حضرت علی کی جنات سے جنگ | مولا علی بمقابلہ جن

یہ کہانی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری اور ایمان کی ہے، جب انہوں نے جنات کے ساتھ جنگ کی۔ جانیں کہ کیسے مولا علی نے جنات کو قابو میں کیا اور یہ واقعہ ہمیں ایمان اور جرات کی اہمیت سکھاتا ہے۔

حضرت علی کی جنات سے جنگ | مولا علی بمقابلہ جن
حضرت علی کی جنات سے جنگ | مولا علی بمقابلہ جن

حضرت امام علی علیہ السلام کی جنات کے ساتھ جنگ امام علی علیہ السلام کی بہادری، طاقت اور شجاعت کے بارے میں ہر کوئی اچھی طرح واقف ہے۔ تاریخ میں حضرت امام علی علیہ السلام کی بہادری اور طاقت کے بے شمار واقعات ملتے ہیں، لیکن ایک واقعہ ایسا بھی ہے جس پر یقین کرنا شاید مشکل ہو، لیکن جو کام مشکل ہوتا ہے وہ حضرت امام علی علیہ السلام ہی کر دکھاتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام کا مقابلہ ایک دفعہ جنات کے سردار اور اس کی فوج سے ہوا تھا۔ یہ واقعہ کب، کیوں اور کہاں پیش آیا، حضرت امام علی علیہ السلام نے جنات کے...

ساتھ مقابلہ کیوں اور کیسے کیا تھا، وہ جن کہاں تھے اور حضرت امام علی علیہ السلام نے جب جن کے ساتھ جنگ کی تھی تو وہ نتایوسکرپٹ نہیں بلکہ جنات تھے جو کہ حضرت امام علی علیہ السلام کے سامنے ان سے جنگ کر رہے تھے۔ آج کے اس کہانی میں ہم یہی جاننے کی کوشش کریں گے کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے جنوں کے ساتھ کیسے جنگ کی تھی اور ان جنوں کا کیا انجام ہوا تھا۔ بہادری میں حضرت امام علی علیہ السلام کا اس دنیا میں کوئی جواب نہیں۔ حضرت امام علی علیہ السلام، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ۔

جس بھی جنگ میں امام علی علیہ السلام شامل ہوئے، انہوں نے ہمیشہ کامیابی کو اپنا مقدر بنایا۔ لیکن آپ کی کچھ جنگیں ایسی بھی ہیں جن کا ذکر تاریخ میں بہت کم ہوا ہے، اور انہی جنگوں میں سے ایک بیریل علم بھی ہے۔ یہ جنگ حضرت امام علی علیہ السلام نے جنات کے خلاف لڑی تھی۔ اس جنگ میں حضرت امام علی علیہ السلام نے 200 ہزار جنات کو قتل کیا اور بہت سے جنات کو اسلام کے دائرے میں شامل کر دیا، یعنی بہت سے جنات کو کلمہ پڑھا کر مسلمان بنا دیا تھا۔ ایک دفعہ اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم...

والصلّٰی علیہ وسلم ایک جنگ سے واپس آ رہے تھے، آپ کا گزر ایک ویران بستی سے ہوا۔ آپ نے صحابہ سے پوچھا یہ کون سی جگہ ہے؟ تو آپ کو بتایا گیا کہ اسے وادی ارجک کہتے ہیں اور یہاں ایک کنواں بھی ہے جس میں جنات رہتے ہیں، جن کو حضرت سلیمان علیہ السلام بھی قابو نہ کر سکے تھے۔ اور کہا گیا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں سے تب یما نہیں گزرا تھا اور ان کے 10,000 سپاہیوں کو جنات نے اسی جگہ مار دیا تھا۔ یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں خطرناک جنات رہتے ہیں۔

اگر ایسا ہے تو یہاں رک جاؤ، لہٰذا آپ کے حکم پر آپ کا قافلہ وہیں رک گیا۔ پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ تم میں سے دس آدمی جا کر اس جن کے کنویں سے پانی لے آؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ملتے ہی دس صحابی اٹھے اور اس جن کے کنویں کے پاس پہنچ گئے۔ جیسے ہی وہ دس لوگ کنویں کے قریب پہنچے، ایک خطرناک اور خوفناک جن وہاں سے باہر نکلا اور باہر آتے ہی اس نے زور دار دھاڑ مار کر پورے جنگل کو آگ لگا دی۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر سارے صحابہ پیچھے ہٹ گئے۔

وہ پیچھے ہٹنے لگے لیکن ابو العاص صحابی تھے، وہ پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے بڑھتے گئے اور کچھ دیر بعد شہید ہو گئے۔ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا، اے اللہ کے نبی! کسی اور کو بھیجنے کی بجائے آپ علیم دے کر حضرت امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو بھیجیں۔ یہ سن کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام علی علیہ السلام کو جانے کا حکم دیا۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر حضرت امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام گئے۔

