عبداللہ کی سخاوت کی کہانی | The Story of Abdullah's Generosity

یہ پرانی کہانی عبداللہ نام کے ایک نیک دل تاجر کی سخاوت اور دوسروں کی مدد کے جذبے کو بیان کرتی ہے۔ وہ ہمیشہ محتاجوں اور غریبوں کی مدد کرتا رہا، اور اس کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔ یہ کہانی انسانیت، اخلاقیات اور فیاضی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

عبداللہ کی سخاوت کی کہانی | The Story of Abdullah's Generosity
عبداللہ کی سخاوت کی کہانی | The Story of Abdullah's Generosity

یہ پرانی کہانی ہے۔ گاؤں میں عبداللہ نام کا ایک نیک دل تاجر رہتا تھا۔ اللہ نے اسے بہت رزق دیا تھا۔ اس کا اصول تھا کہ گاؤں کا کوئی غریب یا محتاج اس کے در سے خالی ہاتھ نہ لوٹے۔ آہستہ آہستہ اس کی سخاوت کی بات دور دور تک پھیل گئی۔ اب نہ صرف اس کے گاؤں کے بلکہ آس پاس کی بستیوں کے لوگ بھی اس کے گھر کے باہر قطاریں لگا دیتے۔ بس اس کا انتظار کرتے کہ وہ آئے اور سب کی مدد کرے۔ لیکن بیوی کو یہ سب پسند نہیں تھا۔ ایک دن اس نے کہا، "عبداللہ تم یوں ہی پیسہ لٹاتے رہو گے تو ایک دن ہم بھی ان کی طرح بھوکے ننگے رہ جائیں گے۔ کم از کم..."

اپنے گاؤں کے لوگوں تک ہی مدد محدود رکھو۔ عبداللہ نے مسکرا کر کہا۔ بیوی نے کہا، مجھے ڈر ہے کہ قیامت کے دن میرا رب مجھ سے نہ پوچھے کہ میں نے دوسروں کی مدد کیوں نہیں کی، جب اس نے مجھے دیا تھا۔ بیوی نے سخت لہجے میں کہا، اس رفتار سے تو ہم بھی جلد ہی محتاج ہو جائیں گے۔ عبداللہ خاموش ہو گیا، مگر دل ہی دل میں دعا کی، یا اللہ مجھے نیکی کرنے کی توفیق دے اور تیرا دیا کبھی ختم نہ ہو۔ وقت گزرتا گیا، عبداللہ پہلے سے زیادہ خرچ کرنے لگا، یہاں تک کہ ایک دن اس کی جیب خالی ہو گئی، دکان بند کرنی پڑی اور گھر میں تنگدستی چھا گئی۔

ہونے لگا۔ ایک دن اس نے سوچا شاید بیوی صحیح کہہ رہی تھی۔ اگر میں اتنا خرچ نہ کرتا تو آج یہ حال نہ ہوتا۔ لیکن فوراً خود کو روکا۔ نیکی پر کبھی افسوس نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آج میرے پاس ایک روپیہ بھی ہوتا تو میں وہ بھی کسی غریب کو دے دیتا۔ غربت آ گئی۔ مگر عبداللہ نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے بکریاں چرانے کا کام شروع کر دیا۔ بیوی دن رات طنز کرتی رہی۔ دیکھ لیا ہم بھی انہی فقیر لوگوں جیسے ہو گئے جن پر تم ترس کھاتے تھے۔ عبداللہ مسکرا کر کہتا، بیوی ہمارے پاس صحت ہے جو پیسوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ بیوی طنزیہ ہنس پڑی۔

مجھے پیسوں کی فکر ہے۔ جا کر کچھ کماؤ ورنہ میں یہ گھر چھوڑ دوں گی۔ عبد اللہ نے برا نہیں منایا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ بہت آرام پسند ہے۔ خود اسے بچپن میں کروفا کا ہونا پڑا تھا۔ اس لیے وہ ہمیشہ دوسروں کے درد کو سمجھتا تھا۔ ایک دن وہ بکریاں چرا رہا تھا کہ اچانک جنگل میں آگ لگ گئی۔ اس نے دور سے ایک چھوٹی سی سانپنی کو آگ میں پھنسے دیکھا۔ دل میں رحم آیا۔ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر آگ میں چھلانگ لگائی اور اسے نکال لایا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ سانپنی نے انسانوں کی طرح بات کی۔ میں کوئی عام سانپ نہیں ہوں۔ جنات کے بادشاہ کی بیٹی ہوں۔ تم نے میری جان بچائی۔

