ظلم کا حساب خدا کے سامنے

ظلم کا حساب خدا کے سامنے

ظلم کا حساب خدا کے سامنے

کسی کو ذہنی مریض بنا کر

کسی کو ہسپتال کے بستر سے لگا کر

کسی کی نیندیاں حرام کر کے

کسی کو نیند کی گولیوں پہ لگا کر

کسی کا دل مر کر

اُسے اذیّت میں ڈال کر

دنیا سے بیزار کر کے

اسکی اندر کی دنیا کو بے رِنگ کر کے

ایک ہستی بَستی، چہچہاتی ، مسکراتی، لڑکی کو زندہ لاش بنا کر

اُسے دنیا جہاں میں رُسوا کر کے

لوگوں میں اُسے ایک گُناہ گار اور خود کو پارساہ ثابت کر کے

اُس کی زندگی کو ویران کر کے

اگر تم خدا کے گھر بھی چلے جاو

تم خدا کو ڈھونڈنے نکلو

اور خدا تمہیں مل بھی جائے

تو پہلا سوال مُجھ پے کیے ظلم کا ہو گا

تب کیا منہ دیکھاؤ گے ؟

وہ تو خُدا ہے سب دیکھ رہا ہے

اُدھر کیسے مجھے غلط ثابت کرو گے؟

مندر ،مسجد ،کعبہ یا کہی بھی چلے جاؤ

جہاں تمہیں لگے کے خُدا موجود ہے

اللّٰہ تو ہر جگہ موجود ہے بیشک

پِھر بھی تم جہاں بھی چلے جاؤ

اپنی غلطیوں کا ازالہ نہیں کر سکتے

اللّٰہ بھی تب تک معاف نہیں کرئے گا

جب تک میں تمہیں معاف نہیں کر دیتی

اور میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی

روزِ محشر میں تمہیں رُسوا کروں گی

تمہیں تڑپتا دیکھ تب میری روح کو سکون ملے گا۔

میرے بعد تم خسارے میں رہو گے

دنیامیں بھی آخرت میں بھی