شوہر اور بیوی کی قربت: حدیث کی روشنی میں رہنمائی
شوہر اور بیوی کے تعلقات میں راز داری اور اعتماد بہت ضروری ہے۔ کسی بھی ذاتی بات کو دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کریں، اور ایک دوسرے کے جذبات اور جسمانی ضروریات کا خیال رکھیں۔
حدیث میں دو زبردست طریقے بتائے گئے ہیں کہ شہر کے اوپر بیٹھ کر ہم مَستی کرنا جائز ہے یا حرام۔ اللہ تعالیٰ حق بات کا پتہ دیتا ہے، شرم نہیں آتی۔ اس کہانی میں قرآن اور حدیث سے ثابت دو طریقے بیان کیے گئے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بی بی شہر کے اوپر بیٹھ کر ہم مَستی کر سکتے ہیں یا نہیں۔ ناظرین، آج میں آپ کے لیے ایک بہت ہی کمال کی کہانی لے کر آیا ہوں، تمام حضرات اس کہانی کو آخر تک ضرور دیکھیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، ہم بتائیں گے وہ کون سا اسلامی طریقہ ہے جسے قرآن اور حدیث میں پسند کیا گیا ہے۔ ناظرین، پرانے حدیث میں ہم مَستی کرنے...
دو ایسے مثلث کی بات کی گئی ہے جو تقریباً ہر عورت کو پسند آتے ہیں۔ اصل میں، میاں بیوی کے تعلقات کے کچھ مسائل ہیں جنہیں جاننا ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے۔ یاد رکھیں، یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ شادی سے پہلے میاں بیوی اور اولاد کے حقوق و فرائض سیکھنا فرض ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جیسے حرام صحبت پر سزا ہے، اسی طرح جائز صحبت پر نہیں۔ حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہر انسان کو جمع ہونے کی ضرورت ہے جیسے جیسا جتنا ضروری ہے۔ کیونکہ بیوی کے سہارا ہونے کا شبہ ہے۔ برائے روایت یا علم جب شہر اپنی بیوی سے ہم مباشرت کرتے ہیں...
ارادہ کریں اور بالکل شادی کی پہلی رات اور اس کے بعد بھی شہر کو چاہیے کہ ان آداب اور طریقوں کے مطابق عمل کرے، ان شاء اللہ شیطان ہمیشہ کے لیے محفوظ رہے گا اور نیک اولاد پیدا ہوگی۔ مگر یاد رہے کہ سات بولنے سے پہلے ہم تفصیل کی دعا پڑھیں، اور سب سے بہتر یہ ہے کہ جب کمرے میں داخل ہوں تب ہی بسم اللہ شریف پڑھ کر دروازہ کھولیں۔ اگر ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہیں گے تو شیطان کمرے سے باہر ہی رہے گا، ورنہ وہ بھی آپ کے ساتھ جسم میں ہوگا۔ بغیر کوئی تفصیل کے، عورت کے اندر مرد کے مقابلے میں سو گنا زیادہ طاقت ہے، مگر اسے حیاء پر رکھنا چاہیے۔
اگر مرد کو جلدی فرق محسوس ہو جائے تو فوراً اپنی بیوی سے جُڑنے کی کوشش نہ کرے بلکہ تھوڑا صبر کرے، پھر الگ ہو جائے۔ نماز یا جمعہ کے وقت کسی اور کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ نماز کے لیے کوئی خاص وقت مقرر نہیں، بس یہ خیال رکھنا کہ نماز ضائع نہ ہو۔ کیونکہ بیوی کے ساتھ بھی نماز روزہ کی طرح احتیاط ضروری ہے۔ مرد کے لیے یہ جائز ہے کہ عورت کا ستر یعنی شرمگاہ دیکھے، لیکن ہم یہی کہتے ہیں کہ مکہ میں شرمگاہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس سے نسیہ یعنی حافظہ کمزور ہونے کی بیماری ہو سکتی ہے۔
ہوتا ہے اور نظر بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ہم مستری سے پراغت کے بعد مرد اور عورت کو الگ الگ کپڑے سی اپنے ساتر صاف کرنا چاہیے کیونکہ دونوں کا ایک ہی کپڑا استعمال کرنا نفرت اور جدائی کا سبب ہے۔ ہم مستری سے احترام، اینجل یعنی منیف کریز ہونے کے بعد یا دوسری مرتبہ صحبت کرنا چاہتا ہے تب بھی ساتر یعنی شرم و حیا لازم ہے، کچھ وقت دے کر۔ اور بہتر یہ ہے کہ وضو کر لے ورنہ ہونے والے بچے کو بیماری کا خطرہ ہے۔ جمع موبائل صرف ہم مستری کے کچھ دیر بعد یعنی کم از کم آدھا گھنٹہ بعد غسل کر لینے میں صحت و تندرستی بھی ہے۔
اور مرنے کے وقت حضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی زیارت بھی نصیب ہوگی۔ جمع کے فوراً بعد پانی پینا صحت کے لیے مفید نہیں، لہٰذا کچھ دیر بعد پانی پی سکتے ہیں۔ اسلام انسانی زندگی کے تمام تقاضے آسانی سے پورے کرتا ہے بلکہ زندگی کے ہر عمر کے لیے پاکیزہ اصول اور بہترین نظام پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے شرماتا نہیں، اسی لیے ہمیں نبی ﷺ کی جاری زندگی کی ہر چھوٹی بڑی بات بتا دی۔ نکاح اور بیوی سے جمع، شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ افزائش نسل کا شباب ہے، پھر اللہ اتنی بڑی بات کیسے...
