ماں کی اکیلی زندگی اور بہنوں کا پیار

یہ کہانی چار سال پرانی ہے، جب میں 24 سال کا تھا۔ میرے والد نے ماں کو ان کی بری عادتوں کی وجہ سے طلاق دے دی۔ ماں شہر کے کرائے کے مکان میں رہتی تھیں اور ہم چار بہنیں ہر روز ان سے فون پر بات کرتے تھے۔

ماں کی اکیلی زندگی اور بہنوں کا پیار
ماں کی اکیلی زندگی اور بہنوں کا پیار

یہ کہانی ہے چار سال پہلے کی جب میری عمر 24 سال تھی۔ میرے ابا نے میری ماں کو اس کی بری عادات کی وجہ سے طلاق دے دی تھی۔ میری ماں شہر میں کرائے کے ایک گھر میں رہتی تھی۔ ہم چار بہنیں تھیں اور ہمارا کوئی بھائی نہیں تھا۔ ابا ہمیں امی سے فون پر بات کرنے سے منع نہیں کرتے تھے۔ ہم چاروں بہنیں امی سے روز بات کیا کرتی تھیں۔ شہر میں امی اپنی مرزی سے زندگی گزار رہی تھی، نہ کوئی روک ٹوک تھی نہ کسی کا ڈر۔ جب میں امی سے فون پر بات کرتی تو وہ مجھے کہتی کہ تم چاروں بہنیں میرے گھر آ جاؤ، یہاں میں تم لوگوں کے سہارا ہوں۔

میں یہاں بہت اکیلی ہوں، گزار لوں گی۔ مجھے اپنی ماں پر بہت ترس آتا تھا اور ساتھ ہی ابو پر بھی بہت غصہ تھا کہ انہوں نے اپنی ماں کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے طلاق دے دی۔ لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری ماں کیسی عورت ہے۔ ایک دن میں نے ابو سے کہا کہ ہمیں کچھ دنوں کے لیے امی کے گھر چھوڑ آؤ۔ جیسے ہی ابو نے یہ بات سنی، وہ ہمیں مارنے پیٹنے لگے اور امی سے فون پر بات کروانا بھی بند کر دیا۔ ہمارا گھر سے باہر نکلنا بھی ختم ہو گیا۔ ہم ابو کی ان پابندیوں سے بہت تنگ آ چکے تھے۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ جیسے ہی موقع ملا، میں...

اپنی بہنوں کو لے کر امی کے پاس چلی جاؤں گی اور ایک دن موقع ملتے ہی میں شہر آ گئی۔ ایک رات تقریباً 2 بجے کے قریب میری آنکھ کھلی، دوسرے کمرے سے مجھے کچھ آوازیں آئیں۔ میں نے اس کمرے کی کھڑکی سے اندر جھانکا تو میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔ کمرے میں میری ماں کے ساتھ دو آدمی تھے۔ میری ماں کبھی ایک کے پاس جاتی تو کبھی دوسرے کے پاس۔ وہ دونوں اپنا کام کر کے میری ماں کو چھوڑ دیتے۔ کافی دیر تک میں یہ سب دیکھتی رہی۔ جب وہ تینوں کپڑے پہننے لگے تو میں اپنی چارپائی پر آ کر لیٹ گئی۔ صبح میں نے اپنی ماں سے...

ذکر تک نہ کیا، دو دن گزر چکے تھے۔ میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ اس رات کون لوگ گئے تھے۔ میری ماں سمجھ گئی تھی کہ مجھے سب کچھ پتہ چل چکا ہے، تو اس نے کہا، "میری پیاری بیٹی، اس کام میں بہت مزہ ہے اور پیسے بھی بہت ہیں۔ بغیر محنت اور مشقت کے پیسے آ جاتے ہیں اور ہم دو وقت کی روٹی کھا لیتے ہیں۔" خیر، میں سمجھ چکی تھی کہ میری ماں کو ابو نے طلاق کیوں دی۔ دو تین مہینے میں نے امی کا یہ کام دیکھا۔ ایک رات ایک لڑکا آیا امی کے پاس، جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے امی سے کہا کہ "میں تمہیں اس سے دگنی رقم دوں گا، اپنی بیٹی کو میرے ساتھ ایک... "

رات گزارنے دو، میری امی بھی لالچی تھی، اس نے مجھے کمرے میں بھیج دیا۔ اس لڑکے نے مجھ سے کپڑے اتارنے کو کہا، جب میں نے انکار کیا تو اس نے زبردستی میرے کپڑے اتار دیے اور میرے جسم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔ شروع میں مجھے بہت درد ہوا، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، مجھے مزہ آنے لگا۔ جاتے ہوئے اس لڑکے نے میرے ہاتھ میں بہت سارے پیسے تھما دیے اور کہا کہ کل پھر ملاقات ہوگی۔ ساتھ ہی اس نے کہا کہ میرے علاوہ کسی اور کے قریب مت جانا، جتنے پیسے چاہو بتا دینا۔ اگلے دن وہ پھر آ گیا۔ اب میں اپنی کنواری پن کھو چکی تھی۔ میں نے کوئی انکار نہیں کیا۔

