جنہیں تم نے چھو کر چھوڑا وہ بدن کیا ہوے

جنہیں تم نے چھو کر چھوڑا وہ بدن کیا ہوے؟

جنہیں تم نے چھو کر چھوڑا وہ بدن کیا ہوے

ابنِ آدم—

تمہیں معلوم ہے

جنہیں تم نے چھو کر چھوڑ دیا،

وہ بدن کیا ہوئے؟

وہ بدن اب بدن نہیں رہے…

وہ زخم بن گئے،

ایسے زخم جو دکھائی نہیں دیتے

مگر ہر سانس کے ساتھ رِستے ہیں۔

تمہارے لمس نے انہیں یقین دیا،

اور تمہاری بے رُخی نے

وہ یقین نوچ لیا۔

جو قریب آیا تھا

وہی سب سے زیادہ بکھرا۔

وہ ہڈیاں نہیں ٹوٹیں،

روحیں چرچرا گئیں۔

وہ آنکھیں جو تم پر ٹھہرتی تھیں

اب بند ہو کر بھی جاگتی ہیں۔

وہ ہونٹ جو مسکرانا بھول گئے،

اب صرف خاموشی اوڑھتے ہیں۔

تم نے شاید اسے بس ایک لمحہ سمجھا،

ایک خواہش، ایک ضرورت،

مگر جسے چھوا جائے

اور پھر تنہا چھوڑ دیا جائے

وہ صرف خالی نہیں ہوتا…

وہ خود سے کٹ جاتا ہے۔

ابنِ آدم،

کسی کے بدن تک پہنچ جانا

کوئی کمال نہیں،

کمال یہ ہے کہ

اس کی روح تک جا کر

وہاں سے بغیر توڑے لوٹ آؤ۔

کیونکہ جنہیں تم نے چھو کر چھوڑا،

وہ زندگی بھر

اپنے ہی وجود میں

تمہاری کمی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