حضرت موسیٰ علیہ السلام اور زندگی و موت کا راز – ایک سبق آموز واقعہ

یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس سوال پر مبنی ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے انسان کی پیدائش اور موت کے بارے میں کیا۔ اس واقعے میں ہمارے لیے صبر، حکمت اور اللہ کی مشیت کو سمجھنے کا عظیم درس موجود ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور زندگی و موت کا راز – ایک سبق آموز واقعہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور زندگی و موت کا راز – ایک سبق آموز واقعہ

ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے سوال کیا، "اے اللہ! آپ انسانوں کو کیوں پیدا کرتے ہو؟ پھر انہیں کیوں مار دیتے ہو؟" اللہ کا جواب سن کر سب حیران رہ گئے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔  
ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، "یا اللہ! آپ نے انسانوں کو کیوں پیدا کیا؟ یعنی اتنی ساری مخلوق کو کیوں پیدا کیا؟ اور اگر پیدا کیا تو پھر انہیں موت کیوں دیتے ہو؟"  
تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوال کا جواب جو اللہ تعالیٰ نے دیا، اسے سن کر آپ بھی حیران اور پریشان ہو جائیں گے۔

جاؤ گے اور ساتھ ہی تمہیں یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کیوں پیدا کرتا ہے اور پھر انہیں کیوں موت دیتا ہے۔ ناظرین، جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ سے کلام کیا کرتے تھے، یعنی اللہ سے بات کرتے تھے۔ اکثر حضرت موسیٰ علیہ السلام طور کی پہاڑی پر جا کر اللہ سے بات کرتے تھے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو اتنی ساری حکمتیں اور اتنی ساری صفات عطا فرمائیں جو ہر انسان کے لیے ایک بہت بڑی نصیحت اور زندگی گزارنے کے صحیح طریقے کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام...

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا، "اے اللہ! آپ لوگوں کو پیدا کرتے ہو اور پھر مار دیتے ہو، اس میں آپ کی کیا حکمت ہے؟ یعنی آپ ایسا کیوں کرتے ہو؟" یہ سن کر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا، "اے موسیٰ! تم کھیتی کرو۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے کھیتی کرنا شروع کی۔ کچھ دنوں بعد جب کھیتی تیار ہو گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے کاٹ دیا۔ یہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا، "اے موسیٰ! تم نے خود کھیتی بوئی اور پھر خود ہی اسے کاٹ دیا؟" یہ سن کر حضرت...

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا یا اللہ، فصل کے پکنے پر اس میں دانہ اور بھوسہ ہوتا ہے اور دونوں کو ایک ساتھ رکھنا مناسب نہیں ہوتا۔ اسی لیے حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں کو الگ الگ کر دیا جائے۔ یہ سن کر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، "اے موسیٰ، تم نے یہ عقل کہاں سے حاصل کی؟" تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا، "یا الہی، یہ میری دانائی اور عقل سب آپ نے ہی عطا کی ہے۔" یہ سن کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا، "اے موسیٰ، پھر یہ دانائی تو مجھ میں کیوں نہ ہوگی۔ اے موسیٰ، دیکھو انسانوں کی روحیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ان میں ایک روح..."

پاک ہے اور ایک روح ناپاک ہے۔ اور ہر انسان کے جسم کا ایک ہی مرتبہ نہیں ہوتا۔ کسی کے جسم میں موتی کی طرح پاک اور صاف روح ہوتی ہے تو کسی کے جسم میں کنج کی پونچھ کی طرح روح موجود ہوتی ہے۔ ان روحوں کو بھی اسی طرح ایک دوسرے سے الگ کرنا مناسب ہے۔ یعنی کہ جدا کرنا ضروری ہے۔ جس طرح تم نے گندم کو بھوسے سے الگ کر دیا ہے تاکہ جو نیک روح ہوتی ہے وہ جنت کو جائے اور جو بری روح ہوتی ہے وہ دوزخ کو جائے۔ اے موسیٰ، یہ تو انسان کو مارنے کی حکمت تھی اور انسانوں کو پیدا کرنے کی حکمت یہ ہے کہ ہمارے صفات کا اظہار ہو۔

