بادشاہ، جھونپڑی اور اللہ پر بھروسہ
بادشاہ، جھونپڑی اور اللہ پر بھروسہ
ایک بادشاہ سفر کے دوران راستہ بھٹک گیا اور چلتے چلتے ایک ویرانے میں جا پہنچا۔ وہاں اسے ایک چھوٹی سی جھونپڑی نظر آئی۔ بادشاہ نے رات گزارنے کے لیے اس جھونپڑی میں رہنے والے ایک غریب شخص سے پناہ مانگی۔
اس غریب شخص نے بادشاہ کو ایک عام مسافر سمجھ کر نہایت خلوص کے ساتھ اس کی خدمت کی۔ اس نے جو کچھ بھی اس کے پاس تھا، بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔ وہ یہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ جس کی وہ خدمت کر رہا ہے، وہ کوئی عام آدمی نہیں بلکہ خود بادشاہ ہے۔
بادشاہ اس خلوص بھری خدمت سے بہت خوش ہوا۔ جب صبح روانہ ہونے لگا تو اس نے اپنی انگلی سے انگوٹھی اتاری اور اس غریب شخص کو دیتے ہوئے کہا:
"تم مجھے نہیں جانتے، میں اس ملک کا بادشاہ ہوں۔ یہ انگوٹھی اپنے پاس رکھ لو۔ جب بھی تمہیں کسی چیز کی ضرورت پیش آئے، میرے محل آ جانا۔ دروازے پر موجود دربان کو یہ انگوٹھی دکھا دینا۔ میں جس حال میں بھی ہوں گا، وہ تمہیں مجھ تک ضرور پہنچا دے گا۔"
یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے چلا گیا۔
کچھ دن گزرنے کے بعد اس غریب دیہاتی کو واقعی ایک ضرورت پیش آ گئی۔ وہ بادشاہ کے محل پہنچا اور دروازے پر کھڑے ہو کر کہا:
"مجھے بادشاہ سے ملنا ہے۔"
دربان نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور طنزیہ انداز میں کہا:
"تمہاری کیا حیثیت ہے کہ بادشاہ سے ملاقات کرو؟ تم نہیں مل سکتے۔"
دیہاتی نے خاموشی سے وہ انگوٹھی نکال کر دربان کو دکھا دی۔
جیسے ہی دربان کی نظر انگوٹھی پر پڑی، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ یہ تو بادشاہ کی خاص مہر والی انگوٹھی تھی۔ اسے فوراً یاد آ گیا کہ بادشاہ کا حکم ہے:
"جو بھی یہ انگوٹھی لے کر آئے، اسے فوراً میرے پاس پہنچایا جائے، چاہے میں کسی بھی حال میں ہوں۔"
چنانچہ دربان اس دیہاتی کو لے کر بادشاہ کے خاص کمرے تک پہنچا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ بادشاہ نماز میں مشغول ہے۔
دیہاتی یہ منظر دیکھ کر وہیں رک گیا۔ جب بادشاہ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو دیہاتی کی نظر اس پر پڑی۔ یہ دیکھ کر وہ خاموشی سے پلٹ گیا اور محل سے باہر جانے لگا۔
دربان نے کہا:
"آپ بادشاہ سے ملے بغیر جا رہے ہیں؟"
اس نے جواب دیا:
"اب ملاقات کی ضرورت نہیں رہی۔ میں جس کام سے آیا تھا، وہ کام ہو گیا ہے۔"
کچھ دیر بعد جب بادشاہ نماز اور دعا سے فارغ ہوا تو دربان نے سارا واقعہ بیان کیا۔ بادشاہ فوراً کھڑا ہو گیا اور کہا:
"جلدی کرو! اسے واپس لے آؤ، وہ ہمارا محسن ہے۔"
دیہاتی واپس لایا گیا۔ بادشاہ نے کہا:
"آئے ہو تو بغیر ملے کیسے چلے گئے؟"
دیہاتی نے ادب سے عرض کیا:
"بادشاہ سلامت! آپ نے فرمایا تھا کہ اگر کبھی ضرورت پیش آئے تو آ جانا، ہم ضرورت پوری کریں گے۔ مجھے واقعی ضرورت تھی، اس لیے آیا۔ لیکن جب میں نے دیکھا کہ آپ خود اللہ کے حضور ہاتھ پھیلائے دعا مانگ رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آیا کہ جس
ذات سے بادشاہ مانگ رہا ہے، مجھے بھی اسی سے مانگنا چاہیے۔"
-----------------------------------------------------
ہمیں جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے، چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی، ہمیں صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنی چاہیے۔
وہی ایک ذات ہے جو حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔
اللہ کے سوا کوئی نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان سے بچا سکتا ہے۔
ہم سب اللہ کے در کے محتاج ہیں،
اور وہی بے نیاز، غنی اور دینے والا ہے۔
بے شک! اللہ رب العزت ہی سب سے بہتر کارساز ہے۔
mnweb