معافی کا دھوکا اور ضمیر کی عدالت

معافی کا دھوکا اور ضمیر کی عدالت

معافی کا دھوکا اور ضمیر کی عدالت

وہ جو دن کے اُجالوں میں دل توڑ جاتے ہیں

مسکراہٹوں کے پیچھے زہر گھول جاتے ہیں

کسی کی ہنسی کو خاموشی میں بدل جاتے ہیں

کسی کی امیدوں کو راکھ میں ملاتے ہیں

پھر رات کی تنہائی میں ہاتھ اُٹھاتے ہیں

اور رب سے اپنے گناہوں کی معافیاں مانگتے ہیں۔

انہیں کیا خبر کسی کے خوابوں کی قیمت کیا تھی

انہیں کیا معلوم کسی کے آنسوؤں کی شدت کیا تھی

وہ تو بس اپنی انا کے پجاری ہوتے ہیں

کسی کے صبر کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں

دل کے زخموں کو کھیل سمجھ لیتے ہیں

اور خود کو ہمیشہ بےقصور مانگتے ہیں۔

کسی کی نیند چھین کر سکون کی دعا مانگتے ہیں

کسی کو رُلا کر خوشی کی دعا مانگتے ہیں

کسی کی بربادی پر خاموش رہتے ہیں

اور اپنی خطاؤں پر بخشش مانگتے ہیں۔

طاق راتوں میں آنکھیں بند کر کے کہتے ہیں

یا اللہ ہم سے غلطی ہو گئی

پر دن کے اجالے میں وہی غلطی دہراتے ہیں

وہی لہجہ، وہی غرور، وہی بےحسی دکھاتے ہیں

اور ہر بار معافی کو ڈھال بنا لیتے ہیں۔

معافی وہ ہوتی ہے جو دل بدل دے

جو رویّوں کو، سوچوں کو، راستوں کو بدل دے

صرف لفظوں کی تسبیح معافی نہیں ہوتی

صرف آنسو بہا دینا تلافی نہیں ہوتی۔

کسی کی زندگی اجاڑ کر

سجدوں میں جھک جانا آسان ہے

مگر کسی کے ٹوٹے دل کو جوڑنا مشکل

کسی کے زخموں پر مرہم رکھنا مشکل

کسی کی بکھری ہنسی لوٹانا مشکل ہوتا ہے۔

وہ جو سچ میں معافی کا مطلب جانتے ہیں

وہ پہلے کسی کو توڑتے نہیں

وہ دل دکھانے سے پہلے

سو بار خود کو ٹوکتے ہیں

وہ کسی کی آنکھ میں آنسو

آنے نہیں دیتے۔

پر جو لوگ تباہی کے بعد

بخشش کی امید رکھتے ہیں

وہ دراصل اپنے ضمیر کو بہلانا چاہتے ہیں

اپنے گناہوں کو چھپانا چاہتے ہیں،

اور اپنے آپ کو نیک ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

طاق راتیں رب سے قربت کا راستہ ہیں

گناہوں پر پردہ ڈالنے کا بہانہ نہیں

یہ وہ لمحے ہیں جہاں انسان

اپنی اصلاح کرتا ہے

نہ کہ اپنی غلطیوں کو جواز دیتا ہے۔

کاش لوگ سمجھ سکیں

کسی کی زندگی برباد کر کے

معافی مانگنا عبادت نہیں

بلکہ عبادت یہ ہے کہ

کسی کی زندگی برباد ہی نہ کی جائے۔

کیونکہ رب دلوں کے حال جانتا ہے

وہ آنسو بھی پہچانتا ہے

جو سچ میں ندامت سے بہتے ہیں

اور وہ آنسو بھی جو

صرف خود کو مطمئن کرنے کو بہتے ہیں۔

لوگ تباہ کر کے زندگی لوگوں کی

پھر طاق راتوں میں معافیاں مانگتے ہیں،

اور جو واقعی معافی کے حق دار ہوتے ہیں

وہ پہلے ہی کسی کو

ٹوٹنے نہیں دیتے ہیں۔