ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتایا کرتا تھا۔

ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتایا کرتا تھا اور پھر اسی وقت پر موت ہو جاتی تھی۔ مکمل کہانی کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتایا کرتا تھا۔
ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتایا کرتا تھا۔

 بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد سلطان کچھ پل کے لیے بلکل خاموش ہو کر بیٹھ گئے تھے ورنہ عموماً عشاء کی نماز کے بعد وہ سیدھا اپنی خوابگاہ میں جاتے تھے اور اپنی زوجہ کے ہمراہ ایک اچھا وقت گزارتے تھے لیکن آج ان کا دل بے وجہ ہی اداس ہو رہا تھا اور عموماً ایسا تب ہی ہوتا تھا

 جب کوئی مصیبت ان پر آنی ہوتی تھی انہیں آج اپنے بابا کی شدت سے یاد آ رہی تھی ان کے انتقال کو کافی عرصہ بیٹھ گیا تھا لیکن آج بھی جب وہ ان کو یاد کرتے تھے تو ان کی آنکھوں سے عشق روان ہو جاتے تھے ابھی بھی ان کی آنکھیں نم ہو رہی تھی انہوں نے ایک گہری سانس ہوا کی سپردگی اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر اپنے بابا کا نام لیا۔

 کافی دیر وہ اپنی آنکھیں بند کیے انہیں محسوس کرنے لگے لیکن آج انہیں چین نہیں مل رہا تھا وہ خاموشی سے اپنے لگا سے کھڑے ہوئے اور سیدھا خوابگاہ کے جانب چل پڑے وہ جیسے ہی ہجڑے سے باہر آئے تو ان کے دونوں سپاہیوں نے جھک کر انہیں سلام پیش کیا جس کا جواب انہوں نے بہت ہی شائستہ انداز میں دیا تھا

 وہ کتنے ہی بڑے دکھ میں کیوں نہ مبتلا ہوں کسی بھی شخص کو نظر انداز نہیں کرتے تھے اور خاص کر کے سلام کرنے والے کو تو ہرگز نہیں وہ سلام کا جواب دے کر جیسے ہی اپنی خوابگاہ کی جانب بڑے تو ان کی حفاظت پر معمور وہ دونے سپاہی ان کے پیچھے چلنے لگے جس کو سلطان نے ہاتھ کے اشارت سے ٹھہرنے کا حکم دیا تھا وہ چلتے ہوئے اپنی خوابگاہ کے پاس آئے تھے جہاں پر مزید دو سپاہی کھڑے ہوئے تھے

 وہ ابھی خوابگاہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے کہ یک دم ہی ان کا دل ہر چیز سے اچارٹ ہو گیا تھا انہیں سانس لینے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی ان کے سپاہی ان کو تھامنے لگے لیکن سلطان نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں بھی روک دیا اب ان کے قدم محل کے چھت کے جانب بڑھے تھے ان کے پیچھے ان کے سپاہی آنا چاہتے تھے کیونکہ انہیں سلطان کی طبیعت ناساز لگ رہی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا

 اور لمبے لمبے ڈنگ بھرتے ہوئے محل کے چھت پر پہنچ رکھے تھے ہر طرف سناٹا ہی سناٹا ہو رہا تھا سلطان کی ریایہ عشاء کی ازان ہونے کے بعد اپنے گھروں میں جا کر سو جایا کرتی تھی اور فجر کی نماز سے اپنے کام وغیرہ کی ابتدا کرتی تھی سلطان ایک تائرانہ نگاہ اپنی پوری ریایہ کی بستی پر ڈال رہے تھے

 ہر طرف اندھیرے کا بسی رہا تھا سوال سلطان کے محل کے صرف وہیں اجالہ ہو رہا تھا وہ اندھیرہ کرنے کے قائل نہیں تھے ہر طرف ہی چراغہ رکھتے تھے انہوں نے آسمان کے جانب دیکھا اور دو موتی آنکھوں سے ٹوٹ کر بکھرے وہ یک دم ہی شدت جذبات سے بولے بابا جان آپ کہاں چلے گے

 آپ کی ہمیں بہت یاد آ رہی ہے ہمیں معلوم ہے ہم سب سنبھار سکتے ہیں ہر رشتہ ہر ذمہ داری لیکن آپ کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی آپ ہمیں بہت یاد آ رہی ہیں کاش کہ آپ واپس آ جاتے اور ہم آپ سے ملاقات کر لے تھے وہ کافی دیر تک اپنی محل کے چھت پر کھڑے ہو کر اپنے بابا سے رازو نیاز کرتے رہے تھے

 اور پھر اپنے آنسو ساف کر کے نیچے آگے تھے خوابکہ میں ان کی زوجہ ان کے انتظار میں تھی کیونکہ سلطان ہمیشہ اس وقت خوابکہ چلے جاتے تھے تھوڑی دیر بعد اپنی زوجہ کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد وہ آرام کرتے تھے لیکن کافی وقت گزر گیا تھا سلطان جیسے ہی نیچے آئے تو سپاہی نے ان کی زوجہ کا پیغام ان تک پہنچایا تھا

 لیکن وہ سپاہی کو محض یہ بول کر آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ تھوڑی دیر تک آتے ہیں وہ سیدھا محل کے پچھلے حصے کی جارب آئے تھے جہاں پر کئی سپاہی محل کی فاظت پر تائنات تھے سلطان نے سب کو ہی جانے کا اشارہ کر دیا تھا اور وزیر کو بلانے کا حکم دیا تھا ان کا دل اب کسی شخص سے بات کرنے کو چاہ رہا تھا جو ان کے جذبات اور احساسات کو سمجھ سکے اور سلطان کو اپنے وزیر سے زیادہ کوئی اس قابل لگا ہی نہیں تھ

