غریب موچی اور کھچڑی کی دلچسپ کہانی | سبق آموز اسلامی کہانی اردو میں
ایک غریب غیر شادی شدہ موچی کی سبق آموز اور دلچسپ کہانی جو اپنی محنت سے زندگی گزارتا تھا۔ ایک دن اس نے کھچڑی بنائی اور اس کے بعد پیش آیا حیرت انگیز واقعہ۔ مکمل اسلامی اور اخلاقی کہانی اردو میں پڑھیں۔
پرانی بات ہے، کسی گاؤں میں ایک موچی رہتا تھا جو غیر شادی شدہ تھا۔ وہ سارا دن لوگوں کے جوتے سی کر اپنی روزی روٹی کماتا تھا۔ اس کی آمدنی اتنی کم تھی کہ مشکل سے اپنا پیٹ بھرتا تھا۔ اسی لیے اس نے کبھی اپنی شادی کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ ایک دن اس کا دل چاہا کہ وہ کھچڑی کھائے۔ کئی دنوں سے اس نے کھچڑی نہیں کھائی تھی۔ لہٰذا وہ بازار سے چاول اور کچھ مونگ کی دال لے آیا اور بڑے شوق سے کھچڑی بنائی۔ جب کھچڑی پک کر تیار ہو گئی تو اس نے ایک بڑے تھال میں...
اسے دھیرے دھیرے ٹھنڈا ہونے کے لیے چھوڑ دیا۔ پھر اس نے سوچا کہ جب تک کھچڑی ٹھنڈی ہوگی، اتنے وقت میں لوگوں کے جوتے واپس کر آتا ہوں۔ یہ سوچ کر وہ کھچڑی کو وہیں چھوڑ کر لوگوں کے سلائی کیے ہوئے جوتے واپس دینے چل پڑا۔ اتفاق سے ایک گیدڑ بھی جنگل میں گھومتا پھرتا یہاں آ نکلا۔ اس نے جو لہا کا گھر خالی دیکھا تو اندر گھس آیا۔ جب اس نے اندر دیکھا تو ایک بڑی سی تھالی میں تازہ تازہ کھچڑی رکھی ہوئی تھی۔ گیدڑ بھوکا تھا ہی۔ اس نے فوراً موقع دیکھا اور جلدی سے کھچڑی کھانے میں لگ گیا۔ ابھی وہ پوری کھچڑی ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ۔۔۔
نہیں کر پایا تھا کہ بدقسمتی سے باہر سے موچی آ گیا۔ موچی بھی کھچڑی کھانے کے لیے بےتاب تھا اور اسے جلدی تھی کہ جلدی سے گھر جاؤں اور کھچڑی کھاؤں۔ اسی لیے وہ لوگوں کے سیلے ہوئے جوتے تیزی سے واپس کرکے گھر آ گیا تھا۔ لیکن جب اس نے گھر آ کر دیکھا کہ گیدڑ مزے سے کھچڑی کھا رہا ہے تو اس نے فوراً گھر کے دروازے بند کیے اور گیدڑ کو ایک رسی سے پکڑ کر باندھ دیا۔ اس کے بعد موچی نے ایک موٹا سا ڈنڈا پکڑا اور دل کھول کے اس کی مار پیٹ کی۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھتا اور ڈنڈا لے کر گیدڑ کی ٹھوکر مارنا شروع کر دیتا، اور جب تھک...
چل پڑتا تو پھر اپنے کام کاج میں لگ جاتا۔ گیدڑ دل ہی دل میں سوچنے لگا، اگر یہ مجھے یوں ہی مارتا رہا تو میری زندہ بچنا مشکل ہے۔ گیدڑ یوں ہی مار کھاتا جا رہا تھا اور وہاں سے نکلنے کے طریقے بھی سوچ رہا تھا۔ مگر بندھا ہوا تھا۔ بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔ لہٰذا بار بار مار کھا کر خاموش ہو جاتا۔ رات کچھ طرح گزر گئی۔ اور صبح جب موچی اپنے کام پر گیا تو گیدڑ سوچنے لگا، یہی موقع ہے کچھ نہ کچھ کرنے کا، کوئی اچھی ترکیب سوچنی چاہیے۔ گیدڑ کچھ دیر بیٹھ کر سوچتا رہا اور آخرکار اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ اس نے اردگرد چکر لگا کر اپنے آپ...
