اللّٰہ پر یقین کی کہانی
کہانی اللہ پر کامل یقین کی طاقت کو بیان کرتی ہے، جہاں مشکلات، محرومیاں اور آزمائشیں انسان کے حوصلے کو توڑنے آتی ہیں مگر دل میں موجود ایمان اسے سنبھال لیتا ہے۔ یہ تحریر سکھاتی ہے کہ جب تمام راستے بند نظر آئیں تب بھی اللہ پر بھروسا انسان کو مایوسی سے نکال کر امید، صبر اور نئی شروعات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ یقین ہی ہے جو اندھیروں میں روشنی اور ٹوٹے دلوں کو سہارا عطا کرتا ہے۔
اللہ پر تبقل رکھنا ایمان کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی یہ امید ہونا کہ میرا رب سب کچھ کر دے گا۔ جتنا ایمان مضبوط ہوگا اتنا ہی تبقل پختہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ فرماتا ہے میرے ساتھ جیسا گمان کرو گے میں ویسا ہی معاملہ فرماؤں گا۔ اچھا سوچو گے اچھا ہوگا، برا سوچو گے برا ہوگا۔ انسان بڑا ہی بے سبرہ ہے۔
توقل لفظ وقل سے نکلا ہے جس کے معنی ہے خود کو سپرد کر دینا یا مکمل بھروسہ کرنا میری حقیر رائے میں توقل کسی مولوی صاحب سے سیکھنے کی بجائے معصوم بچوں سے سیکھیں مشاہدہ ہے کہ جب کسی بچے کو کوئی غیر انسان گود میں لینا چاہے تو وہ ڈر کر روتا ہے شور مچاتا ہے مگر جب اسی بچے کو اس کا باپ گود میں لے کر ہوا میں کئی فٹ اچھالتا ہے تو وہ ڈرنے کی بجائے خوشی سے کلکاریاں مارتا ہے
اور اکثر دوبارہ اچھلنے کی فرمائش بھی کر ڈالتا ہے وہ معصوم بچہ جانتا ہوتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے اس کا باپ اسے زمین پر گرنے نہ دے گا اس بچے کا یہ اعتماد اور بھروسہ دراصل اپنے باپ پر اس کا توقل ہے یہاں اللہ پر توقل کا ایک قصہ بیان کرتے ہیں کسی صابر و شاکر اور آیال شخص کی بیوی بڑی بد زبان اور نافرمان تھی
جس کی وجہ سے وہ صاحب ایمان بڑا پریشان رہتا تھا ایک مرتبہ اس کی بیوی بچوں کو کئی روز تک فاکے کاٹنے پڑے بیوی نے شوہر کو برا بھلا کہا کہ جاؤ اور کچھ کما کے لاؤ اس نیک بخت نے کہا اللہ کی بندی رات کو شور و غل نہ کر صبح جا کر کوئی مزدوری کر لوں گا صبح وہ گھر سے نکل پڑتا ہے لیکن کوئی اس سے نہیں پوچھتا
اپنے کام میں لگ جاتے ہیں وہ ایک جنگل میں عشاء تک عبادت کرتا ہے اور خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا ہے اور سوچتا ہے خالی ہاتھ دیکھ کر بیوی پتہ نہیں توفان کھڑا کرے گی تو بیوی نے سوال کیا کہ میاں صبح سے لے کر اب تک کیا کم آیا ہے شوہر نے کہا
جس کی مزدوری کی ہے وہ بڑا ہی رحیم و قریم ہے اس نے قل دینے کا وعدہ کیا ہے اس پر عورت جھلا گئی اور کہنے لگی ہمارے بچے چاہے بھوک سے مر جائیں تم وعدے کرتے پھیرو اگلے دن وہ پھر گیا خدا کی شان اسے پھر مزدوری نہ ملی
وہ پھر عبادتِ الٰہی میں مشغول ہو گیا جب گھر لوٹا تو پھر وہی سوال ہوا کہ آج دونوں دن کی مزدوری لائے ہو اس نے کہا اس نے کل دینے کا وعدہ کیا ہے یہ سن کر وہ آگ بکولہ ہو گئی اور کہنے لگی کل تینوں دن کی لے آنا ورنہ گھر نہ آنا اور اس کو ایک تھیلی دیتی ہے پھر وہ عبادتِ الٰہی میں مصروف اور کسی موجزے کی تلاش میں گیا جب کچھ نہ ملا بیوی کے ڈر سے اس تھیلی میں ریت ڈال لیا