 ان کے حکم کی فوراں ہی پیروی کی گئی تھی اور وزیر پریشان سا ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوا تھا اس کے چہرے سے ہی معلوم ہو رہا تھا کہ وہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے لیکن کیا اس بات سے سلطان ناواقف تھے وزیر مہد سلطان کو سلام کر کے خاموش ہو چکا تھا حالانکہ وہ ہمیشہ جب بھی سلطان سے ملتا تھا تو کئی باتیں کرتا تھا لیکن آج اس کے لبوں پر سوائے سلام کے اور کچھ ادا نہیں ہوا تھا

 سلطان جان چکے تھے کہ ان کا وزیر کسی مصیبت میں مبتلا ہے وہ ان کی جانب دیکھتے ہوئے بولے وزیر محترم سب خیریت ہے آپ ہمیں کافی پریشان نظر آ رہے ہیں کوئی مسئلہ درپیش آگے ہے کیا جبکہ وزیر فوراں ہی ہربڑا کر سلطان کے جانب متوجہ ہوا تھا اور بے ساختہ بولا نہیں سلطان معظم ایسی کوئی بات نہیں ہے سب خیریت ہے آپ بتائیں آپ نے ہمیں کیوں یاد فرمایا جبکہ سلطان سرنفی میں ہلاتے ہوئے بولے آپ جانتے ہیں نا

 ہم آپ کا چہرہ دیکھا پہچان سکتے ہیں کہ آپ کیا محسوس کر رہی ہے ہمیں بتائیں کیا ہوا ہے آپ صبح سے غائب ہیں جب سے دربار کا اختتام ہوا ہے اور یقینا کوئی بڑا مسئلہ ہی ہے ورنہ آپ اور اس طرح غائب ہو جائیں یہ بات ہمیں حضم نہیں ہو رہی وہ جو کافی دیر سے اداس تھے ان کا دل بے چین تھا انہوں نے اپنی تمام پریشانی ایک طرف رکھتی تھی وہ ایسے ہی تھے دوسروں کے دکھ میں اپنا دکھ بھول جاتے تھے

 دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف میں حسوس کرتے تھے ان کا دل ہر درجہ نرم تھا دشمن کے ساتھ وہ ایک الگ سلطان ہوتے تھے اور اپنوں کے ساتھ تو ان کا رویہ ہی بلکل الگ ہوتا تھا وزیر سلطان کے جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا سلطان معظم بہت بڑا مسئلہ پیش آ چکا ہے

 جس کے بارے میں آپ کو کچھ معلوم نہیں اور اگر آج ہم باہر نہ جاتے تو کبھی ہمیں اس بات کا علم ہی نہ ہوتا معاملہ ہم سے وبستہ نہیں ہے بلکہ ہماری ریایہ سے وبستہ ہے جبکہ سلطان فوراں ہی چکننا ہوئے تھے وزیر مزید بولا سلطان معظم آج ہم ایک کام کے سلسلے میں کچھی عبادی کے جانب گئے تھے وہاں پر ہم نے قدر کونے میں ایک بہت بڑا حجوم دیکھا

 ہم کافی پریشان ہو گئے ہمیں لگا کوئی مسئلہ پیش آ چکا ہے یا پھر کسی کے لڑائی ہو گی ہے اس لیے جلد سے جلد بھاگ کر وہاں پہنچے لیکن وہاں جاتے ہی ہم حیران رہے کہ ہماری ریایہ گمراہی کی جارب غامصن ہو رہی ہے ریایہ میں ایک نجومی شخص آیا ہے اس نے اپنا ایک ہجرہ بنایا ہوا ہے جہاں پر لوگ آتے ہیں اور اپنی موت کا حال جانتے ہیں جبکہ سلطان کے ماتے پر شکن پڑنے لگے تھے

 وزیر مزید بولا سلطان معظم وہ شخص ہر آدمی کا ہاتھ دیکھتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ تم اس وقت تک مر جاؤ گے تمہاری مدت اتنی ہے ہمیں یہ سب کچھ جھوٹ لگا ہم سمجھے کہ یہ جھوٹ ہے اس لیے ہم وہاں سے چلے گئے پوچھ تاج کرنا بھی ہم نے ضروری نہیں سمجھا ہم جس کام کے سلسلے میں کچھی عبادی کی طرف گئے تھے ہمارا وہ کام جلدی ہی مکمل ہو گیا

 اور جب ہم واپس آنے لگے تو ایک بوڑی عورت کو دیکھا جو اپنے دروازے پر بیٹھی زار و قطار روتے ہوئے سر پیٹ رہی تھی ہم حیران ہو گئے کہ ایسا کیا ہوا ہے ہم فوراں اس کے پاس گئے اور اسے اپنا تعرف کروانے کے بعد اس کا مسئلہ پوچھا جبکہ وہ عورت ہمیں دیکھتے ہی مزید زور سے رونے لگی اور کہنے لگی ہم تو برباد ہو گئے ہمارا سب کچھ لٹ گیا ہمارا کیا بنے گا جبکہ ہمیں اس کی بات کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی

 وہ عورت مرتے روتے مزید بتانے لگی آج میرا بیٹا اس نجومی کے پاس گیا تھا جو لوگوں کو موت کے حوالے سے خبردار کر رہا ہے میرے بیٹے کا ہاتھ دیکھ کر اس نے بتایا کہ وہ ایک ہفتے بعد مر جائے گا میرا بیٹا بہت رو رہا ہے اور ہلکان ہو چکا ہے اس نے جینے کی امید چھوڑ دی ہے وہ بول رہا ہے کہ وہ ایک ہفتے بعد مرنے کی بجائے آج ہی خود کو ختم کر لے گا

