خاموشی کا آخری فیصلہ
خاموشی کا آخری فیصلہ
صفائیاں ختم، گواہیاں ختم،
اب رشتے کی ساری پرچھائیاں ختم،
جو بات دل سے نکلی تھی سچ بن کر،
وہ بھی ہار گئی… اور ساری سچائیاں ختم۔
ہم نے کتنی بار خود کو کٹہرے میں کھڑا کیا،
ہر الزام اپنے حصّے میں پڑا کیا،
ہم نے مان لیا.... قصور بھی ہمارا ہی سہی،
پھر بھی نہ بدلیں فاصلے… نہ کم ہوئیں جدائیاں، ختم۔
اب نہ کوئی سوال باقی، نہ کوئی بحثِ درد،
نہ کسی بات پر قائل کرنے کی ضد،
ہم نے تھک کر بس یہ فیصلہ کر لیا...
اب لفظ نہیں بہکیں گے… ساری صفائیاں ختم۔
ہم روئے بھی بہت اور چُپ بھی رہے،
اپنی ٹوٹی ہوئی سانسوں کے ساتھ بھی رہے،
لیکن دل نے کہا.... اب بس بھی کرو،
جس جاں پر بوجھ بن جائے رشتہ… وہاں چاہتیں ختم۔
جو خواب تھے، وہ بھی آنکھوں سے گر پڑے،
جو راستے تھے، وہ بھی یادوں میں مر گئے،
ہم نے وقت کے ہاتھ پر زخم رکھ دیے،
اور کہا.... لے جا… اب یہ پرانی وفائیاں ختم۔
اب ہم کسی کو منانے نہیں جائیں گے،
نہ خود کو جھکانے نہیں جائیں گے،
جو دل کو توڑے… اُس کے سامنے خاموشی کافی ہے،
شکوے بھی ختم… اور یہ رسوائیاں ختم۔
اب ہمیں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں،
نہ کسی دل کی عدالت میں حاضری کی،
ہم نے خود کو اپنے پاس لوٹا لیا ہے...
یہی کافی ہے… اور باقی سب کہانیاں ختم۔
دل ٹوٹا... مگر ساتھ ایک روشنی بھی ملی،
خود سے ملنے کی کچھ سی راہ بنی،
ہم نے زخمی دل سے سیکھ لیا یہ سبق...
چھوڑ دینا بھی محبت ہے… جب امیدیں ختم۔
اب نہ کوئی واپسی، نہ کوئی پلٹ کر آہ،
نہ کسی نام کی خوشبو، نہ کسی یاد کی چاہ،
ہم نے سانسوں کو آزاد کر دیا ہے...
جان چھوٹی… اور بندھنوں کی سب زنجیریں ختم۔
mnweb