ہے۔ اس کا بدلہ ضرور دوں گی۔ یہ کہہ کر وہ عبداللہ کو اپنے باپ کے محل لے گئی۔ بادشاہ جنات نے کہا کہ ہم تمہیں مال نہیں دے سکتے کیونکہ ہمارے پاس نہیں ہے، مگر تمہیں ایک نایاب علم دیتے ہیں۔ آج سے تم جانوروں کی زبان سمجھ سکو گے، لیکن شرط یہ ہے کہ تم یہ راز کسی کو نہ بتانا ورنہ تمہاری موت یقینی ہے۔ جب عبداللہ نے رضا مندی ظاہر کی تو بادشاہ جنات اس کے قریب آیا۔ اس کے دونوں کانوں میں ہلکی سی پھونک ماری اور بولا، اب تم جانوروں کی زبان سمجھ سکتے ہو۔ تمہیں ایسی باتیں سننے کو ملیں گی جو کسی انسان...

وہ بھی کبھی غرور میں نہیں تھا۔ لیکن یاد رکھو کبھی ظاہر مت کرنا کہ تم ان کی باتیں سمجھتے ہو۔ ورنہ وہ تم سے ڈر جائیں گے اور نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔ یہ راز دل میں رکھنا۔ یہ کہہ کر اچانک سارا منظر غائب ہو گیا۔ عبداللہ نے پلک جھپکائی تو وہ پھر سے اپنی بکریوں کے پاس کھڑا تھا۔ نہ محل تھا، نہ جنات، نہ بادشاہ۔ وہ سوچنے لگا شاید یہ سب خواب تھا، لیکن بڑا دلچسپ خواب تھا۔ گھر لوٹتے ہوئے وہ ایک بڑی جھیل کے پاس سے گزرا۔ وہاں اس نے دو خوبصورت مچھلیاں کودتے اور کھیلتے ہوئے دیکھی۔ ایک نے دوسری سے کہا، "اگر جھیل کے بیچ تلے وہ پرانا۔۔۔"

اگر صندوق نہ ہوتا، تو ہم اس بڑی مچھلی سے کبھی بچ نہیں پاتے جو ہمیں کھانے کے لیے پیچھے آ رہی تھی۔ دوسری نے جواب دیا، ہاں، یہ صندوق تو صدیوں پرانا لگتا ہے۔ معلوم نہیں کب سے یہاں پڑا ہے۔ یہ سن کر عبدالله کو یقین ہو گیا کہ جنات کی شہزادی والی بات سچ تھی۔ اس کے دل میں تجسس جاگا، آخر اس صندوق میں کیا ہے؟ وہ فوراً جھیل میں چھلانگ لگا کر نیچے پہنچا۔ وہاں واقعی ایک بھاری سا پرانا صندوق تھا جس پر جینگ آلود کُو لگا تھا۔ بڑی مشکل سے وہ اسے کھینچ کر کنارے تک لے آیا۔ پھر اس نے سوچا کہ اب اس کُمھ کو چابی کی ضرورت نہیں، ایک بڑا پتھر۔۔۔

اٹھا کر زور سے مارا، کُمبھ ٹوٹ گیا۔ جب ڈھکن کھولا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اندر لال جواہرات اور ہیرے چمک رہے تھے۔ عبداللہ نے اتنا ہی نکالا جتنا ضرورت تھی اور باقی صندوق کو قریب ہی کھود کر زمین میں دفنا دیا۔ گھر پہنچ کر بیوی سے کہا، "بیوی، آج مجھے ایک خزانہ ملا ہے۔ اس میں سے اتنا لایا ہوں جو ہمارے لیے کافی ہے۔" بیوی فوراً بولی، "یہ خزانہ کہاں سے ملا؟" عبداللہ کو بادشاہ جنات کی ہدایت یاد آ گئی، اس لیے خاموش ہو گیا۔ بیوی نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا، "چھوڑو یہ بات۔" بس امید ہے کہ اس بار عقل سے کام لوگے اور...

مال سنبھال کے رکھو گے۔ عبداللہ نے نرم لہجے میں جواب دیا، میں نے ہمیشہ غریبوں کا حق دیا ہے اور اللہ نے مجھے اس کا کئی گنا بدلہ دیا ہے۔ کیا تمہیں نہیں لگتا کہ آسمان پر ایک عدل کرنے والا رب ہے؟ بیوی نے کہا، یقیناً ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ صرف تمہاری قسمت تھی۔ اس بار میں گھر کے باہر کسی فقیر کو کھڑا نہیں دیکھنا چاہتی۔ قسمت بار بار نہیں آتی اور میں تمہارے خرچ کا حساب رکھوں گی۔ عبداللہ کو بیوی کی ناشکری پر دکھ ہوا۔ دل ہی دل میں سوچا اللہ میرے صبر اور ایمان کا امتحان لے رہا ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب غریبوں کو...

