خاموش وعدہ | جدائی، امید اور انتظار کی کہانی

خاموش وعدہ ایک دل کو چھو لینے والی کہانی ہے جس میں عائشہ کے انتظار، جدائی اور عمر کے وعدے کی خاموش بازگشت بیان کی گئی ہے۔ یہ تحریر امید، محبت اور وفا کے جذبات کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔

خاموش وعدہ | جدائی، امید اور انتظار کی کہانی
خاموش وعدہ | جدائی، امید اور انتظار کی کہانی

vv

خاموش وعدہ

عائشہ ہر شام چھت پر آ کر بیٹھتی تھی۔ سورج ڈھل رہا ہوتا، آسمان سنہری سے اداس نیلا ہو جاتا، اور اس کی آنکھیں دروازے پر جمی ہوتیں۔
وہ کسی کے آنے کا انتظار نہیں کر رہی تھی، بلکہ کسی کے لوٹ آنے کی امید زندہ رکھے ہوئے تھی۔

عمر نے جاتے وقت کہا تھا:
“میں وعدہ کرتا ہوں، جلد واپس آؤں گا۔”

وہ وعدہ عائشہ کے دل میں آج بھی زندہ تھا۔

وقت گزرتا گیا۔
دن مہینوں میں بدلے، مہینے سالوں میں۔
گلی وہی تھی، دروازہ وہی تھا، مگر دستک دینے والا کوئی نہ تھا۔

لوگ کہتے تھے:
“بھول جاؤ، جو چلا جائے وہ واپس نہیں آتا۔”

مگر عائشہ جانتی تھی کہ کچھ وعدے لفظوں سے نہیں، روح سے کیے جاتے ہیں۔

ایک دن بارش ہو رہی تھی۔
عائشہ حسبِ معمول چھت پر بیٹھی تھی کہ نیچے دروازے پر دستک ہوئی۔
دل زور سے دھڑکا۔
ہاتھ کانپ رہے تھے۔

دروازہ کھولا تو سامنے ایک خط پڑا تھا۔

خط میں لکھا تھا:

“عائشہ، میں لوٹ نہ سکا، مگر تمہارے انتظار نے مجھے زندہ رکھا۔
اگر کبھی کسی سے محبت کرنا، تو انتظار سے مت ڈرنا، کیونکہ انتظار بھی محبت کی سب سے خاموش عبادت ہے۔”

عائشہ نے خط سینے سے لگا لیا۔
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے،
مگر اس بار درد کے نہیں…
بلکہ اس احساس کے کہ
محبت کبھی ہارتی نہیں، وہ بس شکل بدل لیتی ہے۔