 اس لیے وہ بڑے دربار کی جانب چلا گیا ہے اس کا کہنا ہے کہ وہ وہاں جا کر خودکشی کر لے گا میرا اکلوتا بیٹا زندگی کی بازی ہارنے جا رہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا میری مدد کیجئے میں فوراں وہاں بھاگ کر پہنچا اس بوری عورت کے کہنے کے مطابق وہ واقعی کودنے لگا تھا

 اگر خدا نہ خواستہ میں وقت پر وہاں نہ پہنچتا تو وہ شخص آبدیدہ ہو کر دریان میں چھلانگ لگا دیتا میں نے فوراں ہی اس کو قابو کیا اور اس کے گھر پہنچا دیا اور اس کو راستے بھر سمجھایا بھی تاں کہ وہ دوبارہ یہ گلتی نہ کر سکے لیکن اس کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اس لیے ہم نے اس پر سختی کر دی اور ساتھ میں اپنے دو سپاہی بھی اس کے حفاظت پر معامور کر دی ہیں سلطان معظم مسئلہ بہت کمبیر ہوتا جا رہا ہے وہ نجومی شخص سچ کہتا

 ہمیں یہ نہیں معلوم لیکن وہ لوگوں میں گمراہی پیدا کر رہا ہے سب کو لگتا ہے جو وہ بولے گا سچ ہو جائے گا جبکہ لوگ اس بات کو اب دیرے دیرے فراموش کرتے جا رہے ہیں کہ غیب کا علم اللہ اور اس کے رسول کے پاس ہے اور کسی کے پاس نہیں جبکہ سلطان کے ماتے پر شکن پڑ چکے تھے

 وہ وزیر کے جانب دیکھتے ہوئے بولے یہ نجوبی کب ہماری ریایہ میں آیا اور ہمیں اس کے بارے میں ابھی تک اطلاع کیوں نہیں کی گئی جبکہ وزیر کہنے لگا سلطان مرزم ہمیں بھی اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا اگر آج ہم کچھی عبادت کی جانب نہیں جاتے تو آج بھی ہمیں اس بندے کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوتا اور ہم لوگ اپنی ریایہ کا ایک شخص آج کھو دیتے سلطان نے یہ سنا تو گزے سے گرجے تمام جاسوس کہاں پر ہیں وہ لوگ اتنی بڑی اطلاع

 جبکہ وزیر خاموش ہو رہا تھا وہ خود یہی باتیں سوچ رہا تھا انہوں نے فورا ہی حکم دیا جتنے بھی جاسوس اب تک ریایہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور خاص کر کے کچھی عبادی کی جانب جتنے بھی جاسوس ہیں ان سب کو مخصوص کمرے میں بلائی جائے کل ہم ان سے ایک تفصیلی ملاقات کر کے پتا کریں گے کہ آخر وہ لوگ اپنا کام دھنگ سے انجام کیوں نہیں دے رہی ہیں

 جبکہ وزیر سر جھکا چکا تھا جس کا مطلب تھا کہ جو حکم باشا سلامت سلطان نے وزیر کے جانب دیکھا اور کہنے لگے مسئلہ تو واقعی بہت کمبیر ہے لوگوں کے دلوں پر سے اللہ تعالیٰ کا اعتبار اٹھتا چلا جائے گا اگر یہ شخص ہاتھ کی لگیروں سے لوگوں کا مستقبل بتا رہا ہے تو ہمیں اسے روکنا پڑے گا

 جہاں تک ہمیں لگتا ہے کچھ تو گربر ضرور ہے کوئی شخص اتنی آسانی سے موت کا حال کیسے بتا سکتا ہے جبکہ وزیر خاموشی سے سلطان کو سن رہا تھا سلطان ایک گہری سوچ میں مبتلا ہو چکے تھے وزیر سلطان کے جانب دیکھتے ہوئے بولا محفی چاہتا ہوں

 سلطان معظم آپ کی سوچ میں خلل پیدا کر رہا ہوں وہ پوچھنا دراصل یہ تھا کہ آپ نے ہمیں کسی بات کی وجہ سے یاد کیا تھا وہ فرما دے تاں کہ ہم اس کا حل نکال سکے جبکہ سلطان سرنفی میں ہلاتے ہوئے اپنی لگا سے کھڑے ہو گئے اور ان کی جانب دیکھتے ہوئے بولے نہیں بس ہمارا دل تھوڑا پریشان ہو رہا تھا شاید یہی وجہ تھی شکر اللہ کا کہ یہ مسئلہ ہماری آنکھوں کے سامنے جلد آ گیا

 ہم اپنی خوابگاہ میں آرام کے لیے جا رہے ہیں آپ بھی آرام کریں صبح اس معاملے کی چھان بین کر کے اس نجومی سے ملاقات کرتے ہیں اور اس کو یہ کرنے سے باز رکھتے ہیں وہ یہ بول کر محل کے اندر چلے گئے تھے جبکہ وزیر بھی اپنے ہجرے میں چلا گیا تھا سلطان سیدھا اپنی خوابگاہ میں آئے تھے وہ اندر داخل ہوئے تو سامنے ہی ان کی زوجہ کافی پریشان سی بیٹی ہوئی تھی انہیں دیکھتے ہی فورا ان کے قریب آئی اور ان کے سینے پر ہاتھ رکھ

 سلطان معظم سب خیریت تو ہے۔ سپاہی بتا رہے تھے کہ آپ کی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔ آپ کو سانس رہنے میں دشواری محسوس ہو رہی تھی۔ ہم تو آپ کے پیچھے آنا چاہتے تھے لیکن ان لوگوں نے ہمیں منع کر دیا کہ سلطان کسی کو بھی پیچھے آنے سے منع کر گئی ہیں۔

 آپ بتائیں نا آپ ٹھیک ہیں ان کی زوجہ یک دم ہی پریشان ہوگی تھی اور ان کی فکر میں گھلتی ہوئی بولی انہوں نے اپنی زوجہ کے گال پر ہاتھ رکھا اور پیار بھرے لہجے میں بولے متائے جان ہم بلکل ٹھیک ہیں میری آنکھوں کی دھنڈک آئیے بستر پر بیٹھ جائیں

