ایک عورت نے ہمسائے کے دروازے پر دستک دی اور نمک مانگ لیا۔
ایک چھوٹا سا واقعہ جو ہمیں ہمسایوں کی مدد اور حسنِ سلوک کی اہمیت کا سبق دیتا ہے۔
ایک عورت نے اپنے ہمسائے کے دروازے پر دستک دی۔
دروازہ کھلا تو اس نے نہایت نرمی سے کہا:
“بھائی، اگر تھوڑا سا نمک مل جائے تو مہربانی ہوگی۔”
ہمسائے نے نمک دے دیا، مگر اس کے دل میں خیال آیا کہ روز روز یہ نمک کیوں مانگتی ہے؟
کچھ دن بعد پھر وہی عورت آئی، پھر نمک مانگا۔
یوں کئی بار ہوا۔
ایک دن ہمسائے نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا:
“آپ ہر بار نمک ہی کیوں مانگتی ہیں؟”
عورت نے آہ بھری اور آہستہ سے بولی:
“اصل میں میرے گھر میں کھانا نہیں پکتا،
میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ میرے بچوں کو یہ محسوس نہ ہو
کہ ہم اکیلے ہیں…
جب ہمسایوں کے دروازے پر دستک دیتی ہوں
تو دل کو تسلی ملتی ہے
کہ اس دنیا میں ابھی انسانیت زندہ ہے۔”
یہ سن کر ہمسائے کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس دن کے بعد اس نے صرف نمک ہی نہیں،
بلکہ محبت، خیال اور عزت بھی دینا شروع کر دی۔
سبق:
کبھی کبھی لوگ نمک نہیں مانگتے،
وہ صرف ساتھ، توجہ اور انسانیت مانگ رہے ہوتے ہیں۔
mnweb