سامری جادوگر کون تھا؟ حضرت موسیٰؑ کے دور میں سامری کی مکمل کہانی
سامری کون تھا اور اس نے بنی اسرائیل کو کیسے گمراہ کیا؟ حضرت موسیٰؑ کے دور میں سامری کے بچھڑے کی حقیقت اور اس کی پوری اسلامی کہانی تفصیل سے پڑھیں۔
سَمری جادوگر کون تھا؟ ہندو سَمری جادوگر کو اپنا خدا کیوں مانتے ہیں؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے سَمری کو کیسے دودھ پلایا اور جوان کیا؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم۔ پیارے دوستو، آج جس شخصیت کا ذکر کرنے جا رہے ہیں اس کا نام سَمری جادوگر ہے۔ قرآن مجید کی سورۃ طہٰ یعنی سورہ نمبر 20 میں اس شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ جی ہاں، یہ وہی زمانہ تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی مبعوث ہوئے تھے۔ اور یہ شخص بھی انہی کے دور میں پیدا ہوا۔ دونوں کا نام موسیٰ تھا، مگر راستے بالکل مختلف نکلے۔ یہ وہ وقت تھا جب...
فرعون نے بنی اسرائیل کے ہر نوزائیدہ لڑکے کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ جس دن یہ موسیٰ بن عصفور یعنی سامری پیدا ہوا، اُس کی ماں پر بھی وہی قیامت ٹوٹ پڑی جو ہزاروں ماؤں پر ٹوٹ رہی تھی۔ سامری کی ماں کو ڈر تھا کہ کہیں میرے بیٹے کو بھی ظالم فرعون کے سپاہی قتل نہ کر دیں۔ اس لیے اس نے ایک دل دہلا دینے والا فیصلہ کیا۔ اپنے پیارے بچے کو بچانے کے لیے وہ شہر سے دور ایک ویرانے پہاڑ کے غار میں پہنچی اور اپنے لخت جگر کو اس غار میں چھپا کر واپس آ گئی۔ اس امید پر کہ وقتاً فوقتاً آ کر وہ اس کی خبر گیری کرے گی۔ لیکن دوستوں، اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ تفسیرِ روحِ مانی میں لکھا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بچے کی پرورش کریں، اس کی حفاظت کریں اور اس کو گوشت فراہم کریں۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام روزانہ آتے اور ایک انگلی پر شہد، دوسری پر مکھن اور تیسری پر دودھ لگاتے، پھر اپنی انگلیاں بچے کے منہ میں رکھتے، یوں بچہ پل کر جوان ہوتا گیا۔ یوں یہ موسیٰ بن جعفر تنہائی میں ایک پہاڑ کی غار میں پروان چڑھتا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر اس کا نام سامری کیوں رکھا گیا؟ چلیں، اب اس کے بارے میں جانتے ہیں۔ تو ناظرین، سامری دراصل اس شخص کے قبیلے کا نسب ہے۔
مُرکین کہتے ہیں کہ اُس دور میں سامر نام کا ایک قبیلہ موجود تھا۔ اور کیونکہ موسیٰ بن عَجفر اسی قبیلے سے تھا، اسی نسبت سے لوگ اسے سامری کہنے لگے۔ اب سنیں اس بدقسمت سامری کی عبرت ناک کہانی۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے خلاف عظیم فتح دی، تو اُس واقعے کی جھلک آپ سب کو یاد ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلا دن اپنی قوم کے ساتھ فلا سمندر کے پاس چلے جاؤ۔ آپ نے اپنی قوم کو یہ پیغام پہنچایا اور قوم والوں نے ایک چال چنی کہ جتنے فرعونی لوگ شہر...
