میری شادی کی پہلی رات کی المناک کہانی – شوہر کے اچانک انتقال اور ہمت کی آزمائش

یہ کہانی عائشہ نامی لڑکی کی ہے، جس کی شادی کی پہلی رات اس کے شوہر، جو حافظِ قرآن اور نیک انسان تھے، اچانک انتقال کر گئے۔ ڈاکٹر اور مولوی بھاگ گئے، لیکن عائشہ نے ہمت کر کے اپنے شوہر کو غسل دیا۔ یہ کہانی صبر، ہمت اور امتحان کی ایک دل دہلا دینے والی حقیقت بیان کرتی ہے۔

میری شادی کی پہلی رات کی المناک کہانی – شوہر کے اچانک انتقال اور ہمت کی آزمائش
میری شادی کی پہلی رات کی المناک کہانی – شوہر کے اچانک انتقال اور ہمت کی آزمائش

آدمی اپنی عزت دنیا کے سامنے ثابت کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور پھر بھی دنیا ہمیں قبول نہیں کرتی، نہ ہمارا درد سمجھتی ہے۔ میں نے ایسے انسان کو دیکھا ہے جو تکلیف بھری زندگی گزار رہا تھا، اور وہ انسان میرا اپنا شوہر تھا۔ میرا نام عائشہ ہے، میری شادی ہوئی تو میں رخصت ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ ایک بہت چھوٹے اور گندے سے گھر میں گئی۔ میرے شوہر کے ماں باپ نہیں تھے اور وہ اپنی نانی کے ساتھ رہتا تھا، لیکن کچھ عرصے سے وہ بالکل اکیلا رہنے لگا تھا۔ میرے شوہر نے اس گھر میں آ کر پہلا جملہ یہی کہا کہ اب۔۔۔

یہ ہمارا گھر ہے، میں خوشی سے سر ہلاتی رہی، مجھے چھوٹے سے گھر سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ میرا شوہر بہت نیک اور حافظِ قرآن تھا۔ مجھے خود کو خوش قسمت سمجھتی تھی کہ مجھے اتنا نیک انسان ملا ہے۔ میں کمرے میں بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی کہ وہ وضو کر کے کمرے میں آیا اور کہا کہ میں نفلی نماز ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اسے اجازت دے دی، بلکہ مجھے اس کی یہ بات بہت پسند آئی کہ وہ اپنی کسی بھی خوشی یا زندگی کے نئے سفر میں سب سے پہلے اللہ کو وقت دیتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہے۔

لیکن میں یہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ میرا شوہر اتنا افسردہ کیوں لگ رہا تھا۔ جب اس نے مجھے بیاہ کر گھر لایا تو وہ بہت خوش تھا، مگر اب اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور چہرہ اداس سا لگ رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ جب میرا شوہر نمازی پڑھ کر اٹھے گا تو میں اس سے اس کی اداسی کی وجہ پوچھوں گی۔ شاید وہ اپنے والد کو یاد کر رہا تھا یا پھر کوئی اور وجہ تھی۔ میں اس کا غم بانٹنا چاہتی تھی کیونکہ میں خود بھی ایک یتیم لڑکی تھی جو یتیم خانے میں پلی بڑھی تھی، اور پھر اسکول میں نوکری کر کے ہوسٹل میں شفٹ ہو گئی تھی۔ میں اپنے شوہر سے اپنے اسکول میں ملی تھی۔

قرآن کی کلاس لینے آتا تھا اور سب اسے حافظ صاحب کہتے تھے۔ وہ نوجوان لڑکا تھا مگر اس کی شرافت اور نظر جھکا کر رکھنے کی عادت کی وجہ سے سب سکول والے اسے بہت عزت دیتے تھے۔ جب مجھے پتہ چلا کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے تو وہ مجھے اپنے جیسا تنہا انسان لگا تھا۔ وہ بہت شریف انسان تھا جو اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ مجھے بھی اپنے لیے ایک ایسے مرد کی تلاش تھی جو میرے ساتھ وفاداری سے زندگی گزارے، کیونکہ میزان میں بھی مذہبی قسم کی لڑکی تھی۔ میں بہت خوبصورت تھی اور ہمیشہ میں نے لوگوں کو اپنی طرف مائل ہوتے دیکھا تھا، مگر مجھے آجکل کی دنیا...