 جبکہ وہ فوراں ہی سرنفی میں ہلاتے ہوئے بولی نہیں سرتاج کچھ تو مسئلہ ہے آپ بتائیں ہمیں کیا ہوا ہے ہمیں بہت پریشانی ہو رہی ہے اللہ آپ کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھے جبکہ سلطان ان کی فکر مندی پر دھیما سا مسکرائے اور انہیں اپنے ساتھ لگاتے ہوئے مسحری تک لے آئے

 اور انہیں اپنے برابر میں بٹھاتے ہوئے بولے متائے جاؤ ہم بلکل ٹھیک ہیں آپ اتنی زیادہ حرکان مت ہوا کریں ہمیں پریشانی ہوتی ہے نازک سی جان ہے بیمار ہو جائیں گی اور آپ جانتی ہیں نا آپ کی بیماری اور آپ کی پریشانی ہم سے دیکھی نہیں جاتی۔

 جبکہ وہ اپنے شوہر کے سینے سے لگ گئی تھی اور ان کے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی یاد رکھنا سلطان موزم آپ کے بغیر ہم ادھورے ہیں خدا نے اگر آپ کے ساتھ کچھ کیا تو اگلے ہی پل ہماری جان بھی نکل جائے گی بس ہمارے خاطر اپنا خیال رکھا کریں

 آپ کی ریایہ کو اور ہمیں آپ کی بہت ضرورت ہے اللہ پاک آپ کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے وہ کافی عابدیدہ ہوگی تھی جبکہ سلطان انہیں اپنی سینے میں بھینجتے ہوئے بولے ارے بیگم اتنا پریشان کیوں ہوتی ہیں آپ کے بادشاہ کو کچھ نہیں ہوگا بے فکر رہیں اللہ تعالیٰ کا ہم پر خاص کرم ہے اور انشاءاللہ وہ ہماری صحت کا بھی خیال رکھیں گے وہ انہیں بول کر اپنے برابر میں لٹا چکے تھے اور ان کے قریب تر ہوگے تھے

 چند ہی پل میں وہ دونوں میاں بیوی نیند کی آگوش میں جا چکے تھے ساری فکر بھلائے سلطان جب بھی اپنی زوجہ کے قریب جاتے تھے تو انہیں اپنی ہر پریشانی ختم ہوتی ہوئی محسوس ہوتی تھی آج بھی ایسا ہی ہوا تھا لیکن وہ کل کی حقیقت سے نہ واقع تھے انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔

 وہ جو ابھی ہم مسکرارہے تھے انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ کل ان کی آنکھوں میں آنسو آنے والی ہیں اور ان کی زوجہ جو بار بار ان کی صحت کے لیے فکر مند ہو رہی تھی کل ان کی جان نکلنے والی ہے ان کی آنکھ تحجد کے وقت کھلی تھی ابھی تک ان کی زوجہ کو اپنے شوہر کی آگوش میں گہری اور پرسکون نیند سو رہی تھی انہوں نے ان کے ماتھے پر ایک محبت برابوسہ دیا۔

 اور انہیں تحجد کی نماز کے لیے جگا کر اپنے حجرے میں چلے گئے وہاں انہوں نے نماز ادا کی اور اس کے بعد اپنے نوافل پڑھنے لگے جو روز رات کو وہ پڑھ کر اپنی ریایہ کے لیے دعا مانگتے تھے آج بھی انہوں نے اپنی ریایہ کی صحتیابی اور ہر برائی سے بچنے کی دعا مانگی تھی

 اور خاص کر کے اپنی زوجہ کی زندگی مانگی تھی لیکن ان سب چیزوں میں وہ اپنی زندگی مانگنا بھول چکے تھے کافی دیر تک وہ اللہ تعالیٰ کی عبارت میں ہی سجدہ ریز رہے تھے فجر کی اعزان کے بعد وہ اپنی خوابگاہ میں آ کر ایک بار پھر نیم دراز ہو گئے تھے سورج طلوع آفتاب ہوتے ہی ان کی آنکھ کھل چکی تھی خوابگاہ پر ایک تارائنہ نکار ڈالی تو ان کی زوجہ وہاں موجود نہیں تھی یقیناً وہ ناشتے کا انتظام کرنے کے لیے گ

 حالانکہ وہ اس محل کی ملکہ تھی سلطان کی زوجہ تھی لیکن وہ اپنے شوہر کے ہر کام کو اپنے ہاتھوں سے کرنے کی عادی تھی وہ کبھی بھی اپنے شوہر کا کام کسی بھی کنیز یا ملازم پر نہیں ڈالتی تھی ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شریک حیات کا ہر ایک ایک کام اپنے ہاتھ سے کریں گی وہ بیوی ہیں اور ان پر یہ کام فرض ہیں جبکہ سلطان مسکرا دیا کرتے تھے انہوں نے فورا ہی گسل لیا

 اور شاہی لباس زبطن کر کے کھانے والے کمرے میں آگے وہاں پر ایک بڑا شاہی دستر خان سجا ہوا تھا وہاں پر ہر قسم کے کھانے موجود تھے سلطان سربراہی جگہ پر بیٹھ کے تھے ان کا پورا خاندان ہی وہاں موجود تھا سب نے کچھ گوار ماحول میں ناشتہ تناول کیا تھا اور پھر سلطان اپنی زوجہ سے مل کر دربار کے جارب غامزن ہو گئے تھے ان کے ساتھ ہی ان کا وزیر بھی موجود تھا سلطان اور وزیر جیسے ہی دربار میں داخل ہوئے تو سب نے ان کے