اس نے رسی کو اور بھی مضبوطی سے پکڑ لیا اور ایسے چیخنے لگا جیسے اپنے ساتھیوں کو بلا رہا ہو۔ جنگل بالکل قریب تھا۔ اس لیے جب دوسرے گیدڑوں نے اس کی آواز سنی تو وہ بھی زور زور سے چیخنے لگے۔ جنگل میں جو گیدڑ بولنے لگے تھے ان میں ایک ایسا گیدڑ بھی تھا جو اس گیدڑ کا دوست تھا جو کھچڑی کھا کر اس مشکل میں پھنس گیا تھا۔ جب اس نے اپنے دوست کی آواز سنی تو یہ جاننے کے لیے کہ اس کا دوست کہاں ہے، وہ اور بھی زیادہ زور سے چیخنے لگا۔ جب اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کا دوست اسی گاؤں میں ہے اور اسے ڈھونڈنے کے لیے اسی گاؤں کی طرف...
وہ آ گیا اور تلاش کرتا ہوا آخرکار موچی کے گھر کے قریب پہنچ گیا۔ اس نے کان لگایا تو اس کی آواز اسی موچی کے گھر سے آ رہی تھی۔ اس نے اندر جھانکا تو اس کا دوست رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچا تو اس نے اپنے دوست سے پوچھا، "یار تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ اور یہاں کیسے پہنچ گئے؟" اور رسیوں سے بندھے ہوئے گیدڑ کی اتنی مار پڑ چکی تھی کہ پورا جسم سوج چکا تھا، اسی لیے وہ بہت موٹا اور تازہ دکھائی دے رہا تھا۔ جب اس نے اپنے دوست کو اپنے پاس دیکھا تو وہ اپنے درد کو چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔
مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "ہم تو مزے کر رہے ہیں دوست۔ تم تو جنگل میں ادھر ادھر گھومتے پھرتے ہو۔" دوسرے گیدڑ نے جب اسے دیکھا تو وہ واقعی بڑا تگڑا لگ رہا تھا۔ اس نے اس سے سوال کیا، "پھر بھی تم ہمیں بتاؤ کہ تمہیں یہ کامیابی کیسے ملی؟" رسیوں سے بندھے ہوئے گیدڑ نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے کہا، "میں تمہیں یہ راز بتانے کے لیے تیار ہوں، مگر ایک شرط پر۔" "وہ کیا؟ مجھے جلدی بتاؤ۔" دوسرے گیدڑ نے کہا۔ "وہ شرط یہ ہے کہ تم کسی کو بالکل نہیں بتاؤ گے۔" "نہیں، بالکل نہیں۔ تم مجھ سے وعدہ لے سکتے ہو کہ میں..."
کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ اس پر رسیوں سے بندھے ہوئے گیدڑ نے کہا، اصل بات یہ ہے کہ مجھے ایک بہت ہی مہربان اور نیک دل آدمی نے پکڑ لیا ہے۔ وہ میری بہت عزت کرتا ہے اور تم نہیں دیکھ رہے کہ اس نے مجھے کیسے رسیوں میں جکڑ رکھا ہے تاکہ میں کہیں خود کو آزاد کر کے یہاں سے نہ بھاگ جاؤں۔ پھر اس نے اپنی بندھی ہوئی رسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ دیکھو میں کتنا موٹا ہو گیا ہوں۔ وہ آدمی مجھے ہر روز حلوہ پوری کھلاتا ہے۔ دوسرا گیدڑ اس کی باتیں سن رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کاش یہ موقع مجھے ملے۔
مل جائے۔ حلوہ پوریوں کے نام سے اُس کے منہ میں پانی آ چکا تھا۔ بندھے ہوئے گیدڑ نے جب دیکھا کہ اس کا دوست اس کے دھوکے میں آ چکا ہے تو وہ آہستہ آہستہ بڑی چالاکی سے کہنے لگا، "تم میرے دوست ہو۔ میں تمہارے لیے یہ کر سکتا ہوں کہ تم میری رسیوں کو کھول دو اور میں تمہیں اپنی جگہ باندھ دیتا ہوں۔ اور اس طرح تم بھی دو تین دنوں میں میرے جیسے موٹے تیز ہو جاؤ گے اور خوب مزے کرو گے۔" باہر سے آنے والا گیدڑ بھی بیوقوف بن چکا تھا۔ اس لیے خوش ہو کے بولا، "ہاں دوست، اچھا ہے۔ تمہاری مہربانی سے میں بھی دو چار..."