بےفکر اور فضول خرچ لڑکے مجھے اچھے نہیں لگتے تھے، اس لیے میں سب سے دور رہتی تھی۔ لیکن مجھے حافظ صاحب بہت اچھے لگے، تو میں نے خود ان سے شادی کی بات کی اور صاف صاف بتایا کہ میں ایک لاوارث لڑکی ہوں، یتیم خانے میں بڑی ہوئی ہوں، میرے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔ میں جوان تھی اور اب میری شادی کا وقت تھا، لیکن میں جانتی تھی کہ کوئی غریب لڑکی کو اپناتا نہیں، نہ ہی میری شادی کی کوئی پرواہ کرتا ہے۔ میں نے صرف ایک امید کے ساتھ ان سے اپنے رشتے کی بات کی اور بتایا کہ یہ فیصلہ مجھے خود کرنا ہے، کوئی بڑا نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ میری بات کا برا نہ مانے، مگر مجھے حیرت ہوئی جب اس نے ہاں کہہ کر سادگی سے جلد شادی کرنے کو کہا۔ وہ میری بات سمجھ گیا تھا اور اسے میری شادی کی بات پسند آئی تھی۔ میں خوش ہوئی کہ اب میرا بھی کوئی اپنا ہوگا۔ میں نے اپنے ہونے والے شوہر کی ہی ہدایت پر، ایک ساتھی ٹیچر کے ساتھ مل کر، ایک مڈل کلاس محلے میں اپنی ضرورت کے مطابق چھوٹا سا گھر کرائے پر لے لیا۔ میری اسکول کی میڈم نے مجھے اپنے گھر آ کر رہنے کی دعوت دی۔ وہ بولی کہ میں چاہتی ہوں کہ تم میرے گھر سے باقاعدہ رسم و رواج کے ساتھ رخصت ہو کر جاؤ۔ میں…

ہوسٹل سے اپنا سامان لے کر وہاں شفٹ ہو گئی۔ میری میڈم نے ہماری نکاح کا سارا انتظام خود کیا تھا۔ میڈم کے ایک بزرگ چچا اس وقت ان کے ہاں رہنے آئے ہوئے تھے، وہ مفتی بھی تھے اور عالم دین بھی۔ میری خوش نصیبی تھی کہ انہوں نے خود میرا نکاح پڑھانے کو کہا کیونکہ وہ مجھ جیسی یتیم اور مسکین لڑکی کے سر پر ہاتھ رکھ کر ثواب کمانا چاہتے تھے۔ یوں انہوں نے میرا نکاح پڑھایا۔ ہمارے نکاح میں بس میرے اسکول کے سارے اسٹاف کے ساتھ ساتھ میرے شوہر کے کچھ دوست شامل تھے۔ ہمارا نکاح ہوا اور میں رخصت ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ اس چھوٹے سے گھر میں آ گئی تھی۔ نکاح کے بعد میں نے دل...

میں نے وعدہ کر لیا تھا کہ میں اپنے شوہر کے دکھ سکھ کی ساتھی بنوں گی اور اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے نبھاؤں گی کیونکہ میں پوری زندگی ایک گھر کے لیے ترستی رہی تھی اور مجھے اپنے اپنوں کی کمی نے بہت رلا دیا تھا۔ اور میرے پاس میرا واحد قریبی رشتہ میرے شوہر کا تھا، اس لیے میں نے اپنے شوہر کا انتظار شروع کر دیا کہ جب وہ نمازِ نافل پڑھ کر فارغ ہو تو اس کی اداسی کی وجہ پوچھوں۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ جب سے وہ سجنے گیا ہے، اس نے دوبارہ اپنا سر نہیں اٹھایا تھا۔ میں اس بات سے گھبرا گئی اور جب ڈرتے ڈرتے اٹھ کر میں نے اپنے شوہر کو ہلایا تو وہ ایک طرف لڑھک گیا، بے جان۔

وجود کو دیکھ کر میں بے ساختہ چیخ پڑی تھی، میں نے سوچا میرا شوہر شاید بس بے ہوش ہو گیا ہوگا۔ میں نے پہلے تو اپنی شوہر کو جگانے کی بہت کوشش کی، اسے آوازیں دیتی رہی۔ میں ایک کمزور سی لڑکی تھی جو اس حالت کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی، اسی لیے سمجھ نہیں پائی کہ کیا کروں اور کیا نہیں۔ روتے ہوئے میں نے اپنا موبائل اٹھایا، جس ساتھی ٹیچر نے میرے ساتھ گھر ڈھونڈا تھا اس کا شوہر ڈاکٹر تھا۔ میں نے اس سے ڈاکٹر کو فون کر کے اپنے شوہر کی حالت بتائی اور اسے جلد سے جلد اپنے شوہر کو بھیجنے کی درخواست کی۔ میں بہت ڈری ہوئی تھی۔ میں نے اپنے شوہر کو کھینچ کر جیسے تیسے اس جانے والے مالک پر سیدھا کیا۔

وقت دروازے پر دستک دینے لگا، میں جا کر دروازہ کھولا تو ڈاکٹر صاحب آ چکے تھے۔ میں انہیں لے کر جب کمرے میں آئی تو وہ میرے شوہر کو نماز پڑھتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ڈاکٹر کو وہاں کمرے میں چھوڑ کر میں کمرے سے نکل گئی تاکہ اپنے شوہر کے لیے دودھ گرم کرکے لے جا سکوں۔ مجھے لگا وہ تھکن یا پریشانی کی وجہ سے بےہوش ہو گیا ہوگا۔ مگر ابھی میں کچن میں کھڑی تھی کہ ڈاکٹر چیخ مار کر دوڑتا ہوا کمرے سے نکلا۔ میں گھبرا گئی۔ ڈاکٹر نے کمرے سے نکلتے ہوئے بتایا کہ تمہارے شوہر فوت ہو چکے ہیں اور ساتھ ہی ڈاکٹر نے مجھے ایک انتہائی...

