عورت کا مان

عورت کا مان

عورت کا مان

 

عورت کا مان فقط ایک جملہ نہیں تھا،یہ صدیوں کی خاموشی کا نوحہ تھا،وہ خاموشی جو عورت اپنے مان کے ٹوٹنے پر لبوں پر نہیں،دل میں اوڑھ لیتی ہے۔وہ شروع سے ایسی نہیں تھی،وہ بولتی تھی،مسکراتی تھی،اپنے لفظوں پر یقین رکھتی تھی،مگر جب اس نے محبت کی تو پورے وجود کے ساتھ کی۔مرد چاہنے والا تھا،آنکھوں میں خواب تھے،باتوں میں وعدے تھے،اور ہاتھوں میں اس کا ہاتھ لے کر ساتھ چلنے کا دعویٰ کرتا تھا،عورت نے اس دعوے کو سچ مان لیا،کیونکہ عورت جب مان لیتی ہے تو شک نہیں کرتی۔مگر زندگی کے سفر میں ایک موڑ ایسا آیا جہاں مرد کی انا محبت سے بڑی ہو گئی۔وہ لمحہ بظاہر معمولی تھا مگر عورت کے اندر سب کچھ بدل گیا،اس نے بس اپنی بات کہی تھی،نہ چیخ،نہ شکوہ،صرف احساس،مگر اس کے لفظ فضول کہلا دیے گئے،اس کے آنسو کمزوری سمجھے گئے،اور اس کا مان محض ایک ضد کے نیچے کچل دیا گیا۔عورت نے کچھ نہیں مانگا تھا،نہ تخت،نہ تاج،نہ اختیار،وہ تو بس یہ چاہتی تھی کہ اس کی بات سنی جائے،اس کے احساس کو اہم سمجھا جائے،اور اس کے وجود کو انا کی جنگ میں قربان نہ کیا جائے،مگر مرد یہ بھول گیا تھا کہ محبت جیتنے کا نام ہے،ہارنے کا نہیں،اور انا اکثر سب کچھ جیتوا نہیں سکتی بلکہ سب کچھ چھین لیتی ہے۔جب بھی مرد اپنی انا کے دفاع میں عورت کے مان پر وار کرتا،عورت چیختی نہیں تھی،وہ آہستہ آہستہ ٹوٹتی تھی،خاموشی کے ساتھ،وہ ہنستی رہتی،بولتی رہتی،نبھاتی رہتی،مگر اس کے اندر کچھ مر چکا ہوتا،کچھ ہمیشہ کے لیے۔اور پھر ایک دن وہ عورت جو مان سے جیتی تھی،خاموش صبر کے ساتھ خود کو سمیٹ لیتی ہے،نہ شکایت،نہ الزام،بس ایک تھکی ہوئی دعا اور ایک بجھا ہوا یقین۔یہ کہانی کسی الزام کا اعلان نہیں،یہ ایک احساس کی گواہی ہے کہ محبت جب انا میں بدل جائے تو سب سے پہلے عورت کا مان ٹوٹتا ہے۔