نہیں بتاتا، یہ بھی بتا دیا کہ پیدائش کے بعد جب کوئی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اسے سکون حاصل کرنے کے لیے جسم کی زندگی کی ضرورتی چیزیں پیش آتی ہیں۔ اسلام نے زندگی بنانے کے لیے نکاح کا پاکیزہ نظام پیش کیا ہے۔ جس طرح اسلام نے نکاح کا پاکیزہ نظام دیا، اسی طرح جمع ہونے کے بعد بھی صاف ستھری اور رہنما اصول دیے ہیں، اور ان اصولوں کی معلومات ہر مسلمان مرد اور عورت پر ضروری ہیں۔ یہودیوں کا خیال تھا کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جما کرنے سے لڑکا بنگالی پیدا ہوگا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ طریقے سے فرمایا ہے۔
بیویاں تمہاری کھٹیا ہیں، اس لیے تم اپنی کھیتیوں میں جہاں چاہو آؤ۔ سورہ بکرہ کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جی بھر کے داخل ہو سکتے ہو۔ شہر کے لیے بیوی کی اگلی شرمگاہ ہی حل ہے، جبکہ پچھلی شرمگاہ میں جانا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اس آیت سے پہلے بیان کیا ہے، فرمایا ہے کہ لوگ تم سے اس کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دو یہ نجاست ہے، اس سے دور رہو۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائے ان کے قریب مت جاؤ۔ ہاں، جب وہ پاک ہو جائے تو ان کے پاس جا سکتے ہو جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے۔
اللہ نے توبہ کرنے والوں اور پاکدامن رہنے والوں کو پسند فرمایا ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ عزت دے رہا ہے کہ بیوی کے پاس وہ حالت میں نہ جاؤ، اور جب وہ غسل کرکے پاک ہو جائے تو اسی جگہ اسے رکھو۔ جگہ سے جمع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حَیض اگلی شرمگاہ سے آتا ہے اور جب خون آنا بند ہو جائے تو اسے اس جگہ سے جمع کرنا جہاں سے خون آ رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ بیوی سے جمع کرتے ہوئے تمہارے وضو میں برکت ہے۔ یہ روایت صحیح مسلم سے مروی ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں۔
اگر کوئی اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو کیا اسے اس کا ثواب نہیں ملتا؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا بتاؤ اگر وہ یہ گواہی اس ناجائز جگہ پوری کرتا تو کیا اسے گناہ نہ ہوتا؟ صاحب نے عرض کیا کیوں نہیں؟ فرمایا کہ اس لیے کہ جب وہ صحیح جگہ سے گواہی دیتا ہے تو اس کے لیے ثواب ہے۔ قرآن و حدیث میں ہم عورتوں کی پسند کے دو ایسے نکات بیان کیے گئے ہیں جو تقریباً ہر عورت کو پسند ہوتے ہیں۔ ان نکات کو قرآن میں بھی پسند کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی۔ آئیے قرآن و حدیث میں پسندیدہ نکات کے بارے میں جانتے ہیں۔
پاکستان نے ہر موقع پر مسلمانوں کی رہنمائی کی ہے، اسی طرح شرعی قوانین نے بھی ہمیں مِستری کا کام کرنے میں بہت رہنمائی دی ہے۔ یہاں دو طریقے بتا رہے ہیں کہ وہ کون سے دو طریقے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ یہ وہ طریقہ ہے جو تقریباً ہر زندہ انسان استعمال کرتا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ عورت نیچے لیٹے اور شوہر اوپر ہو اور حرکت کریں۔ قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ عورت نیچے لیٹ جائے اور شوہر اس کے اوپر ہو۔ اس طریقے سے بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا جاتا ہے، جس سے شوہر کو بھی لذت ملتی ہے اور بیوی کو بھی۔