ایک عجیب بات ہوئی جو میرے ہوش اُڑا گئی۔ میں گھبرا کر کمرے میں گئی تو میرا شوہر ابھی بھی نیچے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں چیخ چیخ کر رونے لگی۔ میرا گھر بننے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا تھا۔ مجھے لگا کہ میں ہی بدقسمت ہوں جس کا ہر رشتہ اُس سے دور ہو جاتا ہے۔ میں پوری رات اپنے شوہر کی میت کے پاس اکیلی بیٹھی روتی رہی اور اپنا سِنگار بھی نوچ ڈالا۔ میں نے کبھی اپنی زندگی یا حالات پر گلہ شکایت نہیں کی تھی، نہ اللہ سے ناراض ہوتی تھی کہ میں یتیم خانے میں کیوں پیدا ہوئی، نہ لوگوں سے ہمدردی لیتی تھی بلکہ مجھے لگتا تھا کہ میں بہت لوگوں...

میں اچھی حالت میں تھی، میری عزت محفوظ تھی اور مجھے کبھی ایسے لوگوں یا برے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ مگر آج پہلی بار میں چیخ چیخ کر رو رہی تھی۔ میرا اپنے شوہر سے کوئی برسوں پرانا تعلق یا دل سے لگاؤ نہیں تھا، مگر وہ میرا شوہر بن چکا تھا اور میرے دل میں اس کے احترام کے ساتھ انس بھی پیدا ہو گیا تھا۔ مگر قسمت نے میرے ساتھ بہت برا کھیل کھیلا تھا۔ اگر میرا شوہر میری زندگی میں کبھی شامل نہ ہوتا تو مجھے اس کی موت کا غم بھی نہ ہوتا۔ وہ میری زندگی میں شامل ہو کر مر گیا تھا اور مجھے لگا تھا کہ میں ساری زندگی اس کرب کو نہیں بھلا سکتی۔

میں اکیلی بیٹھ کر رو رہی تھی جب صبح کی روشنی پھیلی تو فجر کے لیے سب جاگنے لگے۔ میں اپنے مرحوم شوہر کے پاس بے حال بیٹھی تھی۔ جب ہلکی روشنی پھیلنے لگی تو ارد گرد لوگوں کی آوازیں سنائی دیں، لیکن کسی نے ہمارے گھر جھانک کر دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی، نہ ہی کسی کو خبر ہوئی کہ ہمارے گھر کیا قیامت ٹوٹ چکی تھی۔ مجھے پہلی بار یہ خیال آیا کہ اللہ نے کیوں ہمارے دونوں نصیب جوڑے تھے۔ میرے نصیب میں تو ایک اور غم لکھا تھا، لیکن اللہ نے میرے شوہر کی موت پر رونے والا بھی کسی کو بنایا تھا، وہ بھی اکیلا تھا۔ اور اگر آج اکیلا مرتا تو شاید...

کسی کو بالکل بھی پتہ نہیں ہوتا، اب تو اُس کی موت پر رونے کے لیے میں ہی موجود تھی۔ دل نکلنے کے بعد میں نے خود کو سنبھالا۔ پہلی فرصت میں اپنا سرخ اور اُروسی جوڑا بدل کر سادہ کپڑے پہنے، اور ایسا کرتے ہوئے میرا دل کچھ سکون محسوس کرنے لگا۔ پھر میں ایک بار پھر زور زور سے رو پڑی۔ میرے چہرے کی رونق ایک ہی رات میں ختم ہو چکی تھی۔ میں ویران آنکھوں سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔ اب اُس کے آخری سفر کی تیاری مجھے ہی کرنی تھی۔ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ زندگی کے کسی موڑ پر مجھے کسی انسان کی ایسی ذمہ داری اٹھانی پڑے گی۔ میرے دل میں بے...

