لکڑہارا اور ایک مکّار عورت کی انوکھی کہانی – دلچسپ اردو افسانہ
یہ دلچسپ اور سبق آموز اردو کہانی لکڑہارا اور ایک مکّار عورت کی انوکھی داستان بیان کرتی ہے۔ جانیں کہ کیسے عقل، چالاکی اور نصیحت کے ذریعے یہ کہانی اپنی مثال قائم کرتی ہے۔
عراق کے مَلّکہ میں ایک سادہ سا لکڑہارا رہتا تھا، جس کا نام عمر خالد تھا۔ ایک بار اسے کسی ضروری کام کی وجہ سے اپنے گاؤں سے دور جانا پڑا۔ راستے میں ایک گھنا اور سنسان جنگل آتا تھا۔ سردیوں کے دن تھے، اور اُس وقت سوار ہونے کا کوئی انتظام بھی نہیں تھا۔ مگر جانا بہت ضروری تھا۔ اس نے سردی کی پروا کیے بغیر اپنا کھانا باندھا اور چل پڑا۔ اُمید تھی کہ شام سے پہلے گاؤں واپس آ جائے گا۔ مگر افسوس، ایسا نہ ہوا۔ سرد ہوا نے چلنا بھی مشکل کر دیا۔ روتے ہوئے وہ شام تک جنگل میں پہنچا۔ مگر سردیوں میں تو ساری شام...
اندھیرا چھا گیا تھا۔ اب عمر بہت پریشان ہو گیا تھا۔ اس نے دل میں سوچا کہ اگر وہ رات بھر چلتا رہا تو سردی سے مر جائے گا یا جنگلی درندے اسے اپنا شکار بنا لیں گے۔ کیوں نہ یہاں ہی رات گزار لی جائے، لکڑیاں جلا کر۔ یہی سوچ کر اس نے رات ہونے تک کافی لکڑیاں جمع کر لیں۔ تھوڑی سی لکڑیاں ایک جگہ رکھ کر آگ جلا دی اور خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا۔ اب اسے جنگلی درندوں کا بھی کوئی خوف نہ تھا کیونکہ آگ کی وجہ سے وہ اس کے قریب نہیں آ سکتے تھے۔ ابھی ابھی اس نے آگ جلائی تھی کہ اچانک اسے بہت شدید بھوک محسوس ہونے لگی۔ اس نے اپنی...
پوٹلی کھولی۔ ابھی اس نے پہلا نوالہ توڑا ہی تھا کہ اس کی نظر ایک بونے پر پڑی جو سردی سے کانپتا ہوا جا رہا تھا۔ عمر کو اس پر بہت ترس آیا۔ اس نے آواز دی، "ارے بھائی، ذرا رک جاؤ۔ اتنی شدید سردی میں کہاں جا رہے ہو؟ آؤ تھوڑی دیر آگ کے پاس بیٹھ جاؤ تاکہ تمہیں سردی نہ لگے۔" بونے نے مسکرا کر جواب دیا، "شکریہ بھائی۔ واقعی اس وقت بہت سردی ہے اور تم نے آگ جلائی ورنہ شاید تم بھی سردی سے مر جاتے اور میں بھی۔" اس کا نام حمزہ تھا۔ وہ آگ کے پاس آ گیا۔ عمر نے فوراً کہا، "آؤ بھائی، میرے پاس کھانا ہے۔ یقیناً تمہیں بھوک لگی ہوگی۔"
ہوگی۔ اس غریب کے کھانے میں شامل ہو جاؤ۔ ہمزا نے کہا تمہارے پاس کھانا صرف تمہارے لیے ہوگا، اس لیے تم خود ہی کھا لو۔ کیا تمہیں بھوک نہیں لگی؟ اور ساری رات بھوکے رہو گے کیا؟ عمر نے حیرت سے پوچھا۔ نہیں، یہاں آؤ کھا لو۔ جب کھانا ہے تو پھر انکار کیوں؟ عمر نے اصرار کیا تو ہمزا بھی اس کے ساتھ کھانے میں شامل ہو گیا۔ کھانا کھانے کے بعد دونوں کافی دیر خاموش بیٹھے رہے۔ ہمزا بولا، بھائی ہم خاموش بیٹھ کر ساری رات نہیں گزار سکتے۔ کوئی بات کرو۔ چلو یہی بتاؤ کہ اتنی رات تم کہاں جا رہے ہو؟ عمر نے بتایا، میں دوسرے گاؤں...
