ایک نوجوان دن کو شراب پیتا، رات جوان لڑکی کے ساتھ گزارتا، اور دن میں اُسے قتل کر دیتا۔

ایک نوجوان جو دن کو نشے میں ڈوبا رہتا تھا اور رات کو وقتی لذتوں کے پیچھے بھاگتا تھا، اپنی ہی خواہشات کا غلام بن گیا۔ ایک لمحے کی غفلت اور غصے نے اسے ایسا قدم اٹھانے پر مجبور کیا جس نے ایک معصوم جان چھین لی۔ یہ کہانی صرف ایک جرم کی نہیں بلکہ اُس انجام کی ہے جو برائی، نشے اور بے قابو نفس کا نتیجہ بنتا ہے۔

ایک نوجوان دن کو شراب پیتا، رات جوان لڑکی کے ساتھ گزارتا، اور دن میں اُسے قتل کر دیتا۔
ایک نوجوان دن کو شراب پیتا، رات جوان لڑکی کے ساتھ گزارتا، اور دن میں اُسے قتل کر دیتا۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ السلام علیکم۔ ایک دفعہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ بستر پر آرام فرما رہے تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے خواب میں ایک بزرگ کو دیکھا جس کا چہرہ نور سے چمک رہا تھا۔ سفید داڑھی، سر پر سفید پگڑی، اور انہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو خواب میں حکم دیا کہ فلا جگہ ایک قاتل کی سزا بھگتنے والا ایک نوجوان موجود ہے۔ نوجوان کو رہا کر دیا جائے۔ تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس بزرگ سے فرمایا محترم اس نوجوان کا نام کیا ہے؟ میں اسے کیسے پہچانوں؟ تو سفید داڑھی...

بوڑھے بزرگ نے فرمایا کہ اُس نوجوان کے ہاتھ پر ایک چمکتا ہوا ستارہ دکھائی دے گا اور وہ ستارہ سلطان کے علاوہ کوئی اور نہیں دیکھ سکتا۔ لہٰذا آپ اسی نشان سے اُس نوجوان کو پہچان لیں۔ اور بزرگ محترم نے سلطان کو یہ حکم دیتے ہی سلطان کے خواب سے غائب ہو گئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی گھبراہٹ سے آنکھ کھل گئی اور سلطان نے فوراً بستر سے اٹھ کر پانی کا گلاس پیا اور پھر سوچنے لگے کہ آخر ایک قاتل کے پیچھے کیا راز ہے کہ ایک بزرگ اُسے رہا کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی وہ رات پریشانی میں گزری۔ صبح ہو گئی۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے نماز ادا کرنے اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے کے بعد اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر سیدھا اسی جیل میں پہنچ گئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جیلر کو اپنے پاس بلایا اور کہا، "اس جیل میں کتنے قیدی ہیں جو قتل کے جرم میں سزا پا رہے ہیں؟" جیلر نے کہا، "حضور، اس جیل میں سینکڑوں ایسے قیدی موجود ہیں۔" سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا، "ان تمام قیدیوں کو ایک ایک قطار میں کھڑا کر دو۔" سلطان کے حکم پر جیلر نے اس وقت قتل کے جرم میں سزا پا رہے قیدیوں کو ایک قطار میں کھڑا کر دیا۔

مجھے کھڑا کر دیا گیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایک ایک کر کے تمام قیدیوں کے ہاتھ دیکھے۔ لیکن کسی قیدی کے ہاتھ پر آپ رحمت اللہ علیہ کو ایسا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس جیلر سے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی اور قیدی ہے جو قتل کے جرم میں سزا پا رہا ہو؟ تو اس نے کہا، حضور ایک ایسا قیدی ہے جسے چند دن بعد پھانسی دی جانی ہے اور وہ بھی قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والا ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی خود جا کر اس نوجوان کے پاس گئے، تو وہ نوجوان جیل میں ایک دیوار کے ساتھ آرام سے بیٹھا تھا۔