ذہن میں خیال آیا کہ کاش میرے شوہر کی جگہ میں ہی مر جاتی، تو آج میرا کفن، دفن میرے مرحوم شوہر عزت سے کرتے۔ اب تو پتہ نہیں آگے جا کر میری زندگی کیسی ہونے والی تھی۔ میں گھر سے نکل کر محلے کی ایک چھوٹی سی مسجد ڈھونڈی، اس مسجد کے دروازے پر ایک بوڑھا شخص کھڑا تھا۔ میں نے اس بوڑھے سے مسجد کے امام کے بارے میں سوال کیا، تو وہ بوڑھا بہت عجیب بات کہنے لگا۔ اس نے کہا کہ اس مسجد کا کوئی امام نہیں ہے، ہم چند گنے چنے نمازی ہیں جو یہاں آتے ہیں۔ ہم میں سے جو بھی نماز وقت سے پہلے پہنچ جاتا ہے، وہی اذان دے دیتا ہے اور امامت بھی کرتا ہے۔

وہ کروا دیتا ہے۔ میں اس کی بات سن کر حیران رہ گئی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی مسجد کا کوئی رکھوالا یا امام نہ ہو۔ میری حیرت پر اس بوڑھے نے بتایا کہ اس محلے میں سب لوگ ایک دوسرے کے قریب ہیں اور کچھ تھوڑے لاپرواہ بھی ہیں، امام مسجد کو کوئی بھی کھانا یا پیسہ نہیں دیتا، اس لیے اب اس مسجد کا کوئی امام نہیں ہے۔ پھر کچھ دیر رُک کر وہ بوڑھا بولا کہ کچھ دن پہلے ایک جوان لڑکا یہاں آیا تھا اور اس نے ہم سے کہا تھا کہ وہ جلد ہی اس محلے میں شفٹ ہو جائے گا اور اس مسجد کی ذمہ داری وہ اٹھائے گا۔ وہ لڑکا حافظ قرآن تھا اور اس نے ایک بار امامت بھی کروائی۔ اب ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں۔

رہ تو ہیں مگر وہ اس دن کے بعد واپس نہیں آیا۔ مجھے اس بوڑھے کی بات سے لگا کہ وہ میرے شوہر کی بات کر رہا ہے۔ جو حال بتایا وہ میرے شوہر جیسا ہی تھا۔ میں بے اختیار رو پڑی۔ میں روتے ہوئے اس بوڑھے سے کہا کہ شاید جس آنے والے نئے امام صاحب کی بات وہ کر رہا ہے، وہ میرا شوہر ہے، اور وہ کل رات میرے ساتھ یہاں آیا تھا، مگر رات کو ہی نوافل پڑھتے ہوئے اس کی موت ہو گئی، جس کی وجہ سے وہ مسجد نہیں آ سکا۔ وہ بوڑھا یہ بات سن کر افسوس سے سر ہلا رہا تھا۔ میں اور کسی کو نہیں جانتی تھی، اس لیے اس بوڑھے سے درخواست کی۔

میرے شوہر کو غسل دے دو، میری درخواست پر وہ بوڑھا مان گیا اور میرے ساتھ چل پڑا۔ میں گھر جا کر پیسے لے آئی تاکہ میں اپنے شوہر کے لیے کفن خرید سکوں۔ اسی بوڑھے کی مدد سے پہلے میں نے بازار سے کفن اور دفن کے سامان ڈھونڈے اور اپنی جمع پونجی سے غسل کے لیے ہر ضروری چیز لے لی۔ جب ہم گھر آئے تو میں اس بوڑھے کو اپنے کمرے میں لے گئی۔ میں نے اسے کہا کہ میں اس میں پانی بھر دوں گی تاکہ وہ میرے شوہر کو یہاں غسل دے دے۔ اس دوران میں اپنی قریبی جاننے والی ٹیچرز کو بھی فون کرتی رہی کہ اس موقع پر کوئی تو میرے ساتھ ہو۔

کھڑی تھی مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ میں جانتی تھی کہ اتوار کے علاوہ ہر دن کا پہلا حصہ ہم ٹیچرز کا سکول میں مصروف گزرتا تھا، اور پھر ہمارے سکول کا ایک بہت سخت اصول تھا کہ پڑھانے کے دوران ہم موبائل استعمال نہیں کر سکتیں، جو ایسا کرتا اسے نوکری سے فارغ کر دیا جاتا تھا۔ اور نوکری سب کو عزیز تھی، اس لیے میڈم کی بات مانتی تھی۔ میں اس وقت اتنی گھبرا گئی اور اداس تھی کہ سب جانتے ہوئے بھی کوشش کرتی رہی کہ شاید کوئی میرا فون اٹھا لے، مگر میں ناکام رہی۔ ابھی میں اس بوڑھے کو پانی دے کر کمرے سے نکلی ہی تھی کہ بوڑھے کی چیخ سنائی دی۔ میں دوڑتی ہوئی کمرے میں گئی۔