ضروری کام سے جا رہا تھا کہ راستے میں شام ہوگئی۔ سوچا کہ رات یہاں گزار کر سفر شروع کروں۔ ہمجا نے کہا، اچھا تو تم ضروری کام سے جا رہے تھے۔ دیکھو بھائی، تم بہت ہی نیک اور عظیم آدمی ہو۔ میں تم سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ عمر نے کہا، میں اور نیک نہیں میاں، مذاق نہ کرو۔ میں تو بہت ہی گناہ گار آدمی ہوں۔ اگر میں نے تمہیں کھانا کھلایا تو اس میں نیکی کہاں سے آ گئی؟ یہ تو ہر انسان کا فرض ہے۔ ہمجا نے کہا، ٹھیک ہے بھائی، تم درست کہتے ہو۔ مگر تم جیسے آدمی مشکل سے ہی ملتے ہیں۔ میں تم سے بہت خوش ہوں اور تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں۔
دینا چاہتا ہوں۔ عمر نے ناراضگی سے پوچھا، کیا تم میرے خلوص اور کھانے کی قیمت ادا کرنا چاہتے ہو؟ حمزہ نے کہا، نہیں بھائی ایسا مت سوچو۔ یہ دوست سے دوست کا تحفہ ہے جو تمہیں میری یاد دلاتا رہے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ لو، اسے سنبھال کے رکھنا۔ یہ کہہ کر حمزہ نے اپنی قبا سے ایک خوبصورت بانسری نکال کر عمر کے ہاتھ میں دے دی۔ عمر نے حیرانی سے بانسری کو دیکھا اور بولا، بھائی میں بھلا اس بانسری کو کیا کروں گا؟ اس میں کوئی خاص بات ہے؟ حمزہ مسکرایا، ہاں بہت خاص بات ہے۔ چلو، میں بتاتا ہوں۔ اس بانسری کو تم جب بھی بجاتے ہو تو بہت سے لوگ...
سب اکٹھے ہو جائیں گے اور جو بھی تم انہیں کہو گے وہ کریں گے۔ یہی اس ساز کی خاص بات ہے۔ لو سنبھال لو۔ ہمزا نے مسکرا کر ساز عمر کو دیا۔ عمر نے ساز کو الٹ پلٹ کر دیکھنا شروع کیا۔ کچھ پوچھنے کے لیے وہ ہمزا کی طرف دیکھا تو وہ وہاں سے غائب تھا۔ عمر حیران رہ گیا۔ عمر نے ساز کو اپنے کپڑوں میں چھپا لیا اور آگ میں مزید لکڑیاں ڈال کر سو گیا۔ صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس نے قریبی ندی کے پاس جا کر منہ اور ہاتھ دھوئے اور اپنے راستے پر چل پڑا۔ دوپہر تک وہ اپنے عزیزوں کے گھر پہنچ گیا۔ کام ختم کرکے اس نے اپنے عزیزوں سے کہا، آؤ میں تمہیں ایک تماشا دکھاتا ہوں۔
بھتیجے نے کہا، "چچا عمر، کیا تم نے کوئی نیا قِتاب سیکھا ہے؟" عمر نے کہا، "شاید کچھ ہے، دیکھو نا۔" یہ کہہ کر اُس نے بجاتا شروع کیا، اور تھوڑی ہی دیر میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ یہ دیکھ کر عمر نے کہا، "یہاں میرے عزیزوں کے لیے ساز و سامان سے بھرا ہوا ایک محل بنا دو۔" اُسی وقت محل اپنی جگہ پر کھڑا چمک رہا تھا۔ اُس کے عزیز بہت حیران اور خوش تھے کہ چلو مٹی کے گھر سے چھٹکارا مل گیا۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا تو مختلف قسم کی باتیں کرنے لگے۔ یوں یہ خبر بادشاہی محل تک پہنچ گئی۔ سلطان ہارون کی بیٹی شہزادی فاطمہ بہت شریف اور لاڈلی تھی۔ اُس نے اپنے...
