تجھ سا نہ تھا کوئی، نہ کوئی ہے حسین کہیں، تو بے مثال ہے، ترا ثانی نہیں کہیں۔
tujh-sa-na-tha-koi-haseen-kaheenتجھ سا نہ تھا کوئی، نہ کوئی ہے حسین کہیں، تو بے مثال ہے، ترا ثانی نہیں کہیں۔
تجھ سا نہ تھا کوئی، نہ کوئی ہے حسین کہیں،
تو بے مثال ہے، ترا ثانی نہیں کہیں۔
اپنے جنون میں مدِ مقابل نہیں کہیں،
دامن کہیں، جیب کہیں، آستین کہیں۔
زاہد کے سامنے جو ہو وہ نازنین کہیں،
دل ہو کہیں، حضور کا دنیا و دیں کہیں۔
اک تیرے آستان پہ جھکی ہے ہزار بار،
ورنہ کہاں جھکی ہے ہماری جبیں کہیں۔
دل کا لگاؤ، دل کی لگی، دل لگی نہیں،
ایسا نہ ہو کہ دل ہی لٹا دیں ہمیں کہیں۔
کیا کہیں کس طرف گئے جلوے بکھیر کے،
وہ سامنے تو تھے ابھی، مرے یہیں کہیں۔
گزرے گی اب تو کوچۂ جاناں میں زندگی،
رہنا پڑے گا اب ہمیں جا کر وہیں کہیں۔
دل سے تو ہیں قریب جو آنکھوں سے دُور ہیں،
موجود آس پاس ہیں وہ بالیقیں کہیں۔
نظروں کی اور بات ہے، دل کی ہے اور بات،
باتیں جو میرے دل میں ہیں، اب تک نہیں کہیں۔
اے تازہ واردانِ چمن، ہوشیار باش،
بجلی چمک رہی ہے چمن کے قرین کہیں۔
میرا ضمیر اپنی جگہ پر ہے مطمئن،
اپنا سمجھ کے ان سے جو باتیں کہیں کہیں۔
دل نے بہت کہا کہ تمہیں مہربان کہیں،
اس ڈر سے چپ رہا کہ نہ کہہ دو نہیں کہیں۔
آتے ہی ہم تو کوچۂ جاناں میں لٹ گئے،
دل کھو گیا نصیر، ہمارا یہیں کہیں۔
mnweb