روز ہلوہ پوری کھا لوں گا۔ لو میں تمہاری رسیاں کھول دیتا ہوں اور تم مجھے اپنی جگہ پر باندھ دو۔ اس کے بعد اس نے بندھے ہوئے گیدڑ کی رسیاں کھول دیں۔ بندھے ہوئے گیدڑ نے خود وہاں سے آزاد ہو کر اسے وہاں پر باندھ دیا اور وہاں سے چلتا بنا۔ ادھر جب موچی اپنے کام سے گھر واپس آیا تو اس نے قریب پڑا ہوا ڈنڈا اٹھایا اور گیدڑ کی مرمت شروع کر دی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وہی گیدڑ ہے یا کوئی اور۔ اس نے اپنا غصہ اتارنے کے لیے گیدڑ پر ایسی لاٹھیاں برسائیں کہ وہ چیختا ہی رہا۔ وہ بہت گھبرا گیا کہ یہ کیسا ہلوہ پوری ہے جو مجھے مل رہا ہے۔ خیر کچھ دیر تک وہ...
خاموشی سے مار رہا تھا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ موچی کسی بھی طرح نہیں رک رہا تو اس نے موچی سے کہا، "تم مجھے اس طرح کیوں مار رہے ہو؟ میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟" دوسری طرف جب موچی نے گیدڑ کو دیکھا کہ وہ انسانوں کی طرح باتیں کر رہا ہے تو وہ بہت حیران ہوا اور سوچنے لگا کہ پہلے یہ بولتا نہیں تھا۔ اس نے دل میں خیال کیا کہ یقیناً یہ مجھے پہلے بے وقوف بنا رہا تھا۔ اسی لیے اس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی تھی اور اب شاید یہ بہت زیادہ مار کھا چکا ہے اس لیے مجھ سے باتیں کرنے لگا ہے۔ موچی نے دو چار ڈنڈے اور برسائے اور کہنے لگا کہ۔۔۔
جب تک میں اپنی کھچڑی کا بدلہ پورا نہ لے لوں گا، تمہیں ایسے ہی ماروں گا۔ بتاؤ تم نے میری کھچڑی کیوں کھائی؟ گیدڑ کو اب پتا چلا کہ اس کے دوست نے اس کی کھچڑی کھا لی تھی، اسی لیے اس نے اسے باندھ رکھا تھا۔ اس نے موچی سے کہا کہ میں نے تمہاری کوئی کھچڑی نہیں کھائی۔ پھر اس نے بتایا کہ جب میں یہاں آیا تو یہاں ایک گیدڑ رسیاں بندھا ہوا تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر تم میری جگہ یہاں بندھ جاؤ تو تمہیں روزانہ حلوہ پوری ملے گی۔ اس لیے میں نے اسے یہاں سے کھول دیا اور وہ خود اپنی جگہ پر مجھے باندھ گیا۔
باندھ کر یہاں سے چلا گیا ہے۔ اب تم آئے ہو تو آتے ہی میری پٹائی شروع کر دی ہے۔ گیدڑ کی ساری باتیں سن کر موچی بولا، "میں تمہارے سارے مکڑھ جانتا ہوں۔" اتنا کہتے ہوئے اس نے دو چار ڈنڈے اور گیدڑ کی کمر پر مارے۔ اب تو گیدڑ اور بھی گھبرا گیا اور سوچنے لگا کہ یہ تو مجھے جان سے ہی مار ڈالے گا۔ چنانچہ وہ موچی کی منت سماجت کرتے ہوئے بولا، "اگر تم مجھے آزاد کر دو تو میں تمہاری شادی بادشاہ کی بیٹی سے کرا دوں گا۔" گیدڑ بولا، "کیا کہا؟" موچی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ بادشاہ کی بیٹی سے میری شادی؟ اس نے بڑے حیرت سے پوچھا۔
تم کیا کہہ رہے ہو؟ کہاں میں غریب موچی اور کہاں بادشاہ کی بیٹی؟ کیا تم مجھے بیوقوف بنا رہے ہو؟ اس پر گیدڑ بولا، نہیں، میں واقعی تمہاری شادی بادشاہ کی بیٹی سے کرواؤں گا۔ موچی حیرت سے بولا، واقعی؟ لیکن مجھے یقین نہیں آ رہا۔ گیدڑ کہنے لگا، میں تم سے وعدہ کرتے ہوئے کہہ رہا ہوں کہ اپنی بات پوری کروں گا۔ گیدڑ کی اس یقین دہانی پر موچی نے اسے آزاد کر دیا۔ گیدڑ آزاد ہوتے ہی موچی سے بولا، تم گھر جا کر میرا انتظار کرو، میں جلد ہی تمہارے لیے خوشخبری لے کر آؤں گا۔ بس اتنا ہی۔