باپ کو مجبور کیا کہ وہ عمر کو اپنے محل میں بلائے اور اس کی دعوت دے۔ سلطان ہارون شہزادی فاطمہ کی بات نظر انداز نہ کر سکا اور ایک ہرکارہ صبح صبح عمر کے پاس پہنچ گیا۔ چلو میاں اٹھو، سلطان سلامت نے پیغام بھیجا ہے۔ عمر بہت حیران ہوا۔ کیوں بھائی، میرا قصور بتاؤ۔ میں نے کیا جرم کیا ہے کہ تم لوگ مجھے سلطان کے پاس لے جا رہے ہو؟ وہ حیران پریشان ہرکارے کے ساتھ جا رہا تھا۔ درحقیقت شہزادی فاطمہ بہت ہوشیار تھی۔ اس دعوت کے بہانے وہ وہ بازہ حاصل کرنا چاہتی تھی جو عمر کے پاس تھا۔ جب عمر کو دعوت کا پتہ چلا تو وہ بہت خوش ہوا۔
ہوا۔ کھانا کھانے کے بعد شہزادی فاطمہ نے عمر سے کہا، "عمر، ہم تمہارا حیرت انگیز باجا دیکھنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے تم نے اپنے عزیزوں کے لیے محل تعمیر کروایا ہے۔" سادہ عمر نے فوراً باجا نکال کر شہزادی فاطمہ کو دے دیا۔ شہزادی فاطمہ کافی دیر اس باجے کو دیکھتی رہی، پھر بولی، "ہمیں تو اس باجے میں کوئی خاص بات نظر نہیں آتی۔ سادہ سا باجا ہے۔ ہم تو یہی سمجھتے تھے کہ تمہارا باجا بہت خوبصورت ہوگا۔ خیر، یہ لو اپنا باجا سنبھال لو۔" یہ کہہ کر شہزادی فاطمہ نے باجا واپس کر دیا۔ مگر اس دوران وہ اپنا کام دکھا چکی تھی۔ اس نے عمر...
باجے کو دوسرے باجے سے بدل دیا گیا۔ لیکن عمر کو کچھ پتہ نہیں چلا۔ وہ خوشی خوشی اپنا باجا لے کر محل سے نکل آیا۔ گھر آ کر اس نے ایک بار پھر باجا بجایا۔ مگر یہ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا کہ اس بار کوئی شخص نہیں آیا۔ تب اس نے سوچا کہ سلطان ہارون نے اس کی دعوت کیوں دی تھی اور شہزادی فاطمہ نے اس کا باجا کیوں دیکھنے کو مانگا تھا۔ یقیناً شہزادی فاطمہ نے باجا بدل دیا تھا۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا؟ وہ اپنے دوست کا تحفہ کھو چکا تھا۔ بہت غمگین اور اداس اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ رات بھر جنگل میں گزرنی پڑی۔ وہ ایک درخت کے...
