کے بادشاہ آخیا اور اس کی رانی کو اس بت کی عبادت کے لیے قائل کیا، اور آہستہ آہستہ پورا ملک اس بت کی پرستش میں ڈوب گیا۔ بادشاہ تو ویسے بھی سارا کنٹرول اپنی خوبصورت ملکہ ایزابیل کو دے چکا تھا۔ مشرکیت اس حد تک پھیل گئی کہ اسرائیل نے ان...

دو سو پجاریوں نے اپنا نبی مان لیا اور پورے دل سے بت کی عبادت کرنے لگے۔ روزانہ مدس قربان گاہ میں قربانی دی جاتی اور ہر مہینے نئے چاند کی رات کو ایک خوبصورت لڑکی کو بھی قربان کر دیا جاتا، جس کا خون بت کے خاندان اور پجاریوں کے سر پر لگایا جاتا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی لڑکیوں کے لیے دعا کرتے۔ یہ بات اتنی عام ہو گئی تھی کہ لڑکیوں نے اپنے بال بنانا بھی چھوڑ دیے تاکہ کہیں وہ خوبصورت سمجھ کر بت کی نظر نہ لگ جائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر دی ہوئی نرمی ختم کر دی اور اپنے پیارے نبی حضرت الیاس علیہ السلام کو ان کی طرف بھیجا۔

دیا بُت پرستی، کفر اور شرک میں ڈوبی ہوئی قوم کو سیدھی راہ دکھانے کے لیے حضرت الیاس علیہ السلام نے تبلیغ شروع کی۔ تاریخ کے مطابق حضرت الیاس کا تعلق حضرت ہارون علیہ السلام سے تھا۔ آپ شہر جِلداد میں پیدا ہوئے اور انجیل میں آپ کو الیاع نبی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں آپ کا نسب کچھ یوں بیان کیا گیا ہے: الیاس علیہ السلام بن یاسین بن فکس بن یز بن ہارون علیہ السلام۔ حضرت الیاس کا زمانہ حضرت حجکیل علیہ السلام کے بعد اور حضرت الیسا علیہ السلام سے پہلے کا تھا۔

سلام سے پہلے کی بات ہے، حضرت الیاسؑ اللہ کے حکم سے بالبک شہر پہنچے اور دین کی تبلیغ شروع کر دی۔ یاد رکھو کہ اس شہر کا نام بال بُک بھی اسی وجہ سے پڑا تھا کہ وہاں بُت رکھے گئے تھے۔ آج بالبک لبنان کا سب سے پرانا شہر سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی وہاں کے کھنڈرات دین کی تبلیغ کا ثبوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: "تم ڈرتے کیوں نہیں؟ کیا تم بُتوں کو پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو، اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟" یعنی اللہ کو، جو تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے۔ پھر انہوں نے ان باتوں کو جھٹلایا، اس لیے وہ دوزخ میں جائیں گے۔

اللہ کے خاص بندے کبھی آزمائش میں نہیں پڑتے، اور ہم نے بعد کی نسلوں میں حضرت الیاس علیہ السلام کا ذکر قائم رکھا۔ الیاس علیہ السلام پر سلام ہو، بے شک ہم اپنے نیک بندوں کو یہی بدلہ دیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مومنین میں سے ہوتے ہیں۔ جب حضرت الیاس علیہ السلام نے اسرائیلی بادشاہ اخیا اور پوری اسرائیلی قوم کو بت پرستی چھوڑنے کی تلقین کی تو چند افراد کے سوا کسی نے ان کی بات نہیں مانی۔ بلکہ بادشاہ اخیا نے حضرت الیاس علیہ السلام کی تبلیغ روکنے کے لیے منصوبے بنانا شروع کر دیے۔ حضرت الیاس علیہ السلام کے حالات، دور اور قوم۔

حضرت وہب بن منبا اور حضرت کابل اخبار اور معرف القرآن میں حضرت مولانا مفتی محمد شفی رحمۃ اللہ علیہ نے کچھ یوں لکھا ہے کہ ملکہ ایزابیل اس وقت دنیا کی سب سے خوبصورت عورت تھی، اس لیے اس نے اپنے حسن کا مظاہرہ کرنے کا سوچا۔ ایک دن اس نے حضرت الیاس کو گرفتار کروا کر جیل میں بند کرا دیا اور خود نیم بے ہوشی کی حالت میں ان کے سامنے بیٹھ گئی۔ ملکہ ایزابیل ایک خاص قسم کا پرفیوم بھی استعمال کرتی تھی، جو جب بھی وہ کسی مرد کے سامنے جاتی تو...

وہ خوشبو سے اپنا ہوش کھو بیٹھتا تھا اور پاگلوں کی طرح ازابیل کے جسم کے گرد گھومنے لگتا تھا، لیکن اللہ کے نبی حضرت الیاسؑ پر نہ تو اس خوشبو کا کوئی اثر ہوا، نہ ازابیل کی خوبصورتی کا، اور نہ ازابیل کا حسن کام آیا۔ بلکہ حضرت الیاسؑ نے ازابیل کو نظر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں تھا، بس وہاں بھی کہتے رہے کہ تمہارے 200 نبی جھوٹے ہیں اور میں اللہ کا نبی ہوں اور تمہیں بھی ایک خدا کی عبادت کی تبلیغ کرتا ہوں۔ اس کے بعد حضرت الیاسؑ کو بہت زیادہ تکلیف دی گئی، قید سے رہائی کے بعد بھی آپ کو پریشان کیا جاتا رہا، اور جب آپ کو قتل...