جاۓ۔ حدیثِ قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں ایک پوشیدہ خزانہ تھا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ مجھے پہچانا جائے، اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ میں نے انسانوں کو پیدا فرمایا۔ اے موسیٰ! انسان کے جسم میں جو موتی ہے، اسے کبھی ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ تو ناظرین! ہمارے لیے بھی یہ حکمت کتنی بڑی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو کیوں پیدا کرتا ہے اور پھر انہیں کیوں مار دیتا ہے۔ اس بات کا راز بھی خود اللہ تعالیٰ نے کھول دیا ہے اور ساتھ ہی اس جملے سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق بھی ملتا ہے کہ۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے اس قدرت کے نظام میں بے شمار صفات رکھی ہیں اور بہت سے اسباب ہیں جنہیں کوئی انسان سمجھ نہیں سکتا۔ اسی لیے ہمیں کبھی بھی کسی بات پر اللہ سے سوال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یاد رکھیں اللہ جو بھی کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے اور اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے۔ اسی لیے یاد رکھیں جب بھی اللہ تعالیٰ ہمیں کسی امتحان میں ڈالتا ہے تو اس میں بھی ہماری کوئی نہ کوئی بھلائی ہوتی ہے۔ یعنی کہ اللہ کی ہر بات میں کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور اللہ کے کیے گئے ہر فیصلے میں بندے کا بھلا ہوتا ہے۔

کوئی نہ کوئی بھلا ضرور ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ جو بھی کرتا ہے اچھا ہی کرتا ہے۔ اپنے بندے کے حق میں کرتا ہے۔ اسی طرح ناظرین، ایک دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سات سوال کیے۔ ان میں پہلا سوال یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا، اے میرے رب، تیرے بندوں میں سب سے زیادہ متقی یعنی ڈرنے والا اور پرہیزگار کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وہ شخص جو اللہ کا ذکر کرتا رہے اور اسے بھولے نہیں۔ یقیناً اللہ سے ڈرنے والا وہی شخص ہوتا ہے جو صرف مسجد کے اندر نہیں بلکہ مسجد کے...

باہر بھی اللہ کو یاد رکھو۔ یعنی عام معاملات میں خوشی اور غم دونوں میں اللہ کو نہ بھولو بلکہ ہر قدم اللہ کی رضا کے مطابق اٹھاؤ۔ دوسرا سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا، اے میرے رب، تیرے بندوں میں سب سے زیادہ صحیح راستے پر کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، جو ہدایت کے راستے پر چلے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بھیجا اور قرآن پاک جیسی کتاب نازل کی تاکہ ہدایت کے راستے کو واضح کر دے۔ اسی لیے ہمیں سب کو قرآن اور حدیث کا پرچم اٹھا کر ہدایت کے راستے پر چلنا چاہیے۔ تیسرا سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا، اے اللہ، تیرے بندوں میں سب سے زیادہ جاننے والا کون ہے؟

عالم کون ہوتا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا کہ عالم وہ ہوتا ہے جس کا پیٹ علم سے کبھی نہیں بھرتا۔ جس کے اندر علم کی پیاس کبھی نہیں بجھتی بلکہ وہ ہر روز کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات تک سیکھتا رہتا ہے۔ یہی اصل عالم ہوتا ہے، نہ کہ وہ جو ایک بار علم حاصل کر لے اور پھر سیکھنے یا سکھانے سے دور ہو جائے۔ چوتھا سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: اے میرے اللہ! تیرے بندوں میں سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ شخص جو دوسروں کو ویسا ہی حکم دیتا ہے جیسا کہ وہ اپنے لیے دیتا ہے۔ وہ کام جو کسی نے نہیں...

