دنیا میں پہلی بار بت پرستی کیسے شروع ہوئی

جانیں کہ دنیا میں پہلی بار بت پرستی کیسے شروع ہوئی، شرک کی اصل وجہ کیا تھی، قومِ نوح میں ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کون تھے، اور اسلام نے بت پرستی کا خاتمہ کیسے کیا۔ مکمل اور مستند اسلامی وضاحت۔

دنیا میں پہلی بار بت پرستی کیسے شروع ہوئی
دنیا میں پہلی بار بت پرستی کیسے شروع ہوئی

نازریں، آج کی اس گفتگو میں ہم ایک بہت اہم سوال کو آسان اور واضح انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ دنیا میں سب سے پہلے مورتیاں کس نے بنائیں؟ ان کی عبادت کیسے شروع ہوئی؟ اور شرک کی اصل وجہ کیا تھی؟ قرآن میں جن ناموں کا ذکر آتا ہے جیسے بدھ، سوا، یعقوب، یُوک اور نصر، اصل میں وہ کون تھے؟ یہ مورتیاں کیسے بنیں؟ اور آگے چل کر مختلف علاقوں میں کیوں ان کی عبادت شروع ہوئی؟ قیامت سے پہلے ایسا کیا ہوگا کہ یہ نام اور نشانیاں پھر سے سامنے آ جائیں گی؟ ساتھ ہی ہم یہ بھی جانیں گے کہ عرب میں خاص طور پر جاہلیت کے دور میں کیا حالات تھے۔

بت پرستی کی شروعات کیسے ہوئی؟

 کعبہ میں بتیں کس نے رکھی تھیں اور لات، منات، اُجھا اور ہبل کی اصل حقیقت کیا تھی؟ ان تمام سوالات کے جواب ہم قرآن اور حدیث کی روشنی میں آسان زبان میں آپ کے سامنے رکھیں گے۔ دوستو، اسلام میں شرک کو سب سے بڑا گناہ بتایا گیا ہے۔ شرک کا مطلب ہے اس ایک اللہ کی عبادت میں کسی اور کو شامل کرنا جو اکیلا ہے اور پوری کائنات کا خالق ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں شرک موجود رہا۔ اس کے باوجود دنیا میں کئی مذہب ایسے بھی ہیں جو ایک ہی خدا کو مانتے ہیں۔ اسلام اس بات کو سب سے واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔

عمومی طور پر یہ بات پیش کی جاتی ہے اور یہودی، عیسائی، بدھ مت جیسے مذاہب بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ کائنات کا خالق ایک ہی ہے۔ اسلام سے پہلے عرب میں ایسی حالت تھی کہ کعبہ جو توحید کا مرکز تھا، وہاں بھی بت رکھے گئے تھے۔ لوگ انہی کے نام پر طواف کرتے، سجدے کرتے اور انہیں اللہ کے قریب سفارش کرنے والا سمجھتے تھے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب انبیاء ہمیشہ ایک خدا کی دعوت دیتے رہے تو پھر بت پرستی کیسے شروع ہوئی؟ تاریخ میں اس بارے میں مختلف باتیں ملتی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ پرانے زمانے میں کچھ لوگ...

خواب دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ کسی خاص چیز کی عزت کرنے سے ان کی پریشانی دور ہو جائے گی۔ جب ان کی مشکل حل ہوتی تو وہی  آہستہ آہستہ رواج بن گیا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ جب کسی نیک انسان کا انتقال ہوتا تو لوگ اس کی یاد میں اس کی قبر یا نشانی سے جُڑ جاتے۔ پہلے یہ صرف یاد اور احترام تک محدود تھا لیکن وقت کے ساتھ یہی احترام عبادت کی شکل لینے لگا۔ اسلامی نقطہ نظر سے قرآن مجید میں سورۃ نوح میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ وُسُوا یَغُوصَ وَیَنصُرُ اصل میں کچھ نیک لوگ تھے۔ وہ بہت عبادت گزار اور پارہیزگار تھے اور لوگ ان سے بہت محبت کرتے تھے۔

وہ کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں لوگ ان سے  دین سیکھتے تھے اور ان کی صحبت سے بہتر ہوتے تھے۔ جب ان نیک لوگوں کا انتقال ہوا تو ان کے چاہنے والے بہت اداس ہو گئے۔ آہستہ آہستہ  لوگوں کے جوش میں کمی آنے لگی۔ ایسے میں شیطان نے انہیں یہ بات مشورہ دی کہ اگر ان کی تصویریں یا نشانیاں سامنے رہیں تو عبادت میں دل لگے گا۔ شروع میں یہ صرف یاد کے لیے تھا، عبادت کے لیے نہیں، لیکن یہی وہ موڑ تھا جہاں سے غلطی شروع ہوئی۔ اگلی نسلوں نے یہ نہیں جانا کہ ان کے بڑوں نے یہ نشانیاں صرف یاد کے لیے رکھی تھیں۔ شیطان نے بعد میں...

نسلوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی گئی کہ ان کے ذریعے فائدہ ہوتا ہے۔ یوں مورتیاں عبادت کا درجہ پا گئیں اور دنیا میں پہلی بار بت پرستی شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ یہ رواج مختلف علاقوں میں پھیلتا گیا۔ ہر قبیلے نے اپنے اپنے بت بنا لیے۔ یہاں تک کہ یہ سلسلہ کعبہ تک پہنچ گیا۔ آگے چل کر سورج، چاند اور ستاروں کی بھی عبادت ہونے لگی۔ کچھ لوگوں نے تو خود کو خدا کہنے لگے، جیسا کہ نمرود اور فرعون کی کہانیوں میں ملتا ہے۔ عرب میں بت پرستی کے پھیلنے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ آہستہ آہستہ باہر سے آئی۔

ایک شخص امرو بن لہی نے اسے عرب میں عام کیا اور کعبہ میں بت رکھے۔ اس کے بعد جہالت کے دور میں بت پرستی پوری طرح پھیل گئی۔ ناظرین، اس پوری کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ شرک اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ عزت اور یاد سے شروع ہو کر آہستہ آہستہ عبادت میں بدل گیا۔ اسلام ہمیں بار بار یہی یاد دلاتا ہے کہ عبادت صرف اللہ کے لیے ہے اور اسی میں انسان کی کامیابی ہے۔ اگر آپ کو یہ معلومات پسند آئیں تو ویڈیو کو لائک کریں، شیئر کریں اور چینل کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک...

موقع پر فرمایا کہ میں نے عمر بن عامر بن لُہ خُزائی کو انجام کے حالات میں دیکھا اور بتایا کہ وہی پہلا شخص تھا جس نے صاحِبہ کی رسم شروع کی۔ صاحِبہ اُس جانور کو کہا جاتا تھا جسے لوگ اپنے بنائے ہوئے معبودوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ نہ اُس پر بوجھ ڈالا جاتا، نہ سواری کی جاتی اور نہ ہی کسی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا۔ ناذرین عمر بن لُہائی ایک بار ملک شام گیا۔ وہاں اُس نے لوگوں کو مورتوں کی عبادت کرتے دیکھا۔ کیونکہ وہ علاقہ پہلے نبیوں کی زیرِ نگہداشت رہا تھا اس لیے اُس نے غلط فہمی میں بُت پرستی کو ہی صحیح راستہ سمجھ لیا۔

سمجھ لیا۔ وہ اپنی ساتھ مؤرتیاں لے کر مکہ آیا اور انہیں کعبہ کے اندر رکھ دیا۔ اہل مکہ اسے اپنا بڑا اور رہنما سمجھتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے بھی اس کی حمایت شروع کر دی۔ دھیرے دھیرے یہ رسم بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ کعبہ میں 360 مؤرتیاں رکھ دی گئیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں سورۃ نجم میں فرماتے ہیں: "کیا تم نے لات اور عزہ کو دیکھا؟ اور تیسرے منات کو بھی۔" عرب میں تو کئی مؤرتیاں تھیں لیکن لات اور عزہ سب سے زیادہ مشہور تھیں۔ لات کے بارے میں لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ خوشحالی اور طاقت دیتی ہے۔ عزہ کو لوگ...

دن اور رات کے بدلنے کو انہی سے جوڑتے تھے۔ مکہ کے لوگ یہ تک کہنے لگے تھے کہ لات اللہ کا بیٹا ہے اور عزرہ اللہ کی بیٹی۔ حالانکہ اصل میں لات ایک نیک انسان تھا جو حاجیوں کی خدمت کرتا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ وہ آنے والوں کو پانی پلایا کرتا تھا۔ اسی طرح عزرہ کے نام سے ایک نیک اور شریف عورت کا ذکر ملتا ہے۔ وقت کے ساتھ لوگوں نے ان کے بارے میں بڑھا چڑھا کر باتیں بنانا شروع کر دی۔ بعد میں کچھ لوگوں نے ان کی یاد میں نشانیاں بنائیں اور یہی نشانیاں آہستہ آہستہ عبادت کا ذریعہ بن گئیں۔ ناظرین یہی وہ موڑ تھا جہاں

