اگر بیوی جنت میں چلی جائے اور شوہر جہنم میں ہو

اگر بیوی جنت میں چلی جائے اور شوہر جہنم میں ہو

اگر بیوی جنت میں چلی جائے اور شوہر جہنم میں ہو
Agar Biwi Jannat Mein Chali Jaye Aur Shohar Jahannum Mein Ho

جو جسم کی ڈیمانڈ ہو، جو جسم کی ضرورتیں ہوں، وہ اللہ جنت میں پوری کرے گا۔ کب؟ ویسے ایک بات مومنوں کہتے ہیں، منبر پر نہیں کہنی چاہیے۔ مگر میں نہیں چاہتا کہ کسی نوجوان کے ذہن میں کوئی شبہ رہ جائے۔ انہوں نے کہا صاحب یہ مردوں کو تو ضرور ملیں گے۔ اگلا جملہ آپ خود سوچ لیجئے۔ یہ اصل میں مونوپولی ہوتی ہے، یہ اصل میں مسئلے کی وجہ بنتی ہے کہ صاحب ہماری شریک حیات ہے، ہماری بیوی ہے، ہم جنت میں جائیں گے تو ان کا کیا ہوگا؟ یہ ایک تصور ابھرا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا نکاح دائمی ہے یا اسی دنیا تک؟

بات یہ ہے کہ پرماننٹ شادی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہاں بھی بیوی ہے اور جنت میں جانے کے بعد بھی بیوی ہے۔ بڑی بڑی مشکلیں ہو جائیں گی الٰہی عدالت میں۔ فرض کریں شوہر جنت میں چلا گیا، بیوی جا رہی تھی۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ اب جنت میں وہ چلا رہا ہے، "میری بیوی لے آؤ، اور وہ وہاں ہے۔" دوسرا معاملہ یہ ہے کہ بیوی مومنہ ہے، وہ جنت میں ہے۔ وہ چلے گئے وہاں، اور وہ کہہ رہا ہے، "واہ! جہاں میری بیوی ہے، وہاں میں بھی ہوں۔" تو اس لیے شادی کا یہ رشتہ تب تک ہے جب تک سانس چل رہی ہے۔ جب سانس ختم ہو جائے، دن بھی مکمل ہو گئے، تو تم اس کے نہیں رہے۔

شوہر تو آپ کی بیوی ہے نا۔ اس لیے ہر مومن کو یہ سمجھ لینا چاہیے۔ لیکن ہر قانون میں ایک نہ ایک بیک ڈور ضرور ہوتا ہے۔ اب فرض کریں دونوں مومن ہیں، دونوں جنتی ہیں اور دونوں چاہتے ہیں کہ ہم ساتھ رہیں، تو جنت دراصل دل کی ہر خواہش کے پوری ہونے کا نام ہے۔ اس لیے آپ کی اپلیکیشن رد نہیں کی جا سکتی۔ لیکن کفو کا حکم یہ ہے کہ جس صلا حیت کا شوہر ہوگا، اسی صلا حیت کی بیوی ہوگی۔ قانون وہاں بھی ہوگا۔ یہ ناممکن ہے کہ شوہر سات درجے والی جنت میں ہو اور بیوی دوسری درجے والی جنت میں ہو۔ دونوں کو ایک کر دیا گیا ہے۔

جائے۔ نہیں جہاں بھی قدرت کا جو بھی مطالبہ ہو۔ لہٰذا اب ایک بات اور ہے کہ صاحب قرآن مجید میں عورتوں کے کفن کا ذکر کیوں نہیں ہے؟ مردوں کے حوروں کا ذکر کیوں ہے؟ بس اسی فضیلت کے لیے میں بتانا چاہتا تھا کیونکہ یہ یورپ ہے۔ لہٰذا یہ باتیں ہم انڈیا یا پاکستان میں نہیں کہہ سکتے۔ یہاں کیونکہ بہت ایڈوانس ہے۔ لہٰذا ایڈوانس لوگوں کے لیے ایڈوانس مجلس ہے۔ یہ عورت کی عزت اور شرافت کا قرآن نے سب سے بڑا ثبوت دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر عورتوں کی کوئی عزت قرآن مجید میں دکھائی ہی نہیں دے سکتی تھی۔ کہ اس نے جنت...