کیا ہو اور دوسروں کو اس کے کرنے کا مشورہ دیتا ہو۔ ایسا آدمی صحیح فیصلہ نہیں دے سکتا۔ پانچواں سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا: اے میرے اللہ، تیرے تمام بندوں میں سب سے زیادہ عزیز کون سا بندہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہو لیکن پھر بھی بدلہ نہ لے اور سامنے والے کو معاف کر دے۔ ایسا صرف وہی کر سکتا ہے جس کے اندر صبر اور برداشت کی طاقت ہو۔ کیونکہ جب کوئی آپ کو تکلیف پہنچائے تو بدلے میں آپ بھی اسے تکلیف دینا چاہتے ہیں۔ لیکن بدلہ لینے کی بجائے جو معاف کر دے، ایسا...

سب سے عزیز بندہ کون ہے؟ چھٹا سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے اللہ! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ غنی کون سا بندہ ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ بندہ جو جتنا بھی پائے، اس پر راضی رہے۔ غریب وہ ہے جس کے پاس دولت ہو، پھر بھی اس پر راضی نہ ہو۔ دن رات اسی کی طلب میں بھاگتا رہے۔ اور بے نیاز وہ بندہ ہے جسے جتنی نعمتیں ملیں، اسی پر خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کرے۔ ساتواں سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ فقیر کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو مسافر ہو۔

کسی مسافر یعنی سفر کرنے والا محتاج اور ضرورت مند ہو سکتا ہے۔ ویسے تو آج کل کے سفر چند گھنٹوں یا دنوں کے ہوتے ہیں اس لیے آسانی ہوتی ہے۔ لیکن پھر بھی سفر میں بہت مشکلات آتی ہیں۔ اس لیے اگر کوئی مسافر محتاج ہو تو اس کی مدد ضرور کرنی چاہیے۔ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا، "یا اللہ! تُو نے انسان کو پیدا کیا، اسے عقل، دل اور زندگی دی، پھر آخر اسے موت کیوں دیتا ہے؟ اس میں تیری کیا حکمت ہے؟" اللہ تعالیٰ نے فرمایا، "اے موسیٰ! تم صبح کو وادی میں جاؤ، وہاں تمہیں ایک منظر دکھائی دے گا..."

میں تمہیں دکھاؤں گا تاکہ تم میری حکمت سمجھ سکو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے صبح سویرے وادی کی طرف گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک ہری بھری گھاس میں ایک نوجوان ہرنی اپنے بچے کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ایک شیر آیا اور اس نے اس بچے کو شکار کر لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دل بھر آیا اور انہوں نے کہا، اے پروردگار! یہ ننھا سا بچہ کس جرم میں مارا گیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے موسیٰ صبر کرو، دیکھو آگے کیا ہوتا ہے۔ کچھ دیر بعد وہی شیر ایک شکاری کے تیر سے زخمی ہو کر مر گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام...

پھر اس نے عرض کی یا رب یہ کیا نظام ہے؟ ابھی تو شیر جیتا تھا، اب وہ بھی مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ، اب دیکھو آخر میں کیا ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر میں وہی شکاری ایک پہاڑی سے نیچے گر گیا اور خود بھی مر گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام حیران رہ گئے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ، تم نے جو ہرنی کے بچے کو دیکھا تھا وہ بچہ پچھلی زندگی میں ظالم تھا۔ اس نے اس شکاری کے والد کو بلاوجہ قتل کیا تھا۔ میں نے اس بچے کی روح کو دوبارہ دنیا میں بھیجا تاکہ اس کے گناہ کا بدلہ دوں۔ پھر میں نے شیر کو اس بچے پر مسلط کیا تاکہ...

انصاف ہو جائے۔ پھر شیر کو مارنے والے شکاری کو بھی موت دی گئی تاکہ میں اسے بھی اس کے اعمال کے بدلے سزا دوں۔ اے موسیٰ، میرا ہر فیصلہ عدل پر مبنی ہے۔ موت میرے نظام انصاف کا حصہ ہے۔ ظلم کا خاتمہ اور عدل کا آغاز۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے عرض کیا یا رب، تو پاک ہے۔ تیری ہر تقدیر میں حکمت ہے۔ ہم ظاہری آنکھوں سے دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، مگر تیری تدبیر وہی جانتا ہے جو باطن کو سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ، اسی لیے میں نے موت کو زندگی کے بعد رکھا تاکہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق ملے۔