یہ طریقہ بہت پسند کیا گیا ہے، قرآن نے بھی اسے پسند کیا ہے، نذری نے بھی اس کو عزت دی ہے۔ دوسرا طریقہ جو حدیث میں پسند کیا گیا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب بیوی نیچے لیٹ جائے تو اس کی دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھ لی جائیں، یعنی اس کے جسم کے درمیان بیٹھ کر یہ حرکت کی جائے۔ حدیث میں یہ طریقہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ پہلا طریقہ تھا کہ اوپر لیٹ جانا، اور دوسرا طریقہ حدیث میں یہی ہے، بس فرق یہ ہے کہ دونوں ٹانگیں اٹھا کر حرکت کی جائے۔ یہ طریقہ ان عورتوں کے لیے ہے جنہیں شامل نہیں کیا جاتا یا جنہیں مشکل ہوتی ہے۔
بہت جلدی اس طرح حملہ ٹھہر جاتا ہے ناظرین یہ وہ دو طریقے ہیں جن کو حدیث میں سوال کیا گیا ہے۔ ایک کارٹون نے سوال بھیجا ہے اور کہا ہے کہ یہ سوال کرنے کے لیے میں بہت شرمندہ ہوں لیکن میں جاننا چاہتی ہوں کہ کیا یہ غلطی ہے یا نہیں؟ کیا عورت اپنے شہر کے اوپر بیٹھ کر ہم مِستری کر سکتی ہے یا نہیں؟ میں نے اپنے شہر کے اوپر بیٹھ کر ہم مِستری کی ہے لیکن جب ہم دونوں میاں بیوی اس طرح ہم مِستری کرنے کے بعد ترقی حاصل کر چکے تھے تو ہم دونوں ایک دوسرے سے شرمندہ ہوئے کہ ہم نے بہت بڑا گناہ کیا۔
لیا محترمہ نازریں مستری کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں بی بی شہر کے اوپر بیٹھ کر ہم مستری کرتے ہیں، دوسرے الفاظ میں کہ شہر لیٹ ہوا ہو اور بی بی اس کے اوپر کوئی بھی طریقہ اختیار کرے، اور پھر دونوں ہم بستر ہوں۔ ایسے ہی ہم مستری سے متعلق شریعت کیا حکم دیتی ہے، یہ سوال تھا کہ جب ہم مستری کرتے وقت عورت مرد کے اوپر بیٹھ جائے یا مرد عورت کے اوپر بیٹھ جائے ایسی صورت میں۔ عورتوں کا سمجھنا یہ ہے کہ یہ گناہ کا کام ہے۔ دراصل جیسا کہ زندگی اور ہمارا معاشرہ، جو ہمارے آس پاس ہے، ہم دیکھتے ہیں اور اپنی اباؤ اجداد سے...
عورتوں سے سنتے ہیں کہ عقل یہی کہتی ہے کہ بس یوں ہی کرنا چاہیے۔ بیوی شہر کے اوپر بیٹھ کر ہم کاریگری کریں یا شہر بیوی کے اوپر بیٹھ کر شریعت کے مطابق انجام دیں، تو ایسا کرنا حرام نہیں بلکہ مرد کے لیے جائز ہے کہ وہ چاہے اپنی بیوی سے فائدہ اٹھائے۔ شہر کے لیے اپنی بیوی سے ہم کاریگری اور تلازّج کرنا ہر وقت جائز ہے۔ بیوی سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس کے ساتھ کھیلنے میں وقت کی کوئی قید یا کوئی پابندی نہیں، سوائے چند چیزوں کے جو شریعت نے مقرر کی ہیں، یعنی شہر۔
اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کے دوران مرمت کرنا جائز نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی پشت کی جگہ پر مرمت کرنا درست ہے۔ اپنی بیوی سے ہر طرح کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، چاہے سامنے کی طرف سے ہو یا پیچھے کی طرف سے، مگر صرف سامنے والی جگہ یعنی شرمگاہ میں ہونا چاہیے۔ بات یہ ہے کہ یہ صرف سامنے کی شرمگاہ میں ہی ہونا چاہیے، جہاں سے دونوں طرف خون آتا ہے۔ اگر آپ ہمبستری کرنا چاہتے ہیں تو پیچھے والی جگہ پر نہیں بلکہ صرف سامنے والی جگہ پر، جہاں سے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے...