کہ رات تو گزر جائے گی لیکن جب گھر کے قریب آیا تو بیوی کا ڈر غالب آنے لگا اور واپس مرنے لگا کہ اچانک ایسی خوشبو آئی کہ اس کے تلو دماغ کو مہتر کر دیا۔ عورت خوش ہوتی ہوئی گھر سے نکلی اور کہا اندر آؤ بتاتی ہوں کیا معاملہ ہے کہنے لگی ایک سبز پوش دروازے پر کھڑا کہہ رہا ہے کہ اپنے شوہر کی تین دن کی عجرت لے لو۔
مگر اس کو کوئی عیزہ نہ دینا وہ اللہ کی حمد و سنا میں کھو گیا بیوی کہتی ہے کہ خوشحالی میں پریشانی کیسی کہنے لگا اللہ کی بندی یہ میں نے تینوں دن کہیں مزدوری نہیں کی بلکہ اللہ کی عبادت کی ہے تیرے ڈر سے تھیلی میں ریت لا رہا تھا لیکن اس رب نے میری لاج رکھ لی اس شخص نے تمام عمر اللہ کا شکر گزاری میں گزار دی اللہ تعالیٰ پر توقل یعنی بھروسہ کرنا
انبیاء قرآن کے طریقے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے قرآن و سنت میں توقل علی اللہ کا بار بار حکم دیا گیا ہے صرف قرآن کریم میں سات مرتبہ وعلی اللہ فلیتوقل المؤمنین فرما کر مؤمنوں کو صرف اللہ پر توقل کرنے کی تاقید کی گئی ہے یعنی حکم خدابندی ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو صرف اللہ ہی کی ذات پر بھروزہ کرنا چاہیے
آئیے سب سے قبل توقل کے معنی سمجھیں توقل کے لفظی معنی کسی معاملے میں کسی ذات پر اعتبار کرنے کے ہیں یعنی اپنی آجزی کا اظہار اور دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توقل کہلاتا ہے شرائی اصلاح میں توقل کا مطلب اس یقین کے ساتھ اسباب اختیار کرنا کہ دنیاوی اور اخروی تمام معاملات میں نفع و نقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے اس کے حکم کے بغیر کوئی پتہ درخت سے نہیں گر سکتا
ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے وجود اور بقا کے لیے اللہ کی محتاج ہے غرض یہ کہ خالق کائنات کی ذات باری پر مکمل اعتماد کر کے دنیاوی اسباب اختیار کرنا توقل علیہ اللہ ہے اگر کوئی شخص بیمار ہو جائے
تو اسے مرض سے شفایابی کے لیے دوا کا استعمال تو کرنا ہے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ جب تک اللہ شفا نہیں دے گا دوا اثر نہیں کر سکتی یعنی دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا توقل کے خلاف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نظام یہی ہے کہ بندہ دنیاوی اسباب اختیار کر کے کام کی انجام دہی کے لیے اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ کرے یعنی یہ یقین رکھے کہ جب تک حکم خداوندی نہیں ہوگا
اسباب اختیار کرنے کے باوجود شفا نہیں مل سکتی حضرت مریم علیہ السلام نے جب اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنا تو ان کے لئے خکم خداوندی ہوا کہ خجور کے تنے کو ہلائیں یعنی حرکت دیں اس سے جب پکی ہوئی تازہ خجوریں چھڑیں تو ان کو کھائیں اللہ تعالیٰ
اپنی قدرت سے حضرت مریم علیہ السلام کو بغیر کسی سبب کبھی خجور کھلا سکتے تھے۔ لیکن دنیا کے دارالعصباب ہونے کی وجہ سے حکم ہوا کہ خجور کے تنے کو ہلائیں۔ چنانچہ حضرت مریم علیہ السلام نے حکم خداوندی کی تعمیل میں خجور کے تنے کو حرکت دی۔ خجور کا تنہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ چند طاقتور مرد حضرات بھی اسے آسانی سے نہیں ہلا سکتے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے سوکھے ہوئے کھجور کے درخت سے حضرت مریم علیہ السلام کے لیے تازہ کھجوریں یعنی غزہ کا انتظام کر دیا۔ اس باقی سے معلوم ہوا کہ جو بھی اسباب مہیا ہوں اللہ پر تبقل کر کے انہیں اختیار کرنا چاہیے۔