 ایک طرف کو تمام درباری بیٹھے ہوئے تھے جبکہ دوسری جارب تمام مشیر اور معزز ہستیاں بیٹھی تھی سلطان کو دیکھتے ہی سب نے آداب سے سلام پیش کیا تھا جس کا جواب انہوں نے بہت ہی شائستہ انداز میں دیا اور ایک شان سے چلتے ہوئے اپنی نشست پر بھرا جمان ہو گئے

 ان کے تخت کے دائیں بائیں جانب دو درباری پنکہ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے اس سلطان کو اس کی مدد سے ہوا دے رہی تھے ان کے دائیں جانب ان کا وزیر بھی عدب سے ہاتھ باندھے کھڑا تھا جبکہ تھوڑا نیچے ان کے قاضی کا تخت بھی لگا ہوا تھا تھوڑی دیر بعد ہی دربار کا آغاز کر دیا گیا تھا

 رات پہ اپنی خوابگاہ میں جانے سے پہلے انہوں نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا تھا کہ اس نجومی تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ صبح ہوتے ہی وہ دربار میں حاضر ہو جائے سلطان اس سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس کا علم وزیر کو نہیں تھا انہوں نے یہ کام بہت اچانک کیا تھا وزیر سمجھا تھا کہ سلطان ایک پورا منصوبہ بنائیں گے اس کے بعد اس کی چھانبین کی جائے گی لیکن اچانک سے اس شخص کا محل میں حاضر ہونا

 وزیر کو حیران کر گیا تھا پہلی سنوائی ہی سلطان نے اس شخص کی رکھی تھی وہ نجمی کالے لباس میں موجود تھا لمبے بال جو کندے سے نیچے تک آ رہے تھے ہاتھ میں ایک بے ساکھی تھام رکھی تھی اور چہرے پر ایک عجیب فٹکار تھی سلطان کو ایک پل اسے دیکھ کر کسی شیطان کا غمان ہوا تھا لیکن انہوں نے اپنے مو سے ایک لفظ ادا نہیں کیا تھا

 وہ خاموشی سے سلطان کے سامنے کھڑا ہوا تھا آج تک جتنے بھی دربار میں لوگ آئے تھے وہ دشمن ہو یا دوست آتے ہی سلطان کو سلام پیش کرتے تھے لیکن اس شخص نے سلطان کو سلام نہیں کیا تھا بلکہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے سلطان کو گھو رہا تھا

 سلطان نے کچھ پل انتظار کیا جب اس کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں آیا تو پھر وہی بلند آواز میں اسے سلام کر چکے تھے جس کا جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا تھا لیکن اس چیز کا سلطان نے بلکل برا نہیں منایا تھا وہ اس شخص کی جانب دیکھتے ہوئے بولے اے بڑے شخص ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تم ریایہ میں گمراہی پھیلا رہی ہو لوگ تمہاری وجہ سے جنہیں کی امید چھوڑ رہی ہیں تم ہاتھ دے کر لوگوں کے موت کا وقت بتا دیتے ہو

 کیا یہ تمہیں زیب دیتا ہے کیا تم نہیں جانتے غیب کا علم اللہ کے بعد ان کے رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہے اور پھر تم کون ہوتے ہو اس کام میں مداخلت کرنے والے جبکہ وہ شخص سلطان کے جارب دیکھتے ہوئے بولا ہاں میں ہاتھ دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ کون کب مرنے والا ہے اور اس میں غیب کا علم کہاں سے آگیا مجھے ہاتھ کی لگیریں پڑھنا آتی ہیں

 اور یہی میری روزی روٹی ہے آپ نے مجھے اس وقت کیوں بلایا ہے یہ میرے کام کا وقت ہے بہت سے لوگ میرے ہجرے کے باہر کھڑے ہوئے ہیں مجھے واپس جانا ہوگا اجازت چاہیے وہ آدمی کافی کڑک لہجے میں بولا تھا اس کا انداز بہت ہی حکیرانہ تھا سلطان کے ماتھے پر یک دم ہی بل پڑ گئے تھے وہ کچھ کہتے اس سے پہلے ہی دو سپائی اس کو بندی بنا چکے تھے جبکہ سلطان نے فورا ہی اشارت سے منع کیا تھا کہ ہمیں برا نہیں لگا ہے

 وہ شخص ان دونوں سپاہیوں کو گھورنے لگا جبکہ سلطان اس آدمی کو فوراں ہی اپنی جارے متوجہ کر چکے تھے چلو ٹھیک ہے تمہارے کام کا وقت ہے اور ہم نے تمہیں یہاں بلا لیا اس کے لیے ہم معافی چاہتے ہیں دراصل بات کچھ اور ہے یہ تو حقیقت ہے کہ تم گلت کام کر رہے ہو لیکن میرے دل میں بھی یہ خواہش ہے کہ مجھے معلوم ہو کہ میں کب مروں گا کیا تم میرے ہاتھ دیکھ کر یہ بتا سکتے ہو یہ بات کہنی کی دیر تھی کہ پورے دربار میں سناٹا چھا گیا تھا

 جبکہ وزیر کے چہرے پر بھی تاریخی چاہ گئی تھی وہ سلطان کو منع کرنا چاہتا تھا وہ کبھی بھی اپنے کان سے یہ نہیں سن سکتا تھا کہ سلطان اس وقت تک مر جائیں گے جبکہ یہی حال دربار میں موجود ایک ایک شخص کا تھا یہ نے جمعی کافی مشہور ہو چکا تھا

 سب کا یہی کہنا تھا کہ جو یہ بولتا ہے وہ ہو جاتا ہے وہ نجومی فوراں ہی بولا بلکل لیکن ہمیں اس کی اجرت چاہیے سلطان نے فوراں کہا تھا جو آپ کی اجرت ہوگی اس سے ہم زیادہ دیں گے اگر آپ کی رضا مندی ہے تو ہمارا ہاتھ دیکھ لیں وہ اپنا ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولے جبکہ وہ شخص بیساکی کی مدد سے سلطان کی نشست کے قریب جانے لگا تھا