جنات والے اُس کنویں کی طرف روانہ ہوئے، یہ دیکھ کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دست دعا اٹھائی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی، جیسے ہر بار کرتے تھے، اس بار بھی آپ حضرت امام علی علیہ السلام کو کامیابی عطا فرمائیں۔ پھر حضرت امام علی علیہ السلام جیسے ہی اُس کنویں کے قریب پہنچے، اچانک وہی ایک خطرناک جن باہر نکلا اور زور سے دھاڑنے لگا۔ یہ دیکھ کر شیر خدا حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا، "میں علی ابن ابی طالب ہوں، میرا کام جنات کو قابو میں کرنا ہے۔" یہ سن کر اُس جن نے حضرت امام علی علیہ السلام پر ایک زوردار حملہ کردیا۔

لیکن آپ نے اس کا وار اپنے اوپر نہیں ہونے دیا اور اپنی زلف سے اس جن کے دو ٹکڑے کر دیے۔ اس کے بعد اس کنویں سے آگ کے گولے نکلنے لگے اور ایک زبردست شور اٹھنا شروع ہو گیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کنویں سے خوفناک اور خطرناک چہرے نمودار ہونے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے چند آیات پڑھیں جن سے وہ آگ بجھنے لگی اور دھواں بھی آہستہ آہستہ ہوا میں بدلنے لگا۔ پھر حضرت امام علی علیہ السلام وہاں جا کر کنویں کے اوپر کھڑے ہو گئے اور کنویں سے پانی حاصل کرنے کے لیے اپنا برتن ڈال دیا، لیکن جنات کی طرف سے اس برتن کو...

جب وہ دیکھ کر کہ برتن کو واپس کنویں میں پھینک دیا گیا، حضرت امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے پھر سے وہ برتن کنویں میں ڈالا، مگر پھر وہی برتن واپس پھینک دیا گیا۔ یہ دیکھ کر حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا، "میں مقابلے کے لیے تیار ہوں، جو بھی لڑنا چاہتا ہے باہر آ جائے۔" یہ سن کر ایک جن کنویں سے باہر نکلا اور نکلتے ہی حضرت امام علی علیہ السلام پر حملہ کر دیا۔ حضرت امام علی علیہ السلام اس کے حملے سے بچتے ہوئے اسے بھی قتل کر دیا۔ پھر آپ نے دوبارہ اپنا برتن کنویں میں ڈالا، لیکن برتن پھر واپس آ گیا۔

اسی طرح حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے تین بار اپنا برتن کوئیں میں ڈالا اور تینوں مرتبہ حضرت امام علی علیہ السلام کا برتن جنّوں کی طرف سے کوئیں سے باہر پھینک دیا گیا۔ میں کوئیں کے اندر اُترتا ہوں اور تم اس رسی کو پکڑے رہنا۔ چنانچہ اس کے بعد اُس رسی کو اسب نے پکڑ لیا اور حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کوئیں کے اندر اُتر گئے۔ اسی دوران رسی ٹوٹ گئی اور حضرت امام علی علیہ السلام کوئیں کے اندر گر گئے۔ اب حضرت امام علی علیہ السلام اور صحابہ کے درمیان راستہ ختم ہو گیا۔ یہ دیکھ کر اسب زور زور سے رونا شروع کر دیا۔

صحابہ نے سنا کہ اُس کنویں سے چیخنے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں، پھر تھوڑی دیر بعد کنویں سے یہ آواز آئی، "یا علیؑ السلام، ہمیں پناہ دو۔" یہ سن کر حضرت امیر المومنین امام علیؑ نے فرمایا، "اگر تم سب اپنی بھلائی چاہتے ہو، اپنی جان کی حفاظت چاہتے ہو تو کلمہ پڑھ لو، مسلمان بن جاؤ اور امن حاصل کر لو۔" یہ سن کر جنات کلمہ پڑھنے کے لیے راضی ہو گئے۔ حضرت امام علیؑ نے سب کو کلمہ پڑھایا اور وہ مسلمان بن گئے۔ اس کے بعد کنویں میں رسی ڈالی گئی۔ حضرت امام علیؑ نے 200 ہزار جنات کو قتل کیا اور بہت سے جنات کو...

مسلمان بنا کر اُس کنویں سے باہر نکل آئے، پھر حضرت امام علی علیہ السلام نے اسلام قبول کرنے والے جِنّات میں سے ایک جِن کو اپنا سردار بنایا جس کا نام جعفر جِن تھا۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ حضرت امام علی علیہ السلام کے لاشۂ جگر حضرت امام حسین علیہ السلام جب یہ پکار رہے تھے کہ اے کوئی مدد کرنے والا! تو کربلا کے میدان میں فرشتوں کے ساتھ ساتھ جنّوں کی بھی آمد ہوئی تھی اور اُن جنّوں کا سردار یہی جعفر جِن تھا جو اپنے پورے لشکر کے ساتھ کربلا پہنچ چکا تھا اور حضرت امام حسین علیہ السلام سے فرمانے لگا، یا مولا حکم فرمائیں اگر آپ...

اجازت دیں تو آپ کے تمام دشمنوں کو ابھی اسی وقت ختم کر دیں لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام نے جعفر جن کو ایسا کرنے سے منع کیا۔