جب کرنے کا ارادہ بنایا گیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے افتا دے گار میں پناہ لی اور اللہ پاک سے دعا کی کہ اے میرے معبود، اسرائیل پر شدید آفت نازل فرما، یہ لوگ میرے پاس بارش کے لیے بھاگے ہوئے آئے ہیں۔ اللہ پاک نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور کئی سال تک ایسی حالت رہی کہ بنی اسرائیل کے جانور مرنے لگے، اناج ختم ہو گیا اور چراگاہ ویران ہو گئی۔ حضرت الیاس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے اکھیہ سے ملے اور اسے کہا کہ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے ہے، اور اگر تم ابھی بھی توبہ کر لو تو یہ عذاب دور ہو سکتا ہے۔

میری سچائی کے امتحان کا بھی یہ بہترین موقع ہے۔ تم کہتے ہو کہ اسرائیل میں تمہارے معبود کے 200 پیغمبر ہیں، تم ایک دن ان سب کو میرے سامنے جمع کر لو، وہ معبود کے نام پر قربانی پیش کریں اور میں اللہ کے نام پر قربانی کروں گا۔ جس کی قربانی کو آسمانی آگ آکر جلا دے گی، اس کا دین سچا ہوگا۔ سب نے اس تجویز کو خوشی خوشی قبول کر لیا۔ چنانچہ کوہ کامل کے مقام پر یہ امتحان ہوا، معبود کے جھوٹے نبیوں نے اپنی قربانی پیش کی اور صبح سے دوپہر تک معبود سے التجائیں کرتے رہے مگر کوئی جواب نہ آیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی حضرت...

حضرت الیاس علیہ السلام نے قربانی پیش کی جس پر آسمانی بجلی گری اور اسے لے گئی۔ یہ دیکھنے کے لیے تھا کہ بہت سے لوگ فوراً سجدے میں گر گئے کہ الیاس ہی سچے نبی ہیں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا کی تو بارش بھی ہوئی۔ پھر حضرت الیاس تبلیغ کرنے کے لیے کچھ عرصہ عهدہ چھوڑ کر گئے۔ وہاں بھی لوگوں نے آپ کی بات نہیں مانی تو آپ وہاں قربانی پیش کر آئے کہ کچھ ہی عرصے بعد تم لوگ تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ پھر آپ دوبارہ اسرائیل تشریف لے آئے جہاں بادشاہ احیاء اور ملکہ ایزابیل آپ کے جان کے دشمن تھے۔ روایت ہے کہ حضرت الیاس نے احیاء سے...

کہا کہ بہت جلد تمہیں اور تمہاری بیوی کو جنگلی کتوں نے چیر پھاڑ دیا۔ کچھ ہی عرصے بعد بعلبک کو مہلک بیماریوں نے گھیر لیا، جس کی وجہ سے بادشاہ اکھی کے بہت سے فوجی مارے گئے اور اس کا فائدہ دشمن ملک نے اٹھایا، اسرائیل پر حملہ کر دیا اور بعلبک کو تباہ و برباد کر دیا۔ بادشاہ اکھی اب اپنی ملکہ ایبل کے ساتھ جنگلی راستے سے فرار ہو گیا جہاں راستے میں اس پر حملہ ہوا اور بادشاہ اکھی اور ملکہ ایزابل پر جنگلی کتے چھوڑ دیے گئے۔ دوستوں، یہ تھا اُس حسن کی دیوی کا انجام، جس کی لاش کے ٹکڑے شاید کسی کو بھی نہ ملے ہوں۔ اب بات کرتے ہیں۔

یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہنوں میں ہوتا ہے کہ آیا حضرت الیاس زندہ ہیں یا وفات پا چکے ہیں۔ اس بارے میں مختلف محدثین اور مفسرین کی مختلف آراء ہیں، لیکن زیادہ تر روایات میں یہی ہے کہ حضرت الیاس زندہ ہیں۔ علامہ بگی فرماتے ہیں کہ حضرت الیاس کو ایک آتش فشاں گھوڑے پر آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ ہیں۔ اس کے علاوہ علامہ سیّ رحمۃ اللہ علیہ نے ابنِ اثاک رحمۃ اللہ علیہ اور حکیم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالوں سے بہت سی روایات نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔

فرماتے ہیں کہ چار نبی ابھی تک زندہ ہیں: حضرت ادریس علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت الیاس علیہ السلام۔ لیکن البدایہ و النہایہ میں حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے، ان روایتوں کی صحت خراب ہے۔ اور حضرت الیاس کا مبارک مزار لبنان کے شہر بعلبک میں ہے۔ بہرحال حضرت الیاس علیہ السلام کا زندہ ہونا یا نہ ہونا کسی بھی اسلامی روایت سے ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا اس معاملے میں سلامتی کی راہ یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے۔ اور اسرائیلی روایات کے سلسلے میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی...

تعلیمات پر عمل کرو، نہ ان کی تصدیق کرو، نہ تکذیب۔