بدلہ لینا۔ موت ظلم نہیں ہے اور نہ ہی انتقام، بلکہ عدل کی ابتدا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان دنیا کی ظاہری زندگی کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے، جہاں ہر عمل کا حساب اور ہر حق کا بدلہ دیا جاتا ہے۔ ایک دن ایک نیک بزرگ اپنے شاگردوں کے ساتھ قبرستان کے پاس سے گزر رہے تھے۔ شاگردوں میں سے ایک نے سوال کیا، "حضرت، اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، پھر آخر موت کیوں دیتا ہے؟ اگر زندگی ہی مقصد تھی تو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھتا۔" بزرگ مسکرائے اور کہا، "بیٹا آؤ، میں تمہیں ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔"

سمجھاتا ہوں۔ وہ سب ایک کاریگر کے پاس گئے جو مٹی کے برتن بنا رہا تھا۔ بزرگ نے شاگرد سے کہا دیکھو یہ مٹی کا ڈھیر۔ اُس کاریگر نے اس سے خوبصورت برتن بنائے۔ اب اگر کوئی برتن ٹوٹ جائے تو کیا یہ نقصان ہے یا فائدہ؟ شاگرد نے کہا اگر برتن بےکار ہو جائے تو کاریگر اُسے توڑ کر نئی مٹی بناتا ہے تاکہ کچھ بہتر بنا سکے۔ بزرگ نے فرمایا بالکل ایسے ہی اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ دنیا اس کے لیے ایک بھٹی ہے جہاں اسے تپایا جاتا ہے، آزمایا جاتا ہے، سنوارا جاتا ہے۔ جب وہ مکمل ہو جاتا ہے تو۔۔۔

اللہ تعالیٰ اسے اس دنیا سے لے جاتا ہے تاکہ اسے ابدی زندگی ملے جہاں نہ موت ہے نہ کوئی دکھ۔ پھر انہوں نے کہا اللہ موت کو فنا نہیں بناتا بلکہ ایک دروازہ بناتا ہے دنیا سے ابدیت کی طرف۔ موت دراصل پیدا ہونے کا دوسرا عمل ہے۔ شاگرد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے کہا حضرت تو گویا موت کوئی ختمی انجام نہیں بلکہ اصل زندگی کی شروعات ہے۔ بزرگ نے جواب دیا ہاں بیٹا اسی لیے مومن موت سے نہیں ڈرتا بلکہ اس کا استقبال کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے رب نے اس کے لیے ایک بہتر گھر تیار کیا ہے۔ پھر انہوں نے۔

قرآن کی آیت پڑھی: وہی ہے جس نے موت اور زندگی پیدا کی تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کی داستان ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا سے بات کرنے کے لیے پہاڑ پر جاتے تھے۔ ایک عورت جو بے اولاد تھی، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ جب آپ خدا سے بات کرنے جائیں تو پوچھنا کہ میری اولاد کب ہوگی؟ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا سے بات کرنے پہاڑ پر گئے تو انہوں نے اللہ سے کہا کہ فلا عورت نے مجھ سے پوچھا ہے کہ اس کی اولاد کب ہوگی؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا...

اس کے نصیب میں اولاد نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ ساری بات جا کر اس عورت کو بتا دی۔ وہ عورت یہ سن کر بہت مایوس ہو گئی۔ چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک دن اس عورت کے گھر کے پاس سے ایک فقیر گزرا۔ اس نے آواز لگائی کہ جو مجھے ایک روٹی دے گا، میں اس کے لیے نیک اولاد کی دعا کروں گا۔ جب یہ آواز اس عورت نے سنی تو فوراً ایک روٹی اس فقیر کو دے دی۔ فقیر نے اس عورت کے لیے نیک اولاد کی دعا کی اور چلا گیا۔ اللہ کے فضل و رحمت سے اور اس فقیر کی دعا کے بعد اس عورت کو اولاد ہوئی۔ وہ عورت بہت خوش ہوئی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اس عورت کے گھر پہنچے۔