اسباب تو ہمیں اختیار کرنے چاہیے لیکن ہمارا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے کہ وہ اسباب کے بغیر بھی چیز کو وجود میں لا سکتا ہے اور اسباب کی موجودگی کے باوجود اس کے حکم کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آ سکتی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا
جلانے کے سارے اسباب موجود تھے مگر حکم خداوندی ہوا کہ آگ ابراہیم کے لیے سلامتی بن جائے تو آگ نے انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ وہ آگ جو دوسروں کو جلا دیتی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھنڈی اور سلامتی کا سبب بن گئی اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر طاقت کے ساتھ تیز چھوری چلائی گئی
مگر چھوری بھی کاٹنے میں اللہ کے حکم کی محتاج ہوتی ہے اللہ نے اس چھوری کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن کو نہ کاٹنے کا حکم دے دیا تھا لہذا کاٹنے کے اسباب کی موجودگی کے باوجود چھوری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن نہیں کاٹ سکی
جو بھی اسباب مہیا ہوں انہیں اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے کہ کرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے حضرت عیوب علیہ السلام نے جب اپنی طویل بیماری کے بعد اللہ تعالیٰ سے شفاعیابی کے لیے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے پیر کو زمین پر ماریں
اب غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا ایک شخص کا زمین پر پیر مارنا اس کی بیسیوں سال کی بیماری کی شفایابی کا علاج ہے؟ نہیں لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے یہ کمزور سبب اختیار کیا جس کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنی قدرت سے ان کے زمین پر پیر مارنے سے پانی کا ایسا چشمہ جاری کر دیا جس سے غسل کرنے پر حضرت عیوب علیہ السلام کی بیسیوں سال کی بدن کی متعدد بیماریاں ختم ہو گئیں
حضرت عیوب علیہ السلام کے اس واقعے سے ہمیں متعدد سبق ملے دو اہم سبق یہ ہیں پہلے سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادے سے بھی حضرت عیوب علیہ السلام کو شفا دے سکتے تھے مگر دنیا کے دار الاسباب ہونے کی وجہ سے حضرت عیوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کچھ حرکت کریں
یعنی کم از کم اپنے پیر کو زمین پر ماریں دوسرا سبق یہ کہ جو بھی اسباب مخینہ ہوں ان کو اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکم سے قمزور اسباب کے باوجود کسی بڑی سے بڑی چیز کا بھی وجود ہو سکتا ہے جو بھی اللہ پر انتہ دھند یقین رکھتا ہے اللہ اس کی غیبی مدد ضرور کرتا ہے چاہے وہ کسی بھی صورت میں کیوں نہ ہو
وہ جب بھی اسباب پیدا کر دیتا ہے جب ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا کیونکہ ممکن اور غیر ممکن تو آپ کی نظر میں ہوتا ہے اس کی نظر میں سب کچھ ممکن ہوتا ہے اللہ تعالی ہم ہ
سب کو مضبوط ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائے آمین
mnweb