بیٹھا تھا۔ جیسے اسے موت کی سزا نہیں بلکہ رہائی ملنے والی ہو۔ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے اُس نوجوان کے چہرے کی طرف دیکھا تو اُس کے چہرے میں اتنی روشنی تھی کہ سلطان حیران رہ گیا کہ آخر ایک قاتل کے چہرے پر اتنی روشنی کیسے آ سکتی ہے۔ پھر سلطان نے اُس کے ہاتھ کی پچھلی طرف دیکھا، تو ستارہ چمک رہا تھا۔ اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اور جب اُس کے ہاتھ پر دیکھا، تو سلطان کو چمکتا ہوا چھ ستارہ نظر آیا۔ یہ دیکھ کر سلطان مسکرانے لگے اور کہا، جیلر صاحب، اس نوجوان کو میری عدالت میں لے آؤ۔

پیش کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ اگلی صبح سلطان صلاح الدین ایوبی نے قاضی صاحب کو بھی اپنی عدالت میں بلا لیا۔ جس قاضی نے اس نوجوان کو موت کی سزا سنائی تھی، وہ نوجوان بھی سلطان کے سامنے پیش کیا گیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا، "اے نوجوان، بلاشبہ تمہیں ایک قتل کے جرم میں موت کی سزا دی گئی ہے، لیکن ایک حیران کن بات یہ ہے کہ گزری ہوئی رات میں نے ایک خواب دیکھا جس میں ایک بزرگ تھے جن کا چہرہ نور سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے تمہاری رہائی کا حکم دیا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر تمہاری کون سی نیکی اللہ کو پسند آئی یا تم نے ایسا کون سا..."

اچھا کام کیا جس کی وجہ سے تمہیں قتل کرنے کے باوجود بھی چھوڑ دینے کا حکم ملا۔ تو وہ نوجوان مسکرایا اور کہا سلطان معظم، اس راز کو میں نے اس وقت بھی نہیں بتایا جب مجھے یقین ہو گیا تھا کہ مجھے پھانسی دی جائے گی۔ تو پھر میں اس راز کو کیسے ظاہر کر سکتا ہوں؟ تاریخ میں لکھا جائے گا کہ اس نوجوان نے اپنی جان بچانے کے لیے راز فاش کر دیا۔ تو سلطان نے اسے کہا کہ رازوں پر پردہ اسی وقت تک رہنا چاہیے جب تک ان کا مناسب وقت نہ آ جائے۔ مناسب وقت پر ان رازوں کو ظاہر کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی بات اُس نوجوان کو سمجھ آ گئی تو اُس نوجوان نے کہا، حضور! میں ایک رات اس راز کے بارے میں بتاؤں گا۔ سلطان نے پوچھا، وہ کون سی شرط ہے؟ تو اُس نوجوان نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہا، حضور! قاضی صاحب سے میرا ایک سوال پوچھ لیں، پھر میں اس راز سے پردہ اٹھا دوں گا۔ سلطان نے کہا، آخر ایسا کون سا سوال ہے جو تمہیں قاضی صاحب سے پوچھنا چاہیے؟ تو اُس نوجوان نے کہا، حضور! چاہے قاضی صاحب کو یاد ہو یا نہ ہو، میں جانتا ہوں کہ تقریباً پندرہ سال پہلے میں نے قاضی صاحب کے پاس جو کچھ بنایا تھا۔۔۔

مدرسے میں پڑھتا تھا اور اس مدرسے میں سینکڑوں طلباء دین کی روشنی سے منور ہوتے تھے۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ قاضی صاحب کی تنخواہ اتنی کم تھی کہ اس سے قاضی صاحب کا گھر چلانا بہت مشکل ہوتا تھا۔ پھر بھی ان مدرسے میں پڑھنے والے سینکڑوں طلباء کے کھانے پینے، رہائش اور لباس کا خرچ قاضی صاحب خود اٹھاتے تھے۔ حتیٰ کہ اگر مدرسے میں کسی بچے کو بیماری ہو جاتی تو اس کا علاج بھی قاضی صاحب اپنی جیب سے کرتے تھے۔ میں نے قاضی صاحب سے کئی بار اس بات کے بارے میں پوچھا مگر قاضی صاحب نے مجھے بتانے سے انکار کر دیا۔ میں نے قاضی صاحب سے کہا۔۔۔