اپنے گھر بلانے کے بجائے ان کے لیے ایک پناہ گاہ بنائے گا جہاں وہ کھانا کھا سکیں اور ضرورت کا سامان لے سکیں۔ اگلی صبح بیوی کو کچھ بتائے بغیر وہ پھر جھیل پر گیا۔ سارا خزانہ نکالا۔ گاؤں میں ایک بڑی سی زمین خریدی۔ اس پر غریبوں کے لیے پکا سراے اور باورچی خانہ بنایا۔ اس نے نیک اور دیانتدار لوگوں کو وہاں کا ذمہ دار مقرر کیا۔ اب نہ صرف غریب آ کر اپنا پیٹ بھرتے بلکہ بہت سے لوگ وہاں کام بھی کرنے لگے۔ سراے کے آس پاس کھیت آباد ہوئے۔ مزدور روزگار پانے لگے اور کئی خاندان خوشحال ہو گئے۔ ایک دن عبداللہ اپنی بیوی کے ساتھ بیوی کے...

میں اپنی ماں کے گھر جا رہا تھا۔ وہ دونوں ایک چھکڑا گاڑی میں بیٹھے تھے جسے دو کھچر کھینچ رہے تھے۔ راستے میں عبداللہ نے سنا کہ ایک کھچر دوسرے سے کہہ رہا تھا، "یار تھوڑا آہستہ چل، اتنی تیزی نہ مار۔" دوسرے کھچر نے پوچھا، "کیوں بھائی؟ اگر جلدی چلیں گے تو جلدی گھر پہنچ جائیں گے، آرام بھی ہو جائے گا اور مالک نے جو تازہ گِلا جوک خریدا ہے وہ بھی کھا لیں گے۔" پہلا کھچر بولا، "یار تمہاری بھوک نے تمہاری عقل کھا لی ہے۔ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ گاڑی میں بیوی کے پیٹ میں بچہ ہے؟ اگر ہم تیز چلیں گے تو جھٹکوں سے گاڑی ہلے گی اور شاید بچہ ضائع ہو جائے۔ ہمارا مالک یہ..."

وہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے کے لائق نہیں تھا۔ اس نے کبھی ہمارا حق نہیں مارا۔ عبدالله یہ بات سن کر خوش ہو گیا کیونکہ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ وہ باپ بننے والا ہے۔ وہ اپنی بیوی کے قریب جھکا اور آہستہ سے کہا، "مبارک ہو بیوی، تمہارے پیٹ میں ہمارا بچہ ہے۔" بیوی حیران رہ گئی، "تمہیں کیسے پتہ چلا؟ میں نے تو کسی کو نہیں بتایا اور مجھے بھی چند دن پہلے ہی پتہ چلا ہے۔" عبدالله ہنس کر بولا، "بس کچھ محسوس ہو گیا تھا۔" بیوی نے دل ہی دل میں سوچا، یہ آدمی مجھ سے کوئی راز چھپا رہا ہے۔ ایک مہینہ پہلے خزانہ ملا تھا، مگر کہاں؟ بتایا نہیں۔

کیا؟ اور کئی بار ایسی باتیں کرتا ہے جو شروع میں بلکل یقین نہیں آتیں۔ مگر بعد میں سچ نکلتی ہیں۔ اب سے میں اسے غور سے دیکھوں گی۔ کچھ دن بعد ایک آدمی عبداللہ کے پاس آیا اور کہا میرے پاس لیموں اور مالٹے کی بڑی مقدار ہے۔ لیکن ابھی خبر ملی ہے کہ بیٹی بیمار ہے۔ جلدی واپس جانا ہے۔ تم یہ سارا مال آدھی قیمت پر لے لو۔ عبداللہ نے خزانے سے بچا ہوا سارا پیسہ نکال کر دے دیا۔ یہ سب بیوی کھڑکی سے دیکھ رہی تھی۔ آدمی کے جانے کے بعد بیوی غصے میں بولی۔ تم پاگل ہوگئے ہو کیا؟ اتنے لیموں اور مالٹے کون خریدے گا؟ سڑ گئے ہیں۔