جب وہ گیا تو وہ خوف سا میرے شوہر کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے کہا کہ وہ میرے شوہر کو بالکل غسل نہیں دے سکتا، میں کوئی اور انتظام کر لوں۔ میں اس بوڑھے کی بات سن کر گھبرا گئی اور رونے لگی، اور اس سے التجا کرنے لگی کہ وہ میری مدد کرے کیونکہ میں اکیلی عورت ہوں، غسل دینے والا مرد کہاں تلاش کروں؟ جبکہ میں کسی کو بھی نہیں جانتی تھی۔ مگر میرے رونے اور مننے کے باوجود اس بوڑھے نے مجھے صاف انکار کر دیا اور وہی بات دہرائی جو رات کو میرے شوہر کا چیک اپ کرتے ہوئے ڈاکٹر نے کہی تھی۔ میں حیرت سے کھڑی تھی کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے۔

کیا ہو رہا تھا؟ وہ بوڑھا بھی گھر سے نکل گیا۔ میں حیران اور پریشان سی بیٹھی تھی اس ڈاکٹر اور بوڑھے کی عجیب باتوں پر۔ مجھے بالکل یقین نہیں آ رہا تھا، مگر دو الگ الگ لوگوں نے ایک ہی بات کہی تھی، اس لیے شک کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ مجھے یہ فکر ہونے لگی کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو میرے شوہر کو غسل کون دے گا اور میں اس کے جنازے کا انتظام کیسے کروں گی۔ مجھے اپنے شوہر پر ترس آنے لگا، جس کے ساتھ ایسا ہو رہا تھا اور کوئی بھی اس کی مدد کو تیار نہیں تھا۔ میں رو کر دل میں ٹھان لیا کہ میں یہ آخری فرض خود نبھاوں گی اور...

میں اپنے شوہر کو خود غسل دوں گی۔ مجھے غسل دینا بالکل نہیں آتا تھا، نہ ہی میں جانتی تھی کہ کوئی عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے یا نہیں، مگر اس وقت میں صرف اپنے شوہر کی مدد کرنا چاہتی تھی۔ میں اسے اس دنیا میں آخری لمحات میں یوں لاوارث اور اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ میں اسی وقت کمرے میں گئی، بوڑھے کی مہربانی سے سارا سامان اور پانی تیار تھا، اب بس مجھے غسل دینا تھا۔ جب میں نے آگے بڑھ کر اپنے مرحوم شوہر کے جسم سے کپڑا ہٹایا تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں حیران اور بے بسی میں اسے دیکھتی رہی، پھر بےہوش ہو کر پیچھے گری، اور میری حالت بہت خراب ہو گئی۔

ایسا لگنے لگا تھا کہ میرے لیے زمین سے اٹھنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ اپنی زندگی میں میں نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا تھا۔ میں اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ کر پھر سے رونے لگی۔ میرا دوسرا لمحہ میری زندگی کو سب سے مشکل بنا رہا تھا اور میری تکلیف میں اضافہ ہو رہا تھا۔ پتہ نہیں کتنی دیر تک میں وہاں بیٹھ کر روتی رہی۔ مجھے ہوش تب آیا جب میرے موبائل پر مسلسل کالز آنا شروع ہو گئیں۔ میں روتے ہوئے اٹھ کر موبائل اٹھایا تو وہاں وہ سب ٹیچرز کی کالز تھیں جنہیں میں بار بار فون کرتی رہی تھی۔ میں نے وقت دیکھا تو گھڑی میں 2 بج رہے تھے۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔

وہ تھا مگر مجھے ایسا لگا جیسے میں ایک سال سے اس تکلیف میں مبتلا ہوں اور میرا غم اب برداشت سے باہر ہو چکا تھا۔ اوپر سے جو نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے بعد کوئی میرے شوہر کو غسل نہیں دیتا تھا اور میں اپنے شوہر کو دیکھ کر ابھی تک ہوش میں نہیں آ رہی تھی کہ خود اٹھ کر غسل دے دیتی۔ میں نے پھر ایک ٹیچر کی کال اٹینڈ کی، موبائل کان سے ہٹایا اور روتے ہوئے کہا، "میس، میرے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے۔ خدا کے لیے مجھے سہارا چاہیے، میں اس وقت بالکل اکیلی ہوں اور بہت بڑی تکلیف میں ہوں۔" میں ایک ہی سانس میں...

وہ رو رہی تھی، ٹیچر میری بات سن کر پریشان ہو گئی اور افسوس سے بولی کہ یہ کیسے ہو گیا؟ ابھی تو کل ہی تمہاری شادی ہوئی تھی اور تمہارا شوہر بالکل ٹھیک تھا۔ وہ مجھ سے افسوس کا اظہار کرنے لگی اور پھر مجھے تسلی دیتے ہوئے بولی کہ میں ابھی اسکول میں ہی ہوں اور میرے ساتھ باقی سب ٹیچرز بھی موجود ہیں کیونکہ آج ایک بہت ضروری میٹنگ تھی جس کی وجہ سے چھٹی کے بعد بھی سب کو رکنا پڑا۔ میں سب کو بتاتی ہوں، ہم تھوڑی ہی دیر میں تمہارے گھر پہنچ جائیں گے۔ اس ٹیچر کی بات سے مجھے کچھ سکون ملا۔ گھر کا پتہ وہی ٹیچر جانتی تھی جس کا شوہر ڈاکٹر تھا، اس لیے وہ آنے...