شاید آپ کو سردار کی طرف سے مدد ملتی ہے یا پھر کوئی اور راز ہے۔ تو قاضی صاحب نے کہا بلاشبہ مجھے سردار کی طرف سے رقم دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔ لیکن میں نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اس لیے یہ ایک راز ہے اور یہ راز ہی رہنا چاہیے۔ میں نے کئی بار پوچھنے کے باوجود، قاضی صاحب کے چاہنے والے طالب علم ہونے کے ناطے قاضی صاحب سے کئی بار سوال کیا۔ پھر بھی اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا گیا۔ تمام مدرسے کے طالب علم حیران ہوتے کہ آخر قاضی صاحب اتنے اخراجات کیسے ادا کرتے ہیں؟ اور چند ایک طالب علموں کے ذہن میں قاضی صاحب کے خلاف غلط خیالات بھی تھے۔

بچوں کا ایک دن کا خرچ کازی صاحب کی دو مہینے کی تنخواہ سے بھی زیادہ تھا۔ اور یہی راز آج تک راز ہی رہا۔ ابھی تک کازی صاحب نے اس بات کا کسی کو پتہ نہیں چلنے دیا۔ اگر کازی صاحب آج بتا دیں کہ وہ بچوں کے اخراجات کی رقم کہاں سے لیتے تھے تو میں بھی اس راز کو ظاہر کر دوں گا۔ جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے کازی صاحب کی طرف دیکھا تو کازی صاحب سر جھکاتے ہوئے بولے، "یقیناً میں اپنی زندگی میں یہ راز ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا، لیکن حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ اب یہ بات سب کے سامنے آنی چاہیے۔" کازی صاحب نے کہا، "میں..."

بغداد کے شہر میں ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میرے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ اس لیے میں اکیلا تھا۔ میں اس مدرسے میں چھ دن پڑھتا اور ایک دن چھٹی والے دن مزدوری کر کے اپنے ایک ہفتے کے خرچ کا بندوبست کرتا تھا۔ وقت یوں ہی گزرتا رہا اور اسی طرح نظامِ زندگی چلتا رہا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ چھ دن مدرسے میں پڑھنے کے بعد جب میں ساتویں دن مزدوری کرنے کے لیے نکلا تو اچانک بارش شروع ہو گئی اور بارش اتنی تیز ہوئی کہ میں اس دن مزدوری نہیں کر سکا۔ میں بہت پریشان ہوا کہ اگلے چھ دن کیسے گزاروں گا۔ لیکن اس کے علاوہ میرے پاس اور کچھ نہیں تھا۔

کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس لیے بھوکھ سے بے حال ہو کر پانی پی کر میں نے وہ چھ دن گزار دیے۔ اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا۔ اگلے دن میں بہت خوش تھا کہ آج مزدوری کا دن ہے۔ مزدوری ہو جائے گی تو پھر میرا اگلا ہفتہ اچھے طریقے سے گزر جائے گا۔ اس لیے جب میں مزدوری کرنے کے لیے مزدوروں کے چوک پر گیا تو دیکھا کہ وہاں کوئی بھی وزن دار، کوئی بھی تاجر مزدور لینے کے لیے موجود نہیں تھا۔ میں ہر طرف دوڑا۔ بازار کے سارے تاجروں کے پاس گیا۔ لیکن کسی نے مجھے مزدوری پر نہیں رکھا۔ اور اب میں مایوس ہو کر واپس آ گیا۔ میں ایک ہفتہ بھوکھ میں گزار چکا ہوں۔

تھا۔ اب دوسرا ہفتہ بھی بھوک میں گزارنے والا تھا۔ دو تین دن تو میں نے بڑی مشکل سے گزارے۔ لیکن اب بھوک سے گزارا نہیں ہو رہا تھا۔ مایوس ہو کر میں گھر سے باہر نکلا اور سوچا کہ باہر نکل کر گلی محلّے میں جاتا ہوں۔ شاید کہیں سے کھانے پینے کا بندوبست ہو جائے۔ میں باہر نکلا تو ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اُس گلی میں مجھے ایک تھیلا پڑا ہوا نظر آیا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سنسان گلی تھی۔ کوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔ میں نے وہ تھیلا اٹھایا اور سیدھا گھر آ گیا۔ جب میں نے وہ تھیلا اٹھا کر دیکھا تو اس میں ایک جواہرات سے بنا ہوا ہار موجود تھا۔ اُس ہار کی چمک دمک کو دیکھ کر مجھے...

مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ ہار بہت قیمتی ہے۔ اس لیے میں سوچنے لگا کہ آخرکار اس کے اصل مالک تک یہ ہار کیسے پہنچایا جائے۔ سوچتے سوچتے جب میں باہر نکلا تو گلی میں ایک بوڑھا آدمی اونٹ پر سوار تھا۔ اس کے آگے اس کا ایک ملازم رسی پکڑے ہوئے چل رہا تھا اور آواز لگا رہا تھا کہ میرے مالک کی ایک تھیلی گم ہو گئی ہے، جس میں ایک قیمتی ہار تھا۔ اگر کسی کے پاس یہ ہو تو براہ کرم واپس کر دے، اسے انعام میں 1000 دینار دیے جائیں گے۔ جب میں نے یہ بات سنی تو فوراً دوڑ کر باہر نکلا، اونٹ کی رسی پکڑی اور اسے اپنے گھر لے آیا اور اس بوڑھے سے کہا، "حضرت آپ..."

آ جاؤ اندر۔ میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ میں نے صرف بوڑھے کو اندر لے جا کر وہ تھیلا اس کے حوالے کیا اور اس کے اندر سے وہ ہار نکالا جو بالکل ویسا ہی تھا۔ وہ بہت خوش ہوا اور کہا یہ ہمارے لیے بہت قیمتی تھا۔ یہ میرے خاندان کی سب سے بڑی نشانی تھی۔ لہٰذا اس کے بدلے میں تم اپنے 1000 دینار کا انعام حاصل کرو۔ میں نے بہت منع کیا کہ یہ میرا فرض تھا اور میں نے اپنا فرض پورا کیا ہے۔ اس لیے میں اس کے بدلے انعام نہیں لے سکتا۔ لیکن اس بوڑھے نے مجھے زور دے کر 1000 دینار دے دیے اور چلا گیا۔

میرے پاس بہت بڑی رقم آ گئی تھی۔ میں نے اپنے کھانے پینے کا بندوبست کیا۔ اپنے مَکے کے مکان کا کرایہ دیا اور مدرسے میں موجود باقی غریب طلبہ میں بھی یہ رقم تقسیم کر دی تاکہ میری طرح دوسرے بچوں کو مشکل وقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وقت گزرتا رہا۔ جب میری تعلیم مکمل ہو گئی تو میں سمندر کے کنارے پہنچا تاکہ کشتی پر سوار ہو کر اپنے شہر واپس جا سکوں۔ شام کا وقت ہو چکا تھا۔ ایک نابلد ملاح کشتی پر موجود تھا۔ جب لوگ اس کے ساتھ سوار ہوئے، کشتی بھاری ہونے کی وجہ سے کشتی اس کے قابو میں نہ آئی اور کشتی کا ڈنڈا ٹوٹ گیا۔ کشتی ڈوبنے لگی۔

مجھے بھی ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیں اور کشتی کے پھٹے کو زور سے پکڑ لیا۔ پتہ نہیں باقی مسافر کہاں چلے گئے۔ میں نے وہ پھٹا پکڑے رکھا۔ اندھیرے میں معلوم نہیں ہوا کہ یہ پھٹا کہاں جا رہا ہے۔ وہ پھٹا ہچکولے کھاتے ہوئے ایک جزیرے پر جا لگا۔ پھٹے سے اترا اور ریت پر گر گیا۔ تھوڑی دیر سانس سنبھالنے کے بعد میں ایک ڈھلوانی جگہ پر چڑھ گیا۔ دیکھا کہ سامنے ایک بستی تھی اور اس کے ساتھ ایک مسجد بھی موجود تھی۔ میں نے وضو کیا اور اس مسجد میں پہنچ گیا۔ میں نے نماز ادا کی تو وہاں قرآن مجید موجود تھا۔ میں نے قرآن

پڑھنا شروع کر دیا۔ جب گاؤں کے ایک بزرگ آدمی نے مجھے قرآن پاک پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا حضور ہماری ساری بستی میں کوئی بھی قرآن پاک پڑھنا نہیں جانتا۔ لہٰذا اگر آپ ہمیں قرآن پاک پڑھنا سکھا دیں، کچھ دن کی باتیں بتا دیں تو آپ کا بہت احسان ہوگا۔ مجھے دو وقت کی روٹی ملتی رہی اور میں نے گاؤں والوں کو قرآن پاک پڑھانا شروع کر دیا۔ گاؤں والوں کی نظر میں میری بہت عزت تھی اور وہ میرا بہت احترام کرتے تھے۔ میری جوانی کی بھرپور عمر تھی۔ ایک دن گاؤں کا چوہدری میرے پاس آیا اور کہا ہمارے گاؤں میں ایک شہی خاندان...

