وہ یاد جو کسی منظر سے کم نہ ہوئی
وہ یاد جو کسی منظر سے کم نہ ہوئی
وہ شخص عجیب تھا۔
وہ کہتا تھا کچھ لوگ وقت کے ساتھ بھول جاتے ہیں، مگر اس کے لیے وقت صرف انتظار بن گیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگلی کئی صدیاں بھی گزر جائیں تو بھی اس کے دل کے کسی کونے میں وہی ایک نام رہے گا۔ دنیا کے دلکش چہرے، پسندیدہ کیفے، خوشبوؤں سے بھرے پھول، قیمتی چیزیں، حسین مناظر—کچھ بھی اس کے دل سے اس ایک توجہ کو چھین نہ سکا۔
جب بھی وہ اسے یاد کرتا، دل میں پہلے دن جیسا ہی کچھ باقی رہتا۔ ایک انجانی سی تکلیف، جو نہ مکمل درد تھی نہ مکمل سکون۔ وہ سوچتا، جب کبھی اس سے ملوں گا تو بتاؤں گا کہ میں نے انتظار کیسے کیا ہے—بالکل ویسے جیسے کوئی قیدی رہائی کا انتظار کرتا ہے، سانسیں گنتا ہوا، امید سے چمٹا ہوا۔
اس کے تصور میں وہ ملاقات بھی طے تھی۔ وہ اسے ایسے دیکھے گا جیسے صحراؤں میں پلنے والا بچہ پہلی بار سمندر کو دیکھتا ہے—آنکھوں میں حیرت، دل میں خوف، اور روح میں خاموش شکر۔مگر یاد کا ایک اور پہلو بھی تھا۔
جب وہ اسے یاد کرنے لگتا تو باقی سب لوگ اجنبی لگنے لگتے۔ چاہے وہ دل کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہوں، کچھ اچھا محسوس نہ ہوتا۔ دماغ پر بوجھ سا رہتا، ہاتھ ہلکے سے کانپتے، اور آنسو اس لیے نہیں رکتے کہ درد کم تھا—بلکہ اس خوف سے کہ کوئی دیکھ نہ لے۔
ایسے لمحوں میں وہ آنکھیں بند کر لیتا۔
دل چاہتا کہ وہ سامنے آ جائے، بس ایک پل کے لیے۔ شاید اسی پل میں اسے وہ سکون مل جائے جس کی تلاش میں وہ برسوں سے بھٹک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا یہ صرف خیال ہے، مگر بعض خیال انسان کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
اور وہ انہی خیالوں کے سہارے جیتا رہا—خاموش، وفادار، اور بے حد انتظار کرنے والا۔
mnweb