تہجد کی دعا اور ٹوٹا ہوا یقین

میں اپنے رب کو بتاوں گی کس طرح تُم نے میری زندگی عذاب کی۔ کس طرح میرے لاکھ منا کرنے پر بھی تُم میرے پیچھے کُتوں کی طرح پڑے رہے، کس طرح تم نے میرا یقین چیت کے مُجھے اس بے رحم دُنیا میں اکیلا چھوڑ دیا، بغیر یہ سوچے کہ ایک نہ سمجھ لڑکی جو ہر وقت اپنی دنیا میں مگن رہتی تھی جس غم اور دُکھوں سے کوئی واسطہ نہیں تھا وہ تُمہارے اس ظلم کے بعد کس قدر خاموش ہو جاۓ گئی؟ کبھی سوچا تُم نے؟

تہجد کی دعا اور ٹوٹا ہوا یقین
تہجد کی دعا اور ٹوٹا ہوا یقین

میں اپنے رب کو بتاوں گی کس طرح تُم نے میری زندگی عذاب کی۔ کس طرح میرے لاکھ منا کرنے پر بھی تُم میرے پیچھے کُتوں کی طرح پڑے رہے، کس طرح تم نے میرا یقین چیت کے مُجھے اس بے رحم دُنیا میں اکیلا چھوڑ دیا، بغیر یہ سوچے کہ ایک نہ سمجھ لڑکی جو ہر وقت اپنی دنیا میں مگن رہتی تھی جس غم اور دُکھوں سے کوئی واسطہ نہیں تھا وہ تُمہارے اس ظلم کے بعد کس قدر خاموش ہو جاۓ گئی؟ کبھی سوچا تُم نے؟

پتہ تمہارے جانے بعد مُجھے احساس ہو کہ ایک فقیر کتنی اذیت گُزرتا جب وہ سارا دن لوگوں سے بھیک مانگتا، میں نے بھی تم سے اُسی طرح بھیک مانگی تھی، تمہارا وقت، تمہارا ساتھ، تمہارا پیار اور عزت ہی تو چاہتی تھی میں۔ بس ، تمہارا نام اپنے نام کے ساتھ لکھنا چاہتی تھی، میں نے دوسری لڑکیوں کی طرح تُمہیں کبھی استعمال تو نہیں کیا؟ کبھی تُم سے کوئی غیر اخلاقی بات تک نہیں تھی کی، کبھی کسی خواہش اظہار تک نہیں کیا تھا، میں تو اُس گھر کی لڑکی ہوں جہاں دُنیا کی ہر چیز میسر ہے یہاں تک کے سکون بھی، لیکن میں پھر بھی اُداس رہتی ہوں مُجھے اب بھی یقین نہیں آتا کہ تم میرے نہیں رہے

میرے اندر سے اُداسی ختم نہیں ہوتی، میں نے تُمہیں تہجد میں مانگا تھااور اب تہجد ہی پڑتی ہوں تک تُمہیں بھول جاؤں لیکن افسوس در افسوس تم میرے اندر سے نکل نہیں رہے ۔۔