وہ اپنے گھروں میں جا کر ان سے زیورات ادھار لیتے تھے۔ یہ بنی اسرائیلی عورتیں وہاں جا کر کہتی تھیں کہ ہمیں دور ایک تقریب میں تین دن کے لیے جانا ہے۔ اگر آپ ہمیں اپنے قیمتی زیورات دے دیں تو واپس آ کر ہم آپ کی امانت لوٹا دیں گے۔ یوں ان خواتین نے فرعونوں سے بڑی تعداد میں سونا، چاندی اور قیمتی زیورات حاصل کر لیے۔ پھر اللہ کے حکم کے مطابق وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سمندر کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو اللہ نے اپنی قدرت سے سمندر میں ایک راستہ بنا دیا۔ ایسا راستہ جو صرف ایمان والوں کے لیے تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام۔۔۔
اور ان کے پیروکار سکون سے پار ہو گئے۔ مگر فرعون اور اس کا پورا لشکر اسی راستے سے آیا اور وہ سب سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ یوں فرعون اور اس کی ظالم حکومت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ اور جو زیورات اور قیمتی چیزیں بنی اسرائیل لے کر آئے تھے، ان کے مالک یعنی فرعونی اب دنیا میں باقی نہ تھے۔ اب وہ امانتیں کس کو واپس کی جائیں؟ ساری قوم حیران تھی کہ ان قیمتی چیزوں کا کیا کیا جائے؟ یہی پر وہ سامری جادوگر دوبارہ منظر عام پر آتا ہے۔ سامری کو سونا چاندی پگھلا کر نئی شکل دینے کا فن آتا تھا۔ اس نے بنی اسرائیل...
اسے کہا، آخر تم کب تک یہ بالیاں، ہار اور کنگن ایسے ہی اٹھائے پھرتے رہو گے؟ کیوں نہ یہ سب کچھ میرے حوالے کر دو؟ میں انہیں پگھلا کر اینٹوں یا سلاخوں کی شکل دے دوں تاکہ تمہارے لیے ان کا خیال رکھنا آسان ہو جائے۔ چنانچہ دوستوں، جب سامری نے یہ تجویز دی تو سب نے خوش دلی سے اپنے زیورات، سونا اور چاندی، اس کے حوالے کر دیے۔ ادھر بنی اسرائیل کی ایک اور خواہش سامنے آئی۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے، یا نبی اللہ! پہلے تو ہم فرعون کے قوانین کے تابع تھے، لیکن اب ہم آزاد ہو چکے ہیں۔ تو ہمیں اللہ کی طرف سے کوئی...
کتاب دی جائے۔ ایسا نظام دیا جائے جس پر ہم عمل کر سکیں۔ یہ بات سن کر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیغام دیا کہ آپ کوہ طور پر تشریف لے جائیں۔ وہاں آپ کو تورات دی جائے گی۔ ایسی ہدایت بھری کتاب جس پر عمل کر کے آپ کی قوم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جائے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کو پیچھے چھوڑ کر کوہ طور پر روانہ ہو گئے۔ اور دوستو، یہاں راز کھلنے والا تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام زمین پر تشریف لائے تو سامری جادوگر جو پہلے بھی جبرائیل کو پہچانتا تھا، ان کے گھوڑے کے قدموں کے نشان دیکھے۔
وہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ مخلوق معمولی نہیں ہے۔ یہ اللہ کے بڑے عظیم فرشتے ہیں۔ سامری نے دیکھا کہ جہاں جہاں جبرائیل کے گھوڑے کے قدم پڑتے، وہاں صفحہ طور پر سب گھاس اُگ آتی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر سامری حیران بھی ہوا اور خبردار بھی۔ اس نے خاموشی سے وہ مٹی اٹھا لی جو جبرائیل کے گھوڑے کے قدموں سے چھو کر گزری تھی۔ یہ مٹی عام نہیں تھی۔ یہ زندہ مٹی تھی۔ اس سے آواز آتی تھی، حرکت ہوتی تھی۔ اسی مٹی کو سامری نے ایک تھیلے میں رکھ لیا اور تھیلے میں بھی وہ مٹی مسلسل ہلتی رہی۔ گویا اس میں کوئی طاقت، کوئی روح موجود ہو۔ ادھر جب موسیٰ علیہ السلام۔۔۔
سلام کوہتُور پہنچ چکے تھے تو سامری نے ایک گہری اور شیطانی چال چلنے کی تیاری کی۔ اُس نے سارا سونا اور زیورات پگھلا کر ایک بچھڑے کی شکل دی۔ ایسا سنہری بچھڑا جیسے گائے کا خوبصورت بچہ ہو۔ مگر بس یہی نہیں، اس بچھڑے کے اندر اُس نے وہ خاص مٹی ڈال دی جو جبرائیل کے گھوڑے سے لی گئی تھی، ایک زندہ دل کانپتی ہوئی مٹی۔ اور جیسے ہی مٹی بچھڑے کے اندر بند کی گئی، اُس سے ایک گونجدار آواز نکلنے لگی۔ ایسی آواز جیسے کوئی زندہ مخلوق بول رہی ہو۔ قوم بنی اسرائیل یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ یہ کیسا جادو ہے؟ یہ کیسا کرشمہ ہے؟ سارے۔
لوگ اس عجیب و غریب بچھڑے کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ اور یہی سے خطرناک فساد جنم لینے والا تھا۔ اب سامری نے وہ کام کیا جو فساد پھیلانے والوں کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ اس نے سب کو اکٹھا کیا اور باقاعدہ اعلان کیا، "اے لوگوں! جس خدا کی عبادت موسیٰ کرتا ہے اور جس خدا کی طرف وہ تمہیں بلاتا ہے، وہی یہی ہے، یہی سنہری بچھڑا ناؤوجبلاہ ہے۔" اب ذرا سوچیں، یہ وہ بنی اسرائیل تھے جنہوں نے کچھ عرصہ پہلے گائے کی پرستش سے توبہ کر لی تھی اور توحید کا دامن تھام لیا تھا، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ ایک بچھڑا صرف سونے کا ہے، انتہائی خوبصورت، اور اس کے اندر سے...
