بوڑھا یہودی عالم اور حضرت محمد ﷺ کا ایمان افروز واقعہ

یہ ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ ہے جس میں ایک بوڑھے یہودی عالم کی حضرت محمد ﷺ سے ملاقات اور سچائی کو پہچان کر اسلام قبول کرنے کی داستان بیان کی گئی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اخلاص، سچائی اور ہدایت کی طاقت کا درس دیتا ہے۔

بوڑھا یہودی عالم اور حضرت محمد ﷺ کا ایمان افروز واقعہ
بوڑھا یہودی عالم اور حضرت محمد ﷺ کا ایمان افروز واقعہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم۔ روایت ہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ شام کے وقت ایک یہودی رہائش پذیر تھا جو ہر ہفتے تلاوت کیا کرتا تھا۔ ایک دن جب اس نے تلاوت کھولی تو اس میں چار مقامات پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور وصف دیکھا۔ یہودی غصے میں آ کر وہ مقامات کاٹ کر جلا دیا۔ اگلے ہفتے جب اس نے تلاوت کھولی تو آٹھ جگہوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ملا جسے اس نے پھر کاٹ کر جلا دیا۔ تیسرے ہفتے تلاوت کھولی تو دوبارہ مقامات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف موجود تھی۔

 یہودی نے سوچا کہ اگر میں یوں ہی کرتا رہا تو ساری دنیا اس بات سے بھر جائے گی۔ اس نے اپنے ہمراہیوں سے پوچھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ نہ تم انہیں دیکھو اور نہ وہ تمہیں۔ یہودی نے عرض کی کہ خدا کی قسم مجھے ان کی زیارت سے روکنا مت۔ ساتھیوں نے اجازت دے دی اور وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر رات دن سفر کرتا رہا۔ جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچا تو سب سے پہلے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ اللّٰہ تعالٰی عنہ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت سلمان رضی...

اللہ تعالیٰ نے ان کے حسن کو دیکھ کر یقین کر لیا کہ یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تین دن پہلے وفات پا چکے تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اس بات پر آنسو بہانے لگے اور کہا، "میں تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوں۔" یہودی نے پوچھا، "تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟" حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ اگر میں وصال کی خبر دوں تو یہ واپس چلا جائے گا، اور اگر کہوں موجود ہیں تو جھوٹ ہوگا۔ آخر کار حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ...

اللہ تعالیٰ نے ان کو وصال کی خبر دی اور یہودی واپس ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے پاس لے چلتا ہوں۔ جب وہ مسجد پہنچا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب غمگین نظر آ رہے تھے۔ یہودی نے سمجھا کہ یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں موجود ہیں اور اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ صحابہ کرام نے یہ سنا تو مسجد میں ہلچل مچ گئی، سب آنسو بہانے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے اور آپ نے اس یہودی سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے محمد۔۔۔

صَلَّ اللہُ علیہِ وآلہِ وسلم کے بارے میں سوال کرنے والا، تمہارا ان حضر تِ صَلَّ اللہُ علیہِ وآلہِ وسلم سے کیا تعلق ہے؟ روایت ہے کہ وہ یہودی بولا، "میں یہودی علماء میں سے ہوں اور کافی عرصے سے تورات کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ تورات میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہوں پر اپنے نبی حضرت محمد صَلَّ اللہُ علیہِ وآلہِ وسلم کا ذکر بہت تفصیل سے کیا ہے۔ اور میں اسی ذکر سے متاثر ہو کر یہاں آیا ہوں۔" پھر وہ بولا، "اور اب میں آپ صَلَّ اللہُ علیہِ وآلہِ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے حاضر ہوا ہوں۔" حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، "اے یہودی د"

تمہیں پتا نہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین دن پہلے وفات پا چکے ہیں۔ یہ سن کر وہ یہودی چیخ اٹھا، ہائے میرا غم، ہائے میری ناکامی۔ کاش میری ماں نے مجھے جنم نہ دیا ہوتا۔ کاش میں تلاوت نہ کرتا۔ اور اگر کرتا بھی، تو کاش حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور ثناء پر نظر نہ ڈالتا۔ اور اگر یہ سب بھی نہ ہوتا، تو شاید مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جاتی۔ پھر اس نے کہا کیا تم میں سے کوئی ان کے اولاد میں سے ہے جو مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور...