 وزیر یک دم ہی چیخ پڑا رک جاؤ وہیں کوئی ضرورت نہیں ہے میرے سلطان کے پاس آنے کی آپ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے اس کے لہجے میں ڈر کی آمیزش تھی جبکہ سلطان نے اپنے وزیر کے جانب دیکھا تھا تو اس کے چہرے پر موجود ڈر یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ سلطان کو یہ کرنے نہیں دے سکتا جبکہ سلطان نے اس کا ہاتھ تھاما تھا اس سر کو ہلکی جنبشتی کی جیسے کہہ رہے ہوں تھوڑا صبر کرو وہ بہت بے چین ہو رہا تھا یہی

 لیکن کوئی بھی سلطان کے سامنے آواز اٹھانے کی حمد جٹا نہیں پا رہا تھا وہ شخص سلطان کی نشست کے بالکل پاس آ گیا تھا اور ان سے اجازت چاہی تھی کہ کیا وہ ان کے ہاتھ کو تھام سکتا ہے لیکن سلطان نے دھیرے سے سر کو حلق کی جنبش دی تھی وہ شخص سلطان کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے باغور دیکھنے لگا اس نے ہدھیلی کو ہر جانب سے دیکھا تھا اور پھر خاموشی سے اپنی لگا پر آ کر کھڑا ہو گیا تھا

 سلطان سمجھ نہیں پائے تھے انہوں نے اس آدمی کی جانب دیکھا اور بولے کیا ہوا تم خاموش کیوں ہوگے ہو بتاؤ ہماری موت کب واقع ہوگی جبکہ وہ نجومی سلطان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا آپ اس سلطنت کے بادشاہ ہیں میں حقیقت آپ کو بتا نہیں سکتا

 میں معافی چاہتا ہوں اور آپ سے جانے کی اجازت جبکہ سلطان فوراں ہی بولے تھے اگر تم نے ابھی کے ابھی ہمیں نہیں بتایا تو یاد رکھنا ہم تمہیں کارکوچری میں بند کر دیں گے سچ بولو تمہیں یہاں کوئی کچھ نہیں کہے گا اس بات کی ہم زمانہ دیتے ہیں جبکہ وہ نجومی سلطان کو دیکھ کر ایک پل کے لیے خاموش ہو گیا تھا اور پھر دیمی آواز میں بولا

 آپ کا وقت قریب آ چکا ہے اور یہ بتاتے ہوئے مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کیونکہ جتنا میں نے آپ کے بارے میں سنا ہے ہمیشہ اچھے میں ہی سنا ہے آپ لوگوں کی مدد کرتے ہیں کبھی بھی ظالم کا ساتھ نہیں دیتے آپ کے موت کل شام تک مقرر ہے کل شام آپ کے موت واقع ہو جائے گی اور بہانہ بہت معمولی ہوگا جبکہ سلطان کو ایک پل کے لیے دھچکہ لگا تھا

 یہی حال پوری آیا کا تھا سب جگہ سناٹا چھا چکا تھا سلطان نجومی کو یک اک دیکھ رہے تھے وزیر تو مانو ایسا ہو گیا تھا جیسے کاتو تو بدن میں خون نہیں جبکہ نجومی سلطان کے آگے عدب سے جھوک کر وہاں سے چلا گیا تھا سب اس نجومی کی بات سے اتنا سن ہو گئے تھے کہ کسی کو بھی ہوش نہیں رہا تھا کہ وہ نجومی محل سے جا چکا ہے محل میں موجود سپاہی درباری مشیر اور ان کا خاص وزیر رونی جیسے ہو چکے تھے

 جبکہ سلطان نے فوراں ہی خود کو سنبھالا تھا ایک پل کے لیے وہ بھی گھر آ گئے تھے انہوں نے ایک طائرانہ نکاح پورے دربار پر ڈالی تو سب کی حالت بہت بری ہو رہی تھی وہ بلند آواز میں بولے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے

 غیب کا علم سوائے اللہ اور رسول کے کسی کے پاس نہیں ہے اگر یہ شخص ہاتھ کی لکیروں کے بارے میں جانتا ہے تو بھی یہ موت کا وقت نہیں بتا سکتا کچھ گربڑ ہے ہم اس کی چھان بین کریں گے آپ سب پریشان مت ہوں اللہ خیر کرے گا

 دربار کا آغاز کرتے ہیں ریایہ ہمارا انتظار کر رہی ہوگی لیکن سب کو سامپ سنگ چکا تھا کوئی بھی کچھ بھی بولنے کی حالت میں نہیں تھا لیکن سلطان اس سلطنت کے بادشاہ تھے وہ اس طرح سے ہاتھ پر ہاتھ رکت پیٹ نہیں سکتے تھے اس لئے انہوں نے فوراں ہی دربار کا آغاز کر دیا تھا اور اپنی ریایہ کے مسائل حل کرنے لگے تھے لیکن کسی کو بھی ہوش نہیں تھا وزیر تو بقاعدہ رو رہا تھا شاید وہ اس بات پر یقین کر چکا تھا کہ نجومی جو بول

 اور حقیقت بھی یہی تھی وہ آدمی جو بھی کہتا تھا سچ ہو جاتا تھا اس لیے وہ بہت زیادہ ڈر رہا تھا تھوڑی دیر بعد ہی دربار کا اختتام کر دیا گیا تھا جبکہ یہ خبر ان کی زوجہ تک بھی پہنچ گئی تھی اور ان کی حالت بھی بہت گیر ہو رہی تھی سلطان کسی کو بھی سنبال نہیں پا رہی تھی اچانک ہی سب جگہ اداسی چھا گئی تھی پوری ریایہ میں سلطان کے حوالے سے دعائیں ہو رہی تھی محل بھی بلکل اداس ہو گیا تھا ہر جگہ ایک عجی

