حضرت خالد بن ولیدؓ اور چڑیل کا واقعہ

حضرت خالد بن ولیدؓ اور چڑیل کا ایمان افروز واقعہ، جس میں آپؓ نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک خوفناک مخلوق کا مقابلہ کیا۔ یہ اسلامی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی طاقت کے سامنے کوئی بھی بری قوت کچھ نہیں۔

حضرت خالد بن ولیدؓ اور چڑیل کا واقعہ
حضرت خالد بن ولیدؓ اور چڑیل کا واقعہ
جب مکہ فتح ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
قریش اور دیگر قبائل کے لوگ قبول اسلام کیلئے آتے رہے۔ بت صرف کعبہ میں ہی نہیں تھے۔ مکہ کے گردونوح کی بستیوں میں مندر تھے۔ وہاں بھی بت رکھے تھے۔ سب سے اہم بت عُزیٰ کا تھا جو چند میل دور نخلہ کے مندر میں رکھا گیا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے عُزیٰ کا بت توڑنے کا کام خالد رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ تیس سوار لیے اور اس مہم پر روانہ ہو گئے۔ دوسرے مندروں کے بت توڑنے کیلئے مختلف جیش روانہ کیے گئے۔ عُزیٰ کا بت اکیلا نہیں تھا۔ چونکہ یہ دیوی تھی اس لیے اس کے ساتھ چھوٹی دیویوں کے بت بھی تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو مندر کا پروہت ان کے سامنے آگیا۔ اس نے التجا کی کہ ان کے بت نہ توڑے جائیں۔ ”مجھے عُزیٰ کا بت دکھاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ نے نیام سے تلوار نکال کر پروہت سے پوچھا۔
پروہت موت کے خوف سے مندر کے ایک بغلی دروازے میں داخل ہو گیا۔ خالد رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے گئے۔ ایک کمرے سے گزر کر اگلے کمرے میں گئے تو وہاں ایک دیوی کا بڑا ہی خوبصورت بت چبوترے پر رکھا تھا۔ پروہت نے بت کی طرف اشارہ کیا اور بت کے آگے فرش پر لیٹ گیا۔ مندر کی داسیاں بھی آگئیں۔ خالد رضی اللہ عنہ نے تلوار سے اس حسین دیوی کا بت توڑ ڈالا اور اپنے سواروں سے کہا کہ بت کے ٹکڑے باہر بکھیر دیں۔ پروہت دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور داسیاں بین کر رہی تھیں۔ خالد رضی اللہ عنہ نے دیویوں کے بت بھی توڑ ڈالے اور گرج کر پروہت سے کہا۔ "کیا اب بھی تم اسے دیوی مانتے ہو جو اپنے آپ کو ایک انسان سے نہیں بچا سکی؟" پروہت دھاڑیں مارتا رہا۔ خالد رضی اللہ عنہ فاتحانہ انداز سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے سواروں کو واپسی کا حکم دیا۔ جب خالد رضی اللہ عنہ اپنے تیس سواروں کے ساتھ مندر سے دور چلے گئے تو پروہت نے جو دھاڑیں مار رہا تھا بڑی زور سے قہقہہ لگایا۔ پجارنیں جو بین کر رہی تھیں وہ بھی ہنسنے لگیں۔ ”عُزیٰ کی توہین کوئی نہیں کر سکتا۔“ پروہت نے کہا۔ ”خالد (رضی اللہ عنہ) جو خود عُزیٰ کا پجاری ہوا کرتا تھا بہت خوش ہو کے گیا ہے کہ اس نے عُزیٰ کا بت توڑ ڈالا ہے۔ عُزیٰ زندہ ہے۔ زندہ رہے گی۔“ "یا رسول اللہ ﷺ!" خالد رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کو اطلاع دی "میں عُزیٰ کا بت توڑ آیا ہوں۔" ”کہاں تھا یہ بت؟“ حضور ﷺ نے پوچھا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے وہ مندر اور اس کا وہ کمرہ بتایا جہاں انہوں نے وہ بت دیکھا اور توڑا تھا۔ ”تم نے عُزیٰ کا بت نہیں توڑا خالد (رضی اللہ عنہ)!" رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا۔ ”واپس جاؤ اور اصلی بت توڑ کر آؤ۔“ مؤرخ لکھتے ہیں کہ عُزیٰ کے دو بت تھے ایک اصلی جس کی پوجا ہوتی تھی دوسرا نقلی تھا۔ یہ غالباً مسلمانوں کو دھوکا دینے کیلئے بنایا گیا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ کا خون کھولنے لگا، انہوں نے اپنے سواروں کو ساتھ لیا اور نخلہ کو روانہ ہو گئے۔