مردوں کو جنت کی حسین ہوروں کا نام لے کر لالچ دی گئی ہے تاکہ وہ محنت کریں اور کوشش کریں۔ یہ بتانے کے لیے کہ یہ مرد خود غرض ہے، جب تک ہوروں کا ذکر نہ کیا جائے اسے جنت کا مزہ نہیں آتا۔ لیکن عورت وہ بلند مقام ہے جس کے لیے کسی لالچ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور میں آپ کو ایک بات بتاؤں کہ قدرت نے عورتوں کی کہاں کہاں عزت کی ہے۔ سورۃ العٰطیٰ میں آپ جنت کی تمام نعمتوں کا ذکر پڑھیں گے۔ اور یاد رکھیں کہ سورۃ العٰطیٰ کا معنی صرف پانچوں پاک ذاتوں کی شان میں آیا ہے، اور کسی اور کے لیے نہیں۔ سبحان اللہ، حالیہ وقت میں صرف پانچوں پاک ذاتوں کی شان میں آیا ہے۔

اس میں کوئی شریک ہی نہیں ہے۔ بلا شک و شبہ دروازہ بند ہے کہ کوئی داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ صورتِ حال کے حوالے سے سب کا یہی خیال ہے۔ تو صورتِ حال میں جو جنت کا نمونہ ہے وہ جنت کی ہر نعمت کا نمونہ ہے لیکن حور کا نمونہ نہیں ہے۔ توجہ کا طالب ہوں۔ صورت میں جنت کی ہر نعمت کا نمونہ ہے مگر حور کا نمونہ نہیں ہے۔ پالنے والے کے پاس جب جنت کی ہر لذت کا نمونہ ہے تو حور کا نمونہ کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ یہ پانچوں پاک کی شان میں آیا ہے [ہنسی] جس میں فاطمہ موجود ہے، تو جہاں فاطمہ کی مجلس ہو وہاں حوروں کا نمونہ نہیں ہوتا۔

کریں گے۔ سلوا پڑھے محمد والے محمدری، ایک مرتبہ بابا بلند سلوا پڑھے محمد والے نے یہ اندازہ لگایا کہ پروردگار عالم نے ایک انسان کے جسم کے اندر ایسا نظام بنایا کہ انسان اگر ہوش میں آنکھیں کھول کر اپنی زندگی کو دیکھے تو اسلام کے سارے مسائل اس کی سمجھ میں آ سکتے ہیں۔ تو خدا لم یلد ولم یولد، نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے۔ بالکل اسی طرح روح کا نہ کوئی باپ ہے، روح کا نہ کوئی بیٹا ہے۔ روح نہ چھوٹی ہو سکتی ہے نہ بڑی ہو سکتی ہے۔ روح کی نہ کوئی شریک حیات ہے، نہ روح کی زندگی کے لیے...

کسی ساتھی کی ضرورت ہے۔ جب ایک جسم کے اندر ایک روح کی مثال دی جا سکتی ہے تو پوری کائنات میں خدا کا تصور کیوں نہیں پیش کیا جا سکتا۔ اب ذرا اندازہ لگائیں کہ روح کے ہاتھ میں یہ پورا نظام جسمانی ہے۔ آپ نے گجّا کھائی، گجّا بیڑے میں پہنچا، بدل گیا، خون بنا، خون محفوظ ہوا۔ اب یہ روح کا کام ہے کہ دماغ کو حکم دے کہ تم تقسیم کرو۔ انصاف سے بتائیں، خون کا خزانہ ہے۔ مگر یہ روح کا نظام عدالت ہے کہ ہر چیز کو اتنا ہی مل رہا ہے جتنا اسے ضرورت ہو۔ بالوں کو سیاہی، دانتوں کو سفیدی، آنکھوں کے اندر روشنی، کان میں سننے کی صلاحیت۔