وہ نیچے لیٹ گیا۔ جب بھوک نے ستایا تو اس نے سوچا کہ سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ کھانا ساتھ نہیں لایا۔ ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا کہ اس کی نظر ایک درخت پر پڑی جہاں بڑے بڑے لال سیب لگے ہوئے تھے۔ وہ اچانک اٹھا اور جلدی سے ایک سیب توڑا۔ کپڑوں سے صاف کرکے کھانے لگا۔ مگر یہ کیا؟ جتنا وہ سیب کھا رہا تھا، اس کی ناک اتنی لمبی ہونے لگی کہ کھڑے رہنا مشکل ہو گیا۔ اس بات سے وہ اور پریشان ہو گیا۔ اسی پریشانی کے عالم میں اس نے دیکھا کہ اس کا وہی ہمجما دوست اس کی طرف آ رہا ہے۔
جب وہ قریب آیا تو عمر کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ ارے بھائی، یہ کیا ہوا تمہاری ناک کو؟ عمر رو کر بولا، مت پوچھ دوست کہ میرے ساتھ کیا ہوا؟ جو بھی ہوا ہے بہت برا ہوا ہے۔ تب عمر نے ساری بات ہمزہ دوست کو بتا دی۔ ہمزہ سب سن کر ہنس پڑا۔ واقعی دوست، تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ میں ضرور تمہاری مدد کروں گا۔ تمہارا باجا بھی تمہیں واپس مل جائے گا۔ مگر پہلے تمہاری ناک کا کچھ کرنا ہوگا۔ یہ کہہ کر ہمزہ نے پاس والے درخت سے ایک ناشپاتی توڑی اور عمر سے کہا، لو دوست، پہلے اسے کھا لو۔ پھر میں تمہیں باجا دلاؤں گا۔
میں تمہیں کچھ چالیں بتاؤں گا کیونکہ تم بہت سیدھے سادے ہو۔ عمر نے جیسے ہی ناشپاتی کھانی شروع کی، اس کی ناک اپنی جگہ آنا شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ وہ بالکل ٹھیک ہو گئی۔ عمر یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ پھر حمزہ نے عمر کے کان میں کچھ کہا اور عمر نے یقین دلایا کہ وہ ویسا ہی کرے گا۔ اس نے فوراً اپنے دوست کی چالوں پر عمل کیا اور بہت سارے سیب توڑ کر دھوئے، ٹوکری میں بھرے اور دوبارہ واپس چلا گیا۔ سیب اتنے خوبصورت تھے کہ ہر ایک اپنے پاس بلانے لگا۔ لیکن عمر سب لوگوں کو نظر انداز کر کے سیدھا شاہی محل پہنچ گیا، ٹوکری رکھی اور وہاں بیٹھ گیا۔
چلا گیا۔ اچانک شہزادی فاطمہ کی نظر ان سیبوں پر پڑی تو اس کا دل چاہا کہ وہ لے لے۔ اس نے سارے سیب خرید لیے۔ عمر اپنا کام مکمل کر کے وہاں سے چلا گیا۔ شام کو جب شہزادی فاطمہ نے ایک سیب کھانا شروع کیا تو اس کا بھی وہی حال ہو گیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر سب پریشان ہو گئے۔ سلطان ہارون نے فوراً شاہی حکیم کو بلایا۔ مگر کوئی بھی شہزادی فاطمہ کو صحت مند نہیں کر سکا۔ تنگ آ کر سلطان ہارون نے اعلان کر دیا کہ جو بھی شخص شہزادی فاطمہ کی ناک کو اس کی اصل حالت میں بحال کرے گا اسے آدھی سلطنت دی جائے گی۔ یہ اعلان عمر نے بھی سن لیا اور ایک طبیب کا روپ دھار لیا۔
تیسری بار بھر کر محل میں داخل ہوا۔ سب اسے دیکھ کر ہنسنے لگے کہ جہاں نامور حکیم ناکام ہو گئے، وہاں یہ نالائق طبیب کیا کرے گا۔ مگر سلطان ہارون اسے شہزادی فاطمہ کے کمرے میں لے گیا۔ جہاں شہزادی فاطمہ نے خود کو بند کر لیا تھا۔ سلطان ہارون نے بڑی مشکل سے دروازہ کھلوایا اور شہزادی فاطمہ کو یقین دلایا کہ اب وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ عمر نے سب کو کمرے سے باہر نکال دیا اور شہزادی فاطمہ کے پاس پہنچا۔ اچھا، تو آپ اپنی ناک کی وجہ سے پریشان ہیں۔ فکر مت کریں۔ یہ ٹھیک ہو جائے گی۔ یہ کہہ کر اس نے آدھی ناشپاتی
شہزادی فاطمہ کو دی اور کہا، "شہزادی فاطمہ صاحبہ، اس ناشپاتی کو آہستہ آہستہ کھا لیجیے۔" شہزادی فاطمہ نے جب ناشپاتی کو دیکھا تو بہت غصہ آیا اور کہا، "تم ہمارے ساتھ کیا مذاق کر رہے ہو؟ ناشپاتی کا ناں تو ناک سے کیا تعلق ہے؟" عمر نے کہا، "آپ کھا لیں، پھر آپ کو تعلق بھی سمجھ آ جائے گا۔" پھر شہزادی فاطمہ نے آہستہ آہستہ ناشپاتی کھانی شروع کی اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کی ناک بہنا بند ہو چکا ہے اور اپنی اصل جگہ پہنچ رہی ہے، مگر ناشپاتی ختم ہو چکی تھی۔ "اے طبیب، باقی ناشپاتی بھی ہمیں کھلا دو!"