کہہ کر گیدڑ وہاں سے روانہ ہو گیا۔ گیدڑ گاؤں سے نکل کر دریا کے کنارے پہنچ گیا۔ اس نے دریا کو پار کیا اور دوسرے کنارے پر پہنچ کر انسان کا روپ دھار لیا۔ دریا کے اُس پار ایک اور بادشاہ کی حکومت تھی جس کا محل دریا سے کچھ ہی فاصلے پر واقع تھا۔ اس نے خود کو ایلچی ظاہر کیا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔ بادشاہ نے اسے دیکھا اور پوچھا، "اے اجنبی، تُو کون ہے اور یہاں کس ملک سے آیا ہے؟" جواب میں اس نے سر جھکا کر کہا، "بادشاہ سلامت، میں آپ کے پڑوسی ملک کے بادشاہ کا ایلچی ہوں۔" بادشاہ نے جب یہ سنا تو اسے۔۔۔
بہت عزت سے پیش آیا اور اسے اپنے پاس بیٹھنے کی جگہ دی اور پوچھا کہ اے ایلچی، بتاؤ تمہارے بادشاہ کا ہمارے لیے کیا پیغام ہے؟ ایلچی نے ادب سے کہا کہ اے بادشاہ ہمارا بادشاہ ابھی کنوارا ہے اور اس نے آپ کی بیٹی کے لیے شادی کا پیغام بھیجا ہے۔ اتفاق کی بات یہ تھی کہ اُس بادشاہ کی ایک بیٹی تھی جو جوان تھی اور بادشاہ اُس کے رشتہ کے لیے فکر مند تھا اور وہ اسی انتظار میں تھا کہ کسی سلطنت سے اُس کی بیٹی کے لیے رشتہ آئے۔ جب اس نے دیکھا کہ رشتہ خود بخود آ گیا ہے تو وہ بہت خوش ہوا۔
ہوا۔ اس نے ایلچی سے کہا کہ ہمیں یہ رشتہ منظور ہے۔ اور ساتھ ہی شادی کی تاریخ بھی طے کر دی۔ ایلچی کو بہت سی قیمتی تحفے دے کر روانہ کیا۔ ایلچی وہاں سے روانہ ہو کر دوبارہ دریا کے پاس آ گیا۔ وہاں پہنچ کر پھر گیدڑ کے کمرے میں آ گیا اور دریا پار کرکے سیدھا گاؤں کی طرف چل دیا۔ گاؤں پہنچ کر وہ سیدھا موچی کے گھر پہنچا۔ موچی بھی اس کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی خوش ہو کر بولا، "کیا خوشخبری لائے ہو؟" گیدڑ نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ تمہاری شادی کی بات طے ہو گئی ہے اور فلاں تاریخ کو تمہاری شادی ہوگی۔
ہو۔ یہ سن کر موچی گھبرا کر بولا، مگر میرے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں ہے۔ اس پر گیدڑ نے کہا کہ تم فکر مت کرو۔ گیدڑ نے اتنا کہا اور موچی کو حیران پریشان چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا۔ حقیقت یہ تھی کہ موچی کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کی شادی کسی بادشاہ کی بیٹی سے ہونے والی ہے۔ یہ عجیب بات تھی۔ لیکن جب اسی دن صبح صبح گیدڑ اس کے پاس آیا تو اسے اور بھی حیرانی ہوئی اور گیدڑ نے کہا کہ جلدی کرو میرے ساتھ چلو۔ آج تمہاری بادشاہ کی بیٹی سے شادی ہے۔ بھلا موچی کو کیا سامان لانا تھا۔ وہ۔۔۔
خاموشی سے گویدڑ کے پیچھے چل دیا اور گویدڑ اسے لے کر گاؤں سے باہر اسی دریا کے قریب پہنچ گیا۔ اس وقت دریا کے کنارے پر ایک دھوبی کپڑے دھونے آیا تھا۔ گویدڑ نے اسے ایک سونے کا سکّہ دیا اور کہا کہ تمہارے پاس جتنے بھی کپڑے ہیں، انہیں آس پاس درختوں اور جھاڑیوں کے پاس پھیلا دو۔ دھوبی کو مفت میں سونے کا سکّہ مل چکا تھا۔ اسے اور کیا چاہیے تھا؟ اس نے وہ کپڑے جو وہ دھونے کے لیے گڈی باندھ کر لایا تھا، گویدڑ کے کہنے کے مطابق دریا کے پاس جھاڑیوں اور درختوں پر پھیلا دیے۔ گویدڑ نے جب دیکھا کہ اس نے کپڑے پھیلا...
