حضرت عمرؓ کے دور میں ایک جادوگر تھا جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ غیب کا علم جانتا ہے۔

حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک جادوگر موجود تھا جو لوگوں کو یہ یقین دلاتا تھا کہ وہ غیب کے حالات اور مستقبل کا علم رکھتا ہے۔ یہ واقعہ تاریخی اور عبرت آموز کہانی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

حضرت عمرؓ کے دور میں ایک جادوگر تھا جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ غیب کا علم جانتا ہے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں ایک جادوگر تھا جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ غیب کا علم جانتا ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم۔ اسلام قبول کرنے سے کئی سال پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ تجارت کے قافلے کے ساتھ مال لے کر مکہ سے شام گئے۔ قافلے میں قریش کے کئی بڑے سردار بھی شامل تھے۔ یہ قافلہ شام کے سب سے بڑے شہر دمشق گیا، وہاں اپنا مال بیچ کر مکہ واپس روانہ ہوا۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یاد آیا کہ ان کی ایک رشتہ دار خاتون نے انہیں کچھ سونا دیا تھا کہ اسے بیچ کر اس کے لیے کچھ کپڑے وغیرہ لے آئیں۔ انہوں نے اپنے قافلے کے ساتھیوں سے کہا۔

کہ میں فلاں عورت کا کام کرنے واپس دمشق جا رہا ہوں، کوشش کروں گا کہ یہ کام کرکے جلدی واپس آ جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دمشق واپس گئے تو بازار بند ہو چکے تھے، مجبوراً وہ ایک مسافر خانے میں رُک گئے اور سو گئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد اللہ کا ایک بندہ مسافر خانے میں آیا، اس نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جگایا اور اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا۔ یہ بات عجیب نہیں تھی کہ وہ شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہلے سے جانتا تھا یا ان کے والد سے واقفیت تھی۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ...

بہت بھوکے ہونے کی وجہ سے وہ کھانا کھا کر سو گئے اور ان کے میزبان نے ساری رات عبادت کی۔ صبح کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جاگے تو ان کے میزبان نے کہا کہ اکیلے بازار مت جانا، بازار میں ڈاکو اکثر مسافروں کو لوٹ لیتے ہیں، میرے ساتھ چلو۔ یہ کہہ کر وہ سو گئے کیونکہ وہ ساری رات جاگے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور اکیلے ہی بازار چل پڑے۔ ابھی بازار کھلا بھی نہیں تھا، وہ بازار کے کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ایک عیسائی پادری اپنے نوکروں کے ساتھ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ...

انہوں نے انہوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ اس آدمی کو پکڑ لو، یہ چرچ کا کام بہت اچھے طریقے سے کر لے گا۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے زور آور پہلوان تھے۔ پادری کے نوکروں نے انہیں پکڑ لیا اور ایک پرانے چرچ میں لے گئے۔ پادری نے انہیں ایک ہتھوڑا دیا اور چرچ کی ایک دیوار توڑنے کا کام سونپ دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ وہاں نیا چرچ بنوانا چاہتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سارا دن محنت کرتے رہے، شام کو جا کر چھٹی ملی اور وہ تھکے ہارے واپس مسافرخانے میں آ کر بیٹھ گئے۔

وہ اچھا انسان جو پہلے دن آیا تھا، دوبارہ آیا اور پوچھا کہ آپ کہاں گئے تھے؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے سارا قصہ بتا دیا۔ وہ شخص آج بھی انہیں اپنے گھر لے گیا اور بڑی مہمان نوازی کی، اور تاکید کی کہ کل جب بازار جاؤ تو مجھے بھی ساتھ لے جانا۔ اس کے بعد وہ عبادت میں مشغول ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سو گئے۔ دوسرے دن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جاگے تو اپنے نیک میزبان کو سوتے پایا۔ اس بار انہوں نے اسے جگانا مناسب نہ سمجھا اور اکیلے ہی بازار چلے گئے۔ اتفاق سے پھر وہی پادری...