مجھے کوئی مسئلہ نہیں تھا، میں اٹھ کر آنکھیں بند کیے اپنے مرحوم شوہر کے وجود پر جیسے تیسے چادر ڈال دی اور ٹیچرز کا انتظام کرنے لگی۔ وہ وقت میرے لیے قیامت جیسا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے اگلے دن پہلے ہی گھر پر سب کو دعوت دینے کا سوچ لیا تھا اور اپنے شوہر سے بھی مشورہ کیا تھا۔ ہمارا ہالہ یا بپ بہت بڑا نہیں تھا، اس لیے میں نے اپنے جاننے والوں کو گھر پر ولی دینے کا پلان بنایا تھا، مگر اس سے پہلے ہی میرے شوہر دنیا سے چلے گئے۔ میں اپنی شادی کا سوچ سوچ کر رونے لگی۔ اپنے ہاسٹل سے سامان اٹھا کر لاتے ہوئے میں بہت خوش تھی اور سب سے مل کر اپنی شادی کی تیاری کر رہی تھی۔

کہا تھا اور کہا تھا کہ میں اپنے گھر میں رہوں گی مگر شاید اس گھر میں میرا بس اتنا ہی وقت لکھا تھا۔ میں اپنی زندگی کے بارے میں سوچ سوچ کر دکھ سے رو رہی تھی جب میری سب دوستیں پہنچ گئیں۔ سب کو دیکھ کر بےسا فٹا بلند آواز میں رو پڑی۔ گھر کے چھوٹے سے صحن میں میری تڑپ تڑپ کر رونے کی ایسی آواز گونجی کہ اردگرد کے محلے والے بھی متوجہ ہونے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد میرے گھر میں محلے کی عورتیں جمع ہو گئیں۔ تب انہیں پتہ چلا کہ ایک دن پہلے اس گھر میں کوئی دلہا دلہن شفٹ ہوئے تھے اور آج اس لڑکی کی موت بھی ہو گئی تھی۔ یہ ایسا غم تھا کہ سب لوگ...

بےسا بہت افسوس کرنے لگے گھر کے صحن پر مرد بھی جمع ہو گئے تھے۔ اُن مردوں نے صحن میں چارپائی لگا دی اور میرے شوہر کو اُس پر لٹا دیا۔ میں چیخ چیخ کر رو رہی تھی، کہہ رہی تھی کہ کاش آج سب کچھ ہمیں مبارک دینے کے لیے جمع ہوتے، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اور آج ہر کوئی آ کر مجھ سے ملتے ہوئے میرے میرے شوہر کی جوان موت کا افسوس کر رہا تھا۔ میں رو رو کر بالکل تباہ ہو چکی تھی، میرا دل بالکل ویران سا ہو گیا تھا اور میں سب کچھ بھول کر بے ہوش سی ہو گئی۔ اب مرحلہ تھا میرے شوہر کو غسل دینے کا، مگر سب مرد خاموشی سے کھڑے رہے کیونکہ وہ سب بالکل ان پڑھ تھے۔

وہ انجان تھے کہ ان کے غسل کے لیے لوگ آ جاتے تھے اور آج کوئی بھی میسر نہیں تھا۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ میرے نیک اور شریف شوہر کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ وہ حافظِ قرآن تھا اور سجدے کی حالت میں اس کی موت ہوئی تھی، مگر حالات دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اللہ نے اس کا غسل کرنے کی اجازت ہی نہیں دی تھی۔ کیونکہ جو ایک بوڑھا شخص اس کا غسل دینے کو تیار ہوا تھا، وہ بھی ایسے بھاگا کہ دوبارہ میرے گھر کی طرف نظر نہیں آیا۔ دن ڈھل رہا تھا اور لوگ آہستہ آہستہ سرگوشیاں کر رہے تھے، وہیں صحن میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے کہ اب میرے شوہر کا کیا ہوگا، کون اسے غسل دے گا؟

اور کب اس کا جنازہ ہوگا؟ میری میڈم بھی میرے گھر آئی ہوئی تھیں، وہ ساری بات جان کر میرے پاس آئیں اور بولیں کہ میرے چچا ابھی بھی میرے گھر پر موجود ہیں۔ میں ان کا نام نہیں لے رہی تھی کیونکہ ان کی طبیعت بہت خراب تھی، مگر اب میں مزید یہ بات نظر انداز نہیں کر سکتی۔ مرحوم حافظ صاحب کا غسل اور کفن، دفن کرنا بھی ضروری ہے۔ تم فکر مت کرو، میں جا کر اپنے چچا کو خود گاڑی میں لے آتی ہوں۔ میڈم کی بات پر میں ان کی شکر گزار ہونے لگی۔ واقعی میرا دل اب بہت گھبرا رہا تھا کہ شاید میرا مرحوم شوہر ایسے ہی پڑا رہے، مگر اسے جنازہ یا غسل نصیب نہ ہو۔

