یادوں سے آگے بڑھنے کا حوصلہ
یادوں سے آگے بڑھنے کا حوصلہ
میں نے برسوں تمہارے نام پر اپنی ہر دعا لکھ دی تھی۔ میری ہر خاموشی تمہاری یاد کے ساتھ بندھی رہی۔ تم وہ عادت تھے جو روح میں اتر جائے تو چھوٹتی نہیں، اور میں وہ ضد تھی جو ٹوٹ کر بھی تمہیں مانگتی رہی۔
وقت گزرتا رہا، اور میں اسی ضد کے سہارے جیتی رہی۔ مگر اب دل میں ذرا سا حوصلہ آیا ہے، آنکھوں میں تھوڑی سی روشنی اتری ہے۔ اب میں نے سیکھ لیا ہے کہ ہر محبت کا انجام وصال نہیں ہوتا۔ کچھ محبتیں صرف ہمیں مضبوط بنانے آتی ہیں، اور خاموشی سے لوٹ جاتی ہیں۔
اسی احساس کے ساتھ میں نے خود سے کہا کہ اب مجھے آگے بڑھنے کی اجازت چاہیے۔ میں تھک گئی ہوں تمہاری یاد کے مزار پر روز چراغ جلا جلا کر۔ میں تھک گئی ہوں ہر خوشی سے پہلے تمہارا نام سوچ کر۔
اب زندگی میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ کوئی ہے جو تم سا لگتا ہے۔ ہو بہو تم نہیں، مگر تمہاری کمی کو ذرا سا بھر دیتا ہے۔ اس کی باتوں میں تمہاری سی نرمی ہے، اس کی خاموشی میں تمہاری سی گہرائی ہے، اور اس کی آنکھوں میں وہی سکون ہے جس کی تلاش میں میں نے خود کو کھو دیا تھا۔
میں خود کو سمجھاتی ہوں کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ میں تمہیں بھول نہیں رہی، بس تمہیں دل کے اس کمرے میں منتقل کر رہی ہوں جہاں یادیں رہتی ہیں اور درد نہیں رہتا۔ اب تم ایک احساس ہو، ایک دعا ہو، ایک ادھوری مگر خوبصورت کہانی ہو۔
میں نے تم سے سیکھا کہ محبت کیا ہوتی ہے۔ میں نے تم سے جانا کہ انتظار کس کو کہتے ہیں۔ اور میں نے تم سے مانا کہ ٹوٹ کر چاہنا بھی کبھی کبھی عبادت ہوتا ہے۔ مگر ہر عبادت کے بعد سجدے سے سر اٹھانا پڑتا ہے، اور اب میں سر اٹھانا چاہتی ہوں۔
میں اب اپنی زندگی میں نئی صبح چاہتی ہوں، نیا یقین چاہتی ہوں، اور نیا سہارا چاہتی ہوں۔ وہ جو اب میری زندگی میں ہے، میری باتوں کو بغیر کہے سمجھ لیتا ہے۔ وہ میرے زخموں کو سوال نہیں بناتا بلکہ دعا بنا دیتا ہے۔
یہ بے وفائی نہیں، یہ خود سے وفا ہے۔ یہ تمہیں چھوڑنا نہیں، یہ خود کو بچانا ہے۔ یہ تمہاری محبت کو کم کرنا نہیں، یہ اپنی زندگی کو اہمیت دینا ہے۔
تو خیر، اب مجھے آگے بڑھنے کی اجازت دے دو۔ تم میرے ماضی کی ایک خوبصورت لکیر ہو، اور وہ میرے مستقبل کا امکان ہے۔ میں تمہیں احترام کے ساتھ دل میں رکھ کر، اب مسکرا کر زندگی کی طرف لوٹنا چاہتی ہوں۔
mnweb