آخری دعا، صبر کی پہچان

آخری دعا، صبر کی پہچان

آخری دعا، صبر کی پہچان

اس کے بعد اس نے خود سے ایک خاموش وعدہ کیا۔وہ وعدہ جو کسی کو سنایا نہیں جاتا،بس دل میں باندھ لیا جاتا ہے۔وہ شخص جسے وہ برسوں خدا سے مانگتی رہی تھی،اب آخری دعا بن چکا تھا۔جب وہ دعا بھی خاموش ہوئی تو دل نے پہلی بار سکون کا سانس لیا۔اب نہ خواہشوں کا شور تھا،نہ التجاؤں کی ضد۔وقت نے آہستہ آہستہ اسے یہ سکھایا کہ کچھ لوگ محبت کے باوجود ہمارے نہیں ہوتے،اور کچھ دعائیں سچ ہونے کے باوجود مقدر نہیں بنتیں۔اس نے رونا چھوڑ کر قبول کرنا سیکھ لیا۔اس دن اسے احساس ہوا کہ خدا کبھی چھینتا نہیں،بس وہ چیزیں واپس لے لیتا ہے جو ہماری نہیں ہوتیں۔اب وہ ہر نئے دن کے ساتھ یہی یقین اوڑھ کر جیتی ہے کہ جو واقعی اس کا ہوگا،وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوگا،اور جو بچھڑ گیا،وہ صرف ایک سبق تھا،زندگی نہیں۔