تو پھر ہم ویسے ہی پرانے حالات میں آ جائیں گے۔ عبداللہ نے سکون سے کہا، رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بعد میں وہ اکیلا بیٹھ کر سوچنے لگا۔ شاید بیوی کی بات درست ہو۔ مگر میں نے اس آدمی کی مجبوری دیکھ کر ہی یہ سودا کیا تھا۔ اسی دوران دو پرندے کھڑکی پر آ کر بیٹھ گئے۔ ایک نے دوسرے سے کہا، "کل ہمیں یہ جگہ چھوڑنی ہوگی۔ موسم بہت سرد ہونے والا ہے۔" دل میں کہا، ابھی یہ لیمبُو اور مالٹے نہیں بیچوں گا۔ بس موسم دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔ بیوی ہنستی اور طنز کرتی، چل پاگل، بیچ دے یہ مال۔ شاید تھوڑا نقصان پورا ہو جائے۔

عبداللہ مسکرا کر کہتا ہے بیوی تم بہتر ہو، تم سردی کی تیاری کرو۔ کچھ دن بعد واقعی سردی معمول سے پہلے اور سخت آ گئی۔ نزلہ، کھانسی اور بخار عام ہو گئے۔ حکیموں اور ڈاکٹروں نے لوگوں کو لیموں اور مالٹے کھانے کا مشورہ دیا۔ ان کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور بازار سے غائب ہو گئے۔ تاجروں کو خبر ملی کہ عبداللہ کے پاس ایک بڑی مقدار موجود ہے تو سب سونے اور چاندی کے صندوق لے کر اس کے دروازے پر آ گئے۔ عبداللہ نے بیوی سے کہا، سبحان اللہ، کل تک یہاں غریبوں کی قطار ہوتی تھی، آج امیروں کا ہجوم ہے۔ اس نے باری باری سب کو مال بیچا۔ شام تک گھر سونا اور چاندی سے بھر گیا۔

بیوی خوش تو تھی مگر پھر بھی اس کے دل میں شک تھا۔ کچھ دن بعد اسے پتہ چلا کہ عبداللہ نے یتیموں اور غریبوں کے لیے سرائے بنوائی ہے۔ وہ ڈر گئی کہ کلیموں اور مالٹو کا منافع بھی فضول نہ چلا جائے۔ وہ فوراً اس کے پاس گئی اور تیز لہجے میں بولی، "کیا تمہیں ان غریبوں کے چکر میں پڑ کر پچھلی بار کا انجام یاد نہیں؟" عبداللہ نے سکون سے کہا، "کیا تمہیں لگتا ہے ہمارے پاس اتنا سونا چاندی ہونے کے باوجود ہم غریبوں کا منہ بند کر دیں گے؟" بیوی نے کہا، "اللہ انہیں بھی رزق دے اور عطا کرے جیسے اس نے تمہیں دیا ہے۔"

رزق اور عطا دیا۔ پھر اس نے تیزی سے کہا، "میں جانتی ہوں کہ تمہارے پیچھے کوئی راز چھپا ہوا ہے۔" اور اگر تم نے مجھے سچ نہ بتایا تو میں سب کے سامنے مشہور کر دوں گی کہ تم جادوگر ہو۔ اور یہی تمہاری دولت کا راز ہے۔ یہ سن کر عبدل کا ناک گھبرا گیا۔ اس نے دل میں کہا، میں اسے اپنا راز بتا دوں گا کیونکہ مر جانا ہزار گنا بہتر ہے اس الزام سے جو میری زندگی بھر میرے ساتھ چپک جائے۔ لوگ جو سنتے ہیں یقین کر لیتے ہیں۔ پھر خود ہی سوچنے لگا، اگر میں نے اپنی بیوی کو راز بتا دیا تو میں مر جاؤں گا۔ جیسا کہ جنات کے بادشاہ نے۔

کہا تھا۔ اور پھر غریبوں اور کمزوروں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ بیوی کو اپنا راز بتانے کے بجائے وہ اپنا گھر، جائیداد، سونا، چاندی سب اس کے نام کر دے گا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ قاضی کے پاس گیا اور سب کچھ اس کے نام کر دیا۔ البتہ وہ زمین جس پر اس نے غریبوں کا میل ملاپ پناہ گاہ بنائی تھی، اسے ویسے ہی رہنے دیا تاکہ خیر کا کام جاری رہے۔ پھر اس نے بیوی سے کہا، برائے مہربانی آج کے بعد میرے قریب نہ آنا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو میں تم پر طلاق کا حق استعمال کر لوں گا۔ اب ہم دونوں اپنی اپنی مرضی کی زندگی گزاریں گے۔

گزارہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم دونوں میں کوئی چیز مشترک نہیں۔ عبداللہ غریبوں اور یتیموں کے درمیان رہنے لگا اور کہنے لگا کہ مرنے کے بعد میرے لیے صرف نیک اعمال اور غریبوں کی دعائیں ہی فائدہ مند ہوں گی۔ دوسری طرف بیوی نے ارادہ کیا کہ گھر کو گرا کر بادشاہوں جیسا محل بنائے گی اور بڑے تاجروں کے ساتھ کاروباری سودے کرے گی تاکہ مجید امیر ہو جائے۔ اس نے سوچا کہ میں نے کبھی شوہر کی وہ زندگی پسند نہیں کی جس میں وہ مجھے محروم رکھ کر دوسروں کو دیتا تھا۔ کچھ ہی عرصے میں اس نے محل تعمیر کر لیا، سونا چاندی جمع کر لی اور موسیقی اور گانے کے...

اوہزار بھر دیا۔ لیکن اس کے محل میں قدم رکھنے سے پہلے ہی زمین کانپ گئی اور محل سمیت سب کچھ زمین میں دھنس گیا۔ اس کے پاس کچھ بھی نہ بچا اور اللہ نے اسے انہی غریبوں میں شامل کر دیا جن پر وہ شوہر کو ترس کھانے سے روکتی تھی۔ اس دوران وہ اپنے بچے کی پیدائش کے قریب تھی۔ وہ ٹوٹے محل کے سامنے بیٹھ کر رو رہی تھی اور نوحہ کر رہی تھی۔ یہ سوچے بغیر کہ کہاں جائے کیونکہ سب کچھ لوٹ چکا تھا۔ لوگ گزرتے تو کوئی پرواہ نہیں کرتا تھا مگر غریب آ کر اس کے لیے کھانا اور پیسے رکھ جاتے تھے۔ وہ حیران ہو کر سوچتی، غریب کیسے دیتا ہے اور امیر کیسے روکتا ہے، مگر وہ کسی سے کچھ نہیں لیتی تھی۔

تین دن تک یہی حالت رہی۔ پھر بھوک نے اسے بےحال کر دیا اور وہ راہگیروں سے ایک خشک روٹی کے لیے ہاتھ پھیلانے لگا۔ ایک دن عبداللہ وہاں سے گزرا اور دیکھا کہ اس کا گھر زمین میں دھنس چکا ہے اور بیوی ایک بدحال اور بدبو دار بھیکاری بن چکی ہے۔ وہ اسے اٹھا کر ایک چھوٹے سے مکان میں لے آیا جو اس نے میلز کے پاس بنایا تھا۔ اس نے ایک مہینہ تک اس کی دیکھ بھال کی۔ یہاں تک کہ وہ دوبارہ صحت مند ہو گئی۔ کچھ ہی دنوں بعد اس نے ایک خوبصورت بچہ جنم دیا۔ عبداللہ نے دیکھا کہ اب وہ نہ شکایت کرتی ہے نہ کسی چیز پر نراشا ہوتی ہے۔ حالانکہ...

زندگی بہت سادہ تھی۔ وہ دوسرے مزدوروں کے ساتھ میلج کے پاس والی زمین پر کام کرتا تھا۔ ایک دن اس کی بیوی اس کے پاس کھڑی ہو کر بولی، "اگر تم چاہو تو میں تمہارے ساتھ کام کروں گی۔" عبداللہ نے حیرت سے کہا، "مگر یہ تو غریبوں کا کام ہے۔" وہ مسکرا کر بولی، "تو کیا ہوا اگر یہ غریبوں کا کام ہے؟ اللہ نے چاہا تو ان کا رزق دنیا میں کم رکھا، مگر وہ پھر بھی ہر حال میں شکر ادا کرتے ہیں۔" پھر اس نے نرمی سے کہا، "مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہارا مال ضائع کیا اور تمہارے ساتھ ناانصافی کی۔" عبداللہ مسکرا کر بولا، "تم ہی۔"

میرا اصلی مال یہی ہے اور میرا بیٹا میری جان ہے۔ یہ چھوٹا سا گھر ہمارے لیے کافی ہے۔ ہم اسی کے ساتھ والی زمین پر کام کریں گے اور سب سے خوشحال لوگ بنیں گے۔ صحت ہی سب سے بڑی دولت ہے اور یہی سب سے بڑی نعمت ہے۔ آج کی کہانی یہی ختم ہوتی ہے۔ اللہ آپ کو اپنی امان میں رکھے۔