آوازیں بھی نکل رہی تھیں۔ تو جاہل اور کمزور ایمان والے لوگ اس فتنہ میں بہک گئے اور وہ بچھڑے کو سجدہ کرنے لگے۔ یہاں چالیس دن گزرے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ سے کلام ہو کر ہاتھوں میں لے کر واپس بستی میں تشریف لائے۔ مگر جو منظر انہوں نے دیکھا وہ یقین کے قابل نہیں تھا۔ قوم جسے وہ اللہ کی توحید کی طرف لے کر آئے تھے، اب دوبارہ شرک کی گہرائیوں میں جا چکی تھی اور ایک بے جان بچھڑے کے سامنے جھک رہی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بہت غصہ آیا۔ آگ کی طرح غصے میں وہ اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ کر...
لیے اور انہیں جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا تم نے انہیں روکا کیوں نہیں؟ یہ گمراہی میں کیسے چلے گئے؟ حضرت ہارون علیہ السلام نے بڑی عاجزی سے عرض کی جیسے کہ قرآن مجید میں آیا ہے، اے میرے بھائی قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ وہ مجھے مار ڈالیں، تو تم دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دو اور مجھے ظالموں میں شامل نہ کرو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ سنا تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا اور انہوں نے اپنے بھائی کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا مانگی۔ پھر انہوں نے وہی سنہری بچھڑا اٹھایا، اسے توڑا، پھر جلا کر راکھ بنا دیا اور اس کی راکھ...
دریا میں بہا دیا تاکہ فساد کی کوئی بھی بات باقی نہ رہے۔ اس بات کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تحقیق شروع کی کہ یہ سنہری بچھڑا کس نے بنایا جس کی وجہ سے قوم دوبارہ شرک میں مبتلا ہو گئی۔ چند ہی دنوں میں معاملہ واضح ہو گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ سب کچھ سامری جادوگر کا کرتوت ہے۔ اسی نے سونا پگھلا کر بچھڑے کی شکل دی اور اسی نے بچھڑے میں ایسی مٹی ڈالی جس سے آوازیں نکلنے لگیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً قوم کے سامنے سامری کو بلایا۔ جب وہ آیا تو آپ نے سخت لہجے میں سوال کیا، "بتاؤ یہ بچھڑا کیا تھا؟ یہ کیا شرارت تھی؟"
اب سامری نبی کے سامنے جھوٹ بولنے کی ہمت نہ کر سکا۔ اس نے صاف الفاظ میں پوری حقیقت بیان کر دی۔ اس نے کہا جب میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدم جہاں بھی پڑتے تھے وہاں پلک جھپکاتے گھاس اُگ جاتی تھی، تو مجھے احساس ہوا کہ یہ مٹی عام مٹی نہیں ہے، اس میں کوئی خاص تاثیر ہے۔ میں نے وہ مٹی اٹھا لی، اپنے تھیلے میں بھر لی۔ پھر جب لوگوں نے مجھے سونا دیا تو میں نے بچھڑا تیار کیا اور اس کے اندر وہی مٹی ڈال دی۔ پھر وہ مٹی بچھڑے کے اندر کھنکنے لگی اور آواز آنے لگی۔ لوگ سمجھنے لگے کہ بچھڑا زندہ ہے اور انہوں نے اسے سجدہ شروع کر دیا۔ یہ سن کر حضرت۔۔۔
موسیٰ علیہ السلام کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ اے سامری، اب چلے جا۔ آج کے بعد تو اس قوم میں نظر نہ آئے گا۔ پھر اللہ کی طرف سے تم پر ایک خاص سزا سنائی گئی کہ تیرے شر، تیرے جادو اور تیرے گمراہ کن عمل کی سزا یہ ہوگی کہ آج کے بعد اگر تو کسی انسان کو ہاتھ لگائے گا تو وہ بیمار ہو جائے گا اور اگر کوئی تجھے چھو لے تو اس کی صحت خراب ہو جائے گی۔ پھر حقیقتاً ایسا ہی ہوا۔ سامری ایک ناپسندیدہ اور الگ تھلگ انسان بن گیا۔ شہر میں رہنا ناممکن ہو گیا۔ لوگ اس سے دور رہنے لگے اور ڈرنے لگے۔ وہ خود چیخ چیخ کر کہتا تھا، "مجھے مت چھونا ورنہ..."