مبارک ہولی کا تعارف کروایا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا میرا نام علی ہے۔ یہودی نے کہا میں نے آپ کا نام تورات میں بھی دیکھا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اور مبارک ہولی کا تعارف کروایا۔ علیہ الصلاة والسلام نے ہولی مبارک کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ نہایت لمبے تھے اور نہ بہت چھوٹے۔ سر مبارک گول تھا، پیشانی کشادہ، آنکھیں کالے اور پلکیں لمبی تھیں۔ ہنستے وقت دانتوں سے نورانی روشنی نکلتی تھی۔ سینے سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی۔ ہتھیلیوں پر گوشت تھا۔

قدموں کے تلوے کافی گہرے تھے۔ بدن کی ہڈیوں کے جوڑ مضبوط تھے، جیسے کہ کہنی اور گھٹنے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانوں کے درمیان نبوّت کے نشان تھے۔ یہودی نے کہا، اے علی رضی اللہ عنہ، تم نے جو کچھ کہا بالکل درست بتایا۔ تورات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور تمجید ایسے ہی موجود ہے۔ پھر وہ بولا، اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی کپڑا موجود ہو تو میں اسے سونگھنا چاہتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہاں سلمان جاؤ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہو کہ رسول اکرم...

صل اللہ علیہ وسلم کا مبارک جُبہ بھیج دو۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے پر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں رو رہے تھے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز آئی، یتیموں کا دروازہ کون کھٹکھٹا رہا ہے؟ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا نام بتایا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام پہنچایا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہوئے بولیں، میرے ابا کا مبارک جُبہ کون پہنے گا؟ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سارا قصہ سنایا اور پھر آپ کو جُبہ مبارک دیا۔

وہ سات جگہوں پر کھجور کے ریشے سے لپٹا ہوا آیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے ہاتھ میں پکڑ کر سونگھا۔ پھر دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی سونگھا۔ اس کے بعد اس نے وہ یہودی جُبہ مبارک پکڑ کر سونگنا شروع کیا اور کہنے لگا واہ، کیا خوشبو ہے۔ کیا شاندار خوشبو ہے۔ پھر وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر حاضر ہوا۔ سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اے اللہ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تو واحد ہے، یکتا ہے۔ کائنات تیری محتاج ہے اور تو بے نیاز ہے۔ اور اس نے یہ بھی گواہی دی کہ...

قبر شریف میں تیرا حبیب صلی اللہ علیہ وسلم دفن ہے۔ جنہیں تو نے غسل دے کر جنت میں دفن فرمایا۔ اب سنو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعات۔ کتاب عجائب الاحکام امیر المومنین میں منقول ہے کہ دو مسافر ایک ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ایک مقام پر انہوں نے ارادہ کیا کہ کچھ دیر کے لیے کہیں رک کر کھانا کھائیں۔ دستر خوان بچھایا تو ایک مسافر نے پانچ روٹیاں اور دوسرے نے تین روٹیاں کھانے کے لیے رکھیں۔ اسی دوران ایک اور مسافر آیا۔ سلام کیا اور دونوں نے اسے کھانے کی دعوت دی۔ وہ مسافر بھی دسترخوان پر بیٹھ گیا اور تینوں...

انہوں نے مل کر کھانا کھایا۔ جب کھانا ختم ہوا تو تیسرا مسافر اٹھا، آٹھ درہم دسترخوان پر رکھے اور کہا یہ اس کھانے کا بدلہ ہے جو تم لوگوں نے مجھے کھلایا۔ دو مسافر شکریہ ادا کر کے روانہ ہوئے۔ لیکن پھر دونوں میں اختلاف ہو گیا۔ تین روٹیوں والا مسافر کہتا تھا درہم برابر تقسیم کرو۔ پانچ روٹیوں والا کہتا تھا میری پانچ روٹیاں تھیں، پانچ درہم میرا حق ہے، باقی تین تیرے ہیں۔ معاملہ طے نہ ہو سکا۔ آخر یہ مسئلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس پہنچا، آپ نے فرمایا بہتر یہی ہے کہ تم دونوں مشورے سے اپنا مسئلہ طے کر لو کیونکہ مہمان کے کھانے پر جھگڑا کرنا...