 ان کی زوجہ رو رو کر خود کو ہلکان کر چکی تھی جبکہ سلطان اب کسی کو سنبھال نہیں پا رہے تھے وقت گزر رہا تھا اور اگلی صبح وہ بے چین ہو گئے تھے اب انہیں بھی پریشانی ہو رہی تھی کیونکہ جو ماحول ان کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا اس سے انہیں بھی یہ ڈر لائک ہو گیا تھا کہ کیا واقعی ان کی موت ہونے والی ہے۔

 وقت گزر رہا تھا آج فریاد لے کر کوئی بھی سلطان کے پاس نہیں آیا تھا بلکہ ریایہ کے لوگ محل کے دروازے پر بیٹھے رو رہے تھے لیکن سلطان بے چین تھے موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے پھر یہ نجومی ایسی بات کیوں کہہ رہا تھا وقت گزر گیا تھا اور شام ہو چکی تھی ان کی زوجہ رو رو کر بے ہوش ہو گئی تھی سلطان دوبارہ ان کے پاس نہیں گئے تھے ان سے ان کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی وہ اپنے تخت پر برا جمان تھے

 تمام حکیم ان کے اردگرد ہی موجود تھے جبکہ سلطان ان سب کو بول بول کر تھک چکے تھے کہ سب چلے جائیں ہمیں کسی کی ضرورت نہیں ہے لیکن کوئی بھی انہیں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا وزیر تو ان کے قدموں کے قریب بیٹھا ہوا تھا اس کی حالت ایسی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں خون نہیں اس کا حال بھی ملکہ جیسا ہی ہو رہا تھا تھوڑی دیر ہی گزری ہوگی

 کہ ان کا ایک سپاہی ان کے بائے کندے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ان کے کان کے قریب جھکا اور سرگوشی زدہ آواز میں کسی کے آنے کی اطلاع دی جبکہ سلطان حیران ہوئے اور اس شخص کو اپنے مقصود کمرے میں بھیجنے کا بول کر اکیلے ہی وہاں سے چلے گئے ان کا وزیر ان کے ساتھ آنا چاہتا تھا لیکن انہوں نے انہیں وہیں ٹھہرنے کا حکم دیا تھوڑی دیر بعد ہی وہی نجومی سلطان کے سامنے کھڑا ہوا تھا آج بھی اس نے کالا لباس زی

 بال کھلے ہوئے تھے چہرے پر پہلے روز کی طرح پھٹکار تھی وہ سلطان کی جانی دیکھتے ہوئے کہنے لگا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی موت ٹل جائے تو آپ کو ہمارا ایک کام کرنا ہوگا ہم ایک عمل کر کے آپ کو بچا لیں گے جبکہ سلطان نے گسے سے مٹھیاں بینچ لی تھی انہیں بہت زیادہ تیش آیا تھا بھلا موت اور زندگی بچانے والا یہ کون ہوتا ہے

 وہ خاموش رہے تھے شاید آج اُس شخص کا سچ سامنے آنے والا تھا جبکہ سلطان فوراں ہی ڈونک رچتے ہوئے بولے ہاں ہاں خدا کے لیے تم کچھ ایسا کرو کہ میری موت ٹل جائے تم تو ایک نجومی ہو تم سب کچھ کر سکتے ہو جبکہ وہ شخص سلطان کی اجلت دیکھ دیما سا مسکر آیا

 اور ان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا لیکن ایک شرط ہے ہمیں بہت سارا سونا چاہیے پیسے چاہیے اور ایک اچھا اہدہ اگر تم یہ کر سکتے ہو تو میں تمہاری مدد کر دوں گا تم پر سے یہ موت کا سایہ ٹل جائے گا جبکہ سلطان نے فوراں ہی اسبات میں سر ہلایا اور کہنے لگے مجھے منظور ہے۔

 تم جو کرنا چاہتے ہو کر سکتے ہو جبکہ اس شخص نے اپنے کندے پر لٹکا ہوا وہ کالا تھیلہ کھولا تھا اور اس میں سے عجیب عجیب اشیاء نکال شروع کی تھی سب سے پہلے اس نے ایک گھڑیا نکالی تھی جس کی آنکھوں پر خون لگا ہوا تھا سلطان اس کو باغور دیکھ رہے تھے اس کے بعد اس نے کچھا گوشت نکالا تھا پھر ایک سفید مٹی نکال کر وہ زمین پر بیٹھ چکا تھا ساتھ چراغ بھی جلائے تھے

 اور وہاں پر ایک ڈبا سا بنا رہا تھا سلطان اس کی تمام کارواہی بغور دیکھ رہے تھے انہوں نے ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تھا شاید وہ شخص کو آخر تک دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کیا کرے گا اس نے بڑا سا چکور بنا کر اس میں چراک رکھا تھا اور اس کے بعد ایک کونے پر وہ خون بھری آنکھوں والی گھڑیا پر کچھا گوشت ایک ایک کونے پر رکھ کر

 وہ شخص آنکھیں بند کر چکا تھا اور دیرے دیرے کلمات دورانے لگا تھا۔ سلطان نے اسی کا فائدہ اٹھا کر باہر سے اپنے سپاہے کو اندر بھلا لیا تھا۔ وہ اس کو باغور دیکھ رہے تھے۔ وہ جان چکے تھے یہ کوئی نجومی نہیں بلکہ کالا علم کرنے والا کوئی عامل ہے۔