نقصان ہوگا۔ آخرکار وہ شخص جو لوگوں کو جادو سے قابو میں لاتا تھا خود جنگلوں میں تنہا، لاوارث اور لعنت زدہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا۔ کسی نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔ کسی نے اسے یاد نہیں رکھا اور یوں وہ دنیا کے لیے عبرت بن کر رخصت ہو گیا۔ تو دوستوں، یہ سارا واقعہ ہمیں دو چیزوں کی تباہ کن یاددہانی کراتا ہے۔ پہلی جادو، جو نہ صرف خود گمراہی ہے بلکہ دوسروں کو بھی اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ ایسا عمل جس سے لوگ شرک میں پڑ جائیں، اللہ کی نظر میں انتہائی سنگین جرم ہے۔ اور اس کی سزا بھی بہت سخت ہے۔
ہوتی ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص ایسا گناہ کرتا ہے جس کی وجہ سے دوسرے بھی اس گناہ میں مبتلا ہو جائیں تو وہ صرف اپنی خطا کا نہیں بلکہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے سر لے لیتا ہے۔ ایسے لوگ جو نہ صرف خود برائی کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس کی طرف دھکیلتے ہیں، ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔ یہی سامری کا انجام تھا۔ عبرت کا نشان، عزت سے دولت تک کا سفر اور سونے سے راکھ تک کا انجام۔ پیارے دوستو، آپ نے اس پوری ویڈیو میں جانا کہ سامری کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے پالا اور موسیٰ علیہ السلام کی پرورش خود کی۔
فرعون کے محل میں ہوئی تھی۔ مگر دیکھو تو کیسی عجیب بات ہے۔ فرعون کے گھر میں پلنے والا موسیٰ اللہ کا نبی بن گیا۔ اور جبرائیل علیہ السلام کے زیر سایا پلنے والا موسیٰ سامری کافر، گمراہ اور فتنے پرور نکلا۔ اسی پر ایک عارف کا بہت گہرا جملہ یاد آتا ہے۔ جب کسی شخص کی قسمت میں شہادت نہ ہو تو چاہے اس کی پرورش فرشتے ہی کیوں نہ کریں، آخرکار نامراد ہی رہتا ہے۔ دیکھ لیجیے موسیٰ سامری، جسے حضرت جبرائیل علیہ السلام جیسے جلیل القدر فرشتے نے پالاہے۔ مگر وہ اٹل بدقسمت نکلا اور اسی بدقسمتی نے اسے کفر کی گہرائیوں میں دھکیل دیا۔ اور دوسری طرف...
حضرت موسیٰ علیہ السلام جنہیں ایک بدترین کافر یعنی فرعون نے پالا تھا۔ وہ بہت نیک بندے تھے اور اللہ کے عظیم رسول بنے۔ تو اصل بات پرورش کی نہیں ہوتی، اصل بات دل کی ہوتی ہے، نیت کی ہوتی ہے، تقدیر کی لکیر کی ہوتی ہے۔ معزز خواتین و حضرات، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ آج بھی ہندو سامری جادوگر کو اپنا خدا مانتے ہیں۔ جی ہاں، وہی سامری جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کو بہکا کر بچھڑے کی عبادت کروائی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ہندو اسے خدا کیوں مانتے ہیں؟ اس کی بڑی وجہ ہے گائے کا وہ بولنے والا مجسمہ جو سامری نے بنایا تھا۔
بنایا تھا۔ اس بچھڑے کے مجسمے نے آواز نکالی اور اس حیرت انگیز منظر کو دیکھ کر لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ کوئی الہی معجزہ ہے ما شاء اللہ۔ یاد رکھیں یہ سامری کا جادو تھا، ایک چال تھی۔ جس نے لوگوں کی آنکھوں پر پردے ڈال دیے۔ لیکن آج بھی کچھ قومیں اس جھوٹ کو سچ مان کر سامری کو الہی شخصیت سمجھتی ہیں۔ اب ذرا رکیں اور سوچیں، گائے کی پوجا صرف آج کی بات نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی بدعت ہے۔ قدیم مصر میں بھی لوگ گائے اور بچھڑے کی عبادت کیا کرتے تھے اور ان جانوروں کو مقدس سمجھتے تھے۔ ان کے سامنے جھکتے اور ان سے برکت مانگا کرتے۔ آج کا...