جب وہ اس عورت کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے جشن منانے کی وجہ پوچھی۔ اس عورت نے بتایا کہ اللہ نے مجھے اولاد سے نوازا ہے۔ آپ علیہ السلام نے تو کہا تھا کہ میری یہاں کبھی اولاد نہیں ہوگی۔ مگر اللہ نے ایک فقیر کی دعا سے مجھے اولاد دی ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سنا تو اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور کہا، "اے اللہ یہ کیا معاملہ ہے؟ تُو نے تو فرمایا تھا کہ اس عورت کی کبھی اولاد نہیں ہوگی۔" اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا، "اے موسیٰ، پہلے جا کر حلال گوشت کا ایک ٹکڑا لے آ، پھر میں تیرے سوال کا جواب دوں گا۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بہت...

تلاش کی مگر کہیں سے بھی حلال گوشت کا ٹکڑا نہیں ملا۔ وہ واپس اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور کہا کہ اے اللہ مجھے کہیں بھی حلال گوشت کا ٹکڑا نہیں ملا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کا گوشت لے آؤ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سوچا کہ یہ تو ایک اور مشکل کام ہے، مگر اللہ کا حکم تھا اس لیے نکل پڑے۔ بہت تلاش کرنے کے باوجود کہیں انسان کے گوشت کا ٹکڑا نہیں ملا۔ وہ تلاش کرتے کرتے ایک جنگل میں پہنچ گئے۔ اس جنگل میں وہی فقیر بیٹھا تھا جس نے اس عورت کے لیے دعا کی تھی۔ اس فقیر نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ان کی پریشانی پوچھی۔

وجہ پوچھنے پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پورا واقعہ سنا دیا۔ یہ سن کر اس فقیر نے کہا کہ مجھے صرف ایک ٹکڑا چاہیے۔ کیا آپ کے پاس کوئی چاقو ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چاقو نکال کر دے دیا۔ چاقو لے کر اس فقیر نے اپنے جسم سے گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دے دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جانے ہی والے تھے کہ فقیر نے انہیں پکڑا اور کہا، "رک جاؤ، پتہ نہیں اللہ تعالیٰ نے کس حصے کا گوشت منگا ہو۔ میں جسم کے ہر حصے سے گوشت کا ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں۔" اس فقیر نے اپنے ہاتھ سے کندھے سے...

پیپ سے اور جسم کے ہر حصے سے گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر دے دیے گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور کہا کہ میں گوشت کے ٹکڑے لے آیا ہوں۔ اللہ نے فرمایا کہ کس کے گوشت کے ٹکڑے ہیں؟ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ساری بات بیان کی اور کہا کہ فلا جنگل میں مجھے ایک فقیر ملا تھا۔ یہی اس کے جسم کے گوشت کے ٹکڑے ہیں۔ تب اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ، اس بندے نے تیرے کہنے پر میرے لیے اپنے جسم سے گوشت کے ٹکڑے کاٹ کر دیے ہیں۔ تو کیا میں اس کے کہنے پر اس عورت کو اولاد نہیں دے سکتا تھا؟ اے موسیٰ، گوشت تو...

تیرے جسم پر بھی تھا اور اس عورت کے لیے دعا بھی کر سکتا تھا۔ مگر تُو نے نہیں کی۔ اس فقیر نے سچے دل سے دعا کی اور میں نے قبول کر لی۔ بے شک خدا اپنے نیک بندوں کو عزیز رکھتا ہے۔ تمام پیغمبروں میں قرآن میں حضرت موسیٰ کا واقعہ سب سے زیادہ آیا ہے۔ ۳۰ سے زیادہ سورتوں میں موسیٰ، فرعون اور بنی اسرائیل کے واقعات کی طرف سو مرتبہ سے زیادہ اشارہ کیا گیا ہے۔ اگر ہم ان آیات کی مختلف تفسیر کریں اور آج کے بعد ان سب کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیں تو کچھ لوگوں کی اس الزام کے خلاف کہ قرآن میں تکرار کی گئی ہے، جواب مل جائے گا۔ ہمیں معلوم ہوگا کہ...

