وفاداری کافی نہیں، احساس بھی ضروری ہے

وفاداری کافی نہیں، احساس بھی ضروری ہے

وفاداری کافی نہیں، احساس بھی ضروری ہے
وفاداری کافی نہیں، احساس بھی ضروری ہے

اس نے مجھے دھوکہ نہیں دیا، مگر اس کے رویے نے مجھے اندر ہی اندر توڑ کر رکھ دیا۔ میں نے کئی بار اسے بتایا کہ کچھ باتیں اور عادتیں مجھے کتنی تکلیف دیتی ہیں، لیکن اس نے ہر بار وعدہ کیا اور پھر وہی سب دہرا دیا۔ جب کوئی شخص بار بار وہی غلطیاں کرے جن پر آپ نے صاف صاف بات کی ہو تو دل میں شک نہیں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ کامل ہو، بس اتنا چاہتا تھا کہ وہ میری بات سمجھے۔ رشتے میں صرف وفاداری کافی نہیں ہوتی، احساس بھی ضروری ہوتا ہے۔ جب آپ کی بات کو اہمیت نہ دی جائے تو لگتا ہے کہ آپ کی تکلیف کی کوئی قیمت نہیں۔ میں نے خاموش رہنا بھی سیکھ لیا، مگر دل کا بوجھ بڑھتا گیا۔ کبھی کبھی لگتا تھا کہ شاید میں ہی زیادہ حساس ہوں، مگر بار بار کا دہرایا جانا یہ ثابت کرتا تھا کہ مسئلہ واقعی ہے۔ محبت صرف لفظوں میں نہیں عمل میں بھی نظر آتی ہے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو میں نے نظر انداز کیں، وقت کے ساتھ بڑی ہوتی گئیں۔ میں نے چاہا کہ وہ سمجھے، مگر شاید وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ رشتہ تبھی مضبوط رہتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کی تکلیف کا احساس کریں۔ بار بار کی تکلیف محبت کو آہستہ آہستہ کمزور کر دیتی ہے۔ میں نے چاہا کہ وہ بدلے، لیکن بدلنے کا جذبہ اس میں نہیں تھا۔ وعدے کر کے توڑ دینا بھی ایک طرح کا دھوکہ ہی ہوتا ہے، چاہے نیت بری نہ ہو۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اگر وہ ایک بار دل سے سن لیتا تو شاید بات یہاں تک نہ پہنچتی۔ محبت میں احساس سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جب وہی چیزیں بار بار دل کو توڑیں تو رشتہ تھکنے لگتا ہے۔ میں نے صبر کیا، مگر صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آخر میں، میں نے یہ سیکھا کہ محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں بلکہ ایک دوسرے کی باتوں کو ماننا بھی محبت ہے