 اس نے یک دم ہی اس چراغ میں وہ سفید مٹی ڈالی تھی جس سے آگ کے چولے بھڑک اٹھے تھے سلطان ابھی تک اس کے سارے کارنامے خاموشی سے ملاحظہ کر رہے تھے اس نے اپنا پورا عمل کیا تھا اور اس کے بعد آنکھیں کھولی تھی اپنے سامنے کئی سپاہی وزیر اور سلطان کو کھڑا پایا وہ یک دم ہی ہر بڑھا گیا تھا اور اپنی لگا سے کھڑا ہو گیا

 سلطان اس کے جانے دیکھتے ہوئے کہنے لگے اپنی حقیقت تم خاموشی سے بتاؤ گے یا پھر ہم تم سے اگلوائیں ہم اتنا جان چکے ہیں کہ تم کوئی نجومی نہیں ہو تم ایک شیطان شخص ہو جو کالا علم کر کے لوگوں کو ختم کرتا ہے

 سچ سچ بتاؤ کون ہو تم جبکہ اس آدمی کے رنگ اٹھ چکے تھے وہ سلطان کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگا یہ کیا بول رہے ہو تم میں ایسا کیوں کروں گا میں نجومی ہوں اور وہ ابھی مزید کچھ کہتا اس سے پہلے ہی سلطان نے گھوماتا ہوا تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا تھا

 جبکہ وہ یک دم ہی دور جا کر گیرا تھا سلطان نے تلوار نکال کر اس شخص کی گردن پر رکھی تھی اور قصے سے بولے تھے سچ بتاؤ کون ہو ہماری ریایہ میں کیوں آئے ہو جبکہ وہ ایک ہی بات مسلسل بھو رہا تھا کہ میں ایک نجومی ہوں میں لوگوں کی موت کا وقت بداتا ہوں میں کوئی آمل نہیں ہوں

 جب کس بار سلطان نے گردن پر دباؤ بڑھا دیا تھا اور اسی پل اس کی گردن سے خون کی لکیر پھوٹی تھی سلطان گسی سے دھارتے ہوئے بولے اگر تم نے سچ نہیں کہا تو ابھی کے ابھی ہم تمہیں بتائیں گے کہ اگلی موت کس کی ہوگی بتاؤ کون ہو تم اور کس مقصد سے ہماری ریایہ میں گس آئے ہو بتاؤ کون ہو تم ان کی آواز بلند سے بلند تر ہوتی جا رہی تھی سپاہی اور وزیر بھی اس پر اپنی اپنی تلوار تان چکے تھے

 جبکہ وہ شخص فوراں ہی ہربڑا کر بولا میں یہودی ہوں اور دوسرے ممالک سے یہاں آیا ہوں مجھے ایک منصوبے کے تحت یہاں بیچا گیا تھا میں کالا علم جانتا ہوں یہاں پر ہم گمراہی پھیلا رہی ہیں لوگوں کو موت کا بول کر انہیں خودکشی کرنے پر امادہ کرتے ہیں ہم نے سن رکھا ہے جو بھی شخص خودکشی کی موت مرتا ہے اسے جہنم نصیب ہوتی ہے

 اور یہ ماننا آپ لوگوں کا ہے اس کے مرنے کے بعد بھی لوگ اسے برے القباض سے نوازتے ہیں ہم پوری مسلمان قوم کو بدباد کرنا چاہتے تھے لیکن اگر کوئی شخص میرے بتائے ہوئے مقررہ وقت سے پہلے خودکشی نہیں کرتا تو اس کو ہماری فوج کے سپاہی ڈھونٹ کر مار دیتے اور لوگوں میں یہ خبر پھیلا دیتے تھے

 کہ اس نجومی نے بولا تھا اس لیے یہ مر گیا ہمارا مقصد مسلمان قوم کا بھروسہ توڑنا تھا جو وہ اپنے اللہ اور رسول پر کرتے ہیں جبکہ سلطان کی رگے گسے کے مارے پھولتی جا رہی تھی مجھے آپ کے بارے میں یہی حکم دیا گیا تھا جب میں آپ سے ملاقات کروں تو آپ کو یہی بتاؤں کہ اگلی شام آپ کی موت ہو جائے گی اور اسی شام کچھ دیر پہلے مجھے یہاں آ کر یہ عمل کرنے کا کہا گیا تھا تاں کہ آپ کو لگے کہ آپ کی موت کار علم کی وجہ سے ٹل گئی

 اور جب آپ کی جان بچ جائے تو آپ پر یہی ظاہر کرنا ہے کہ کار علم کے اندر بہت طاقت ہوتی ہے تو آپ جو اس چیز کو گلت بولتے ہیں لوگوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں آپ بھی اس پر ایمان لے آئیں اور گمراہی کے راستے پر گامزن ہو جائیں ہمارا مقصد صرف مسلمان قوم کے ایمان کو خراب کرنے کا تھا لیکن مجھے معلوم نہیں تھا

 کہ یہاں کا بادشاہ اپنی ریایہ کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے اور اس کا ایمان کتنا پختہ ہے مجھے معاف کر دیں سلطان موزم میں اب یہ گلتی دوبارہ نہیں کروں گا سلطان کا گزے سے برا حال تھا انہوں نے فوراں ہی اس نجومی شخص کو فانسی پر چڑھانے کا حکم دے دیا تھا

 جبکہ اس کے ذریعے پہلے ان لوگوں کا ٹھکانہ معلوم کیا تھا جہاں پر اس جیسے ہی اور لوگ موجود تھے اور جتنے لوگ ان کی پکڑ میں آئے تھے ان سب کو ہی سلطان فانسے کے پھندے پر چڑھاتے چلے گئے تھے اور مسلمانوں کو آخر یہ بات بھی سمجھائی تھی کہ موت اور زندگی سوائے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کسی کے ہاتھ میں نہیں جو شخص غیب کا علم جاننے کا دعوت کرے وہ ڈھونگ ہے کیونکہ مسلمانوں کو معلوم ہے موت اور زندگی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہی ہے