قرآن میں نہ صرف کوئی تکرار نہیں ہے بلکہ ہر سورۃ میں جو بحث چھڑی ہے اس کی مناسبت سے اس سرگوشی کا ایک حصہ شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس دور میں مصر کا ملک نسبتاً وسیع ملک تھا۔ وہاں کے رہنے والوں کی تہذیب حضرت نوح، ہود اور شب السلام کی اقوام سے زیادہ ترقی یافتہ تھی۔ لہٰذا حکومت فرعون کی مقامیت بھی زیادہ تھی۔ اسی بنیاد پر حضرت موسیٰ کی تحریک اور رہنمائی بھی اتنی اہمیت کی حامل ہوئی کہ اس میں بہت زیادہ عبرت انگیز نکات پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن...

حضرت موسیٰ کی زندگی اور بنی اسرائیل کے حالات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ مجموعی طور پر اس عظیم نبی کی زندگی کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے پانچ ادوار: نمبر ایک، پیدائش سے لے کر فرعون کے آغوش میں پرورش تک کا زمانہ۔ نمبر دو، مصر سے نکل کر مدین شہر میں حضرت شعیب کے پاس کچھ وقت گزارنا۔ نمبر تین، آپ کی نبوت کا دور اور فرعون اور اس کی حکومت والوں سے آپ کے متعدّد تنازعات۔ نمبر چار، فرعونی غلامی سے موسیٰ اور بنی اسرائیل کی نجات اور وہ واقعات جو۔۔۔

راستے میں اور بیت المقدس پہنچنے پر رونما ہوئے۔ نمبر پانچ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے درمیان کشمکش کا زمانہ۔ ولادت حضرت موسیٰ علیہ السلام۔ حکومت فرعون نے بنی اسرائیل کے یہاں جو نومولود بچے ہوتے تھے انہیں قتل کرنے کا ایک وسیع پروگرام بنایا تھا۔ یہاں تک کہ فرعون کی مقرر کردہ دایہ بنی اسرائیل کی حاملہ عورتوں کی نگرانی کرتی تھی۔ ان دایوں میں سے ایک والدیہ موسیٰ کی دوست بن گئی تھی۔ اس مادر میں موسیٰ کا حمل خفیہ رہا اور اس کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔ جس وقت مادر موسیٰ کو یہ احساس ہوا کہ بچے کی ولادت کا وقت...

قریب تھا تو تم نے کسی کے ذریعے اپنی دوست دائی کو بلانے بھیجا۔ جب وہ آ گئی تو کہا میرے پیٹ میں ایک بچہ ہے۔ آج مجھے تمہاری دوستی اور محبت کی ضرورت ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو تمہاری آنکھوں میں ایک خاص نور چمک رہا تھا۔ چنانچہ اسے دیکھ کر وہ دائی کانپنے لگی اور اس کے دل کی تلخی میں محبت کی ایک بجلی سی کوند گئی جس نے اس کے دل کی پوری فضاء کو روشن کر دیا۔ یہ دیکھ کر وہ دائی مادر موسیٰ سے مخاطب ہو کر بولی کہ میرا خیال تھا کہ حکومت کے دفتر جا کر اس بچے کے پیدا ہونے کی خبر دوں تاکہ جلاد آئے اور...

اسے قتل کر دو اور میں اپنی انعام حاصل کر لوں۔ مگر میں کیا کروں کہ میں اپنے دل میں اس ناجائز بچے کی شدید محبت کا احساس کرتی ہوں۔ یہاں تک کہ میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ اس کے بالوں کو بھی نقصان پہنچے۔ اس کی اچھی طرح حفاظت کرو۔ میرا خیال ہے کہ آخرکار یہ ہمارا دشمن ہی ہوگا۔ جناب موسیٰ السلام جب تنور میں وہ دایا مادر موسیٰ کے گھر سے باہر نکلی تو حکومت کے جاسوسوں نے اسے دیکھ لیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر میں داخل ہو جائیں گے۔ موسیٰ کی بہن نے اپنی ماں کو اس خطرے سے آگاہ کر دیا۔ ماں یہ سن کر گھبرا گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ۔۔۔