شرمت نہیں اور تمہارے لیے مناسب بھی نہیں تین روٹیوں والا مسافر بولا حضور ہم تب راضی ہوں گے جب ہمارے درمیان حق کا فیصلہ ہوگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم حق چاہتے ہو تو تمہارا حق صرف ایک درہم ہے اور باقی سات درہم تمہارے ساتھی کا حق ہے۔ وہ کہنے لگا سبحان اللہ مولا مجھے سمجھائیں تو صحیح کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس تین روٹیاں تھیں اور تمہارے ساتھی کے پاس پانچ۔ اس نے کہا جی ہاں، آپ جو فرما رہے ہیں بالکل ایسا ہی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا۔

کھانے والے تین ہیں اور کل آٹھ روٹیاں ہیں۔ اگر آٹھ کو تین سے ضرب دیں تو 24 حصے ہوتے ہیں۔ اس طرح ہر کھانے والے کو آٹھ آٹھ ٹکڑے ملتے ہیں۔ وہ کہنے لگا، "حضور، یہی بات ہے۔" حضرت علیؓ نے فرمایا، "تم نے اپنے حصے کے آٹھ ٹکڑے کھائے، تمہارے ساتھی نے بھی اپنے ایک تہائی حصے کے آٹھ ٹکڑے کھائے، اور مہمان نے بھی اپنے ایک تہائی حصے کے آٹھ ٹکڑے کھائے۔ اسی طرح اگر تین کو تین سے ضرب دیں تو نو ہوتے ہیں، یعنی تمہاری تین روٹیوں کے نو حصے ہوئے۔ ان نو میں سے آٹھ ٹکڑے تم نے خود کھائے، ایک بچا ہوا ہے۔ اور تیسرے ساتھی کی پانچ روٹیوں کو تین سے ضرب دیں تو پندرہ ہوتے ہیں۔ پندرہ میں۔۔۔"

آٹھ میں سے اس نے خود کھائے اور باقی سات ٹکڑے مہمان نے کھائے۔ مہمان نے تیرے حصے میں سے ایک ٹکڑا اور تیرے ساتھی کے سات ٹکڑے کھائے ہیں۔ اس نے آٹھ درہم دیے۔ لہٰذا حصے کے مطابق سات درہم تیرے ساتھی کا حق ہے۔ کیونکہ تیرے ساتھی کے سات ٹکڑے مہمان نے کھائے اور تیرا حق صرف ایک درہم ہے، کیونکہ تیرے حصے میں سے اس نے صرف ایک ٹکڑا کھایا۔ مسافر نے سر جھکایا اور کہا یا امیر المومنین، میں آپ کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہوں۔ اسبغ بن نابہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک عجیب فیصلہ کیا جو اس سے پہلے اور بعد میں نہیں ہوا۔

کسی نے نہ سنا اور نہ دیکھا، اسباق سے پوچھا گیا کہ وہ کون سا عجیب فیصلہ تھا؟ اسباق بیان کرتے ہیں کہ میں مولا کائنات جناب میر کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بہت خوبصورت اور نوجوان لڑکا رو رہا ہے اور لوگ اس کے ارد گرد جمع تھے، اسے حوصلہ اور تسلی دے رہے تھے۔ مگر وہ مسلسل رو رہا تھا۔ جب اس نوجوان کی نظر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑی تو کہنے لگا یا علی، قاضی سُریح نے میرے خلاف ایک فیصلہ دیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، واقعہ کیا ہے؟ نوجوان کہنے لگا، کچھ لوگ میرے باپ کو سفر پر لے گئے۔ جب وہ...