دیا ہے تو وہ ایک روئی بیچنے والے کے پاس گیا اور اسے سونے کا ایک سکہ دے کر بولا، تم دھوئی ہوئی روئی کے چند گڑھے دریا کے کنارے پہنچا دو۔ روئی بیچنے والے آدمی نے سونے کا سکہ لے کر دھوئی ہوئی روئی کے کچھ گڑھے دریا کے کنارے پہنچا دیے۔ اور جب یہ سب کچھ ہو چکا تو گیدڑ نے جولاہے سے کہا، جیسا میں کہوں تم ویسا ہی کرنا۔ موچی نے کہا کہ ہاں، جیسا تم کہو میں ویسا ہی کروں گا۔ اس کے بعد گیدڑ نے موچی کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ میں دریا کے اُس پار جا رہا ہوں اور تم مجھے یہاں سے وہاں جاتے ہوئے دیکھتے رہنا۔ جب تم
دیکھو میں بادشاہ کے محل میں داخل ہو رہا ہوں۔ تم دھوبی سے کہہ دو کہ وہ اپنے سارے کپڑے جو اس نے درختوں اور جھاڑیوں پر پھیلائے ہیں، اتار کر لے جائے۔ اس کے بعد تم دھونی ہوئی روئی کے گٹھے جمع کر کے تھوڑا تھوڑا روئی دریا میں ڈالنا شروع کر دو۔ باقی میں خود سب کچھ ٹھیک کر لوں گا۔ گیدڑ موچی کو یہ ہدایت دے کر خود دریا میں تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔ دوسرے کنارے پر پہنچ کر اس نے دوبارہ ایلچی کا روپ دھار لیا اور بادشاہ کے محل کی طرف چل دیا۔ دوسری طرف بادشاہ اپنی شہزادی کی شادی کے لیے پوری تیاری کر کے بیٹھا تھا اور...
شاہی بارات کا انتظار تھا۔ وہ اسی انتظار میں محل کی چھت پر چڑھ کر دیکھ رہا تھا کہ دھوبی نے جو کپڑے درختوں اور جھاڑیوں پر پھیلے ہوئے تھے۔ انہیں دیکھ کر بادشاہ کو ایسا لگا جیسے بارات دریا کے اُس پار ٹھہر گئی ہو اور ابھی یہاں پہنچنے والی ہو اور وہ اسی انتظار میں بیٹھا تھا۔ جیسے ہی گیدڑ ایلچی کی طرح بادشاہ کے محل میں پہنچا، پیچھے موچی نے گیدڑ کی ہدایت کے مطابق دھوبی سے کہا کہ وہ جلدی جلدی اپنے سارے کپڑے درختوں اور جھاڑیوں سے اتار لے۔ اس کے بعد ہی وہ جلدی جلدی دھونی ہوئی روئی کے بڑے بڑے گالے دریا میں۔۔۔
ڈالنے لگا۔ دریا میں روئی کے گالے ڈوبتے تیرتے دور سے ایسے لگ رہے تھے جیسے بڑی بڑی کشتیوں میں لوگ ڈوب اور تیر رہے ہوں۔ ادھر ایلچی جیسے ہی بادشاہ کے محل پہنچا تو وہ رونا دھونا شروع کر دیا۔ اسے اس طرح روتا پیٹتا دیکھ کر بادشاہ بہت پریشان ہوا اور پوچھنے لگا تمہیں کیا ہوا؟ اور شہزادی کی بارات کہاں ہے؟ بادشاہ سلامت بہت برا ہوا۔ ہمارا بادشاہ بارات کے ساتھ دریا پار کر رہا تھا کہ اچانک زبردست طوفان آ گیا۔ سارے ساز و سامان، امراء، وزیر، رشتہ دار اور فوج کے لوگ کشتیوں سمیت...