ایک عمر رسیدہ شخص تھا جو اس سے تعلق رکھتا تھا۔ لیکن اب وہ دنیا میں نہیں رہا۔ اس کی ایک اکلوتی بیٹی ہے۔ اس کے پاس بہت سارا مال و دولت ہے۔ اگر تم اس سے شادی کر لو تو تمہاری زندگی بھی بہتر ہو جائے گی اور اسے سہارا مل جائے گا۔ میری ضد کے باوجود میری شادی اس نوجوان لڑکی سے کر دی گئی۔ وقت گزرتا رہا اور میں اسی بستی میں بچوں کو پڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ اس بستی کے اکثر لوگ قرآن پاک پڑھنا سیکھ چکے تھے۔ ایک دن حادثے میں میری بیوی کا انتقال ہو گیا تو اس بستی میں رہنا میرے لیے بہت مشکل ہو گیا۔ میں نے ساری دولت اُن...

تمام گاؤں کے غریبوں میں بانٹ دی۔ اپنی بیوی کی آخری یادگار کے طور پر میں نے گاؤں والوں سے اجازت مانگی کہ وہ ہار میرے ساتھ لے جانے دو۔ گاؤں والوں نے خوشی خوشی مجھے وہ ہار ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی۔ یہ وہ ہار تھا جو میں نے بغداد کی گلی میں اٹھایا تھا اور اس کے بدلے میں اس بزرگ نے مجھے 1000 دینار انعام میں دیے تھے، اور یہ لڑکی اسی بزرگ کی بیٹی تھی۔ جب میں مصر پہنچا اور میں نے سونا ر کو ہار دکھایا تو اس ہار کی قیمت پانچ لاکھ دینار لگائی گئی۔ اتنی بڑی رقم ملنے کے بعد میں نے ایک مدرسہ بنوایا اور اس مدرسے میں۔۔۔

غریبوں کے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ اور اسی پیسے سے میں نے مدرسہ بھی بنوایا۔ اسی رقم سے میں بچوں کے سارے اخراجات بھی اٹھاتا رہا۔ اپنی زندگی میں سو سے بھی زیادہ بچوں کو تعلیم دی۔ یہ سن کر سلطان صلاح الدین ایوبی بہت حیران ہوئے اور کہا کہ اس دنیا میں جہاں اتنے برے لوگ ہیں، وہاں قاضی صاحب جیسے کتنے معزز لوگ بھی ہوتے ہیں۔ پھر سلطان صلاح الدین ایوبی نے فوراً حکم دیا کہ قاضی صاحب کو شہی قاضی کے طور پر مقرر کیا جائے۔ پھر۔۔۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اُس نوجوان سے کہا کہ بتاؤ تم نے ایک قتل کیا، لیکن ایک ولی اللہ بزرگ نے قتل کی سفارش کیوں کی؟ آخر تمہارے پیچھے کون سا راز ہے؟ تو اُس نے کہا حضور کاظمی صاحب کے مدرسے میں پڑھنے کے بعد میری دوستی گاؤں کے تین چار آوارہ لوگوں سے ہو گئی۔ تو میں نے کاظمی صاحب کی ساری دی ہوئی تربیت کو بھلا دیا اور میں بھی ان کی طرح گلی محلوں میں شراب پیتا۔ سارا دن آوارہ گردی کرتا اور رات کو چوری کر کے ایک بوڑھی عورت کو پیسے دیتا اور وہ گاؤں کی کسی نہ کسی لڑکی کو بہلا پھسلا کر مکان...