جب لوگ واپس آئے تو میرے والد ان کے ساتھ نہیں تھے۔ میں نے ان سے پوچھا، "میرا والد کہاں ہے؟" تو انہوں نے کہا کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ میرے والد کے پاس کافی سامان تھا، وہ کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ میں ان لوگوں کو لے کر قاضی شرح کے پاس پہنچا۔ قاضی نے انہیں قسم کھانے کو کہا۔ انہوں نے قسم اٹھائی۔ قاضی نے انہیں چھوڑ دیا۔ یا امیر المومنین، مجھے معلوم ہے اور میرا یقین بھی ہے کہ سفر کے دوران میرے والد کے پاس کافی سامان تھا۔ نوجوان کی ساری باتیں سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، "آج میں وہ فیصلہ کرتا ہوں..."

جو میں سے پہلے حضرت داؤد علیہ السلام کے سوا کسی نے نہیں کیا۔ پھر حکم دیا کہ کمر فوج کے سربراہوں کو حاضر کرو۔ جب فوج کے سربراہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ جن لوگوں کے ساتھ اس جوان کے والد سفر پر گیا تھا، انہیں بھی حاضر کرو۔ جب وہ لوگ بھی آ گئے تو انہیں اس نوجوان کے سامنے لایا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تمہاری کارکردگی کے بارے میں مجھے مکمل علم ہے۔ میں تمہارا سخت حکمران نہیں ہوں۔ پھر فرمایا کہ ان تمام لوگوں کو الگ الگ کرکے مسجد کے ایک ایک ستون کے ساتھ کھڑا کرو۔

کر دو۔ پھر اپنے کاتب عبد اللہ بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا بیانات کو قلم بند کرو اور اپنے لوگوں سے فرمایا جب میں نعرہ تکبیر بلند کروں تو تم لوگ بھی تکبیر بلند کرو۔ اس کے بعد جناب امیرالمومنین نے ایک مجرم کو بلایا اور اس سے پوچھا تم لوگ کس دن سفر پر گئے تھے؟ مجرم نے جواب دیا یا حضرت، فلا دن۔ پھر فرمایا تم کتنے افراد سفر پر روانہ ہوئے تھے؟ وہ کون سا سال اور کون سا مہینہ تھا؟ اور یہ سفر کتنے دن جاری رہا؟ اس جوان کے باپ جو تم لوگوں کے ہمراہ تھا، کس روز بیمار ہوا اور وہ دن کا وقت کیا تھا؟

وہ کیا تھا؟ اس رات اسے کیا بیماری لاحق ہوئی؟ کتنے دن بیمار رہ کر وہ فوت ہوا؟ اس کی بیماری کا علاج کیسے کیا گیا؟ مریض کی دیکھ بھال کون کر رہا تھا؟ اور وہ کون سا دن تھا جب وہ دنیا سے رخصت ہوا؟ اسے غسل و کفن کس نے دیا؟ اور اس کی نماز جنازہ کس نے پڑھائی؟ دفن میں کون کون شریک تھا؟ اسے کتنے کپڑوں میں دفنایا گیا؟ اور قبر میں اسے کس نے اتارا؟ جب یہ تمام سوالات پوچھ لیے گئے تو مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں نعرہ تکبیر بلند کیا۔ لوگ بھی تقلید میں نعرہ تکبیر بلند کرنے لگے۔ جب یہ تکبیر کی آواز باقی...

ملزمان نے سنا تو وہ پریشان ہو گئے کیونکہ انہیں یقین ہونے لگا کہ ان کے ساتھی نے ضرور جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس شخص کو زندان میں لے جاؤ۔ اس کے بعد دوسرے ملزم کو بلایا اور فرمایا، شاید تم سمجھتے ہو کہ مجھے تمہاری کارروائی کا علم نہیں۔ مجھے سب معلوم ہے کہ تم لوگوں نے اس نوجوان کے باپ کے ساتھ کیا کیا ہے۔ ملزم نے کہا، حضور میں بھی انہی کا ساتھی ہوں، لیکن آپ یقین کریں کہ میں اس کے قتل پر راضی نہیں تھا، بلکہ میں نے اس عمل کی مخالفت بھی کی تھی۔ جب اس شخص نے اقرار کیا...