وہ سب ڈوب گئے۔ اور ہمارا آنے والا داماد کہاں ہے؟ کیا وہ بھی ڈوب گیا؟ بادشاہ پریشان ہو کر پوچھا۔ اس پر ایلچی نے کہا کہ بادشاہ سلامت خوش قسمتی سے میں اور بادشاہ ہی بچے ہیں۔ اور وہ بھی صرف کپڑوں کے ساتھ، اور بادشاہ سلامت کے کپڑے بھی بالکل پھٹے ہوئے تھے۔ ایک غریب آدمی سے کپڑے لے کر پہنا دیے گئے ہیں۔ مگر وہ اس وقت کہاں ہے؟ بادشاہ نے پھر پریشان ہو کر پوچھا۔ حضور، اس وقت وہ دریا کے پار اکیلے تنہا بیٹھا ہے۔ یہ سن کر بادشاہ نے اپنے وزیروں اور سپاہیوں کو حکم دیا کہ فوراً جائیں اور پوری شان و شوکت کے ساتھ۔
ہمارے ہونے والے داماد کو محل میں لاؤ۔ حکم ہوتے ہی فوج کے سپاہی موچی کو لے کر محل پہنچ گئے۔ اس وقت تک دھوبی اپنے سارے کپڑے سمیٹ چکا تھا اور روئی کے بڑے بڑے گال دریا میں ڈوب چکے تھے۔ صرف موچی حیران و پریشان دوسرے کنارے پر بیٹھا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ پھر موچی کو کشتی کے ذریعے دریا پار کروایا گیا اور بڑی شان و شوکت کے ساتھ بادشاہ کے محل میں پہنچا دیا گیا۔ جب بادشاہ نے اپنے ہونے والے داماد کو زندہ پایا تو اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور یوں شہزادی اور موچی کی شادی دھوم دھام سے ہوئی۔
شادی کے بعد ایلچی نے بادشاہ سے کہا کہ اگر علیم پناہ اجازت دیں تو ایک بات عرض کروں۔ بادشاہ نے کہا، ضرور، ہماری طرف سے اجازت ہے۔ دلجی نے بڑے ادب کے ساتھ کہا، علیم پناہ، آپ کے داماد کا سب کچھ لُٹ چکا ہے۔ ماں باپ، رشتہ دار، امیر و وزیر سب تباہ ہو گئے ہیں اور اب وہ بالکل تنہا ہیں اور پیچھے خبر نہیں کہ محل پر بھی کسی نے قبضہ کر لیا ہو۔ کیونکہ بارات کی تباہی کی خبر پیچھے پہنچ چکی تھی۔ اس لیے ان کا واپس جانا بے فائدہ ہے۔ کیوں نہ انہیں یہاں روکنے پر مجبور کیا جائے۔ اتفاق سے بادشاہ پہلے ہی سے یہی سوچ رہا تھا۔
بادشاہ کی ایک ہی بیٹی تھی اور وہ اسے بہت چاہتا تھا۔ اسے ایلچی کی یہ بات بہت پسند آئی۔ اس نے دل میں سوچا کہ اس طرح اس کی بیٹی بھی اس کی نظر کے سامنے رہے گی اور مجھے بھی سلطنت میں میرا ہاتھ بٹانے والا مل جائے گا۔ اس نے ایلچی سے کہا، "کیا ہمارا داماد اس بات کو مان جائے گا؟" ایلچی فوراً بولا، "حضور، یہ آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں انہیں راضی کر لوں گا۔" بادشاہ خوش تھا کہ اب اس کی بیٹی اس کی نظر کے سامنے ہی رہے گی۔ چنانچہ موچی کو وہاں ہی ایک محل دے دیا گیا جہاں موچی شاہی شان و شوکت کے ساتھ رہنے لگا۔ چند دنوں تک۔
گیدڑ بھی وہیں پر الچھی کے طور پر ان کے ساتھ رہا۔ پھر ایک دن موچی سے کہا، "دیکھو، میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا کر دیا ہے۔ اب مجھے اجازت دو تاکہ میں بھی اپنے ساتھیوں سے جا ملوں۔" موچی نے اسے بہت روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ مانا اور رخصت ہو کر ایک بار پھر اپنے اصل روپ میں آ گیا اور اپنے دوستوں سے مل گیا۔ شکریہ۔
mnweb