اپنے نوکروں کے ساتھ آیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکڑ کر لے گیا۔ انہیں بہت غصہ آیا لیکن کیا کرتے، غیر ملک میں وہ اکیلے تھے اور ان کے پاس کوئی ہتھیار بھی نہیں تھا۔ دوسری طرف پادری کے ساتھ سات آٹھ نوکر تھے اور وہ سب ہتھیار بند تھے۔ پہلے دن کی طرح ہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہتھوڑے سے گرجے کی دیوار توڑتے رہے۔ جب دھوپ تیز ہوئی تو پادری اور اس کے نوکر انہیں کام میں مصروف دیکھ کر چلے گئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیوار کے سائے میں بیٹھ کر سانس لینے لگے۔ اتنے میں وہ پادری گھوڑے پر سوار ہو کر چپکے سے آ گیا۔

اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر پر زبر لگا اور کہا کہ ہم سب گھر گئے تو تم نے کام ہی چھوڑ دیا۔ اب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صبر کی تاب نہ رہی، انہوں نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی، ہر طرف سناٹا تھا۔ انہوں نے پادری کو گھوڑے سے کھینچ کر نیچے اتارا اور اس کے سر پر ہتھوڑے سے ہتھوڑے مارنا شروع کر دیے۔ وہ بہت چیخا چلایا لیکن اس کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٹوٹی ہوئی دیوار کا ایک بھاری ٹکڑا اٹھا کر اس کے سر پر مارا۔ وہ پہلے ہی زخمی تھا، اب اس نے دم توڑ دیا۔ اسے مرتے دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ...

وہ تیزی سے بھاگ نکلے اور جس راستے سے دمشک آئے تھے، وہ راستہ چھوڑ کر کسی اور طرف چل پڑے۔ شہر سے کافی دور جا کر انہیں ایک کھچر پر سوار رومی شخص ملا جو روم سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ان کے ساتھ چلنے لگا اور کچھ باتیں کرنے لگا، لیکن نہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی زبان سمجھتے تھے اور نہ وہ ان کی زبان سمجھتا تھا۔ اچانک اس نے اپنی تلوار پر ہاتھ رکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمجھ گئے کہ وہ ان پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے فوراً کھچر سے اسے کھینچ لیا، تلوار چھین کر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر آپ...

گدھے پر سوار ہو کر آگے بڑھا، اس کے بعد کیا ہوا؟ سارا حال خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یوں بیان کیا ہے کہ وہاں سے روانہ ہو کر میں ایک چرچ میں پہنچا جہاں عیسائیوں کی ایک جماعت رہتی تھی۔ میں چرچ کے اندر داخل ہوا تو چرچ میں رہنے والے سب لوگ میرے گرد جمع ہو گئے اور مجھ سے میرے حالات کے بارے میں پوچھنے لگے۔ پھر وہ مجھے اپنے پادری کے پاس لے گئے۔ پادری نے مجھے غور سے دیکھا اور پھر کہا، "کیا ایسا لگتا ہے کہ تمہیں کسی چیز کا خوف ہے؟" میں نے کہا، "تم نے کیسے اندازہ لگا لیا کہ..."

مجھے کسی چیز کا خوف تھا، اس نے میرے سوال کو ٹال دیا اور کہا کہ آپ جب تک چاہیں یہاں ٹھہر سکتے ہیں، آپ کو یہاں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، آپ ہماری حفاظت میں ہیں۔ پھر اس پادری نے مجھے اپنے گھر میں مہمان کی طرح رکھا اور میری بہت عزت کی۔ اس کے بعد اس نے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ میں نے بتایا کہ میں مکہ کا رہنے والا ہوں اور قبیلہ قریش سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں تجارتی قافلے کے ساتھ شام آیا تھا۔ تجارتی سامان بیچنے کے بعد ایک ضروری کام کے لیے مجھے اپنے قافلے سے الگ ہو کر دمشق واپس جانا پڑا۔ اب میں اپنے وطن واپس جا رہا ہوں اور راستہ...