میں اسے لے آتا اور ہم سب دوست مل کر وہاں ساری رات گناہ کرتے اور یہ سلسلہ دو سال سے چل رہا تھا۔ ایک دن ہم سب نشے میں اپنے کمرے میں موجود تھے کہ ایک بوڑھی عورت ایک جوان، خوبصورت لڑکی کو لے کر آئی۔ جیسے ہی وہ لڑکی ہمارے گھر میں داخل ہوئی، ہماری حالت دیکھ کر وہ چیخ پڑی اور بے ہوش ہو گئی۔ مجھے اس لڑکی میں کچھ خاص بات نظر آئی۔ میں نے فوراً اپنے دوستوں کو اس سے دور کیا اور بوڑھی عورت سے کہا کہ اسے اندر لے جا۔ بوڑھی عورت نے اسے کمرے میں لٹا دیا۔ پتہ نہیں کیوں ایسا ہوا۔

لگ رہا تھا کہ میں اس لڑکی کو چھونے سے مجھے کچھ ہچکچاہٹ ہو رہی تھی۔ میں نے اس لڑکے کو ہوش میں لانے کی پوری کوشش کی اور جیسے ہی وہ ہوش میں آیا تو اس نے مجھے اپنی ماں کی قسم دے کر کہا کہ میں ایک غریب مزدور کی بیٹی ہوں۔ وہ بوڑھی عورت مجھے بہانے سے اپنے گھر لے گئی کہ وہاں کھانا پڑا ہوا ہے اور میں وہ کھانا تمہیں دے دوں گی تاکہ تم جا کے اپنے بیمار والد کو کھلا سکو۔ میں اپنے بیمار والد کا پیٹ بھروانے کی ہوس میں اندر چلی گئی۔ لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اندر شراب کے نشے میں بیٹھے ہو اور جیسے ہی میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے تمہاری نیت سمجھ آ گئی۔

پتا چل گیا کہ کیا ہوا اور اسی خوف کی وجہ سے میں بے ہوش ہو گئی۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر آج لڑکوں نے مجھے چھوا تو میں زندہ نہیں رہ پاؤں گی، اور میری روح کو کبھی سکون نہیں ملے گا۔ پوری زندگی مجھے کسی نامحرم نے نہیں چھوا۔ لیکن اگر آج میرے ساتھ کچھ برا ہوا تو میں قیامت تک تم سب کو معاف نہیں کروں گی۔ اس لڑکی کی بات سن کر مجھے بہت ڈر لگا اور میں باہر نکل آیا۔ اپنے دوستوں کو کہا کہ ہم اس لڑکی کو ہاتھ تک نہیں لگائیں گے۔ وہ لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ میرے دوستوں نے سمجھا شاید یہ خود اس کے ساتھ گناہ کر رہا ہے۔

وہ جرم کرنا چاہتا ہے اور ہمیں اس سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے مجھے کہا کہ یا تو ہمیں اس لڑکی کے ساتھ رہنے دو یا پھر قتل کے لیے تیار ہو جاؤ۔ میرے بارہا انکار کے باوجود میرے دوست اس کمرے کی طرف جانے لگے۔ تبھی میں نے خنجر نکالا اور ان میں سے ایک دوست کو قتل کر دیا۔ جیسے ہی میں نے ایک کو قتل کیا، باقی خوف سے وہاں سے بھاگ گئے اور میں نے اس لڑکی کو اپنے ساتھ لے کر محفوظ طریقے سے اپنے گھر پہنچایا۔ جب یہ بات قاضی صاحب کو معلوم ہوئی تو مجھے قاضی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا اور قتل کے...

جرم میں مجھے موت کی سزا سنائی گئی۔ جب یہ بات سلطان صلاح الدین ایوبی نے سنی تو وہ بہت حیران ہوا اور کہا کہ بے شک جب اللہ تعالیٰ انسان کو سیدھا راستہ دکھانا چاہتا ہے تو پھر چاہے انسان کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو، وہ سیدھے راستے پر آ جاتا ہے۔ اس کے بعد سب کو یہ راز معلوم ہو گیا کہ قاتل کی رہائی کا حکم ایک بزرگ نے سلطان کو خواب میں کیوں دیا تھا۔ پھر سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے باذلت رہا کر دیا۔ تاریخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ قاضی صاحب نے اس مزدور کی بیٹی کے ساتھ اس نوجوان کا نکاح کر دیا۔

وہ کروا دیا اور پھر اس نے شہید قاضی سلطان صلاح الدین ایوبی کی خدمت شروع کر دی۔