اپنوں کے طعنوں میں ٹوٹتا وجود

یہ تصویر ایک شخص کے جذباتی درد اور اپنوں کی تنقید کے اثرات کو دکھاتی ہے۔ دکھ اور تنہائی کی عکاسی کرتے ہوئے یہ تصویر انسان کی حساسیت اور معاشرتی دباؤ کو نمایاں کرتی ہے۔

اپنوں کے طعنوں میں ٹوٹتا وجود
اپنوں کے طعنوں میں ٹوٹتا وجود

میں اب زندگی کے اُس موڑ پر کھڑی ہوں جہاں میرا ہونا بھی کسی کو اچھا نہیں لگتا۔ ہر طرف سے نظرانداز ہونا، اپنوں کے بیچ اجنبی بن جانا، اور روز روز طعنوں کا سامنا کرنا میری روح کو تھکا چکا ہے۔ میرے گھر والے، جن سے مجھے سہارا ملنا چاہیے تھا، وہی مجھے کمزور ثابت کرنے میں لگے ہیں۔ میری خاموشی انہیں غرور لگتی ہے، اور اگر میں کچھ کہہ دوں تو میرا لہجہ بُرا کہلا جاتا ہے۔ کوئی یہ نہیں سمجھتا کہ میرا دل پہلے ہی کتنی بار ٹوٹ چکا ہے، اور اب بس خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سب کو میری باتوں میں خرابی نظر آتی ہے، مگر کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ وہ باتیں درد سے نکلتی ہیں۔

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب کو مجھ سے نفرت سی ہو گئی ہے، جیسے میری موجودگی ان کے لیے بوجھ بن چکی ہو۔ میں دن بھر خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش کرتی ہوں، مگر اندر سے ہر لمحہ کمزور ہوتی جا رہی ہوں۔ سب کے بیچ رہ کر بھی اکیلا ہونا، سب کی باتیں سن کر بھی کسی کا ساتھ نہ ملنا—یہ احساس مجھے اندر ہی اندر ختم کر رہا ہے۔ میں نے کسی سے شکوہ نہیں کیا، کسی کو الزام نہیں دیا، بس خاموشی سے سب سہتی رہی۔ مگر جب اپنے ہی انسان آپ کو بار بار یہ احساس دلائیں کہ آپ کافی نہیں ہیں، تو انسان خود سے بھی نفرت کرنے لگتا ہے۔

میں اب بس اتنا چاہتی ہوں کہ کوئی مجھے طعنوں کی نظر سے نہ دیکھے، کوئی میرے لہجے کے پیچھے چھپے درد کو سمجھے، کوئی یہ جان لے کہ میں جان بوجھ کر سخت نہیں بنی، مجھے حالات نے ایسا بنا دیا ہے۔ میں تو بس تھک چکی ہوں—سمجھاتے سمجھاتے، برداشت کرتے کرتے، اور سب کے لیے خود کو غلط ثابت کرتے کرتے۔ اس موڑ پر کھڑے ہو کر میں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ سب سے گہرا زخم وہی ہوتا ہے جو اپنوں کی بےحسی سے لگتا ہے، اور وہ زخم انسان کو خاموش تو کر دیتا ہے، مگر کبھی بھرتا نہیں۔۔۔۔۔۔