ہندوستان بھی اسی سوچ کا وارث ہے۔ ہندو مذہب میں گائے کو گاؤ ماتا کہا جاتا ہے۔ یعنی ماں کا درجہ دینے والی گائے۔ اور جب ہم ان کے گُرُوں کی بات سنتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری وہ ماں جس نے ہمیں جنم دیا، صرف دو سال دودھ پلاتی ہے۔ لیکن گائے ماتا ہمیں ساری زندگی دودھ دیتی ہے۔ ہماری ماں ہم سے خدمت کا بدلہ مانگتی ہے، لیکن گائے کچھ نہیں مانگتی، صرف چارہ مانگتی ہے۔ اسی لیے گاؤ ماتا ہماری اصل ماں سے بھی افضل ہے۔ ناظرین یہ بات کوئی عام آدمی نہیں کہہ رہا بلکہ یہ الفاظ ایک بڑے ہندو گروہ کے ایک مذہبی پیشوا کے ہیں۔ جس کو...
لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں۔ لیکن آئیے تھوڑا سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں۔ کیا صرف اس بات کی بنیاد پر کہ کوئی مخلوق دودھ دیتی ہے، اسے ماں مقدس یا خدا بنایا جا سکتا ہے؟ اگر دودھ دینا معیار ہے تو بھینس، بکری، اونٹنی یا پرندے بھی دودھ دیتے ہیں۔ کیا انہیں بھی خدا بنا لینا چاہیے؟ نہیں، یہ نہ صرف ایک عقل کی غلطی ہے بلکہ ایک سنگین گمراہی بھی ہے۔ دودھ پلانا، انسانوں کو فائدہ پہنچانا یہ سب اللہ کی پیدا کردہ فطرت ہے۔ اصل خالق اور رازق وہی ہے جو یہ سب پیدا کرنے والا ہے۔ پیارے بھائیو، اسلام ہمیں یہی سکھاتا ہے۔
یہ کہ نعمت کا شکر نعمت دینے والے کا ادا کیا جائے نہ کہ خود نعمت کو پوجا جائے۔ گائے ہو یا سورج، دریا ہو یا درخت، یہ سب مخلوق ہیں اور مخلوق کبھی بھی خالق کی جگہ نہیں لے سکتی۔ تو ناظرین خود فیصلہ کریں۔ کیا گائے واقعی اتنی مقدس ہے کہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے جائیں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ دودھ دیتی ہے اسے ماں کہا جائے؟ تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ بھینس جو گائے سے کئی گنا زیادہ دودھ دیتی ہے، اس کا مقام کہاں ہے؟ کیا کسی نے اسے ماں کا درجہ دیا؟ کیا اس کے لیے کبھی شور مچایا گیا؟ نہیں۔ کیونکہ یہ منطق نہیں بلکہ اندھا عقیدہ ہے۔
عقیدت اور پرانی رسم و رواج کا سلسلہ ہے۔ اصل میں جب انسان کسی چیز کو اپنا معبود سمجھ لیتا ہے چاہے وہ پتھر ہو، جانور ہو یا انسان، تو پھر عقل و دلیل اس کے دروازے سے واپس لوٹ جاتی ہے۔ پھر وہ چیز مقدس بن جاتی ہے، چاہے وہ کتنی ہی بےجان کیوں نہ ہو۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی یہاں انسان چاند پر پہنچ چکا ہے، سائنس نے کائنات کی پیمائش کر لی ہے، سمندروں کی تہہ میں رپورٹس بھیجی جا رہی ہیں۔ پھر بھی کہیں انسان پتھروں کے سامنے سجدہ کرتا ہے، کبھی بندر کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے، کبھی زہریلے سانپ کو دودھ پلانے لگتا ہے اور کبھی...