جرم کر لیا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقی سب کو بھی ایک ایک کرکے بلایا اور ہر ایک نے جرم کا اقرار کر لیا۔ پھر امیر المومنین سے قاضی شرح نے پوچھا یا علی، حضرت داؤد علیہ السلام کا فیصلہ کیسا تھا؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت داؤد علیہ السلام گلی میں گزر رہے تھے کہ چند بچے کھیل رہے تھے۔ بچے ایک لڑکے کو اس کے نام ماتِ الدین سے پکارتے اور وہ انہیں لبّے یا کہتا۔ حضرت داؤد علیہ السلام اس بچے کے پاس گئے اور پوچھا بیٹا تمھارا نام کیا ہے؟ بچے نے کہا حضور میرا نام ماتِ الدین ہے یعنی دین مر گیا۔ حضرت داؤد۔۔۔

علیہ السلام نے پوچھا، "تمہارا یہ نام کس نے رکھا ہے؟" بچے نے جواب دیا، "حضور، میری ماں نے میرا یہ نام رکھا ہے۔" حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا، "اب تمہاری ماں کہاں ہے؟" بچے نے جواب دیا، "میری ماں گھر پر ہے۔" حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا، "مجھے اپنے گھر لے چلو۔" جب حضرت داؤد علیہ السلام اس بچے کے گھر پہنچے تو اس کی ماں سے پوچھا، "تمہارے بچے کا کیا نام ہے؟" عورت نے عرض کیا، "یا حضرت، اس کا نام ماتِ الدین ہے۔" آپ نے پوچھا، "تم نے اپنے بچے کا یہ نام کیوں رکھا؟"

"ہے؟" عورت نے جواب دیا، "حضور، اس کے باپ کی وصیت یہی تھی۔" حضرت داؤد علیہ السلام نے پوچھا، "اس کا باپ کہاں ہے؟" عورت نے کہا، "اس کا باپ چند افراد کے ساتھ سفر پر گیا تھا۔ میں اس وقت حاملہ تھی۔ باقی لوگ تو سفر سے واپس آ گئے لیکن میرا شوہر واپس نہیں آیا۔ میں نے ان لوگوں سے پوچھا جو میرے شوہر کے ساتھ گئے تھے کہ میرا شوہر کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ سفر کے دوران فوت ہو گیا تھا۔ پھر میں نے اس کے مال و اسباب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کا مال کچھ نہیں بچا تھا۔ پھر میں نے پوچھا کیا میرے شوہر نے کوئی وصیت بھی کی تھی؟ انہوں نے کہا..."

ہاں مرحوم نے بس اتنا کہا تھا کہ میری بیوی حاملہ ہے۔ میری وصیت یہ ہے کہ بیٹا ہو یا بیٹی اس کا نام ماتیدن رکھنا۔ کیونکہ یہ میرے مرحوم شوہر کی وصیت تھی۔ اسی لیے میں نے اپنے بچے کا نام ماتیدن رکھ دیا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کیا تم ان لوگوں کو جانتی ہو جن کے ساتھ تمہارا شوہر سفر پر گیا تھا؟ عورت نے عرض کیا جی ہاں حضرت، میں انہیں جانتی ہوں۔ جناب داؤد علیہ السلام نے فرمایا وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں؟ اس نے کہا زندہ ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا کیا تم مجھے ان سے ملوا سکتی ہو؟ اس نے کہا جی بالکل۔ حضرت داؤد۔۔۔

اللہ سلام جب ان لوگوں سے ملے تو آپ نے بھی ویسے ہی سوالات کیے اور ویسا ہی فیصلہ دیا جیسے آج میں نے اس نوجوان کے والد کے بارے میں فیصلہ سنایا ہے اور خون وہاں انہی کے ذمہ مقرر کیا۔ پھر جنابِ داود علیہ السلام نے اس عورت سے فرمایا اے کنیز خدا اب اپنے بیٹے کا نام بدل دو اور اس کا نام عاصد الدین رکھ دو۔ یعنی دین زندہ ہو گیا۔ اسبخ بن نباتہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا یا امیر المومنین اگر یہ جوان دعویٰ کرے کہ میرے والد نے ایک لاکھ دینار چھوڑے تھے اور یہ لوگ اس کے دعوے کو جھٹلائیں۔

