انجام کی خاموش عدالت

انجام کی خاموش عدالت

انجام کی خاموش عدالت

یہ ایک کہانی ہے… لفظوں کی نہیں، انجام کی۔

وہ مسکرا رہا تھا۔ ایسے جیسے سب کچھ اس کے قابو میں ہو۔ بات معمولی سی تھی، مگر اس نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ ایک چال چلی، پھر دوسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا منظر بدل گیا۔ جہاں کبھی محبت ٹھہرتی تھی، وہاں سزا رکھ دیگئی۔

میں نے چاہت کو دل میں سنبھال کر رکھا تھا، اور اس نے اسی چاہت کو میرے لیے آزمائش بنا دیا۔

ہر ملاقات میں ہنسی تھی، مگر ہنسی کے پیچھے زہر کی ایک خاموش لکیر بھی تھی۔ میں خاموش رہی تو اس نے سمجھا شاید میں سب کچھ بھول گئی ہوں، شاید میں ہار مان چکی ہوں۔

وہ ایک لمحے کے لیے جیت گیا تھا—ہاں، مان لیا۔ مگر وہ یہ بھول گیا تھا کہ وقت صرف لمحوں کا نام نہیں، وہ حساب بھی رکھتا ہے۔

اس نے جو بیج بوئے تھے، میں نے انہیں اگتے دیکھا۔ کچھ زخم اس نے میرے دل پر چھوڑ دیے، مگر میں نے شور نہیں مچایا۔ میں نے صبر اوڑھ لیا، اور ٹوٹے ہوئے دل کے ٹکڑوں کو خاموشی سے جوڑ لیا۔

یہ مکافات کا موسم تھا، اور گردشِ دوراں آہستہ آہستہ اپنا کام کر رہی تھی۔

وہ اپنی جیت پر نازاں تھا، اور میں رب کے فیصلے پر مطمئن۔

کیونکہ میں جانتی تھی—وہ دل کا وزن دیکھتا ہے، لفظوں کا نہیں۔ اس کے ہاں دیر ہو سکتی ہے، مگر اندھیر نہیں۔

وقت گزرا۔ اور وقت کے ساتھ حقیقتیں بولنے لگیں۔

اب کھیل پلٹنے والا تھا۔

ایک دن تنہائی اس کے دروازے پر دھیرے سے دستک دے گی۔ یادیں، جو کبھی فتح لگتی تھیں، زخم بن کر اتر آئیں گی۔ تب اسے سمجھ آئے گی کہ دل توڑنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔

محبت کوئی شطرنج کا مہرہ نہیں تھی، مگر اس نے سمجھا کہ وہ چالوں سے جیت سکتا ہے۔

میں نے ہار نہیں مانی تھی۔ میں نے بس خود کو قسمت کے سپرد کر دیا تھا۔

اور اب… اب تقدیر گواہی دے گی۔

وہ غرور لے کر چل پڑا تھا، اور میں صبر کے پہلو میں ٹھہر گئی تھی۔

فرق صرف اتنا ہے کہ جب وقت پلٹے گا، تو حصے برابر نہیں ہوںگے۔کیونکہ جو لوگ دل توڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں،

اک دن وہی ٹوٹا ہوا دروازہ بن کر ان کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔اور تب…وہ مجھے یاد کرے گالیکن میں نہیں ہو گی۔۔