ماں کی خدمت — اللہ کی رضا اور کامیابی کا راستہ
ماں کی خدمت — اللہ کی رضا اور کامیابی کا راستہ
السلام علیکم دوستوں ماں کی خدمت عبداللہ اور فاطمہ کی کہانی۔
گاؤں میں صبح کا وقت تھا۔ کچے گھروں کی دیواروں پر سورج کی ہلکی سی کرنیں پڑ رہی تھیں۔ پردے چہا رہے تھے اور فزا میں تازگی تھی۔ عبداللہ اور فاطمہ اپنے کمرے میں اسکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ فاطمہ جلدی کرو ورنہ اسکول سے لیٹ ہو جائیں گے۔ عبداللہ بھائی آج ٹیسٹ ہے۔ مجھے تھوڑا سا درد ہو رہا ہے۔ اچانک امی کی آواز آئی۔ عبداللہ فاطمہ جلدی آجائیں۔ ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ عبداللہ فاطمہ جلدی آجائیں۔ اسکول کا
وقت ہو گیا ہے۔ آکر ناشتہ کرو۔ دونوں بہن بھائی مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکلے۔ اسلم والاکم امی جان۔ امی کو دیکھتے ہی اڈب سے کہا، اسلم والاکم امی۔ امی نے پیار سے جواب دیا۔ والیکم اسلم میرے بچوں کے۔ چلو ناشتہ کرو۔ عبداللہ اور فاطمہ امی کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگے۔ اللہ آپ دونوں کو کامیاب کرے۔ آمین۔ امی انہیں پیار سے دیکھ رہی تھیں۔ ناشتہ ختم ہوا تو دونوں نے امی کو گلے لگایا۔ اللہ حفیظ امی ہم اسکول جا رہے ہیں۔ اللہ حافظ امی۔ لیکن جیسے ہی وہ دروازے کی طرف
بڑھے، اچانک امی نے اپنے سر کو تھام لیا۔ ہائے اللہ۔ سر بہت درد کر رہا ہے۔ ان کے چہرے پر تکلیف صاف دکھائی دے رہی تھی۔ فاطمہ گھبرا گئی۔ امی کیا ہوا؟ امی کیا ہوا؟ کیا آپ ٹھیک ہیں؟ عبداللہ فوری امی کے پاس آئے۔ امی آپ ٹھیک ہیں؟ امی نے کمزور مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ پتہ نہیں بیٹا آج سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ تم دونوں پریشان نہ ہو۔ چلے جاؤ۔ میں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ نہیں امی۔ آج میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گا۔ لیکن عبداللہ کا دل نہ مانا۔ وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر مضبوط آواز میں
بولا، نہیں امی آج میں اسکول نہیں جاؤں گا۔ میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ فاطمہ نے بھی فوری کہا میم امی ہم آپ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ اور میں بھی امی ہم آپ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ امی نے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی۔ نہیں بیٹا تربیت بھی بہت ضروری ہے۔ عبداللہ نے ادب سے جواب دیا۔ امی آج آپ کی کھدمت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ اللہ کو ماں کی کھدائی بہت پسند ہے۔ امی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اللہ آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔ آمین۔ انہوں نے دونوں بچوں کو سینے سے لگا لیا۔ عبداللہ نے امی کو چارپائی پر
لیٹایا اور کہا، "ماں، آپ آرام کریں۔ گھر کا سارا کام ہم خود کریں گے۔" امی جان، آپ آرام کریں۔ فاطمہ فوری طور پر باورچی کھانے میں گئی۔ برتن دھوئے، پانی گرم کیا۔ اب امی کو چائے بنا کر دینا چاہیے۔ عبداللہ نے گھر کی صفائی کی۔ پنکھا ٹھیک کیا اور امی کے سر پر آہستا-آہستا تیل سے مساج کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد امی نے آنکھیں کھولیں۔ امی اب درد کم ہو رہی ہے نا؟ ان کے چہرے پر سکون تھا۔ میرے بچوں کی اب میرا درد کافی کم ہے۔ اب میں بہتر محسوس کر رہا ہوں بیٹا۔
اللہ آپ کو خوش رکھے۔ عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ امی جب تک آپ مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتی ہم آپ کے پاس ہی رہیں گے۔ یا اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ کامیاب کر دے۔ آمین۔ دوپہر تک امی کی صحت بہتر ہو گئی۔ امی نے دل ہی دل میں دعا کی۔ یا اللہ میرے بچوں کو دنیا اور آخر میں کامیاب کر دے۔ شام کو ابو گھر آئے۔ بچوں آج تم اسکول نہیں گئے کیا؟ تو امی نے ساری بات بتائی۔ آج ہمارے بچوں نے مجھے بہت خوش کیا ہے۔ ماشااللہ۔ ابو کی آنکھیں پھکر سے بھر گئیں۔ انہوں نے عبداللہ اور فاطمہ کے سروں پر
ہاتھ رکھا اور کہا جو بچے اپنی ماں کی کھدائی کرتے ہیں اللہ ان کے راستے آسان کر دیتا ہے۔ اسی دن عبداللہ اور فاطمہ نے ایک بہت بڑا سبق سیکھا۔ ماں کی خدامت صرف فرض نہیں بلکہ اللہ کے رضا کا راستہ ہے۔ جو بچہ اپنی ماں کا خیال رکھتا ہے، اللہ اس کے ہر کام میں برکت ڈالتا ہے۔
mnweb