تاکہ ہم مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں۔ عمر نے کہا ٹھیک ہے شہزادی فاطمہ صاحبہ، میں یہ آدھی ناشپاتی بھی آپ کو دے دوں گا مگر آپ کو ایک کام کرنا پڑے گا۔ شہزادی نے کہا، ہم ہر کام کرنے کو تیار ہیں۔ مگر پہلے ہماری ناک، آپ کی ناک بھی ٹھیک ہو جائے گی۔ آپ نے چند روز پہلے ایک شخص سے اس کا باجا چالاکی سے لے لیا تھا۔ پہلے وہ واپس کر دیں، پھر میں آپ کو یہ ناشپاتی بھی واپس کر دوں گا۔ شہزادی فاطمہ کو تو اپنی ناک کی پڑی تھی۔ چنانچہ اس نے باجا نکال کر عمر کو دے دیا۔ اور عمر نے بھی باقی آدھی ناشپاتی شہزادی فاطمہ کو کھلا دی۔ اب شہزادی...
فاتمہ کی ناک بالکل صحیح تھی۔ سلطان ہارون اس کے کام سے بہت خوش ہوا اور وعدے کے مطابق اسے آدھی سلطنت دینے لگا۔ تب عمر بولا، سلطان ہارون سلامت، میں ایک غریب اور ان پڑھ آدمی ہوں۔ مجھے سلطنت کا کچھ پتہ نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اپنی یہ سلطنت اپنے پاس ہی رکھیں اور مجھے یہاں سے جانے کی اجازت دیں۔ سلطان ہارون عمر کی بات سن کر بہت خوش ہوا۔ پھر بھی اس نے عمر کو اشرفیوں سے بھری کئی تھیلیں دیں اور عمر خوشی خوشی باجا اور تھیلیں لے کر اپنے گاؤں واپس چلا گیا۔ بہت عرصہ پہلے ملک عراق پر ایک مغرور سلطان رشید حکومت کرتا تھا۔
اگر کسی نے سلطان راشد کی شان میں ذرا بھی گستاخی کی تو سلطان راشد اس کا سر قلم کروا دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب لوگ سلطان راشد سے بہت ڈرتے تھے۔ اس سلطان راشد کی دو بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی کے یہاں تین بیٹے تھے۔ جب دوسری بیوی کو اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا تو سلطان راشد کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ وہ اندھا تھا۔ سلطان راشد چونکہ مغرور تھا، اپنی کسی چیز میں کوئی کمی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس لیے اس نے اپنے ایک خاص نوکر کو بلایا اور بچے کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا، یہ بچہ کسی کو دے دو۔ مگر۔۔۔
کسی کو بھی یہ پتہ نہ چلے کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ نوکر چپ چاپ بچے کو لے کر چلا گیا۔ سلطان رشید کے حکم پر سب کو یہی بتایا گیا کہ بچہ مردہ پیدا ہوا تھا۔ نوکر نے ماجور شہزادے کو ایک امیر آدمی کے حوالے کر دیا جس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اتفاق سے خدا نے اس امیر شخص کو بھی ایک بیٹے سے نوازا۔ اب اس کے دل سے شہزادہ یوسف کی قدر نکل گئی۔ اس کی بیوی ہر وقت اپنے بچے کا خیال رکھتی اور شہزادہ یوسف نوکروں کے سہارے پلتا رہا اور جب تھوڑا بڑا ہوا تو نوکروں نے بھی دھیان دینا چھوڑ دیا۔ شہزادہ یوسف کی…