اپنے جیسے انسان کو خدا بنا کر اس پر عقیدت ظاہر کرتا ہے۔ ناظرین، ہم کسی خاص مذہب یا قوم کی توہین نہیں کر رہے۔ ہم صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا علم، ترقی، سائنس، تعلیم اور شعور سب کے باوجود انسان آج بھی اندھی عقیدت کا غلام ہے؟ دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل افراد، ڈاکٹر، انجینئرز، پروفيسر جن کی زبان پر سائنس کی باتیں ہوتی ہیں، وہ بھی جب اپنی روایتی عقیدے کی بات آتی ہے تو پتھر کے سامنے سر جھکانے میں شرمندہ نہیں ہوتے۔ اور حیرت تو یہ ہے کہ ناظرین یہ شک، یہ جہالت، یہ بد عقیدگیاں...
اب صرف برِ صغیر یا افریقہ میں نہیں، بلکہ اب یورپ جیسے مہذب معاشروں میں بھی شیطان پرست پیدا ہو چکے ہیں۔ جی ہاں، ایسے لوگ جو خود کو عبادِ شیطان یعنی شیطان کے بندے کہتے ہیں۔ جو کھلے عام شیطان کو سجدہ کرتے ہیں اور نوجوان نسل کو حرام، ہر ناجائز، ہر غلط راستے کی طرف بلاتے ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں جو دل کرے وہی صحیح ہے۔ نہ خدا، نہ قانون، نہ کوئی پابندی مانو۔ ناظرین، یہی ہے آج کی انسانیت کی بدترین گمراہی۔ جہاں نہ خدا کی پہچان رہی، نہ عقل کی روشنی، بس خواہشات، رسم و رواج اور اندھی عقیدت کا اندھیرا ہے۔ اور جہاں تک...
سامری کا تعلق ہے، تو وہ کوئی عام آدمی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا چالاک جادوگر تھا جس نے صرف ہاتھ کی صفائی نہیں دکھائی بلکہ پوری قوم کے عقیدے کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ جادوگر جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹا کر شرک کی گہرائی میں دھکیلنے لگا۔ اس نے جادو اور فریب سے ایک ایسا سنہرا بچھڑا بنایا جو بولنے کی آواز نکالتا تھا۔ لوگوں کو لگا جیسے وہ واقعی خدا ہے۔ انہوں نے بچھڑے کے سامنے سجدہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن ناصرفین یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جادو کبھی حق نہیں ہوتا اور جو جادوگر ہوتا ہے وہ کبھی رہنما نہیں بن سکتا۔
ہو سکتا ہے۔ یہ جادوگر لوگ بظاہر کچھ حیران کن کام کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کے اندر کوئی روحانی طاقت ہے۔ لیکن اصل میں وہ صرف شیطانی چالوں کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ صابری کی کہانی آج صرف ایک پرانا واقعہ نہیں بلکہ ایک سبق ہے۔ ہر اُس انسان کے لیے جو آنکھیں بند کر کے کسی کو روحانی پیشوا مان لیتا ہے، چاہے وہ انسان ہو، گرو ہو یا کوئی بابا۔ ناظرین اگر کوئی شخص اللہ کے نبی کے راستے سے ہٹ کر جادو شرک یا مخلوق...
اگر کوئی ہمیں پرستش کی طرف بلائے، چاہے وہ جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ ہدایت کا نہیں بلکہ گمراہی کا راستہ دکھا رہا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جو بات دلیل، عقل اور حقیقت سے ٹکراتی ہو، وہ فریب ہے اور شیطان کا دھوکہ ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمیں ہر طرح کے شرک، فریب اور گمراہی سے محفوظ رکھے۔ ہمیں سچ اور جھوٹ میں فرق سمجھنے کی بصیرت دے۔ ہمیں ان لوگوں کی چالاکیوں سے بچا لے جو ہمیں اللہ کے راستے سے ہٹا کر بت پرستی، جادوگری اور گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اے اللہ، ہمیں صرف تیرے لیے جینا اور تیرے لیے ہی سجدہ کرنا نصیب فرما۔
کرنے والا بنا دے۔ ہمیں علم بھی دے اور عمل کرنے کی توفیق بھی دے، اور ہمارے دل کو توحید کے نور سے منور کر دے۔ آمین۔ پیارے دوستوں اور میری محترم بہنوں اگر آپ کو یہ ویڈیو پسند آئی ہے، آپ کو اس سے کچھ سیکھنے کو ملا ہے، تو براہ کرم اسے لائک کریں اور اپنے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے۔
mnweb