مندر کے پروہت نے دور سے گھڑ سواروں کو آتے دیکھا تو اس نے مندر کے محافظوں کو بلایا۔ ”وہ پھر آ رہے ہیں“ پروہت نے کہا۔ ”انہیں کسی نے بتا دیا ہو گا کہ اصلی بت ابھی مندر میں موجود ہے۔ کیا تم عُزیٰ کی عزت کی حفاظت کرو گے؟ اگر کرو گے تو عُزیٰ دیوی تمہیں مالا مال کر دے گی۔“ ”کچھ سوچ کر بات کر مقدس پیشوا!“ ایک محافظ نے کہا۔ ”کیا ہم دو تین آدمی اتنے زیادہ گھڑ سواروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟“ ”اگر عُزیٰ دیوی ہے تو یہ اپنے آپ کو ضرور بچا لے گی۔“ ایک اور محافظ نے کہا۔ اس کے لہجے میں طنز تھی۔ کہنے لگا۔ ”دیوی دیوتا انسانوں کی حفاظت کیا کرتے ہیں، انسان دیوتاؤں کی حفاظت نہیں کیا کرتے۔“
”پھر عُزیٰ اپنی حفاظت خود کرے گی۔“ پروہت نے کہا۔ خالد رضی اللہ عنہ کے گھوڑے قریب آ گئے تھے۔ محافظ مندر کی پجارنوں کو ساتھ لے کر بھاگ گئے۔ پروہت کو یقین تھا کہ اس کی دیوی اپنے آپ کو مسلمانوں سے بچا لے گی۔ اس نے ایک تلوار لی اور اسے عُزیٰ کے گلے میں لٹکا دیا۔ پروہت مندر کے پچھلے دروازے سے نکلا اور بھاگ گیا۔ خالد رضی اللہ عنہ مندر میں آن پہنچے اور تمام کمروں میں عُزیٰ کا بت ڈھونڈنے لگے۔ انہیں ایک بڑا ہی خوشنما کمرہ نظر آیا۔ اس کے دروازے میں کھڑے ہو کر دیکھا، عُزیٰ کا بت سامنے چبوترے پر رکھا تھا۔ اس کے گلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔ یہ بت ویسا ہی تھا جیسا خالد رضی اللہ عنہ پہلے توڑ گئے تھے۔ اس بت کے قدموں میں لوبان جل رہا تھا۔ کمرے کی سجاوٹ اور خوشبو سے پتا چلتا تھا کہ یہ عبادت کا کمرہ ہے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے دہلیز سے آگے قدم رکھا تو ایک سانولے رنگ کی ایک جوان عورت جو بالکل برہنہ تھی خالد رضی اللہ عنہ کے سامنے آگئی۔ وہ رو رہی تھی اور فریادیں کر رہی تھی کہ بت کو نہ توڑا جائے۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ عورت خالد رضی اللہ عنہ کے ارادے کو متزلزل کرنے کیلئے برہنہ ہو کے آئی تھی اور اس کے رونے کا مقصد خالد رضی اللہ عنہ کے جذبات پر اثر ڈالنے کے سوا اور کیا ہو سکتا تھا۔ خالد رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو اس عورت نے بازو پھیلا کر خالد رضی اللہ عنہ کا راستہ روک لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے نیام سے تلوار نکالی اور اس عورت پر ایسا زور دار وار کیا کہ اس کا ننگا جسم دو حصوں میں کٹ گیا۔ خالد رضی اللہ عنہ غصے سے بھرے ہوئے بت تک گئے اور اس کے کئی ٹکڑے کر دیئے۔ طاقت اور خوشحالی کی دیوی اپنے آپ کو ایک انسان سے نہ بچا سکی۔ خالد رضی اللہ عنہ مندر سے نکل کر گھوڑے پر سوار ہوئے اور ایڑ لگائی۔ ان کے سوار ان کے پیچھے جارہے تھے۔ مکہ پہنچ کر خالد رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کے حضور پہنچے۔ ”یا رسول اللہ ﷺ!“ خالد رضی اللہ عنہ نے کہا۔ ”میں عُزیٰ کا بت توڑ آیا ہوں۔“ ”ہاں خالد (رضی اللہ عنہ)!“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”اب تم نے عُزیٰ کا اصلی بت توڑا ہے۔ اب اس خطے میں بت پرستی نہیں ہوگی۔“ واللہ اعلم و رسُول اعلم ۔
دوستو ایک آخری بات کوئی بھی تحریر پڑھنے کا بعد علم کو پھیلایا کریں کیا پتا کس کے لیے ہدایت کا سبب بن جائے اور کسی کی ہدایت آپ کی نجات کا زریعہ بن جائے اچھی بات اچھا علم امانت ہے اللہ پاک آپ سے راضی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