سمجھ نہیں آتا تھا کہ اسے ہر وقت کیوں ڈانٹا جاتا ہے اور اس کے امی ابو اس سے محبت کیوں نہیں کرتے۔ ایک دن کسی بات پر ایک نوکر نے شہزادہ یوسف کو بہت مارا۔ شہزادہ یوسف تکلیف کی وجہ سے رونے لگا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ گھر چھوڑ کر چلا جائے۔ مگر وہ کہا جا سکتا تھا؟ پھر بھی وہ گِھبرا کر گھر کے دروازے کے باہر کھڑا ہو گیا۔ اتنے میں ایک فقیر آواز لگا رہا تھا اور اس کے پاس آیا۔ اسے اداس دیکھ کر فقیر نے ہمدردی سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑے ہو؟ شہزادے نے اپنے حالات بتائے تو فقیر بولا، "تم میرے ساتھ چلو، میں ایک حکیم کو جانتا ہوں۔"
وہ تمہاری آنکھیں ٹھیک کر دے گا۔ شہزادہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا۔ فقیر شہزادے کو اپنی جھونپڑی لے گیا جو آبادی سے کافی دور تھی۔ اگلے دن جب فقیر بھیگ مانگنے کے لیے جانے لگا تو اس نے کہا، "میرے ساتھ چلو۔" شہزادے نے کہا، "کیا آپ مجھے حکیم کے پاس لے جا رہے ہیں؟" فقیر بولا، "حکیم کے پاس جانے کے لیے ہمارے پاس پیسے کہاں؟ پہلے تم میرے ساتھ بھیگ مانگ کر پیسے جمع کرو۔ پھر میں تمہیں حکیم کے پاس لے جاؤں گا۔" مگر شہزادے نے بھیگ مانگنے سے انکار کر دیا۔ اس پر فقیر نے اسے ڈانٹا سنا دیا مگر شہزادہ...
بھیک مانگنے پر تیار نہیں ہوا۔ فقیر نے اس کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھ دیے اور خود بھیک مانگنے نکل گیا۔ وہ روز شہزادے کی رسی کھولتا، اسے تھوڑا سا کھانا دیتا اور پھر بھیک مانگنے پر مجبور کرتا۔ مگر شہزادہ اڑ جائے۔ ایک دن فقیر نے رسی اتنی سختی سے نہیں باندھی تھی۔ شہزادہ اگرچہ اندھا تھا، مگر اس کا ذہن بہت تیز تھا۔ اس نے کوشش کی اور رسی کھول لی، پھر جھونپڑی سے باہر آ گیا۔ پھر اسے ڈر لگا کہ کہیں فقیر واپس نہ آ جائے، اس لیے وہ دوڑنے لگا۔ دوڑتے دوڑتے اس کی ٹکر ایک درخت سے ہو گئی۔ اس کے سر پر بہت چوٹ آئی اور وہ بے ہوش ہو گیا۔
گر گر گیا۔ اتفاق سے ایک مداری وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس نے جو ایک بچے کو بےہوش پایا تو اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آیا۔ اس کے سر پر پٹی باندھی اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد شہزادے کو ہوش آ گیا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو حیران رہ گیا۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اسے ہر چیز دکھائی دینے لگی۔ شہزادہ بہت خوش ہوا کہ اب وہ دیکھ سکتا تھا۔ مداری نے بتایا کہ وہ اسے بےہوش دیکھ کر اپنے گھر لے آیا تھا۔ اب وہ جہاں چاہے جا سکتا ہے۔ شہزادے نے کہا، "میرا تو کوئی گھر نہیں ہے خدا کے لیے۔ آپ مجھے اپنے گھر میں جگہ دے دیں۔ میں آپ کا سارا..."