اور کہیں کہ نہیں، اس کے پاس تو 20,000 درہم تھے یا اس سے کم، اور وہ بے شمار تھے، تو آپ اس کا فیصلہ کیسے کریں گے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس صورت میں میں ان لوگوں کی نامزد انگوٹھیاں لے کر اپنی انگوٹھی کے ساتھ ملا دوں گا، پھر قر ڈالوں گا، جس کے نام پر قر نکلے گا وہی سچا تصور ہوگا کیونکہ قر اللہ کی جانب سے نشانی ہوتا ہے جو کبھی خطا نہیں کرتا۔ اس وقت جنابِ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے اپنی انگوٹھی اتاری اور ان لوگوں کی انگوٹھیاں بھی لے لیں، سب انگوٹھیاں ملا دیں۔ پھر فرمایا، قر ڈالو اور جو شخص میری انگوٹھی نکال لے گا وہی...

یہ سچ ہوگا کیونکہ یہ اندازہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور خدا کا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ اور ساتھ ہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص میری انگوٹھی نکال لے گا وہی سچا ہوگا۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب کسی معاملے میں اختلاف ہو تو اندازے کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا کرو۔ ظاہرالاقبا میں عبداللہ بن شریق عامری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا یا امیرالمؤمنین، مسجد میں موجود لوگوں کی ایک...

جماعت کا یہ یقین  اور ایمان ہے کہ آپ ہی ان کے رب ہیں۔ آپ نے سب کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جب وہ پہنچے تو آپ نے فرمایا، تم کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا یا مولا، آتا ربنا، خالقنا و راجعا، مولا، آپ ہمارے رب ہیں، ہمارے خالق ہیں اور ہمارے مالک ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، تم پر افسوس ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں بھی تمہاری طرح کھاتا پیتا ہوں؟ بندہ اگر اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرے تو اللہ اسے ثواب اور جزا دیتا ہے، اور اللہ کی نافرمانی سے ڈرنا چاہیے کیونکہ نافرمانی یعنی اس کے عذاب کا سبب ہے۔

وجہ بنتی ہے۔ تم لوگ خدا سے ڈرو اور مجھے خدا مت کہو۔ اپنے اس بے بنیاد خیال سے توبہ کرو۔ مگر وہ لوگ اپنے نظریے اور عقیدے پر قائم رہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ نے انہیں مسجد سے نکال دیا۔ دوسرے دن پھر وہ لوگ مسجد میں آئے۔ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ نے انہیں خدا کے خوف اور عذاب سے ڈرایا اور نصیحت کی۔ لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔ آپ نے فرمایا، "تم سب گمراہ ہو چکے ہو۔" تیسرے دن وہ پھر آئے اور اپنے اسی عقیدے پر قائم رہے۔ حضرت علی رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا اگر تم اس بے بنیاد عقیدے سے باز...

اگر وہ نہیں آئے تو میں تمہیں مار ڈالوں گا۔ لیکن جب تم نے دیکھا کہ وہ لوگ بالکل بھی بدلے نہیں تو تم نے اپنے غلام کمر سے کہا کہ ایک بڑا گڑھا کھودو۔ وہ گڑھا مسجد اور قصر کی عمارت کے درمیان کھودا گیا۔ ان لوگوں کو اس گڑھے میں ڈال کر اوپر سے آگ لگا دی گئی۔ اس روایت میں لکھا ہے کہ وہ لوگ ہند کے قبیلے سے تھے اور ان کی تعداد تقریباً 70 کے قریب تھی۔ صحابی رسول حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ اچانک شور اور گونج کی آواز بلند ہوئی۔

جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے کہا، "جاؤ اور میری تلوار ذوالفقار لے آؤ۔" جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تلوار لے کر حاضر ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا، "باہر جاؤ اور دیکھو ایک مرد ایک اونٹ کے گلے کا ہار پکڑے کھڑا ہے اور اس ہار سے اونٹ چھیننا چاہتا ہے۔ جاکر اسے روکو۔" جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں باہر نکلا تو دیکھا واقعی ایک شخص اونٹ کے ہار کو مضبوطی سے پکڑے کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا، "یہ اونٹ میرا ہے۔" اور وہ بےچارہ عورت فریاد کر رہی تھی کہ "یہ اونٹ میرا ہے۔" جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ۔۔۔

میں نے اس شخص سے کہا کہ جناب، امیر المومنین کا حکم ہے کہ یہ اونٹ چھوڑ دو۔ یہ اونٹ عورت کا ہے، اس لیے مہار چھوڑ کر اسے عورت کے حوالے کر دو۔ وہ بولا، جاؤ اور علی سے کہہ دو کہ بسرا میں تم نے کتنے قتل کیے ہیں کہ اب میرا اونٹ چھین کر کسی اور کو دینا چاہتا ہے۔ یہ عورت جھوٹی ہے۔ یہ اونٹ میرا ذاتی سامان ہے، میں بالکل نہیں دوں گا۔ عمار رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں چپ چاپ واپس آیا تو دیکھا کہ جناب مولا کائنات باہر تشریف لا رہے ہیں اور آپ کے چہرے پر کچھ عجیب و غریب آثار نمایاں تھے۔ آپ اس مرد کے پاس پہنچے اور...

حکم دیا کہ اس عورت کا اونٹ چھوڑ دو۔ چور بولا، یہ اینٹ میرا ہے۔ یہ عورت جھوٹی ہے۔ اگر اس کے پاس گواہ ہے تو لے آئے۔ جنابِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، "ملعو تم جھوٹے ہو۔ اونٹ اس ظالم کا ہے۔" چور بولا، اگر یہ عورت کوئی گواہ لے آئے تو میں اونٹ دے دوں گا۔ مولا کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، "تم گواہ کی بات کرتے ہو؟ آج ایسا گواہ پیش کیا جائے گا کہ اہلِ کوفہ میں سے کوئی بھی اس کی گواہی کو جھٹلانے کی ہمت نہ کرے گا۔" پھر آپ نے اونٹ سے فرمایا، "اے بے حس، گواہی دے کہ تیرا مالک کون ہے؟ یہ مرد تیرا مالک ہے یا یہ عورت؟" یہ حکم حضرت علی بن ابی طالب کا تھا۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اونٹ فصی زبان میں بولا اور کہا السلام علیکم یا امیر المومنین۔ سلام کے بعد عرض کیا کہ میں نو سال سے اسی بوڑھی عورت کی ملکیت ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا جا اپنا اونٹ گھر لے جا اور اپنا کام کر۔ پھر آپ نے اپنی تلوار ذوالفقار نکالی اور ایک ہی ضرب میں اس ملعون کو دو ٹکڑے کر دیا اور یوں وہ اپنے کیے کے انجام کو پہنچ گیا۔ صفات اخبار میں منقول ہے کہ قبیلہ بنی کدہ کے ایک شخص کو حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے سامنے لایا گیا جس نے چوری کی تھی۔ جناب۔۔۔

علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ وہ چور بہت خوبصورت، بلند قد اور خوش لباس تھا۔ جنابِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دیکھ کر فرمایا، "تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے کعبہ عرب میں اپنی خوبصورتی، اچھی شخصیت اور بلند قامت کو چوری کرنے کے لیے ضائع کر دیا۔" وہ مجرم سر جھکا کر عرض کرنے لگا، "یا امیر المؤمنین، خدا کے لیے مجھ پر رحم فرمائیں، میں نے ابھی تک چوری نہیں کی، یہ میری پہلی غلطی ہے۔" حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، "ایسا نہیں ہو سکتا کہ پہلی بار گناہ کرنے پر اللہ تعالیٰ تجھے رسوا کرے۔ تم نے کئی بار پہلے بھی..."