نہیں کہا اور اس کے ساتھ کمرے میں چلی گئی۔ یوں دو مہینے گزر گئے، وہ ہفتے میں دو تین بار مجھے ملنے آتا تھا اور ہر بار جاتے ہوئے وہ مجھ سے یہی الفاظ کہتا تھا کہ کسی اور کے قریب مت جانا۔ تقریباً دو ہفتے گزر گئے اور لڑکا مجھے ملنے نہیں آیا۔ اب میرا صبر ختم ہو رہا تھا۔ میں کسی بھی طرح اپنی پیاس بجھانا چاہتی تھی، اپنے وجود میں لگی آگ کو سرد کرنا چاہتی تھی، لیکن مجھے بار بار عامش کی بات یاد آ جاتی تھی کہ میرے علاوہ کسی اور کے قریب مت جانا، اور میں رک جاتی تھی۔ لیکن اب مزید میں اس کا انتظار نہیں کر سکتی تھی اور ایک رات میں...

اپنی پیاس بجھانے کے لیے دوسرے لڑکے کے ساتھ کمرے میں چلی گئی۔ اگلی رات وہ عام ہمارے گھر آ گیا۔ میں بہت ڈری ہوئی تھی کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ عامش کو معلوم ہو جائے گا۔ اُس رات عامش نے میری گردن چوما، میرے بال پیچھے کیے تو اسے وہاں نشان نظر آ گئے اور وہ سب سمجھ گیا۔ جب اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے انکار کر دیا اور اسی طرح بحث چلتی رہی۔ عامش نے غصے میں دروازے پر ہاتھ مارا اور چلا گیا۔ وقت گزرتا گیا اور میں نئے نئے لوگوں سے ملتی رہی۔ پیسوں کی لالچ نے مجھے اندھا کر دیا تھا۔ میں نے اپنا موبائل لے لیا اور ہم نے۔۔۔

اپنا گھر بھی بدل دیا تھا ایک دن ایک لڑکے نے مجھے میسج کیا، میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ روز مجھے میسج کرتا رہا۔ ایک دن میں تنگ آ کر پوچھا، "تمہیں کیا چاہیے؟" تو جواب ملا، "دوستی۔" میں اس لڑکے کے ساتھ روز باتیں کرنے لگی۔ وہ پہلا لڑکا تھا جس کے لیے میرا دل دھڑکا۔ میں اسے اپنے گھر آنے کو کہتی تھی تو وہ انکار کر دیتا تھا اور کہتا تھا، "پہلے تم آؤ مجھے ملنے۔" میں بھی اتنی اندھی ہو چکی تھی کہ کہا، "ٹھیک ہے۔" کچھ دنوں بعد میں اسے ملنے کے لیے تیار ہوئی۔ جب جانے لگی تو موبائل پر میسج کی گھنٹی بجی۔ میں نے وہ میسج پڑھا تو میرے پاؤں...

زمین تلے سے نکل گئی۔ اُس میسج میں لکھا تھا کہ خدا کے واسطے تم زبیر سے ملنے مت جانا، وہ تم سے محبت نہیں کرتا بلکہ عامیش کا بدلہ لینا چاہتا ہے کیونکہ وہ عامیش کا دوست ہے۔ وہ تمہیں یہاں بلا کر بہت سے لڑکوں کی خوراک بنانا چاہتا ہے۔ میری بھی بہنیں ہیں اور میرے لیے تم بھی میری بہنوں جیسی ہو، اور بھائی بہن کی عزت کے محافظ ہوتے ہیں۔ جب میں نے وہ میسج پڑھا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ میسج پڑھ کر، نہ جانے میرے دل کو کیا ہو گیا تھا، میں مسلسل رو رہی تھی اور اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہی تھی۔ میں نے اپنے...

میں نے گناہوں سے توبہ کر لی تھی۔ میں بہت پچھتاتی رہی کہ میں نے اپنے ابو کا گھر کیوں چھوڑ دیا، وہ ابو جس نے ہماری عزت کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ میں نے ابو سے معافی مانگی اور کہا کہ وہ ہمیں یہاں سے لے جائے۔ میں نے اپنی ماں کو کچھ نہیں بتایا ورنہ وہ ہمیں کبھی گاؤں واپس آنے نہ دیتی۔ اگلے دن ابو آئے اور ہم چار بہنوں کو لے کر گاؤں واپس چلے گئے۔ کچھ عرصے بعد میری شادی ہو گئی۔ جب بھی میں نماز پڑھتی ہوں، میرے دل سے سب سے پہلے اس لڑکے کے لیے دعا نکلتی ہے جس نے مجھے میسج کیا تھا۔ میں نے اپنی دعاؤں میں ہمیشہ اس کا خیال رکھا۔

میں نے اسی طرح کا بیٹا مانگا تھا اور اللہ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔ آج میں اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہی ہوں۔