دوستی کی آخری چائے

دوستی کی آخری چائے

دوستی کی آخری چائے
دوستی کی آخری چائے

عنوان: دوستی کی آخری چائے

اس شام آسمان پر بادل ایسے ٹھہرے تھے جیسے کسی نے وقت کو روک لیا ہو۔ گلی کے کونے پر وہی پرانی چائے کی دکان، جہاں دھواں اور ہنسی ساتھ اٹھتے تھے، آج کچھ زیادہ خاموش تھی۔ احمد بینچ پر بیٹھا تھا، سامنے دو خالی کپ—ایک اس کے لیے، دوسرا اس کے دوست علی کے لیے۔

علی اور احمد کی دوستی اسکول کی اُس آخری بنچ سے شروع ہوئی تھی جہاں خواب سستے اور وعدے بے شمار ہوتے ہیں۔ علی ہنس مکھ تھا، زندگی کو ہلکا لے کر چلنے والا۔ احمد سنجیدہ، کم گو، مگر دل کا بہت نرم۔ جب سب ساتھ چھوڑتے، علی وہی رہتا—کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا، “فکر نہ کر، میں ہوں نا۔”

وقت گزرا۔ یونیورسٹی، ذمہ داریاں، فاصلے۔ مگر ہر جمعہ کی شام وہ اسی دکان پر ملتے۔ چائے کے ساتھ پرانی باتیں، نئے زخم، اور تھوڑا سا حوصلہ بانٹ لیتے۔ علی ہمیشہ آخر میں ہنستے ہوئے کہتا، “یار، زندگی مشکل ہے مگر ہم اس سے زیادہ ضدی ہیں۔”

ایک دن علی نہ آیا۔ احمد نے فون کیا، پیغام چھوڑا۔ جواب نہ آیا۔ اگلے دن بھی نہیں۔ تیسرے دن خبر آئی—علی ہسپتال میں تھا۔ احمد دوڑا، مگر دیر ہو چکی تھی۔ علی کی سانسیں کمزور تھیں، مگر آنکھوں میں وہی روشنی۔ احمد کا ہاتھ تھام کر وہ آہستہ بولا، “چائے رہ گئی ہے… وعدہ تھا نا؟” احمد نے آنسو چھپا کر سر ہلایا۔

علی چلا گیا، مگر اس کی ہنسی گلی میں رہ گئی۔ احمد نے خود کو کام میں جھونک دیا، مگر ہر جمعہ کی شام دل پھر اسی دکان کی طرف کھنچ جاتا۔ پہلی بار اس نے اکیلے دو کپ منگوائے۔ ایک اپنے لیے، ایک علی کے نام۔ چائے ٹھنڈی ہو گئی، مگر یادیں گرم رہیں۔

کچھ ہفتوں بعد، ایک بچہ اس کے پاس آیا۔ “انکل، آپ ہر جمعہ دو کپ کیوں لیتے ہیں؟” احمد نے مسکرا کر کہا، “کیونکہ دوستی کبھی ایک نہیں ہوتی۔” بچے نے چائے کی چسکی لی اور بولا، “میرے بھی دوست ہیں۔ میں ان کے لیے بھی لوں گا۔” احمد کی آنکھیں بھر آئیں—شاید دوستی کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔

آج بھی احمد ہر جمعہ آتا ہے۔ دو کپ، ایک خاموش دعا، اور علی کی ہنسی کی بازگشت۔ اسے اب معلوم ہے کہ دوست جسم سے جدا ہو سکتے ہیں، دل سے نہیں۔ دوستی وہ چائے ہے جو ٹھنڈی ہو جائے تو بھی ذائقہ نہیں چھوڑتی—بس یادوں میں گھل کر اور گہری ہو جاتی ہے۔

اس شام آسمان پر بادل ایسے ٹھہرے تھے جیسے کسی نے وقت کو روک لیا ہو۔ گلی کے کونے پر وہی پرانی چائے کی دکان، جہاں دھواں اور ہنسی ساتھ اٹھتے تھے، آج کچھ زیادہ خاموش تھی۔ احمد بینچ پر بیٹھا تھا، سامنے دو خالی کپ—ایک اس کے لیے، دوسرا اس کے دوست علی کے لیے۔

علی اور احمد کی دوستی اسکول کی اُس آخری بنچ سے شروع ہوئی تھی جہاں خواب سستے اور وعدے بے شمار ہوتے ہیں۔ علی ہنس مکھ تھا، زندگی کو ہلکا لے کر چلنے والا۔ احمد سنجیدہ، کم گو، مگر دل کا بہت نرم۔ جب سب ساتھ چھوڑتے، علی وہی رہتا—کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا، “فکر نہ کر، میں ہوں نا۔”

وقت گزرا۔ یونیورسٹی، ذمہ داریاں، فاصلے۔ مگر ہر جمعہ کی شام وہ اسی دکان پر ملتے۔ چائے کے ساتھ پرانی باتیں، نئے زخم، اور تھوڑا سا حوصلہ بانٹ لیتے۔ علی ہمیشہ آخر میں ہنستے ہوئے کہتا، “یار، زندگی مشکل ہے مگر ہم اس سے زیادہ ضدی ہیں۔”

ایک دن علی نہ آیا۔ احمد نے فون کیا، پیغام چھوڑا۔ جواب نہ آیا۔ اگلے دن بھی نہیں۔ تیسرے دن خبر آئی—علی ہسپتال میں تھا۔ احمد دوڑا، مگر دیر ہو چکی تھی۔ علی کی سانسیں کمزور تھیں، مگر آنکھوں میں وہی روشنی۔ احمد کا ہاتھ تھام کر وہ آہستہ بولا، “چائے رہ گئی ہے… وعدہ تھا نا؟” احمد نے آنسو چھپا کر سر ہلایا۔

علی چلا گیا، مگر اس کی ہنسی گلی میں رہ گئی۔ احمد نے خود کو کام میں جھونک دیا، مگر ہر جمعہ کی شام دل پھر اسی دکان کی طرف کھنچ جاتا۔ پہلی بار اس نے اکیلے دو کپ منگوائے۔ ایک اپنے لیے، ایک علی کے نام۔ چائے ٹھنڈی ہو گئی، مگر یادیں گرم رہیں۔

کچھ ہفتوں بعد، ایک بچہ اس کے پاس آیا۔ “انکل، آپ ہر جمعہ دو کپ کیوں لیتے ہیں؟” احمد نے مسکرا کر کہا، “کیونکہ دوستی کبھی ایک نہیں ہوتی۔” بچے نے چائے کی چسکی لی اور بولا، “میرے بھی دوست ہیں۔ میں ان کے لیے بھی لوں گا۔” احمد کی آنکھیں بھر آئیں—شاید دوستی کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے۔

آج بھی احمد ہر جمعہ آتا ہے۔ دو کپ، ایک خاموش دعا، اور علی کی ہنسی کی بازگشت۔ اسے اب معلوم ہے کہ دوست جسم سے جدا ہو سکتے ہیں، دل سے نہیں۔ دوستی وہ چائے ہے جو ٹھنڈی ہو جائے تو بھی ذائقہ نہیں چھوڑتی—بس یادوں میں گھل کر اور گہری ہو جاتی ہے۔