سکون دینے والا ساتھی
سکون دینے والا ساتھی
وہ کہتی تھی مجھے اب من پسند شخص نہیں چاہیے، مجھے وہ انسان چاہیے جو میری آنکھوں میں ٹھہر کر یہ محسوس کر سکے کہ خواہشوں سے خالی یہ نظر اتنی بوجھل کیوں ہے، جو میرے قہقہوں کے پیچھے چھپی تھکن کو پہچان لے، جو ہنسی سے پہلے خاموشی کا وزن سمجھے، اسے کسی ایسے شخص کی تلاش نہیں تھی جس کے ساتھ ہنسنا آسان ہو بلکہ وہ چاہتی تھی جو اس کے خاموش آنسوؤں کا ترجمہ جانتا ہو، جو ٹوٹے لفظوں سے پہلے اس کی سانسوں کی لڑکھڑاہٹ پڑھ لے، وہ دل آنے والے رشتے سے آگے بڑھ چکی تھی، اب اسے ایسا سہارا چاہیے تھا جس پر دل رکھا جا سکے، جو زخموں کو تجسس نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھے، جو گلے لگا کر صرف ایک سوال کرے کہ تم نے یہ سب کیسے سہا اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر اسے یوں تھام لے جیسے اب سہنا ممنوع ہو، وہ اپنی خوبصورتی کے قائل کسی شخص کی خواہش مند نہیں تھی بلکہ ایسے انسان کی جو اس کی بکھری حالت میں بھی اس کا احترام کرے، جو جانتا ہو کہ سب سے مشکل جنگ مسکرا کر جینا ہوتی ہے، وہ بڑے وعدوں سے متاثر نہیں ہوتی تھی، اسے وہ چاہیے تھا جو مشکل وقت میں آواز نیچی اور موجودگی گہری رکھے، جو اس کے ماضی سے نہ ڈرے نہ اسے اس پر شرمندہ کرے بلکہ زخموں پر اپنی ہتھیلی رکھ کر بس یہ کہہ دے کہ اب یہ قصہ ختم ہوا، وہ کسی نجات دہندہ کی منتظر نہیں تھی بلکہ ایک ایسے ساتھی کی جو اس کا ہاتھ تھام کر اسے دوبارہ انسان بننا سکھائے، جو یہ سمجھتا ہو کہ ہر مضبوط دکھائی دینے والا شخص اصل میں بہت تھکا ہوا ہوتا ہے، اسی لیے وہ بار بار خود سے کہتی تھی مجھے من پسند شخص نہیں چاہیے، مجھے اب ایسا انسان چاہیے جو محبت کے شور سے زیادہ سکون دے، جو یہ نہ پوچھے کہ میں کیا لا سکتی ہوں بلکہ بس اتنا کہہ دے کہ اب تم اکیلی نہیں ہو۔
mnweb