میں دل ہی دل میں رو رو کر اللہ سے دعا کرنے لگی کہ اللہ میرے شوہر کی مشکل آسان کر دے، اور اسے عزت کے ساتھ آخری گھر یعنی قبر میں جانے کا موقع ملے۔ میڈم کچھ دیر بعد واپس آئیں تو ان کے ساتھ ان کے چچا بھی موجود تھے۔ اس بزرگ نے سب کو ہٹا کر میرے شوہر کو اکیلے میں غسل دیا تھا، اور تب کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ غسل کے بعد اسی بزرگ نے نماز جنازہ پڑھائی اور شام کے وقت میرے مرحوم شوہر کو دفن کر دیا۔ میں غم سے بے حال تھی۔ یہ میری زندگی کا پہلا رشتہ تھا جسے میں نے محسوس کیا تھا اور خود چنا تھا، مگر وہ رشتہ بھی مجھ سے...

میڈم مجھے اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں، لیکن میں کچھ دن اور اس گھر میں رہنا چاہتی تھی۔ میں نے اس گھر میں ہر لمحہ بار بار سوچا تھا کہ اگر ہم شادی شدہ ہوتے اور میرا شوہر زندہ ہوتا تو ہم اپنی سادہ سی زندگی کیسے گزار رہے ہوتے۔ اس گھر میں میرا ابھی دوسرا دن تھا کہ ایک دن دروازے پر ایک بوڑھی عورت آئی اور میرے شوہر کے بارے میں پوچھنے لگی۔ میں نے اسے اپنے شوہر کی موت بتائی تو وہ لڑکھڑا گئی اور روتے ہوئے میرے شوہر کو پکارنے لگی۔ میں نے اس بوڑھی کو اندر لے جا کر بٹھایا، پانی پلایا، اور کچھ دیر وہ عورت روتی رہی۔

جب وہ سنبھلی تو مجھ سے بولی کہ میں تمہارے مرحوم شوہر کی نانی ہوں۔ ماں اس کا بچپن میں مر گئی تھی اور باپ نے کبھی پلٹ کر بیٹے کو دیکھا بھی نہیں تھا۔ میں اس کی ماں باپ بن گئی، اس کا بچپن میری گود میں گزرا تھا۔ بڑا ہوا تو میری بہو، بیٹوں سے اس کا وجود برداشت نہیں کر سکی۔ میری بہوئیں ہر وقت اسے مارتی اور سزا دیتی تھیں، مگر وہ مجھ سے چھپاتا رہا۔ وہ اسکول میری وجہ سے جاتا تھا، مگر صرف پانچویں جماعت تک پڑھ سکا۔ پھر اسے میرے بیٹے نے گھر بٹھا لیا۔ وہ چپ چاپ مسجد سے قرآن حفظ کرتا رہا، ہر وقت سزا بھگتتا رہا، اور اس کے جسم پر نشانیاں بھر گئیں۔

وہ چُکا تھا مگر قیامت تب ٹوٹ گئی جب ایک دن میری بہوؤں نے بدکاری کا الزام لگا کر اسے مارنا شروع کر دیا۔ وہ رو رو کر اپنی بےگناہی کا یقین دلاتا رہا، مگر میرے ظالم بیٹوں نے اس کی بات پر یقین نہ کیا۔ میری بڑی بہو کے ہاتھ میں گرم گھی کی کڑائی تھی، اس نے وہی اس پر الٹ دی۔ وہ درد سے چِلّا رہا تھا۔ میں بے بسی میں اسے بچانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر جب اس پر گرم تیل ڈالا گیا تو میرا دل اچانک بند ہونے لگا۔ میں تکلیف سے گر گئی۔ میرے بیٹے اسے اسپتال لے گئے اور پیچھے میری بہوؤں نے اسے اسی حالت میں دھکا دے کر گھر چھوڑ دیا۔

وہ زخمی وجود کے ساتھ مسجد میں رہنے لگا، نہ اس نے اپنی تکلیف کسی کو بتائی، نہ اس کا علاج ہوا۔ بہت عرصے بعد اس کا مجھ سے رابطہ ہوا تو اس نے بتایا کہ وہ حافظِ قرآن بن چکا ہے اور اب لوگوں کو قرآن پڑھاتا ہے۔ میں بہت خوش ہوئی، مگر کچھ دن پہلے اس نے مجھے فون پر بتایا کہ اس کی شادی ہو گئی ہے اور وہ مجھے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ میں بیمار رہتی ہوں اور دعاؤں پر گزارا کرتی ہوں، اس لیے اس پر بوجھ نہ بنوں، یہ سوچ کر میں نے صاف انکار کر دیا۔ وہ یہ بات دل کو لگا کر کال کاٹ گیا۔ میں بیمار تھی اس لیے آ نہ سکی، اب بہتر ہوا۔