कराने करीम में फरमाया गया है کہ یہ عورتیں جو تمہاری بیویاں ہیں، یہ تمہاری کھٹیا ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی بیویوں کو کھٹیوں سے تعبیر فرمایا ہے۔ تمہاری بیویاں تمہاری کھٹیا ہیں اور اپنی کھٹیوں میں جیسا چاہو آؤ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمان کے مطابق بیوی کو پچھلی شرمگاہ سے داخل کرنا حرام ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طریقے کو جائز نہیں فرمایا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے۔
وللم نے فرمایا کہ اگر کسی نے ٹی وی کو دو بار یعنی پچھلی جگہ پر رکھا تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن کی نفی کر دی، اور فرمایا کہ ایسا کرنے والے پر اللہ کا غصہ آتا ہے۔ لہٰذا اگر بی بی شہر کے اوپر آئی ہے تو یہ شہر بی بی کے اوپر آتا ہے، یا بی بی کے پیچھے سے جو سامنے والی جگہ ہے، وہاں حضورِ نبی ﷺ کو شامل کیا جاتا ہے۔ تو یہ تمام طریقے جائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اس میں کوئی منع نہیں ہے، سوائے بی بی کی جگہ پر رکھنے کی، جو کہ دونوں جگہوں پر رکھنے کی بات ہے، بالکل درست ہے۔
اللہ تعالیٰ حق بات کہنے پر شرمندہ نہیں ہوتا، لیکن یوتبہ کہتا ہے کہ ہم استری کرنے کا ایسا طریقہ اپنائیں جس میں بیوی شہر کے اوپر بیٹھ کر استری کرے۔ ایسا طریقہ شہر کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اگر بیوی چور کے اوپر بیٹے گی تو بیوی کا پانی، یعنی مد منویہ، شہر کے نقصان پر گرے گا، اور یہ اس کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طریقے سے استری کرنا جائز اور درست ہے، لیکن شہر پر لازم ہے کہ وہ اس طریقے سے بچے کیونکہ یہ نقصان دہ ہے۔ بیوی سے استری کرنے کے بعد طریقہ یہی ہے۔
کہ ہم مِستری کے وقت شہر نیچے اور بی بی اوپر ہو، پرانے حدیث کے اشارے اور تفصیلات سے تو اس کی نفی ہوتی ہے، یعنی یہ جائز ہے۔ لیکن اس طریقے سے طبّی نقصان کبھی کبھی پوشیدہ ہوتا ہے کہ اس طرح شہر کی رقم کا اقرار پورے طریقے سے نہیں ہوتا۔ حضور اطناثول میں اس کا کچھ حصہ رہ جاتا ہے جو بعد میں سڑ کر نقصان اور فساد کی مختلف صورتیں اختیار کر لیتا ہے۔ اس صورت میں شہر کا حضور تلاش فلم میں بی بی کے حضور ایک میکسس سے بہت سارے رقوم اکٹھی ہو جاتی ہیں اور یہ بات بھی مختلف پہلوؤں سے نقصان بانٹتی ہے، اس کا مستقل حل نہیں ہوتا۔
نقصان اپنی جگہ ہے، ہمنشین کی اس حیات میں اس کا تصادم، حملہ اور بچے کی پیدائش کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ راحت یہ ہے کہ بیوی سے ہم کاری کے دوران شوہر جلدی فارغ ہو جاتا ہے اور بیوی کو فارغ نہیں ہوتا، جس کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں فطری طور پر مارنے والی طبیعت رکھتی ہیں اور اس کے علاوہ جنسی پوشیدہ ہوتے ہیں، اسی لیے اس کے انجذاب میں ڈر لگتا ہے۔ اس کے برعکس مرد عام طور پر جنسی اور جسمانی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، اسی لیے وہ جلدی فارغ ہو جاتے ہیں۔ بیوی سے ہم کاری یعنی مباشرت کے دوران اگر شوہر پہلے فارغ ہو جائے تو اسے بیوی کے فارغ ہونے تک اسی حالت میں برقرار رہنا چاہیے اور دونوں کے...
سکون اور شرارت کی پہچان یہ ہے کہ دونوں کو ذہنی اور جسمانی سکون ملے۔ اگر بیوی شیرنی نہیں بنی اور ایسی صورت میں مرد الگ ہو گیا تو بیوی کے دل میں تسکین نہ ہونے کی وجہ سے محبت میں نفرت پیدا ہو جائے گی۔ اور اگر ہر بار ایسا ہی ہوا تو خطرہ ہے کہ وہ اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے کوئی اور راستہ اختیار کر لے۔ ہم سب کو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے اور ہم سب کو شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کی بھی توفیق دے۔
اب فرمائیں کیونکہ نماز پڑھنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ نماز ہمیں نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔ نماز شیطان کے کاموں کو ختم کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔ سامعین اور تمام حضرات کمنٹ باکس میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے کم از کم ایک نام ضرور لکھیں۔
mnweb