بھٹکتا ہوا یہاں آ پہنچا ہوں، پادری مجھے غور سے دیکھتا رہا اور بار بار طرح طرح کے سوال کرتا رہا۔ میں نے ان کے یہاں بالکل آرام سے گزارا۔ صبح کو آ کر پوچھا، "کیا آپ کا ارادہ یہاں ٹھہرنے کا ہے یا آگے جانے کا؟" میں نے کہا کہ اب میں آپ سے رخصت ہونا چاہوں گا۔ یہ سن کر پادری نے اپنا ایک شاندار گدھا لیا جو بہت خوبصورت اور بہت تیز رفتار تھا۔ اس گدھے کی پیٹھ پر مزیدار کھانے کی چیزیں اور قیمتی تحفے رکھے ہوئے تھے۔ پھر اس نے کہا، "آپ اس گدھے پر سوار ہو جائیں، اور راستے میں آپ کا گزر کسی عیسائی کے گھر کے پاس سے ہوگا تو وہ..."

تمہیں اس گدھے پر سوار دیکھ کر میں تمہاری بہت عزت کروں گا اور تمہارے لیے کوئی کوتاہی نہیں چھوڑوں گا، یہ کہہ کر پادری نے میرا ہاتھ پکڑا اور تنہائی میں لے جا کر کہا، عمر، تم پر میرا حق بنتا ہے۔ میں نے کہا، بے شک۔ اس نے کہا، تمہارا تعلق ایک مومن قوم سے ہے، میری تم سے ایک گزارش ہے۔ میں نے کہا، کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ لیکن حیرت کی بات ہے، کیا آپ جیسے بڑے آدمی مجھ جیسے پریشان حال مسافر سے کوئی گزارش رکھ سکتے ہیں؟ اس نے بڑے یقین سے کہا، سنو، میں وہ آدمی ہوں جسے اللہ نے آسمانی کتابوں کا علم دیا ہے۔ میں نے...

آپ کی قبیلے میں بہت سی ایسی نشانییاں دیکھی گئی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ جب ایک مدت پوری ہو جائے گی تو حالات میں زبردست تبدیلی آئے گی، اُس وقت آپ ہمارے ملک کے حکمران بن جائیں گے اور یہاں کے تمام شہروں میں آپ کا ہی راج ہوگا۔ اس کے بعد پادری نے اپنی جیب سے دوا، قلم اور کاغذ نکال کر کہا کہ میری درخواست یہ ہے کہ کیا آپ اس کاغذ پر لکھ دیں کہ کسی چرچ اور اس کی جائیداد پر کسی قسم کا کوئی محصول نافذ نہیں کیا جائے گا۔ میں حیرت سے پادری سے بولا کہ کیا آپ مجھ سے مذاق تو نہیں کر رہے؟ اس نے کہا کہ قسم ہے اُس قبیلے کی جس نے حضرت...

عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی گئی ہے۔ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ بالکل سچ ہے۔ آپ مہربانی کریں اور میری درخواست قبول فرمائیں۔ میں نے پادری کی باتوں کو اس کا وہم سمجھا اور جیسا اس نے کہا، ویسے ہی کاغذ پر لکھ کر دے دیا۔ اس کے بعد گدھے پر سوار ہو کر چل دیا۔ راستے میں مجھے کئی جگہ عیسائیوں کی جماعتیں ملیں۔ انہوں نے مجھے ایک پادری کے گدھے پر سوار دیکھ کر میری بہت مہمان نوازی کی۔ میں اسی طرح جگہ جگہ عیسائیوں کا مہمان بنتا گیا اور آخر کار تبو تک پہنچ گیا۔ اللہ کی شان، جس تجارتی قافلے کے ساتھ میں گیا تھا، وہ کافی دیر میرا انتظار کر رہا تھا۔

اس کے بعد میں اس جگہ سے چل پڑا جہاں میں نے اسے چھوڑا تھا اور اب تبو میں ایک کنویں کے قریب ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ قافلے والے میرے ساتھی مجھے دیکھ کر میری طرف دوڑے اور مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ابنِ خطا، ہم لوگ تمہارا انتظار کرتے کرتے بالکل مایوس ہو گئے تھے، تو ہم نے وہ گھر چھوڑ دیا جہاں سے تم واپس دمشق گئے تھے، مگر تمہارے بارے میں ہم سخت پریشان تھے۔ یہ تو بتاؤ کتنے دن تم وہاں رہے؟ میں نے وہ ساری حالتیں بیان کیں جو میرے سامنے آئیں، لیکن پادری سے جو میری بات چیت تنہائی میں ہوئی، وہ بالکل ظاہر نہیں کی۔