طاقت، ناخن میں بڑھنے کی طاقت، جسم میں توانائیاں، جگر کو خون—یہ سب چیزیں تقسیم ہوتی جا رہی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی سی دنیا کے اندر کتنی عدالت ہے، کتنی انصاف ہے، کتنی عدالت ہے۔ پتہ چلا کہ جو نظام روح کے ہاتھ میں ہوتا ہے، وہاں عدالت ہوتی ہے۔ تو جو نظام خدا کے ہاتھ میں ہوگا وہ عادل کیوں نہ ہوگا۔ اس لیے قدرت کے لیے شرط جائز ہوئی کہ وہ قدرت عادل ہے۔ وہ رحیم ہے۔ بتاؤ روح ظالم ہے جسم پر یا رحیم؟ وہ کریم ہے۔ بتاؤ روح کریم ہے یا غیر کریم؟ وہ ستار ہے، عیب چھپانے والا۔ بتاؤ کہ نہ جانے۔

کتنے عیب ہیں جنہیں یہ روح چھپائے ہوئے ہے۔ ورنہ اگر کوئی شرارہ ہے تو لکھ دیا جاتا کہ یہ شرارہ ہے۔ کوئی زبردست ہے تو لکھ دیا جاتا کہ یہ زبردست ہے۔ کوئی چور ہے تو لکھ دیا جاتا کہ یہ چور ہے۔ مگر انسان جرم کرتا ہے اور روح چھپا لیتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے انسان جرم کرتا ہے اور خدا چھپا لیتا ہے۔ جب وہ کائنات میں چھپانے والا ہے تو یہ روح میں بھی چھپانے والا ہے۔ وہ کائنات میں رحم کرنے والا ہے، یہ روح میں بھی رحم کرنے والا ہے۔ وہ کسی بات کا جُھکاؤ، رسک دینے والا نہیں تھا۔ تو جب روح اس چھوٹے جسمانی نظام میں راضی ہو سکتی ہے اور کسی کو بھی شکایت نہ ہو تو اندازہ لگائیں کہ یہ کس کو رسک دے گی؟

کوئی نہیں پہنچاتا۔ ہر جانور کو کسی جانور کی شکایت نہیں ہوتی کہ میں بھوکا مر گیا۔ آپ نے غور نہیں کیا میں نے کیا بات کہہ دی۔ کبوتروں کو رات دن آپ دیکھتے ہیں۔ کبھی کبوتروں کو دیکھا ہے جو بہت دبلا پتلا ہو؟ کوئی کبوتروں کو بہت داڑھی والا یا بہت موٹا ہو؟ جسے ڈائٹنگ کی ضرورت ہو؟ پتہ چلا ہے کہ جو نیچر کے کنٹرول میں ہوتے ہیں ان کا وزن برابر ہوتا ہے۔ کسی جنگل میں چلیے جنہیں نیچر کنٹرول کرتی ہے، وہ ایک سائز کے ہوتے ہیں۔ ہاں، جو کبوتر یا جانور آپ پالتے ہیں وہ بے چارہ مر جاتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اب وہ عادِل کے ہاتھ سے نکل کر ظالم کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔

قبضے میں آ گیا ہے۔ خداوندِ کائنات فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں ہر انسان کا رزق ہے۔ اگر کوئی بھوکا سو رہا ہے تو سمجھ لو کسی ظالم نے اس کا حق مار لیا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ قدرت کسی پر رزق کی پابندیاں نہیں لگاتی۔ ظالم انسان وہ رزق زیادہ لے جاتا ہے، اس لیے کوئی بھوکا رہ جاتا ہے۔