چوری کی ہوگی اور اب تیرا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ وہ چور پھر شکایت کرنے لگا، یا امیرالمومنین خدا کے لیے مجھ پر رحم فرما۔ میں تیرہ افراد کا واحد کفیل ہوں۔ میں ان کے لیے محنت کرنے کے قابل نہیں رہوں گا۔ جناب علی رضی اللہ عنہ نے چند لمحے سر جھکایا، پھر فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ چور نے جناب علی رضی اللہ عنہ کا دامن پکڑ کر زور زور سے رونا شروع کر دیا اور دعا کرنے لگا کہ یا مولا مجھ سے درگزر فرما۔ جناب علی رضی اللہ عنہ نے تھوڑی دیر توقف کے بعد فرمایا، تیری ہاتھ کاٹنے کے بغیر اور کوئی۔

چارہ نہیں ہے۔ جب جلاد نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا تو وہ کہنے لگا، "اس سے پہلے بھی میں 99 بار چوری کر چکا ہوں، لیکن خدا نے میرے گناہ پر پردہ رکھا ہوا تھا اور یہ آخری بار کی چوری تھی جو اب ظاہر ہو گئی۔" چور کا یہ بیان جب جناب امیر المومنین نے سنا تو فرمایا، "اب تمہیں یقین آ گیا ہوگا کہ میں نے کہا تھا کہ پہلی خطا پر اللہ تعالیٰ اتنی جلدی سزا نہیں دیتا۔" جب لوگ یہ سن کر متاثر ہوئے تو جناب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پاؤں چومنے لگے اور محبت میں عرض کرنے لگے، "یا علی، خدا آپ کا سایہ قائم رکھے، آپ کی دعا میں ہماری بھی شامل رکھیں۔"

خوشی اور سلامتی ہو۔ حارث بن ہسیرا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک حبشی کے پاس سے گزرا جو پانی کھینچ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا، "تمہارا ہاتھ کس نے کاٹا؟" اس نے کہا، "مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔" میں نے پوچھا، "کیوں؟" اس نے کہا، "ہم آٹھ لوگ تھے اور ہمارا کام صرف چوری کرنا تھا۔" ہاں، ایک دفعہ ہم پکڑے گئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پیش کیے گئے۔ ہم نے چوری کا اقرار کیا۔ آپ نے پوچھا، کیا...

کیا تم جانتے تھے کہ چوری حرام ہے؟ ہم نے کہا، "جی ہاں۔" پھر حکم ہوا کہ سزا دی جائے۔ بعدازاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں اپنے مہمان خانے میں لے جا کر روغن اور شہد سے علاج کروایا۔ ہمارے زخم ٹھیک ہونے تک ہمارے ساتھ رہے۔ رخصت کرتے وقت ہمیں کپڑے دیے اور فرمایا کہ اگر تم دل سے توبہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت عطا فرمائے گا۔ اور اگر گناہ پر قائم رہو گے تو اسی کٹے ہوئے ہاتھ کے ساتھ جہنم میں جاؤ گے۔ ایک بار دو لوگ ایک شخص کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے لائے اور کہا کہ اس نے ہماری...

زیرہ چوری ہوا ہے۔ وہ شخص بولا یا امیر المومنین، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے چوری نہیں کی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں سے فرمایا، اللہ سے ڈرو۔ تم ایک بےگناہ مسلمان کا ہاتھ کیوں کاٹوانا چاہتے ہو؟ پھر فرمایا اگر تم سچے ہو تو اسے لے جاؤ اور سزا نافذ کرو۔ وہ دونوں اسے سزا کے مقام تک لے گئے، مگر وہاں پہنچ کر چھوڑ دیا اور خود فرار ہو گئے۔ بعد میں وہ شخص واپس آ کر بولا یا امیر المومنین، وہ دونوں جھوٹے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر اب وہ دونوں پکڑے جائیں تو میں انہیں جھوٹا...

گواہی کی سزا دوں گا۔ امید ہے کہ آپ کو آج کی کہانی پسند آئی ہوگی۔ اگر آپ کو ہماری کہانی اچھی لگی ہو تو کہانی کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ ملتے ہیں اگلی کہانی میں۔ تب تک کے لیے اجازت دیجئے۔ اللہ حافظ۔ اوم۔