کیونکہ میں پادری کی ان باتوں کو اس کا وہم سمجھتا تھا اور اس کے عقیدے۔ ارے دیکھو اسے کسی ایسی جگہ چھوڑ دیا جائے جہاں نہ پانی ہو نہ سبزہ، پھر بھی اسے رزق مل جائے گا۔ پادری نے رخصت ہوتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ جاؤں اور گدھے کی ضرورت نہ رہے تو اس کی رسی کو مضبوطی سے باندھ کر گدھے کو اسی جگہ چھوڑ دینا۔ لہٰذا میں نے ویسا ہی کیا۔ یہ دیکھ کر ابو سفیان نے کہا، "کیا! ارے تم نے کیا کر دیا؟ گدھے کو ایسی جگہ چھوڑ دیا جہاں چور، ڈاکو اور درندے اکثر گزرتے ہیں۔" میں نے کہا۔۔۔

اس کے مالک نے مجھے بھی ایسا ہی کرنے کی ہدایت دی تھی، وہ اس کی عادات سے زیادہ واقف ہے۔ اب وہ جگہ گدھے والے کنوئیں کے نام سے مشہور ہے۔ وہاں سے روانہ ہو کر ہمارا قافلہ مکہ پہنچا۔ میرے اور پادری کے درمیان جو بات چیت ہوئی تھی وہ مجھے کبھی بھول نہ پائی۔ پہلے کئی دن تک میں نے اسے اپنے دل میں ہی رکھا، پھر مجھے ضبط نہ ہوا اور یہ راز میں نے اپنے رشتہ دار خاتون کے سامنے ظاہر کیا، جس نے مجھے سونا دیا تھا۔ وہ بڑی ہوشیار خاتون تھی، اس نے مجھ سے کہا، "ابنے خطا، میں تمہارے بچپن سے ہی تم میں اچھی نشانیاں دیکھ رہی ہوں جب تم..."

بہت چھوٹے بچے تھے تو میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ تم لمبے ہوتے جا رہے ہو اور تمہارا قد اتنا لمبا ہو گیا ہے کہ اس نے آسمان کو چھو لیا ہے۔ یہ دیکھ کر میں نے خواب میں کہا، کیا یہ میرے بچے کی کیا حالت ہو گئی ہے؟ کسی نے کہا کہ لڑکا دنیا اور آخرت میں بھلائی پانے والا بنے گا۔ جاہل کے زمانے میں اس قسم کی باتوں کا مطلب میرے سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ مکہ میں ایک شخص اہلِ کتاب یعنی یہودی اور نصاریٰ میں سے تھا جو بہت گمنام تھا، عام لوگ تو اس سے واقف بھی نہیں تھے، لیکن قریش کے کچھ سردار اسے پہچانتے تھے اور اس کی بہت عزت کرتے تھے۔

ایک دن دوپہر کے وقت میں اس کے پاس گیا اور کہا کہ میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ انہیں اپنے دل میں چھپا کر رکھیں اور کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں۔ اس نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا تو میں نے اپنی ساری باتیں اس کے سامنے رکھ دیں اور اپنے رشتہ دار خاتون کے خواب کا بھی ذکر کیا۔ جب میں اپنی بات ختم کر چکا تو اس نے کہا کہ جو غلطی تم نے محسوس کی ہے اور جس کا وعدہ تم نے لکھ کر دیا ہے، وہ اس زمانے میں عیسائیوں کا سب سے بڑا عالم ہے۔ جو کچھ اس نے کہا وہ سب سچ ہے اور جلد ہی وہ سچ ثابت ہوگا۔

تمہارے سامنے آ جائے گا جہاں تک تمہاری رشتہ دار خاتون کے خواب کا تعلق ہے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مکہ میں ایک بہت بڑا انقلاب آئے گا، زمانہ ایک نئی صورت اختیار کرے گا اور آنے والے زمانے کے آسمان اور زمین بدل جائیں گے۔ میں وہاں سے گھر چل آیا اور اس کی ساری باتیں اپنے دل میں لیے رہا۔ تھوڑی ہی دیر بعد قریش کی مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہونے لگا۔ یہ لوگ اس بات پر ناراض ہوتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتے ہیں، لوگوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہیں اور...

اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر زور دیا جاتا ہے، جلد ہی اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہر کیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ حالات وہی رخ اختیار کر رہے ہیں جس کی طرف آسمانی کتابوں کے عالم شام کے پادری نے اشارہ کیا تھا۔ نبوت کے چھٹے سال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانثار ساتھی بن گئے۔ 11 ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ بنے۔ 13 ہجری میں انہوں نے وفات پائی۔

تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے، ان کے سفر نامے کی روایت کرنے والے راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی خلافت کے دور میں شام تشریف لے گئے۔ وہاں ایک بہت بوڑھا آدمی، جس کے بال برف کی طرح سفید ہو چکے تھے، عیسائیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "کیا امیر المؤمنین، کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "اگر آپ شام کے فلاں شہر کے پادری ہیں تو میں آپ کو جانتا ہوں۔" اس نے کہا: "جی ہاں، میں وہی پادری ہوں۔" حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ...

تالا انہو نے فرمایا کہ میں نے آپ سے لکھ کر جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہمیں عزت بخشی، انہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کی طرف دعوت دی اور ہم نے اسے قبول کیا۔ آپ ہی نے مجھے ان باتوں سے آگاہ کیا تھا، اب آپ کو کون سی چیز اسلام قبول کرنے سے روک رہی ہے؟ بوڑھے پادری نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باتیں سن کر فوراً اپنے ساتھیوں سمیت کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جادوگروں سے بہت نفرت تھی۔

جہاں کہیں بھی پتہ چلتا کہ وہاں کوئی جادوگر ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں ایک شخص تھا جو لوگوں کو بتا دیتا تھا کہ تمہارے ہاتھ میں کتنی کنکریاں ہیں، وہ ظاہر کرتا تھا کہ مجھے غیب کا علم ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس جادوگر کو بلایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور اپنے ہاتھ میں کچھ کنکریاں اٹھا لیں۔ پھر جادوگر سے کہا، چل بتا میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ جادوگر نے کہا کہ آپ کے ہاتھ...

میرے پاس کنکریاں ہیں، پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بتاؤ کتنی کنکریاں ہیں؟ جادوگر نے کہا پانچ کنکریاں ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور کچھ اور کنکریاں اٹھا لیں، پھر فرمایا اب بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ جادوگر نے کہا آپ کے ہاتھ میں کنکریاں ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بتاؤ کتنی کنکریاں ہیں؟ جادوگر نے کہا مجھے معلوم نہیں۔ ساری محفل حیران رہ گئی، آخر یہ کیا معاملہ ہے؟ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جب میں نے پہلی بار کنکریاں اٹھائی تھیں تو مجھے بھی معلوم تھا کہ میرے ہاتھ میں کتنی کنکریاں ہیں، اس جادوگر نے میرا...

دماخ پڑ چکا تھا، دوسری بار جب میں نے کنکریاں اٹھائیں تو مجھے بھی نہیں پتہ تھا کہ میرے ہاتھ میں کتنی کنکریاں ہیں کیونکہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی شکل میں دوڑتا ہے اور جادوگر شیطان کی عبادت کرتے ہیں جس سے شیطان انہیں ہر چیز اور ہر بات بتا دیتا ہے۔ اس محفل سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ یہ جادوگر اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی عبادت کرتے ہیں اور شیطان انسانی جسم کے اندر خون میں گردش کرتا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جو بات ہمیں معلوم ہوگی، وہی ان جادوگروں کو بھی معلوم ہوگی جو ہمیں نہیں۔

پتا ہوگا تو ان جادوگروں کو بھی نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو کلْبِ سلیم عطا فرمائے اور ہر قسم کے جادو ٹونے سے بچائے، قرآن اور حدیث کے مطابق چلنے کی توفیق دے، آمین یا رب العالمین۔