اب کیا کریں؟ اس شدید پریشانی میں جب کہ وہ بالکل بے ہوش ہو رہی تھی۔ اُس نے بچے کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور تندور میں ڈال دیا۔ اس دوران حکومتی لوگ آ گئے۔ مگر وہاں انہوں نے روشن تندور کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ انہوں نے موسا کی ماں سے تفتیش شروع کر دی۔ پوچھا دایا یہاں کیا کر رہی تھی؟ موسا کی ماں نے کہا کہ وہ میری دوست ہے، مجھ سے ملنے آئی تھی۔ حکومتی کارندے مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔ اب موسا کی ماں کو ہوش آیا۔ اُس نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ بچہ کہاں ہے؟ اُس نے لا علمی کا اظہار کیا۔ ننگا تندور کے...

اندر سے بچے کے رونے کی آواز آئی۔ ماں فوراً تنور کی طرف دوڑی۔ کیا دیکھتی ہے کہ خدا نے اس کے لیے آتش تنور کو ٹھنڈا اور سلامتی کی جگہ بنا دیا ہے۔ وہی خدا جس نے حضرت ابراہیم کے لیے آتش نمرود کو برد اور سلامتی بنایا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور بچے کو بالکل صحیح سلامت باہر نکال لیا۔ لیکن پھر بھی ماں محفوظ نہیں تھی۔ کیونکہ حکومت کے لوگ ادھر ادھر پھرتے رہتے اور تلاش میں لگے رہتے تھے۔ کسی بڑے خطرے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ ایک ناجائز بچے کے رونے کی آواز سن لیتے۔ اس حالت میں خدا کے ایک وحی نے ماں کے دل کو...

روشنی سے بھر دیا۔ وہ ایسا الوہامی جذبہ تھا کہ ماں کو بظاہر ایک خطرناک کام پر آمادہ کر رہا تھا۔ مگر پھر بھی ماں اپنے دل میں اس ارادے سے سکون محسوس کرتی تھی۔ ہم نے موسیٰ کی ماں سے کہا کہ اسے دودھ پلا اور جب تمہیں اس کے بارے میں کوئی خوف محسوس ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، اور نہ گھبرانا اور نہ ہی غمگین ہونا کیونکہ ہم اسے تمہارے پاس واپس لے آئیں گے اور اسے رسولوں میں سے قرار دیں گے۔ اس نے کہا خدا کی طرف سے مجھ پر یہ فرض عائد ہوا ہے۔ میں اسے ضرور پورا کروں گی۔ اس نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ میں اس الوہام کو ضرور عملی جامہ پہناؤں گی اور۔

میں اپنے پیدا ہونے والے بچے کو دریائے نیل میں ڈال دوں گی۔ اس نے ایک مصری بڑھئی کو ڈھونڈا۔ وہ بڑھئی کپتی تھا اور فرعون کی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے اس بڑھئی سے درخواست کی کہ میرے لیے ایک چھوٹا سا صندوق بنا دے۔ بڑھئی نے پوچھا، جس قسم کا صندوق تم بنوانا چاہتی ہو، اسے کس کام میں لاؤ گی؟ موسیٰ کی ماں جو داروگہ گوی کی نوکرانی تھی، اس نازک موقع پر بھی سچ بولنے سے باز نہ آئی۔ اس نے کہا، میں بنی اسرائیل کی ایک عورت ہوں۔ میرا ایک پیدا ہونے والا بیٹا ہے۔ میں اس بچے کو اس صندوق میں چھپانا چاہتی ہوں۔ کپتی بڑھئی نے اپنے دل میں یہ پکا ارادہ کر لیا کہ۔۔۔