وہ بوڑھی مجھ سے ملنے آئی تھی، سب کچھ بتا کر پھر رونے لگی، جبکہ میں تو پتھر کی ہو چکی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ جب وہ بوڑھا انکار کر چکا تھا تو میں اپنے شوہر کو غسل دینے گئی تھی، اور جب اس کا کپڑا ہٹایا تو اس کی جلد پر گھاؤ اور بہت بدصورت داغ نظر آئے تھے۔ وہ دیکھ کر میں ڈر گئی تھی۔ شاید وہ داغ اس تیل سے جلنے کے بعد ٹھیک طرح علاج نہ ہونے کی وجہ سے اس کی جلد پر بن گئے تھے۔ اس کے زخم وقت کے ساتھ بھر گئے تھے مگر نشان باقی رہ گئے تھے، اور وہ نشان بہت عجیب منظر پیش کرتے تھے۔ میرے مرحوم شوہر کی نانی پورا دن میرے ساتھ رہی اور اپنے نواسے...

ماں مجھے بتاتی رہی اور رونے لگی کیونکہ میرے شوہر کی زندگی بہت مشکلوں میں گزری تھی اور اسے کبھی خوشی کا لمحہ نہیں ملا تھا۔ بوڑھی نانی شام کے وقت واپس چلی گئی تو میں اداس اور تنہا بیٹھ گئی۔ کچھ دن بعد میری میڈم نے پھر مجھے اسکول آنے کو کہا اور بتایا کہ وہ مجھے چند دن اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں۔ میں نے ان کی بات مان لی۔ جب ان کے گھر گئی تو مجھے پتہ چلا کہ انہوں نے میرے لیے رشتہ ڈھونڈ لیا ہے۔ میں نے صاف انکار کر دیا کہ میں بالکل شادی نہیں کروں گی۔ جب اس سلسلے میں میڈم کے چچا مفتی صاحب نے مجھ سے بات کی تو میں بالکل ڈاکٹر۔۔۔

اور اس بوڑھے کی بات یاد آئی اور میں نے مفتی صاحب سے ہی اس بارے میں پوچھ لیا کہ وہ دونوں مجھ سے بولے تھے کہ میرے شوہر کے جسم سے کپڑا ہٹانے کی کوشش کی تو ان دونوں کے ہاتھوں میں ایک انجان طاقت نے جکڑ لیا اور ان کے ہاتھوں میں درد سا اٹھا تھا۔ یہ بات بہت عجیب تھی جس پر مجھے یقین نہیں آیا، جبکہ میں نے کپڑا ہٹایا تو آرام سے ہٹ گیا۔ مفتی صاحب نے یہ سن کر کہا کہ تم جانتی ہو، تمہارے شوہر کے جسم پر نشانہ تھے وہ بہت عجیب تھے اور یقیناً اپنی زندگی میں تمہارے شوہر وہ کسی کو نہیں دکھاتے۔ اللہ نے اس کا پردہ رکھنا تھا شاید۔

وہ ڈاکٹر اور بوڑھا اُس کے جسم کا وہ راز نہیں رکھتے تھے اور لوگوں کو بتاتے تھے، اسی لیے اُس وقت اللہ کی طرف سے وہ کپڑا ہی نہیں ہٹا سکے۔ میں چونک گئی۔ میری ساتھی ٹیچر جو باتیں کرتی تھیں، اُن سے اندازہ ہوتا تھا کہ اُس کا شوہر جن مریضوں کی پرواہ کرتا تھا، اُن کے جسم کی ہر خوبی اور خامی اپنی بیوی کو بتاتا تھا۔ میں اُس بوڑھے کو تو نہیں جانتی تھی مگر وہ ڈاکٹر واقعی ایسا تھا۔ یہ میرے شوہر کے اُن نشانوں کا سب کو بتا دینا تھا۔ اللہ نے میرے مرحوم شوہر کا راز رکھا تھا اور نیک انسان سے اُس کا جنازہ پڑھوایا تھا، کچھ دن بعد مفتی صاحب کے دوبارہ سمجھانے پر۔

میں نے دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، عدت کے بعد میرا سادہ اور سکون بھرا نکاح ہو گیا۔ میرا دوسرا شوہر بھی اچھا انسان ہے اور میرا خیال رکھتا ہے، مگر میں چاہ کر بھی اپنے پہلے شوہر کو بھول نہیں سکی۔ اب بھی میں اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتی ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک میرے شوہر کو جنت نصیب فرمائے۔ تمام ناظرین سے گزارش ہے کہ کمنٹس میں آمین ضرور لکھیں۔