جب صفائیاں ختم ہو جائیں
جب صفائیاں ختم ہو جائیں
وہ رشتہ آہستہ آہستہ ایک ایسی جگہ آ پہنچا جہاں صفائیاں بھی تھک گئیں اور گواہیاں بھی خاموش ہو گئیں، ہر وہ بات جو دل سے نکلی تھی سچ بن کر سامنے آئی مگر وقت کے ہاتھوں ہار گئی، انہوں نے کتنی ہی بار خود کو قصوروار مان کر کٹہرے میں کھڑا کیا، ہر الزام اپنے حصے میں ڈال لیا، یہ سوچ کر کہ شاید فاصلے کم ہو جائیں مگر جدائیاں اپنی جگہ قائم رہیں، پھر ایک دن دل نے سوال کرنا چھوڑ دیا، بحثِ درد ختم ہو گئی، کسی کو قائل کرنے کی ضد بھی ٹوٹ گئی اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب لفظ نہیں بہکیں گے، وہ بہت روئے بھی اور بہت خاموش بھی رہے، ٹوٹی سانسوں کے ساتھ جینے کی کوشش کی مگر دل نے صاف کہہ دیا کہ جس رشتے میں جان پر بوجھ پڑنے لگے وہاں چاہتیں عبادت نہیں رہتیں، خواب آنکھوں سے گر گئے، راستے یادوں میں مر گئے، انہوں نے اپنے زخم وقت کے ہاتھ پر رکھ دیے اور پرانی وفاؤں کو لوٹا دیا، اب نہ کسی کو منانے جانا تھا نہ خود کو جھکانا، کیونکہ جو دل توڑ دے اس کے سامنے خاموشی ہی سب سے بڑا جواب ہوتی ہے، شکوے ختم ہو گئے، رسوائیاں ختم ہو گئیں، کسی ثبوت کی ضرورت نہ رہی اور نہ ہی کسی دل کی عدالت میں حاضری باقی رہی، انہوں نے خود کو اپنے پاس واپس بلا لیا اور یہی کافی تھا، دل ٹوٹا ضرور مگر اسی ٹوٹنے میں خود سے ملنے کی ایک راہ بھی نکل آئی، تب سمجھ آیا کہ چھوڑ دینا بھی محبت ہے جب امیدیں ختم ہو جائیں، اب نہ واپسی کی کوئی آہ باقی تھی نہ کسی نام کی خوشبو، سانسیں آزاد ہو چکی تھیں اور بندھنوں کی ساری زنجیریں ٹوٹ چکی تھیں۔
mnweb