جلادوں تک یہ خبر پہنچا دی جائے گی۔ وہ تلاش کر کے ان کے پاس پہنچ گیا۔ مگر جب وہ انہیں یہ خراب خبر سنانے لگا تو اس کے دل پر ایسی شدت چھا گئی کہ اس کی زبان بند ہو گئی۔ وہ صرف ہاتھوں سے اشارے کر رہا تھا اور چاہ رہا تھا کہ ان علامات سے انہیں اپنا مطلب سمجھا دے۔ حکومت کے اہلکاروں نے اس کی حرکت دیکھ کر سمجھا کہ یہ شخص ہم سے مذاق کر رہا ہے۔ اس لیے اسے مارا اور باہر نکال دیا۔ جیسے ہی وہ اس دفتر سے باہر نکلا، اس کی سمجھ بوجھ ختم ہو گئی۔ وہ پھر جلادوں کے پاس گیا اور اپنی حرکت سے پھر مار کھائی۔ آخر کار اس نے یہ سمجھا کہ اس واقعے...

یقیناً کوئی الہی راز پوشیدہ ہے۔ اس لیے اس نے صندوق بنا کر حضرت موسیٰ کی والدہ کو دے دیا۔ دریا کی لہریں گہری تھیں، شاید صبح کا وقت تھا۔ ابھی مصر کے لوگ خواب غفلت میں تھے۔ مشرق سے سورج نکل رہا تھا۔ ماں نے نو مولود بچے اور صندوق کو دریائے نیل کے کنارے لایا۔ بچے کو آخری بار دودھ پلایا۔ پھر اسے مخصوص صندوق میں رکھا جو خاص اس لیے تھا کہ وہ پانی پر تیر سکے، جیسے ایک چھوٹی کشتی۔ پھر وہ صندوق نیل کی لہروں کے حوالے کر دیا۔ نیل کی زور دار لہروں نے صندوق کو جلد ساحل سے دور لے جا دیا۔ ماں کنارے کھڑی رہی۔

وہ کھڑی دیکھ رہی تھی۔ موہان کو ایسا لگا جیسے اس کا دل سینے سے نکل کر لہروں کے اوپر تیر رہا ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو سکون اور قرار نہ دیتا تو یقیناً وہ زور زور سے رونے لگتی اور پھر سارا راز کھل جاتا۔ کسی آدمی میں یہ قدرت نہیں کہ ان جذباتی لمحات میں ماں کی حالت کو الفاظ میں اتنا خوبصورتی سے بیان کر سکے۔ مگر ایک فارسی شاعرہ نے کسی حد تک اس منظر کو اپنے خوبصورت اور گہرے جذباتی اشعار میں مجسم کیا ہے۔ دلوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی محبت۔ اب دیکھنا چاہیے کہ فرعون کے محل میں کیا ہو رہا تھا۔

رواج میں یہ مشہور ہے کہ فرعون کی ایک اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ ایک سخت بیماری میں شدید تکلیف میں مبتلا تھی۔ فرعون نے اس کا بہت علاج کروایا۔ مگر بے سود۔ اس نے جادوگروں سے پوچھا۔ انہوں نے کہا اے فرعون، ہم پیش گوئی کرتے ہیں کہ اس دریا میں سے ایک آدمی تیرے محل میں داخل ہوگا۔ اگر اس کے من کی رال اس بیمار کے جسم پر لگ جائے تو اسے شفا مل جائے گی۔ چنانچہ فرعون اور اس کی ملکہ آسیہ ایسے جملے کے انتظار میں تھے کہ ایک دن انہیں ایک صندوق نظر آیا جو لہروں کی سطح پر تیر رہا تھا۔ فرعون نے حکم دیا کہ سرکاری ملازمین فوراً دیکھیں۔

یہ صندوق کیسا ہے، اسے پانی سے نکال کر دیکھیں کہ اس میں کیا ہے۔ نوکروں نے وہ عجیب صندوق فرعون کے سامنے رکھ دیا۔ کسی میں اس کا ڈھکن کھولنے کی ہمت نہ ہوئی۔ حکم ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خود آئیں گے اور نجات کے لیے صندوق کا ڈھکن فرعون ہی کے ہاتھ سے کھولا جائے گا۔ تو ویسا ہی ہوا۔ جب فرعون کی ملکہ نے اس بچے کو دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے بجلی سی کوند گئی ہو جس نے اس کے دل کو روشن کر دیا۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق دے اور ہمارا انجام ایمان پر کرے۔ آمین۔