عزت عقیدت میں بدل گئی اور عقیدت عبادت میں۔ وقت گزرتا گیا اور لوگ ان مجسموں کے سامنے جھکنے لگے۔ پھر چڑھاوے دینے لگے۔ یہاں تک کہ قربانیاں بھی پیش کی جانے لگیں۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام غلط رواجوں کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ لات اور عجہ کے نشانیاں ہٹا دی گئیں تاکہ توحید کا پیغام دوبارہ صاف ہو جائے۔ اس طرح مکہ کی سرزمین کو ہر قسم کی بت پرستی سے پاک کیا گیا۔ نصرانیوں سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ بت پرستی کی شروعات اکثر نیک لوگوں سے حد سے زیادہ لگاؤ سے ہوتی ہے۔

پہلے یاد آتا ہے، پھر عقیدہ بنتا ہے اور پھر وہی عقیدہ عبادت میں بدل جاتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو سجانے، وہاں میلے لگانے یا سجدہ کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ کیونکہ یہ راستہ انسان کو آہستہ آہستہ شرک کی طرف لے جاتا ہے۔ کامیابی صرف اور صرف اس ایک اللہ کی عبادت میں ہے جو نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ کا رب ہے۔ ناظرین، رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمیں صبر، انصاف اور رحمت کی بہترین مثال دیتی ہے۔ آپ نے ہر حال میں...

انسانیت، صبر اور اعلیٰ اخلاق کو اپنایا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح سمجھ، صحیح عمل، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مشکل گھڑی میں بھی کسی قسم کا غصہ ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی سخت بات کہی۔ آپ پورا دن وہیں بیٹھے رہے اور ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں بھی وہیں ادا کیں۔ رات ہوگئی مگر آپ نے صبر اور سکون کا دامن نہیں چھوڑا۔ ناظرین  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملنے کی...

تین سال تک چھپ کر اسلام کی دعوت دی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا حکم آیا کہ اب آپ کھل کر لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ جب حج کے دن شروع ہوئے تو پورے جزیرۃ العرب سے لوگ مکہ آنے لگے۔ ایسے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھے اور بلند آواز میں فرمایا، "اے لوگوں! میں اللہ کا رسول ہوں۔ اللہ رب العالمین پر ایمان لے آؤ۔" لوگ حیرت سے آپ کی طرف دیکھنے لگے۔ سب جاننا چاہتے تھے کہ یہ پیغام دینے والا کون ہے۔ پھر آپ صفا سے اتر کر مروہ پہنچے اور وہاں بھی تین بار یہی پیغام دیا۔ جب ابو جہل نے یہ اعلان سنایا...

سنا تو وہ بہت ناراض ہوا۔ اس نے تم پر حملہ کروایا اور حالات اتنے خراب ہو گئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان کی حفاظت کے لیے کوہِ ابو کبیس کی طرف جانا پڑا۔ کچھ دیر بعد احتجاج کرنے والے تھک کر واپس چلے گئے۔ اسی دوران ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو غلط خبر دی جس سے انہیں بہت دکھ ہوا۔ وہ فوراً ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے اور کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنا چاہیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت بےچین ہو گئے۔

تمہیں ڈھونڈنے نکلے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے اور وہ دعا کر رہی تھیں کہ اللہ ان کے نبی کی حفاظت کرے۔ اسی وقت اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نازل ہوئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اللہ اس قوم کو سزا دے سکتا ہے۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں، سزا دینے والا نہیں۔ اے اللہ میری قوم کو معاف کر دے، یہ مجھے نہیں جانتے۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کو تلاش کر رہی ہیں اور اللہ کی...

انہوں نے سلام کہا اور جنت کی خوشخبری سنائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بلایا۔ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کی دیکھ بھال کی اور آپ کو گھر لے آئے۔ جب مخالفت کرنے والوں کو معلوم ہوا کہ آپ گھر واپس آ گئے ہیں تو انہوں نے گھر کے باہر ہنگامہ کیا۔ اس پر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا باہر آئیں اور انہیں شرم اور انصاف کی یاد دلائی۔ ان کی بات سن کر لوگ شرمندہ ہو گئے اور وہاں سے چلے گئے۔ اس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی۔ آغاز صبر، رحمت اور بلند اخلاق کے ساتھ ہوا۔

اخلاق کے ساتھ پیش آئے۔ آپ نے ہر قدم پر مشکلات سہیں لیکن کبھی بددعا نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