کام کر دیا کروں گا۔ مداری کو اس پر ترس آ گیا اور اس نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا۔ مداری کا اپنا بھی ایک بیٹا تھا جو بہت نکما اور سست تھا۔ وہ نہ تو پڑھتا تھا اور نہ ہی اپنے باپ کے کام میں ہاتھ بٹاتا تھا۔ شہزادے کو مداری کے کرتب بہت اچھے لگتے تھے۔ اس نے مداری سے کہا کہ اگر وہ اسے یہ کرتب سکھا دے تو وہ لوگوں کو دکھا کر اس کے لیے پیسے لائے گا۔ مداری نے سوچا کہ چلیں اس کا اپنا بیٹا تو کسی کام کا نہیں، اسی کو کام سکھا دیا جائے۔ چنانچہ اس نے شہزادے کو کرتب سکھانا شروع کر دیے۔ شہزادہ اپنی ذہانت کی وجہ سے جلد تمام کرتب سیکھ گیا اور لوگوں کو دکھانا شروع کر دیا۔
لوگ جب اتنے چھوٹے بچے کو کٹ کرتے تو بہت متاثر ہوتے اور زیادہ پیسے دیتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مداری کے دن بدل گئے اور شہزادے کے کرتبوں کی شہرت بادشاہ تک پہنچ گئی۔ سلطان رشید کو بھی شوق ہوا کہ وہ اس چھوٹے بچے کے کرتب دیکھے۔ بس پھر سلطان رشید نے اسے اپنے دربار میں بلایا۔ مداری یہ سن کر بہت خوش ہوا کہ سلطان نے اس کے بیٹے کو دربار میں بلایا ہے۔ سلطان رشید کے دربار میں نوکری ملنے کی امید پر وہ اپنے سگی بیٹے کو بھی شہزادے کے ساتھ محل لے گیا۔ شہزادے نے جب اپنے کرتب دکھائے تو سارا دربار آہ و فغاں کرنے لگا۔
سلطان راشد نے مداری سے پوچھا کہ اس نے اپنے بڑے بیٹے کو یہ کرتب کیوں نہیں سکھایا؟ تو مداری نے سلطان راشد کو سچ سچ بتا دیا کہ یہ چھوٹا لڑکا اس کا اپنا بیٹا نہیں ہے اور اس کا اپنا بیٹا نالائق اور سست ہے۔ سلطان راشد نے شہزادے سے کہا کہ وہ کون ہے اور اس کے ماں باپ کہاں ہیں۔ سلطان راشد کی بات سن کر شہزادے کی آنکھیں بھر آئیں اور اس نے اپنے سارے حالات بتا دیے کہ فلا عمر کا آدمی اندھا بیٹا ہے جو اپنے چھوٹے بیٹے سے محبت کرتا تھا مگر اسے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ پھر کیسے وہ فقیر کے ساتھ گیا اور کیسے فقیر...
وہ جھونپڑی سے فرار ہو کر مداری کے پاس پہنچا اور اس کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں۔ یہ ساری باتیں سن کر دربار میں کھڑا وہی نوکر سلطان رشید کے پاس آ کر بولا، سلطان سلامت، یہ آپ ہی کا بیٹا ہے۔ میں نے اسے اسی امیر شخص کو دیا تھا جس کا اس نے ذکر کیا تھا۔ سلطان رشید یہ سن کر بہت خوش ہوا اور بولا، اس دن سے میں بے چین تھا۔ میرا ضمیر مطمئن نہیں ہوتا تھا۔ مگر شرمندگی کے خیال سے شہزادے کو واپس نہیں بلاتا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ خود ہی میرے پاس آ گیا ہے۔ میرے بیٹے پر بہت ظلم ہوا ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج سے...
میں کسی پر ظلم نہیں کروں گا اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگنے کی کوشش کروں گا۔ سلطان راشد کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ اس نے اپنے پیارے دل کو سینے سے لگا لیا اور خدا سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگی۔ کہتے ہیں اس دن کے بعد وہ سلطان راشد بالکل بدل گیا اور انصاف کے ساتھ حکومت کرنے لگا۔ کہانی ختم ہوگئی۔ مگر دل ابھی بھی جادوی ساز اور لمبی ناک والی شہزادی کے ساتھ گھوم رہا ہے نا؟ اب جلدی بتاؤ۔ اگر تمہارے پاس عمر خالد جیسا ساز آ جائے تو سب سے پہلے تم کیا حکم دوں گے؟ جواب ضرور لکھو۔
mnweb