حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی | Hazrat Yousaf Story in Urdu - Moral Stories

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی ایک عبرت آموز واقعہ ہے جو صبر، ایمان اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا سبق دیتی ہے۔ یہ کہانی حسد، غصہ اور نیکی کی اہمیت کو بھی سکھاتی ہے۔ Moral Story in Urdu۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی | Hazrat Yousaf Story in Urdu - Moral Stories
حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی | Hazrat Yousaf Story in Urdu - Moral Stories

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی

حضرت یوسف علیہ السلام کی کہانی ایک مشہور اسلامی واقعہ ہے جو ہمیں صبر، ایمان اور اللہ پر بھروسہ کرنے کا درس دیتی ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کنعان میں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بارہ بیٹے عطا کیے۔ ان میں سے دو بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام اور بِن یامین تھے۔ وہ دس سوتیلے بھائی حضرت یوسف اور بِن یامین سے بڑے تھے۔ حضرت یوسف ابھی چھوٹے بچہ ہی تھے کہ انہوں نے ایک خواب دیکھا۔ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ سورج، چاند اور گیارہ ستارے ان کے سامنے جھک رہے ہیں۔

انہوں نے اس خواب کے بارے میں اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو بتایا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام یوسف سے محبت کرتے تھے اور انہوں نے خواب کی تعبیر بتائی۔ فرمایا:
"اے یوسف! آپ کو بڑا ہو کر اعلیٰ مقام ملے گا۔"

حضرت یوسف نے یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتایا۔ حسد کرنے والے بھائیوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف سازش کی۔ انہوں نے بہانہ بنایا کہ یوسف کو ساتھ لے جانے کی اجازت مل جائے۔ پھر انہوں نے انہیں دور لے جا کر ان کا کوٹ اتار کر اندھیرے کنویں میں ڈال دیا۔ ان کا خیال تھا کہ یوسف علیہ السلام کو کوئی مسافر اٹھا لے جائے گا۔

انہوں نے یوسف علیہ السلام کے کوٹ پر جھوٹا خون لگایا اور اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو دکھایا۔ کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔ کوٹ پھٹا ہوا نہ تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کی چال بازی سمجھ لی۔

بیٹے کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام روزانہ رو کر ضعیف ہو گئے۔ ایک قافلہ جو مصر جا رہا تھا، وہ کنویں کے پاس رکا اور یوسف علیہ السلام کو اس ڈول میں ڈال کر لے گئے۔

جب قافلہ مصر پہنچا تو قافلے والوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو معمولی قیمت پر ایک شخص کو فروخت کر دیا۔ وہ شخص عزتدار مصر (عزیز مصر) تھا۔ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے محل میں عزت کے ساتھ رکھا۔

اللہ نے حسن اور دیانت دونوں سے ان کو نوازا۔ اور جب وہ جوانی کی عمر تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی چن لیا۔

عزیز مصر کی بیوی زلیخا جھوٹی اور دھوکہ باز تھی۔ ایک دن اس نے حضرت یوسف علیہ السلام پر جھوٹا الزام لگا کر انہیں جیل میں قید کروا دیا۔ جیل میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت یوسف علیہ السلام لوگوں کے خواب کی تعبیر بتانے لگے۔

ایک بار دو قیدی اپنے خواب سنائے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک قیدی کو بتایا کہ اسے موت کی سزا ملے گی، اور دوسرے قیدی کو بتایا کہ وہ رہ جائے گا اور دوبارہ بادشاہ کی خدمت میں آئے گا۔ جب وہ قیدی رہا ہوا تو اس نے یاد دلانے کی بات کی، لیکن شیطان نے اسے بھلا دیا اور حضرت یوسف علیہ السلام جیل میں ہی رہے۔

ایک رات مصر کے بادشاہ نے عجیب سا خواب دیکھا۔ اس خواب کی تعبیر کوئی نہ دے سکا۔ بادشاہ پریشان ہو گیا۔ تب وہ قیدی بادشاہ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں یاد دلایا۔ انہوں نے بتایا کہ سات گاڑیاں موٹی ہیں اور سات دبلی گاڑیاں سات موٹی گاڑیوں کو کھا گئیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بیان کی کہ سات سال تک زمین پر خوشحالی ہوگی اور سات سال تک قحط رہے گا۔

بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلوا کر قید پر لگے ہوئے جھوٹے الزام کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ نے پہچان لیا کہ یہ الزام جھوٹا تھا۔ پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو عزت دے کر مصر کا وزیر بنا دیا۔ وہ اناج ذخیرہ کرنے لگے اور لوگوں کو اناج فراہم کرنے لگے۔ لوگ دور دور سے آنے لگے۔

ایک دن ان کے سوتیلے بھائی آئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا لیکن وہ انہیں نہ پہچان سکے۔ حسد کرنے والے بھائیوں نے کہا کہ ہمارے چھوٹے بھائی بِن یامین کا حصہ بھی دیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ اگلی بار اسے بھی لائیں ورنہ کچھ نہیں ملے گا۔

وہ بھائی اگلی بار بِن یامین کو بھی ساتھ لائے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بِن یامین کو چھپ کر اپنے بارے میں بتایا اور انہیں اپنے پاس روکے رکھا۔

باقی بھائی واپس پہنچے تو حضرت یعقوب علیہ السلام کو بِن یامین کے بارے میں بتایا۔ جن کی آنکھیں پہلے ہی حضرت یوسف علیہ السلام کے غم میں سفید ہو چکی تھیں، اب بِن یامین کی جدائی بھی دیکھ کر ان کی حالت بہت خراب ہو گئی۔ سوتیلے بھائی مصر آئے اور وزیر سے فریاد کی۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو بتایا کہ وہ مصر کا وزیر ہے۔ یہ سن کر بھائی حیران رہ گئے اور اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو معاف کر دیا۔ انہوں نے اپنے بھائیوں کو اپنا کوٹ دیا اور کہا کہ اسے میرے والد کے چہرے پر رکھیں تاکہ ان کی آنکھیں ٹھیک ہو جائیں۔ پھر بھائیوں کو روانہ کر دیا۔

واپس جا کر انہوں نے ویسا ہی کیا جیسا حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں ٹھیک ہو گئیں اور اس طرح حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد سے مل گئے۔