مسکراہٹ کے پیچھے دفن دکھ

یہ کہانی اُس شخص کی ہے جو ہنستا بہت تھا تاکہ دنیا اس کے اندر چھپے درد اور چیخیں نہ دیکھ سکے۔ تلواروں کے شہر میں جہاں وار ہمیشہ بےگناہوں پر ہوتے تھے، اس کی مسکراہٹ لوگوں کے لیے طاقت تھی مگر حقیقت میں یہ زخموں پر رکھا ہوا پردہ تھی۔

مسکراہٹ کے پیچھے دفن دکھ
مسکراہٹ کے پردے کے پیچھے: تلواروں کے شہر کا خاموش درد

یہ کہانی اُس شخص کی ہے جو ہنستا بہت تھا تاکہ کوئی اس کے اندر کی چیخیں نہ سن لے،وہ تلواروں کے شہر میں رہتا تھا جہاں وار ہمیشہ بےگناہوں پر ہوتے تھے اور قصور پھر بھی انہی کا ٹھہرتا تھا،لوگ اس کی مسکراہٹ کو اس کی طاقت سمجھتے تھے مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ہنسی دراصل زخموں پر رکھا ہوا ایک کمزور سا پردہ ہے،ایک شام وہ شاعر بن کر اداسی پر غزل لکھنے بیٹھا تو ہر لفظ کے ساتھ کوئی پرانا زخم جاگ اٹھا کیونکہ قلم سچ لکھتا ہے اور سچ ہمیشہ درد کے ساتھ نکلتا ہے،وہ دیوار کے اُس پار بیٹھے لوگوں کو جانتا تھا جو محفوظ سمجھے جاتے تھے مگر اگلی ہی شام وہی دیوار قبر میں بدل گئی اور تب اسے سمجھ آیا کہ دیواریں بھی دکھ رکھتی ہیں،اس کے اندر کوئی مسلسل پکار رہا تھا مگر جسے پکارا جا رہا تھا وہ کبھی آنے والا نہیں تھا اور یہی انتظار سب سے بھاری دکھ تھا،وہ زندگی اور موت کے بیچ کھڑا تھا مگر اپنی کیفیت بیان کرنے کے لیے اس کے پاس الفاظ نہیں تھے کیونکہ بعض دکھ بولنے سے پہلے ہی انسان کو تھکا دیتے ہیں،وہ اپنی منزل کی طرف رواں تھا مگر راستے میں ہی مقصد بچھڑ گیا اور وہ سوار ہو کر بھی پیدل رہ گیا،آنکھوں میں خواب تھے جو ٹوٹ چکے تھے اور ہر پل آنکھیں ان خوابوں کے ملبے کی گواہی دیتی تھیں،اس کے اندر بےشمار گمنام خواب دفن تھے جنہیں کوئی نہیں جانتا تھا سوائے اس کے جو خود ان کا مجاور تھا اور اسی دربار کے دکھ کو وہ خاموشی سے اٹھائے جیتا رہا۔